TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 10152 - توبہ کے حکم اور اس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کا اپنے مؤمن بندے سے خوش ہونے کا بیان - توبہ کی کتاب - Musnad Ahmad in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 4 of 17 in this chapter
توبہ کے حکم اور اس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کا اپنے مؤمن بندے سے خوش ہونے کا بیان
۔ (۱۰۱۵۲)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیقٍ ثَانٍ ) عَنْ رَجُلٍ مِنَ الْمُھَاجِرِیْنَ مِثْلُہُ،وَفِیْہِ بَعْدَ قَوْلِہِ: ((مِائَۃَ مَرَّۃٍ (اَوْ اَکْثَرَ مِنْ مِائَۃِ مَرَّۃٍ)۔)) (مسند احمد: ۱۸۴۸۳)
۔ (دوسری سند) اس روایت میں ہے کہ سو بار کرتے تھے یا سو بار سے زیادہ۔
10152
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Conclusion
تخریج
(۱۰۱۵۲) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الأول

Related Chapters

2,354
1
باب: اللہ تعالیٰ اپنے بندے پر اپنی نعمت کا اثر دیکھنا پسند کرتا ہے
Jam e Tirmazi
2
اللہ تعالیٰ کا اپنے نبی کو دعوت کا اظہار و اعلان کرنے کا حکم دینا اور کفارِ قریش کا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ مسلمان ہونے والے کمزوروں کو ایذا دینا
Musnad Ahmad
3
فیصلے میں اللہ تعالیٰ کے عدل و انصاف ، اس کے اپنے مومن بندے پر رحم کرنے اور اس کی ستر پوشی کرنے اور کافراور منافق کو ذلیل و رسوا کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
4
Chapter: What Has Been Related About How Many Prayers Allah Made Obligatory Upon His Servants
باب: اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر کتنی نمازیں فرض کی ہیں؟
Jam e Tirmazi
5
باب: اپنے بندوں کے لیے اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی مثال کا بیان
Jam e Tirmazi
6
اس عقیدے کا بیان کہ بارش اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے، اس کی مخلوق ہے اور اسی کی ایجاد کردہ ہے اور اس آدمی کے کفر کا بیان جو یہ کہتا ہے کہ فلاں ستارے کی وجہ سے بارش ہوئی ہے
Musnad Ahmad
7
اس کا بیان کہ جب اللہ تعالیٰ کسی بندے کی روح کسی علاقے میں قبض کرنے کا فیصلہ کرتا ہے تو اس کے لیے اس میں کوئی ضرورت بنا دیتا ہے نیز اچانک موت کا بیان
Musnad Ahmad
8
اللہ تعالیٰ اور اپنے مالک کی اطاعت کرنے والے غلام کے ثواب اور اس کی مخالفت کرنے والے غلام کی وعید کا بیان
Musnad Ahmad
9
اللہ تعالی کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے کیے جانے والے نیک اعمال کی اجرت کا بیان
Musnad Ahmad
10
اللہ تعالی کے حکم سے جادوکی تاثیر کا اور اس آدمی کی وعید کا بیان جو اُس کے حکم کے بغیر اس کی تصدیق کرتا ہو
Musnad Ahmad
11
اس چیز کا بیان کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے مخلوقات کے دلوں میں جو رحمت ودیعت رکھی ہے، یہ اس کی رحمت کا (۱۰۰ واں) حصہ ہے
Musnad Ahmad
12
اس چیز کا بیان کہ توحید پرستوں کو اللہ تعالیٰ کی رحمت سے ناامید نہیں ہونا چاہیے اور اس میں امت ِ محمدیہ کے لیے خوشخبری ہے
Musnad Ahmad
13
قریشیوں کا نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو قتل کرنے کا مشورہ کرنا اور اللہ تعالیٰ کا آپ کو ہجرت کا حکم دے دینا
Musnad Ahmad
14
اس امت کے فرعون ابوجہل ملعون کے قتل اور اس پر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خوشی کا بیان
Musnad Ahmad
15
غزوۂ خندق( احزاب) کے موقع پر اللہ تعالیٰ کا اپنے نبی کی دعا کو قبول کرنے، کفار کی جماعتوں کو شکست دینے، ان کے تتر بتر ہو جانے اور ان کے ناکام ونامراد واپس لوٹ جانے کا بیان
Musnad Ahmad
16
امت کے لیے سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کی برکتوںمیں سے ایک برکت یہ بھی ہے کہ ان کی وجہ سے تیمم کی رخصت کا حکم نازل ہوا
Musnad Ahmad
17
فصل: حکمرانوں کو اس بات سے ڈرانا کہ وہ برے لوگوں کو اپنے خاص مشیر بنائیں اور اس امر کا بیان کہ حکمرانوں کے لیے اللہ کے اموال کس قد ر حلال ہیں
Musnad Ahmad
18
فصل اول: گمراہ کرنے والے حکمرانوں کا بیان، اللہ تعالیٰ ہمیں ان کے شر سے محفوظ رکھے
Musnad Ahmad
19
فرشتوں، نبیوں اور مومنوں کی شفاعت کا بیان، اس سے واضح ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ توحید والے اپنے بندوں پر کس قدر مہربان ہے
Musnad Ahmad
20
بعض صحابہ کا نبی کر یم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اپنے حق میں شفاعت کی درخواست کرنااور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا ہر اس شخص کے حق میں سفارش کرنا، جس کو اس حال میں موت آئی ہو کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو
Musnad Ahmad
21
پل صراط ،انبیاء اور اہل ایمان کی شفاعت اور اللہ تعالیٰ کے اپنے موحد بندوں پر مہربانی کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
22
اہل ایمان کا جنت میں اپنے ربّ کا دیدار کرنا اور یہ سب سے بڑی نعمت ہو گی، جو اللہ تعالیٰ ان کو عطا کرے گا، اللہ ہمیں اس سے محروم نہ رکھے (آمین)نیز اس باب میں موقف سے موت کے ذبح ہونے تک کے ابواب کی تلخیص بھی ہے
Musnad Ahmad
23
(17) CHAPTER. (The Statement of Allah) “But if they repent [by rejecting Shirk (polytheism) and accept Islamic Monotheism] and perform As-Salat (Iqamat-as-Salat) and give Zakat then leave their way free.” (V.9:5)
اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی تفسیر میں کہ اگر وہ ( کافر ) توبہ کر لیں اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ ادا کریں تو ان کا راستہ چھوڑ دو ( یعنی ان سے جنگ نہ کرو )
Sahih Bukhari
24
(1) CHAPTER. The prescription of Friday [Salat-ul-Jumuah (Jumuah prayer)].
