TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

بدگوئی اور جھوٹ پر مشتمل اور اللہ تعالیٰ سے دور کر دینے والے شعروں سے ترہیب کا بیان - بدگوئی اور جھوٹ پر مشتمل اور اللہ تعالیٰ سے دور کر دینے والے شعروں سے ترہیب کا بیان - زبان کی آفتوں کے مسائل - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 12 of زبان کی آفتوں کے مسائل in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 12 of 30 · 6 Hadith
۔ (۹۹۳۶)۔ عَنْ سَعْدٍ یَعْنِیْ بْنَ اَبِیْ وَقَّاصٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَاَنْ یَمْتَلِیئَ جَوْفُ اَحَدِکُمْ قَیْحًا حَتّٰییَرِیَہُ خَیْرٌ مِنْ اَنْ یَمْتَلِیْئَ شِعْرًا ۔)) (مسند احمد: ۱۵۰۶)
۔ سیدنا سعد بن ابی وقاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر کسی کا پیٹ پیپ سے اس قدر بھر جائے کہ وہ اس کو نظر آنے لگے تو یہ اس کے لیے اس سے بہتر ہے کہ وہ شعروں سے بھرا ہوا ہو۔
Takhreej
(۹۹۳۶) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۲۵۸(انظر: ۱۵۰۶)
9936
Sahih
۔ (۹۹۳۷)۔ وعَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِثْلُہُ۔ (مسند احمد: ۸۳۵۷)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بھی اسی طرح کی حدیث ِ نبوی بیان کی ہے۔
Takhreej
(۹۹۳۷) تخریج: حدیث صحیح، أخرجہ البخاری: ۶۱۵۵، ومسلم: ۲۲۵۷ (انظر: ۸۳۵۷)
9937
Sahih
۔ (۹۹۳۸)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((لَاَنْ یَمْتَلِیئَ جَوْفُ اَحَدِکُمْ قَیْحًا، خَیْرٌلَہُ مِنْ اَنْ یَمْتَلِیئَ شِعْرًا۔)) (مسند احمد: ۴۹۷۵)
۔ سیدنا عبدا للہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر کسی کا پیٹ پیپ سے بھر جائے تو یہ اس کے لیے شعروں سے بھر جانے سے بہتر ہے۔
Takhreej
(۹۹۳۸) تخریج: أخرجہ البخاری: ۶۱۵۴(انظر: ۴۹۷۵)
9938
Sahih
۔ (۹۹۳۹)۔ عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: بَیْنَمَا نَحْنُ نَسِیْرُ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِالْعَرْجِ اِذْ عَرَضَ شَاعِرٌ یُنْشِدُ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((خُذُوْا الشَّیْطَانَ، اَوْ اَمْسِکُوْا الشَّیْطَانَ، لَاَنْ یَمْتَلِیئَ جَوْفُ رَجُلٍ قَیْحًا خَیْرٌ لَہُ مِنْ اَنْ یَمْتَلِیئَ شِعْرًا۔)) (مسند احمد: ۱۱۰۷۲)
۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:ہم عرج مقام پر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ چل رہے تھے کہ اچانک ایک شاعر سامنے آ گیا، جو شعر گاہ رہا تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: پکڑ لو اس شیطان کو، یا فرمایا: روک دو اس شیطان کو، اگر کسی کا پیٹ پیپ سے بھر جائے تو وہ اس کے لیے اس سے بہتر ہے کہ اس کا پیٹ شعروں سے بھر جائے۔
Takhreej
(۹۹۳۹) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۲۵۹ (انظر: ۱۱۰۵۷)
Explanation
فوائد:… ممکن ہے کہ یہ آدمی کافر ہو یا اس کے اشعار قابل مذمت ہوں۔
9939
Sahih