جمعہ کی نماز فرض ہے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی وجہ سے کہ
Sahih Bukhari
25
(6) CHAPTER. The statement of the Prophet : “Allah frightens Ibadahu (His devotees or slaves) with Kusuf (eclipse).”
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو سورج گرہن کے ذریعہ ڈراتا ہے
Sahih Bukhari
26
(67) CHAPTER. The Statement of Allah: … And those employed to collect (the funds) … (V. 9:60)
اللہ تعالیٰ نے سورۃ التوبہ میں فرمایا زکوٰۃ کے تحصیلداروں کو بھی زکوٰۃ سے دیا جائے گا
Sahih Bukhari
27
(182) CHAPTER. Allah may support the religion (Islam) with a Fajir (an evil, disobedient, wicked) man.
اللہ تعالیٰ کبھی اپنے دین کی مدد ایک فاجر شخص سے بھی کرا لیتا ہے
Sahih Bukhari
28
(5) CHAPTER. Allah's Statement: “And it is He Who sends the winds as heralds of glad tidings, going before his Mercy (rain)...” (V.25:48)
اللہ پاک کا سورۃ الاعراف میں یہ ارشاد کہ ” وہ اللہ تعالیٰ ہی ہے جو اپنی رحمت ( بارش ) سے پہلے خوشخبری دینے والی ہواؤں کو بھیجتا ہے ‘‘ ۔
Sahih Bukhari
29
(22) CHAPTER: And a believing man of Firaun's (Pharaoh) family, who hid his faith said.. (up to).. A Musrif (a polytheist, or a murderer who shed blood without a right, or those who commit great sins, oppressor, transgressor), a liar! (V.40:28)
( اللہ تعالیٰ نے فرمایا ) اور فرعون کے خاندان کے ایک مومن مرد ( شمعان نامی ) نے کہا جو اپنے ایمان کو پوشیدہ رکھے ہوئے تھا ‘ اللہ تعالیٰ کے ارشاد مسرف کذاب تک ۔
Sahih Bukhari
30
(26) CHAPTER. The Statement of Allah: “[Those to whom We gave the Scripture (Jews and Christians)] recognise him (Muhammad (p.b.u.h) or the Kabah at Makkah) as they recognise their own sons. But verily, a party of them conceal the truth while they know it - [i.e., the qualities of Muhammad (p.b.u.h) which are written in the Taurat (Torah) and the Injeel (Gospel)]. (V.2:146)
اللہ تعالیٰ کا سورۃ البقرہ میں یہ ارشاد کہ اہل کتاب اس رسول کو اس طرح پہچان رہے ہیں جیسے اپنے بیٹوں کو پہچانتے ہیں اور بیشک ان میں سے ایک فریق کے لوگ حق کو جانتے ہیں پھر بھی وہ اسے چھپاتے ہیں ۔
Sahih Bukhari
31
(22) CHAPTER. (Allah's Statement): “Not for you (O Muhammad , but for Allah) is the decision; whether He turns in mercy to (pardon) them or punishes them; verily, they are the Zalimun (polytheists, and wrong-doers, disobedients).” (V.3:128)
اللہ تعالیٰ کا فرمان ” آپ کو اس امر میں کوئی اختیار نہیں ۔ اللہ خواہ ان کی توبہ قبول کرے یا انہیں عذاب کرے پس بیشک وہ ظالم ہیں ۔
Sahih Bukhari
32
(50) CHAPTER. The Statement of Allah: “And give to the women (whom you marry) their Mahr with a good heart...” (V.4:4)
اللہ تعالیٰ کا فرمان اور عورتوں کو ان کا مہر خوش دلی ۔
Sahih Bukhari
33
(8) CHAPTER. “O Prophet! Why do you forbid (for yourself) that which Allah has allowed to you…?” (V.66:1)
اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا ” اے پیغمبر ! جو چیز اللہ نے تیرے لیے حلال کی ہے اسے تو اپنے اوپر کیوں حرام کرتا ہے “ ۔
Sahih Bukhari
34
(75) CHAPTER. What is allowed to say when one is angry or harsh for Allah's sake.
غصہ سے پرہیز کرنا اللہ تعالیٰ کے فرمان ( سورۃ شوریٰ ) کی وجہ سے
Sahih Bukhari
35
(19) CHAPTER. The Statement of Allah: “...And invoke Allah for them...”.
اللہ تعالیٰ کا سورۃ التوبہ میں فرمانا
Sahih Bukhari
36
(3) CHAPTER. The Statement of Allah: “Verily Allah is the All-Provider, Owner of Power, the Most Strong.” (V.51:58)
اللہ تعالیٰ کا ارشاد سورۃ الجن میں کہ ” وہ غیب کا جاننے والا ہے اور اپنے غیب کو کسی پر نہیں کھولتا “
Sahih Bukhari
37
(6) CHAPTER. The Statement of Allah: “The King of mankind.” (V.114:2)
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ” اور وہی غالب ہے ‘ حکمت والا “ ۔
Sahih Bukhari
38
(19) CHAPTER. The Statement of Allah: “... To one whom I have created with Both My Hands...” (V.38:75)
اللہ تعالیٰ نے ( شیطان سے ) فرمایا ” تو نے اس کو کیوں سجدہ نہیں کیا جسے میں نے اپنے دونوں ہاتھوں سے بنایا “ ۔
Sahih Bukhari
39
(24) CHAPTER. The Statement of Allah: “Some faces that Day shall be Nadirah (shining and radiant). Looking at their Lord.” (V.75:22,23)
سورۃ قیامت میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ” اس دن بعض چہرے تروتازہ ہوں گے ‘ وہ اپنے رب کو دیکھنے والے ہوں گے ‘ یا دیکھ رہے ہوں گے ۔
Sahih Bukhari
40
اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ پر ایمان ، دینی احکام پر عمل ، اس کی طرف دعوت ، اس کے بارے میں سوال کرنے ، دین کے تحفظ اور جن لوگوں تک دین نہ پہنچا ہو ان تک پہنچانے کا حکم
Sahih Muslim
41
Chapter: Clarifying that faith decreases with shortcoming in obedience, and the word Kufr may be used with regard to matters other than dsbelief in Allah, such as ingratitude for blessings and not fulfilling one's duties
اللہ کی اطاعت میں کمی کی وجہ سے ایمان میں کمی ہو جاتی ہے ، نیز اللہ تعالیٰ کے ساتھ صریح کفر کے علاوہ دوسرے امور،مثلاً : اس کی نعمتوں اور حقوق کے کفران (ناشکری) کو بھی کفر سے تعبیر کیا گیا ہے
Sahih Muslim
42
Chapter: Regarding the saying of Allah, the most High: And warn your tribe of near kindred.
اللہ تعالیٰ کا فرمان کہ اپنے رشتہ داروں کو ڈرائیں۔
Sahih Muslim
43
Chapter: When Allah Loves A Person. He Commands Jibril To Love Him, And He Loves Him, And The People Of Heaven Love Him, Then He Finds Acceptance On Earth
جب اللہ تعالیٰ کسی سے محبت کرتا ہے تو جبرائیل کو حکم دیتا ہے تو وہ اس سے محبت کرتے ہیں اور آسمان والے اس سے محبت کرتے ہیں، پھر زمین میں اس کے لیے مقبولیت رکھ دی جاتی ہے
Sahih Muslim
44
Chapter: Exhortation To Repent And Rejoicing Therein
توبہ کی تلقین اور اس پر (اللہ عزوجل کی) خوشی
Sahih Muslim
45
Chapter: The Command To Think Positively Of Allah At The Time Of Death
موت کے وقت اللہ تعالیٰ سے اچھا گمان رکھنے کا حکم
Sahih Muslim
46
CHAPTER: The Fasting Person Pouring Water Upon Himself Due To Thirst, And Exaggerating In Sniffing Water Into The Nose.
باب: روزہ دار پیاس کی وجہ سے اپنے اوپر پانی ڈالے اور ناک میں پانی چڑھانے میں مبالغہ کرے اس کے حکم کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
47
اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق وضو کرنے کا بیان
Sunnan Ibn e Maja
48
جو کوئی تین چیزوں کی وجہ سے مقروض ہو جائے تو اللہ تعالیٰ اس کا قرض ادا کرا دے گا
Sunnan Ibn e Maja
49
باب: رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم اور ازواج مطہرات کے نکاح کا بیان اور اس چیز کا بیان جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کے لیے جائز قرار دیا اور اپنی مخلوق کو منع کیا تاکہ ساری مخلوق پر آپ کی بزرگی اور فضیلت ظاہر ہو سکے۔
Sunnan Nisai
50
باب: اس چیز کا بیان جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول سے اپنی قربت دکھانے کے لیے حلال رکھا اور اپنی مخلوق کے لیے حرام کر دیا۔
Sunnan Nisai
No related chapter matched that.