۔ (۹۹۴۰)۔ عَنْ اَبِیْ نَوْفَلِ بْنِ اَبِیْ عَقْرَبَ، قَالَ: سَاَلْتُ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُتَسَامَعُ عِنْدَہٗالشِّعْرُ؟فَقَالَتْ: قَدْکَانَاَبْغَضَالْحَدِیْثِ اِلَیْہِ۔ (مسند احمد: ۲۵۵۳۴)
۔ ابو نوفل سے مروی ہے کہ انھوں نے سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے سوال کہ کیا رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس شعر سنے جاتے تھے، سیدہ نے کہا: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے نزدیک سب سے زیادہ ناپسندیدہ کلام شعر تھے۔
Takhreej
(۹۹۴۰) تخریج: اسنادہ صحیح، أخرجہ ابن ابی شیبۃ: ۸/ ۷۲۲، والطیالسی: ۱۴۹۰ (انظر: ۲۵۰۲۰)
9940
Sahih
۔ (۹۹۴۱)۔ حَدَّثَنَا یَزِیْدُ بْنُ ھٰرُوْنَ، اَنَا قَزَعَۃُ بْنُ سُوَیْدٍ الْبَاھِلِیِّ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ مَخْلَدٍ، عَنْ اَبِیْ الْاَشْعَثِ الصَّنْعَانِیِّ، قَالَ اَبِیْ: ثَنَا الْاَشْیَبُ، فَقَالَ: عَنْ اَبِیْ عَاصِمٍ الْاَحْوَلِ، عَنْ اَبِیْ الْاَشْعَثِ، عَنْ شَدَّادِ بْنِ اَوْسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ قَرَضَ بَیْتَ شِعْرٍ بَعْدَ الْعِشَائِ الْآخِرَۃِ لَمْ تُقْبَلْ لَہُ صَلَاۃُ تِلْکَ اللَّیْلَۃِ ۔)) (مسند احمد: ۱۷۲۶۴)
۔ سیدنا شداد بن اوس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے نمازِ عشا کے بعد دو مصرعوں کا شعر مرتب دیا، اس کی اس رات کی نماز قبول نہیں ہو گی۔
Takhreej
(۹۹۴۱) تخریج: اسنادہ ضعیف جدا، قزعۃ بن سوید شبہ المتروک، عاصم بن مخلد شیخ مجھول، أخرجہ البزار: ۲۰۹۴، والطبرانی فی الکبیر : ۷۱۳۳ (انظر: ۱۷۱۳۴)
Explanation
فوائد:… ان احادیث میں ان اشعار کی مذمت کی گئی ہے، جو بیہودہ، بے مقصد اور لایعنی ہوں، کیونکہ اچھے اشعار کو شریعت میں سراہا گیا ہے نیز آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی مجلس میں اچھے اشعار پڑھے جاتے رہے ہیں، بلکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے خود بھی اشعار پڑھے ہیں۔ امام نووی ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ ‌ نے کہا: اس حدیث ِ مبارکہ کو اس شخص پر محمول کیا جائے گا جس نے اپنی توجہ اشعار پر مرکوز کر رکھی ہو اور قرآن و حدیث سے غافل ہو گیا ہے۔ امام قرطبی نے کہا: جس شخص پر شعری کلام غالب آ جائے تو اسے عام قوانین و ضوابط کے مطابق موردِ طعن و مذمت ٹھہرنا پڑتا ہے۔ … … امام ابو عبیدہ قاسم بن سلام نے کہا: اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اشعار کی معمولی مقدار کی رخصت دی ہے، کیونکہ اس حدیث کییہ توجیہ بیان کرنا مناسب ہے کہ اس کا تعلق اس شخص سے ہے جو شعروں کا ہی ہو کر رہ جائے اور قرآن مجید اور اللہ تعالیٰ کے ذکرو اذکار سے غافل ہو جائے۔ اگر کوئی شخص قرآن کریم اور دوسرے شرعی علوم سے متصف ہو اور اس کے پاس کچھ اشعار بھی ہوں تو وہ اس حدیث کا مصداق نہیں بن سکتا ۔ (صحیحہ: ۳۳۶) دراصل کوئی کلام نثر یا شعر ہونے کی وجہ سے قابل تعریفیا قابل مذمت نہیں ہوتا، بلکہ اس کے اچھا یا برا ہونے کا دارومدار اس میں بیان کئے گئے مفہوم پر ہے ، جیسا کہ سیدنا عبداللہ بن عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ((الشِّعْرُ بِمَنْزِلَۃِ الْکَلَامِ، حَسَنُہُ کَحَسَنِ الْکَلَامِ، وَقَبِیْحُہُ کَقَبِیْحِ الْکَلَامِ۔)) … اشعار، عام (نثر) کلام کی طرح ہیں،یعنی اچھے اشعار، اچھے کلام کی طرح ہیں اور برے اشعار، برے کلام کی طرح۔ (دارقطنی: ۴۹۰، صحیحہ: ۴۴۷) جس کلام میں دوسروں کی توہین کی گئی ہو، فتنہ و فساد کی آگ بھڑکائی گئی ہو، شرک و بدعت کو فروغ دیا گیا ہو یا اس میں کسی انداز میں شریعت کے اصولوں کی مخالفت کی گئی ہو، تو وہ کلام قابل مذمت ہو گا، وہ شعر ہو یا نثر ہو۔ اس کے برعکس جو کلام اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا پر مشتمل ہو، اس میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے اوصافِ حمیدہ کا بیان ہو،اس میں نیکی کی ترغیب اور برائی سے نفرت دلائی گئی ہو یا وہ کسی انداز میں شریعت کے اصولوں کی موافقت کر رہا ہو، تو وہ کلام قابل تعریف ہو گا، وہ شعروں کی صورت میں ہو یا نثر کی صورت میں، بہرحال اشعار کی کثرت سے اجتناب کرنا چاہیے، ضرورت پڑے تو اچھے اشعار پڑھ لینے میں کوئی حرج نہیں۔
9941
Zaeef

Chapters

30
01
کثرت ِ کلام سے ترہیب اور خاموشی کا بیان
13 Hadith
02
خاموشی کا بیان
3 Hadith
03
غیبت اور بہتان سے ترہیب کا بیان
8 Hadith
04
چغلخوری سے ترہیب کا بیان
6 Hadith
05
جھوٹ سے ترہیب کا بیان
7 Hadith
06
ان لوگوں کا بیان، جن کو جھوٹا قرار دیا گیا ہے
2 Hadith
07
ان امور کا بیان، جن میں جھوٹ بولنا جائز ہوتا ہے
2 Hadith
08
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر جھوٹ بولنے سے ترہیب اور اس بارے میں سختی کا بیان
11 Hadith
09
مذاق کا بیان، نیزاس میں جھوٹ بولنے سے ترہیب کا بیان
13 Hadith
10
جھگڑا کرنے سے ترہیب کا بیان
4 Hadith
11
باچھین ہلا کر تکلّف و تصنّع سے گفتگو کرنے سے ترہیب اور واضح باتوں کا بیان
9 Hadith
12
بدگوئی اور جھوٹ پر مشتمل اور اللہ تعالیٰ سے دور کر دینے والے شعروں سے ترہیب کا بیان
6 Hadith
13
شرعی مصلحت کی خاطر شعروں کے جواز کا بیان
6 Hadith
14
لبید اور امیہ بن ابی صلت کے اشعار کا بیان
5 Hadith
15
سیدنا عبد اللہ بن رواحہ اور سیدنا حسان بن ثابت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کے اشعار کا بیان
9 Hadith
16
دو دو امور کا بیان
2 Hadith
17
دو کے عدد سے شروع ہونے والے دو دو امور کا بیان
2 Hadith
18
تین تین امور کا بیان
9 Hadith
19
تین کے عدد سے شروع ہونے والے تین تین امور کا بیان
15 Hadith
20
چار چار امور کا بیان
5 Hadith
21
چار کے عدد سے شروع ہونے والے چار چار امور کا بیان
6 Hadith
22
پانچ پانچ امور کا بیان
5 Hadith
23
عدد سے شروع ہونے والے پانچ پانچ امور کا بیان
3 Hadith
24
چھ چھ امور پر مشتمل احادیث کا بیان
6 Hadith
25
سات سات امور کا بیان
2 Hadith
26
سات کے عدد سے شروع ہونے والے سات سات امور والی احادیث کا بیان
2 Hadith
27
آٹھ آٹھ امور پر مشتمل احادیث کا بیان
2 Hadith
28
آٹھ کے عدد سے شروع ہونے والی آٹھ آٹھ امور پر مشتمل احادیث کا بیان
1 Hadith
29
دس دس امور پر مشتمل احادیث کا بیان
2 Hadith
30
دس کے عدد سے شروع ہونے والے دس دس امور کا بیان
3 Hadith
No chapter matched that.