Related Hadith

6
Musnad Ahmad
9313
۔ (۹۳۱۳)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((اِنَّ فُقَرَائَ الْمُھَاجِرِیْنَیَسْبِقُوْنَ الْاَغْنِیَائَیَوْمَ الْقِیَامَۃِ بِاَرْبَعِیْنَ خَرِیْفًا۔)) قَالَ عَبْدُ اللّٰہِ: فَاِنْ شِئْتُمْ اَعْطَیْنَاکُمْ مِمَّا عَنْدَنَا وَاِنْ شِئْتُمْ ذَکَرْنَا اَمْرَکُمْ لِلسُّلْطَانِ، قَالُوْا: فَاِنَّا نَصْبِرُ فَلا نَسْاَلُ شَیْئًا۔ (مسند احمد: ۶۵۷۸)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک فقراء مہاجرین بروز قیامت مالدار لوگوں سے چالیس سال پہلے سبقت لے جائیں گے۔ سیدنا عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اگر تم لوگ چاہتے ہو تو ہم تمہیں اپنے مال میں سے دے دیتے ہیں اور اگر چاہتے ہو تو ہم تمہارا معاملہ سلطان کے سامنے ذکر کر دیتے ہیں، انھوں نے کہا: ہم صبر کریں گے اور کسی سے کسی چیز کا سوال نہیں کریں گے۔
Musnad Ahmad
9312
۔ (۹۳۱۲)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ذَاتَ یَوْمٍ وَنحْنُ عِنْدَہُ: ((طُوْبٰی لِلْغُرَبَائِ۔)) فَقِیْلَ: مَنِ الْغُرَبَائُ؟ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! قَالَ: ((اُنَاسٌ صَالِحُوْنَ فِی اُنَاسٍ سُوئٍ کَثِیْرٍ، مَنْیَعْصِیْھِمْ اَکْثَرُ مِمَّنْ یُطِیْعُھُمْ۔)) قَالَ: وَکُنَّا عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَوْمًا آخَرَ حِیْنَ طَلَعَتِ الشَّمْسُ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((سَیَاْتِی اُنَاسٌ مِنْ اُمَّتِییَوْمَ الْقَیَامَۃِ نُوْرُھُمْ کَضَوْئِ الشَّمْسِ۔)) قُلْنَا: مَنْ اُولٰئِکَ؟ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! (وَفِی رَوَایَۃٍ) فَقَالَ: اَبُوْبَکْرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ نَحْنُ ھُمْ یاَرَسُوْلَ اللّٰہِ؟ قَالَ: ((لَاَ، وَلَکُمْ خَیْرٌ کَثِیْرٌ۔)) فَقَالَ: ((فُقَرَائُ الْمُھَاجِرِیْنَ الَّذِیْنَ تُتَّقَی بِھِمُ الْمَکَارِہُ، یَمُوْتُ اَحَدُھُمْ وَحَاجَتُہُ فِی صَدْرِہِ، یُحْشَرُوْنَ مِنْ اَقْطَارِ الْاَرْضِ۔)) (مسند احمد: ۶۶۵۰)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ایک دن رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا، جبکہ ہم آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس موجود تھے: غُرَباء کے لیے خوشخبری ہے۔ کسی نے کہا: غرباء کون لوگ ہیں؟ اے اللہ کے رسول! آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ بہت زیادہ برے لوگوں کے اندر پائے جانے والے نیک لوگ ہوتے ہیں، ان کی بات نہ ماننے والوں کی تعداد بات ماننے والوں کی بہ نسبت زیادہ ہوتی ہے۔ وہ کہتے ہیں: ایک اور دن کی بات ہے، سورج طلوع ہو رہا تھا، جبکہ ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس موجود تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن میرے امت میں سے ایسے لوگ آئیں گے کہ ان کا نور سورج کی روشنی کی طرح ہو گا۔ ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ کون لوگ ہوں گے؟ ایک روایت میں ہے: سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! ان سے مراد ہم لوگ ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جی نہیں، اور تم لوگوں میں بھی بڑی خیر ہے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ فقراء مہاجرین ہیں، جن کے ذریعے ناپسندیدہ چیزوں سے بچا جاتا ہے اور ان میں جب کوئی فوت ہوتا ہے تو اس کی ضرورت اس کے سینے میں ہوتی ہے، ان لوگوں کو زمین کے مختلف خطوں سے جمع کیا جائے گا۔
Musnad Ahmad
9314
۔ (۹۳۱۴)۔ حَدَّثَنَا الْھُذَیْلُ بْنُ مَیْمُوْنٍ الْکُوْفِیُّ الْجُعْفِیُّ، کَانَ یَجْلِسُ فِی مَسْجِدِ الْمَدِیْنَۃِیَعْنِی مَدِیْنَۃَ اَبِی جَعْفَرٍ، قَالَ عَبْدُاللّٰہِ: ھٰذَا شَیْخٌ قَدِیْمٌ کُوْفِیٌّ، عَنْ مُطَرِّحِ بْنِ یَزِیْدَ، عَنْ عُبَیْدِ اللّٰہِ بْنِ زَحْرٍ، عَنْ عَلِیِّ بْنِ یَزِیْدَ، عَنِ الْقَاسِمِ (یَعْنِی ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ)، عَنْ اَبِی اُمَامَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((دَخَلْتُ الْجَنَّۃَ فَوَجَدْتُّ فِیْھَا خَشْفَۃً بَیْنَیَدَیَّ، فَقُلْتُ: مَاھٰذَا؟ قَالَ: بِلَالٌ، قَالَ: فَمَضَیْْتُ فَاِذَا اَکْثَرُ اَھْلِ الْجَنَّۃِ فُقَرَائُ الْمُھَاجِرِیْنَ وَذرَارِیُّ الْمُسْلِمِیْنَ، وَلَمْ اَرَ اَحَدًا اَقَلَّ مِنَ الْاِغْنِیَائِ وَالنِّسَائِ، فَقَیْلِ لِی: اَمَّا الْاَغْنِیَائُ فَھُمْ ھَاھُنَا بِالْبَابِ یُحَاسَبُوْنَ وَیُمَحَّصُوْنَ، وَاَمَّا النِّسَائُ فَاَلْھَاھُنَّ الْاَحْمَرَانِ الذَّھَبُ وَالْحَرِیْرُ، قَالَ: ثُمَّ خَرَجْنَا مِنْ اَحَدِ اَبْوَابِ الْجَنَّۃِ الثَّمَانِیَۃِ، فَلَمَّا کُنْتُ عِنْدَ الْبَابِ اَتَیْتُ بِکِفَّۃٍ فَوُضِعْتُ فِیْھَا وَوُضِعَتْ اُمَّتِی فِی کِفَّۃٍفَرَجَحَتُ بِھَا، ثُّمَّ اُتِیَ بِاَبِی بَکْرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ فَوُضِعَ فِی کِفَّۃٍ وَجِیْیئَ بِجَمِیْعِ اُمَّتِی فِی کِفَّۃٍ فَوُضِعُوْا فَرَجَحَ اَبُوْبَکْرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، وَجِیْئَ بِعُمَرَ فَوُضِعَ فِی کِفَّۃٍ وَجِیْیئَ بِجَمِیْعِ اُمَّتِی فَوُضِعُوْا فَرَجَحَ عُمَرُ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، وَعُرِضَتْ اُمَّتِی رَجُلًا رَجُلًا فَجَعَلُوْا یَمرُّوْنَ فَاسْتَبْطَاْتُ عَبْدَ الرَّحْمٰنِ بْنَ عَوْفٍ ثُمَّ جَائَ بَعْدَ الْاِیَاسِ، فَقُلْتُ: عَبْدَ الرَّحْمٰنِ۔ فَقاَلَ: بِاَبِیْ وَاُمِّیْیَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! وَالَّذِیْ بَعَثَکَ بِالْحَقِّ مَاخَلَصْتُ اِلَیْکَ حَتّٰی ظَنَنْتُ اَنِّیْ لَا اَنْظُرُ اِلَیْکَ اَبَدًا اِلاَّ بَعْدَ الْمَشِیْبَاتِ، قَالَ: وَمَا ذَاکَ؟ قَالَ: مِنْ کَثْرَۃِ مَالِیْ، اُحَاسَبُ وَاُمَحَّصُ۔)) (مسند احمد: ۲۲۵۸۷)
۔ سیدنا ابو امامہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں جنت میں داخل ہوا اور اپنے سامنے سے آہٹ سنی، میں نے پوچھا کہ یہ کون سی آواز ہے؟ اس نے کہا: یہ سیدنا بلال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ہیں، پھر میں آگے کو بڑھا اور دیکھا کہ جنت میں زیادہ تر لوگ فقراء مہاجرین اور مسلمانوں کے بچے ہیں اور سب سے کم مالدار لوگ اور عورتیں ہیں، پھر مجھے بتلایا گیا کہ مالدار لوگوں کا جنت کے دروازے پر ابھی محاسبہ کیا جا رہا ہے اور ان کی مزید جانچ پڑتال کی جا رہی ہے، رہا مسئلہ خواتین کا، تو دو سرخ چیزوںیعنی سونے اور ریشم نے ان کو غافل کر دیا تھا، پھر ہم جنت کے آٹھ دروازوں میں سے کسی ایک دروازے سے باہر آئے، جب میں دروازے پر ہی تھا تو میرے پاس ایک پلڑا لایا گیا اور مجھے اس میں اور میرے امت کو دوسرے پلڑے میں رکھا گیا، پس میں بھاری ثابت ہوا، پھر سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو لا کر ایک پلڑے میں رکھا گیا اور باقی امت کو دوسرے میں، سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ والا پلڑا جھک گیا، پھر سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو لایا گیا اور ایک پلڑے میں رکھا اور باقی ساری امت کو دوسری پلڑے، سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بھاری ثابت ہوئے، پھر میری امت کے ایک ایک آدمی کو پیش کیا گیا، پس وہ آگے کو گزرتے گئے، میں نے اس معاملے میں سیدنا عبد الرحمن بن عوف ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو سست اور متأخر پایا، پھر وہ ناامید ہو جانے کے بعدا ٓیا، میں نے کہا: عبد الرحمن! انھوں نے کہا: جی اے اللہ کے رسول! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا، آپ تک پہنچنے سے پہلے مجھے یہ گمان ہونے لگا کہ میں کبھی بھی آپ کو نہیں دیکھ سکوں گا، مگر بڑھاپوں کے بعد، میں نے کہا: وہ کیوں؟ انھوں نے کہا: میرے مال کی کثرت کی وجہ سے میرا محاسبہ ہوتا رہا اور مزید جانچ پڑتال کی جاتی رہی۔
Musnad Ahmad
9315
۔ (۹۳۱۵)۔ عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ سَالِمٍ اللَّخْمِيِّ، قَالَ: بَعَثَ عُمَرُبْنُ عَبْدِ الْعَزِیْزِ اِلیٰ اَبِی سَلاَّمٍ الْحَبَشِیِّ، فَحُمِلَ اِلَیْہِ عَلَی الْبَرِیْدِیَسْاَلُہُ عَنِ الْحَوْضِ، فَقُدِّمَ بِہٖعَلَیْہِ، فَسَاَلَہُ فَقَالَ: سَمِعْتُ ثَوْبَانَ یَقُوْلُ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((اِنَّ حَوْضِیْ مِنْ عَدَنٍٍ اِلیٰ عَمَّانَ الْبَلْقَائِ، مَاؤُہُ اَشَدُّ بَیاَضًا مِنَ اللَّبَنِ وَاَحْلیٰ مِنِ الْعَسَلِ، وَاَکَاوِیْبُہُ عَدَدُ النُّجُوْمِ، مَنْ شَرِبَ مِنْہُ شَرْبَۃً لَمْ یَظْمَاْ بَعْدَھَا اَبَدًا، اَوَّلُ النَّاسِ وُرُوْدًا عَلَیْہِ فُقَرَائُ الْمُھَاجِرِیْنَ۔))، فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَابِ: مَنْ ھُمْ؟ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! قَالَ: ((ھُمُ الْشُّعْثُ رُؤُوْسًا، اَلدُّنْسُ ثِیَابًا، الذین لا یَنْکِحُوْنَ الْمُتَنَعِّمَاتِ، وَلا تُفْتَحُ لَھُمْ اَبْوَابُ السُّدَدِ۔)) فَقَالَ عُمَرُبْنُ عَبْدِ الْعَزِیْزِ: لَقَدْ نَکَحْتُ الْمُتَنَعِّمَاتِ، وَفُتِحَتْ لِیَ السُّدَدُ اِلاَّ اَنْ یَّرْحَمَنِی اللّٰہُ، وَاللّٰہِ لاجَرَمَ اَنْ لا اَدْھُنَ رَاْسِیْ حَتّٰییَشْعَثَ، وَلا اَغْسِلُ ثَوْبِی الَّذِیْیَلِیْ جَسَدِیْ حَتّٰییَتَّسِخَ۔ (مسند احمد: ۲۲۷۲۵)
۔ عباس بن سالم لخمی سے مروی ہے کہ عمر بن عبد العزیز نے ابو سلام حبشی کو بلا بھیجا، اس کو پیغام رساں کے ذریعے لایا گیا، وہ ان سے حوض کے بارے میں حدیث سننا چاہتے تھے، پس ان کو ان کے پاس لایا گیا، عمر بن عبد العزیز نے ان سے سوال کیا اور انھوں نے جواباً کہا: میں نے سیدنا ثوبان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میرے حوض (کی وسعت) عدن سے عمان بلقاء تک ہے، اس کا پانی برف سے زیادہ سفید اور شہد سے زیادہ میٹھا ہے، اس کے پیالے ستاروں کی تعدادجتنے ہیں،جس نے اس سے پانی پی لے، وہ اس کے بعد کبھی بھی پیاسا نہیں ہو گا، اس پر سب سے پہلے آنے والے فقراء مہاجرین ہوں گے۔ سیدنا عمربن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! وہ کون ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ وہ ہیں جن کے بال پراگندہ ہوتے ہیں، کپڑے میلے ہوتے ہیں، جو آسودہ حال عورتوں سے شادی نہیں کر سکتے اور جن کے لیے بند دروازے نہیں کھولے جاتے۔ یہ سن کر عمر بن عبد العزیز نے کہا: میں نے تو آسودہ حال عورتوں سے شادی بھی ہے اور میرے لیے بند دراوازے بھی کھولے گئے ہیں، الا یہ کہ اللہ تعالیٰ مجھ پر رحم کر دے، اللہ کی قسم! اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ میں اپنے سر پر اس وقت تک تیل نہیں لگاتا ، جب تک وہ پراگندہ نہیں ہو جاتا اور زیب ِ تن کیے ہوئے کپڑے نہیں دھوتا، جب تک وہ میلے نہیں ہو جاتے۔
Musnad Ahmad
10147
۔ (۱۰۱۴۷)۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللہ، قَالَ: کَسَعَ رَجُلٌ مِنَ الْمُھَاجِرِیْنَ رَجُلًا مِنَ الْاَنْصَارِ، فََقَالَ الْاَنْصَارِیُّ: یَا لَلْاَنْصَارِ! وَقَالَ الْمُھَاجِرِیُّ: یَا لَلْمَھَاجِرِیْنَ! فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَلَا مَا بَالُ دَعْوَیالْجَاھِلیَّۃِ دَعُوْا الْکَسْعَۃَ فَاِنَّھَا مُنْـتِـنَۃٌ۔)) (مسند احمد: ۱۵۱۹۶)
۔ سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک مہاجر آدمی نے ایک انصاری آدمی کی دُبُر پر ہاتھ یا پاؤں مارا (اور اس وجہ سے لڑائی ہو گئی)، انصاری نے آواز دی: او انصاریو! مہاجر نے آواز لگائی: او مہاجرو!، یہ سن کر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: خبردار! جاہلیت والی پکار پکارنے کی کیا وجہ ہے، اس طرح کی شرارتیں چھوڑ دو، یہ قابل مذمت ہیں۔
Musnad Ahmad
10616
۔ (۱۰۶۱۶)۔ عَنْ أبِیْ اِسْحَاقَ عَنِ الْبَرَائِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ: اشْتَرٰی أَبُوْ بَکْرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ مِنْ عَازِبٍ سَرْجًا بِثَلَاثَۃَ عَشَرَ دِرْھَمًا، قَالَ فَقَالَ أَبُوْ بَکْرٍ لِعَازِبٍ: مُرِ الْبَرَائَ فَلْیَحْمِلْہُ اِلٰی مَنْزِلِیْ، فَقَالَ: لَا، حَتّٰی تُحَدِّثَنَا کَیْفَ صَنَعْتَ حِیْنَ خرَجَ َرَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَأَنْتَ مَعَہُ، قَالَ: فَقَالَ أَبُوْبَکْرٍ: خَرَجْنَا فَأَدْلَجَنَا فَأَحْثَثْنَا یَوْمَنَا وَلَیْلَتَنَا حَتّٰی أَظْھَرْنَا وَقَامَ قَائِمُ الظَّھِیْرَۃِ فَضَرَبْتُ بِبَصَرِیْ ھَلْ أَرٰی ظِلًّا نَأْوِیْ اِلَیْہِ فَاِذَا أَنَا بِصَخْرَۃٍ فَاَھْوَیْتُ اِلَیْھَا فَاِذَا بَقِیَّۃُ ظِلِّھَا فَسَوَّیْتُہُ لِرَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَفَرَشْتُ لَہُ فَرْوَۃً وَقُلْتُ: اضْطَجِعْ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! فَاضْطَجَعَ ثُمَّّ خَرَجْتُ أَنْظُرُ ھَلْ أَرٰی أَحَدًا مِنَ الطَّلَبِ فَاِذَا أَنَا بِرَاعِیْ غَنَمٍ۔ فَقُلْتُ: لِمَنْ أَنْتَ یَا غُلَامُ؟ فَقَالَ: لِرَجُلٍ مِنْ قُرَیْشٍ فَسَمَّاہُ فَعَرَفْتُہُ فَقُلْتُ: ھَلْ فِیْ غَنَمِکَ مِنْ لَبَنٍ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: قُلْتُ: ھَلْ أَنْتَ حَالِبٌ لِیْ؟ قَالَ: نَعَمْ، فَأَمَرْتُہُ فَاعْتَقَلَ شَاۃً مِنْھَا ثُمَّّ أَمَرْتُہُ فَنَفَضَ ضَرْعَھَا مِنَ الْغُبَارِ ثُمَّّ أَمَرْتُہُ فَنَفَضَ کَفَّیْہِ مِنَ الْغُبَارِ وَمَعِیَ اِدَاوَۃٌ، عَلٰی فَمِھَا خِرْقَۃٌ فَحَلَبَ لِیْ کُثْبَۃً مِنَ اللَّبَنِ فَصَبَبْتُ یَعْنِی الْمَائَ عَلَی الْقَدَحِ حَتّٰی بَرَدَ أَسْفَلُہُ ثُمَّّ أَتَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَوَافَیْتُہُ وَقَدِ اسْتَیْقَظَ فَقُلْتُ: اشْرَبْ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! فَشَرِبَ حَتّٰی رَضِیْتُ ثُمَّّ قُلْتُ: أَنَی الرَّحِیْلُ؟ قَالَ: فَارْتَحَلْنَا وَالْقَوْمُ یَطْلُبُوْنَا فَلَمْ یُدْرِکْنَا أَحَدٌ مِنْھُمْ اِلَّا سُرَاقَۃُ بْنُ مَالِکِ بْنِ جُعْشُمٍ عَلٰی فَرَسٍ لَہُ فَقُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ھٰذَا الطَّلَبُ قَدْ لَحِقَنَا فَقَالَ: ((لَا تَحْزَنْ اِنَّ اللّٰہَ مَعَنَا)) حَتّٰی اِذَا دَنَا مِنَّا فَکَانَ بَیْنَنَا وَبَیْنَہُ قَدْرُ رُمْحٍ أَوَ رُمْحَیْنِ أَوَ ثَلَاثَۃٍ، قَالَ: قُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ ھٰذَا الطَّلَبُ قَدْ لَحِقَنَا وَبَکَیْتُ، قَالَ: ((لِمَ تَبْکِیْ؟)) قَالَ: قُلْتُ: أَمَا وَاللّٰہِ! مَا عَلٰی نَفْسِیْ أَبْکِیْ وَلٰکِنْ أَبْکِیْ عَلَیْکَ، قَالَ: فَدَعَا عَلَیْہِ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((اللّٰھُمَّ اکْفِنَاہُ بِمَا شِئْتَ)) فَسَاخَتْ قَوَائِمُ فَرَسِہِ اِلٰی بَطْنِھَا فِیْ أَرْضٍ صَلْدٍ وَوَثَبَ عَنْھَا وَقَالَ: یَامُحَمَّدُ! قَدْ عَلِمْتُ أَنَّ ھٰذَا عَمَلُکَ فَادْعُ اللّٰہَ أَنْ یُنْجِیَنِیْ مِمَّا أَنَا فِیْہِ، فَوَاللّٰہِ! لَأُعَمِّیَنَّ عَلٰی مَنْ وَرَائِیْ مِنَ الطَّلَبِ وَھٰذِہِ کِنَانَتِیْ فَخُذْ مِنْھَا سَھْمًا فَاِنَّکَ سَتَمُرُّ بِاِبِلِیْ وَغَنَمِیْ فِیْ مَوْضِعِ کَذَا وَکَذَا فَخُذْ مِنْھَا حَاجَتَکَ، قَالَ: فَقَالَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : لَا حَاجَۃَ لِیْ فِیْھَا، قَالَ: وَدَعَا لَہُ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَأُطْلِقَ فَرَجَعَ اِلٰی اَصْحَابِہٖوَمَضٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَأَنَا مَعَہُ حَتّٰی قَدِمْنَا الْمَدِیْنَۃَ فَتَلَقَّاہُ النَّاسُ فَخَرَجُوْا فِی الطَّرِیْقِ وَ عَلَی الْاَجَاجِیْرِ فَاشْتَدَّ الْخَدَمُ وَالصِّبْیَانُ فِی الطَّرِیْقِیَقُوْلُوْنَ: اَللّٰہُ اَکْبَرُ، جَائَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، جَائَ مُحَمَّدٌ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، قَالَ: وَتَنَازَعَ الْقَوْمُ أَیُّھُمْیَنْزِلُ عَلَیْہِ، قَالَ: فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَنْزِلُ اللَّیْلَۃَ عَلٰی بَنِی النَّجَّارِ اَخْوَالِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ لِاُکْرِمَھُمْ بِذٰلِکَ۔)) فَلَمَّا اَصْبَحَ غَدَا حَیْثُ أُمِرَ، قَالَ الْبَرَائُ بْنُ عَازِبٍ: اَوَّلُ مَنْ کَانَ قَدِمَ عَلَیْنَا مِنَ الْمُھَاجِرِیْنَ مُصْعَبُ بْنُ عُمَیْرٍ أَخُوْ بَنِیْ عَبْدِ الدَّارِ ثُمَّّ قَدِمَ عَلَیْنَا ابْنُ آَمِّ مَکْتُوْمٍ الْأَعْمٰی أَخُوْ بَنِیْ فِھْرٍ ثُمَّّ قَدِمَ عَلَیْنَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فِیْ عِشْرِیْنَ رَاکِبًا فَقُلْنَا مَا فَعَلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ھُوَ عَلٰی أَثَرِیْ ثُمَّّ قَدِمَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَأَبُوْ بَکْرٍ مَعَہُ قَالَ الْبَرَائُ: وَلَمْ یَقْدَمْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَتّٰی قَرَأْتُ سُوَرًا مِنَ الْمُفَصَّلِ، قَالَ اِسْرائِیْلُ: وَکَانَ الْبَرَائُ مِنَ الْأَنْصَارِ مِنْ بَنِیْ حَارِثَۃَ۔ (مسند احمد: ۳)
۔ سیدنا براء بن عازب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے میرے باپ سیدنا عازب سے تیرہ درہم کی ایک زین خریدی، سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے میرے باپ سے کہا: براء کو کہہ دینا کہ میرے گھر چھوڑ آئے، انھوں نے کہا: جی نہیں، جب تک تم مجھے یہ بیان نہیں کرو گے کہ تم نے اس وقت کیا کیا تھا، جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مکہ سے نکلے تھے اور تم آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ تھے؟ سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: ہم (غار سے) نکلے اور رات کے پہلے حصے میںچلتے رہے، ہم اس رات اور دن کو تیزی سے چلتے رہے، یہاں تک کہ دوپہر کا وقت ہو گیا، میں نے دور دور تک دیکھا کہ آیا کوئی سائے والی جگہ ہے، جس میں سستا سکیں، پس اچانک مجھے ایک چٹان نظر آئی، میں اس کی طرف جھکا، اس کا جو سایہ باقی تھا، اس جگہ کو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے لیے برابر کیا اور اس پر چمڑا بچھایا اور کہا: اے اللہ کے رسول! آپ لیٹ جائیں، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لیٹ گئے اور میں وہاں سے نکل پڑا تاکہ دیکھ سکوں کہ آیا کوئی تلاش کرنے والا پہنچ تو نہیں گیا، اچانک میری نظر بکریوں کے ایک چرواہے پر پڑی، میں نے اس سے پوچھا: او لڑکے! تو کس کا چرواہا ہے؟ اس نے کہا: فلاں قریشی کا، اس نے اس کا نام لیا اور میں نے اس کو پہچان لیا، پھر میں نے کہا: کیا تیری بکریوں میں دودھ ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں، میں نے کہا: کیا تو مجھے دوہ کر دے گا؟ اس نے کہا: جی ہاں، پس میں نے اس کو حکم دیا، اس نے بکری کی ٹانگوں کو باندھا، پھر میں نے اس کو حکم دیا کہ تھنوں سے گرد و غبار کو صاف کر دے، پھر میں نے اس کو حکم دیا کہ وہ اپنے ہاتھوں سے بھی غبار کو صاف کر دے، میرے پاس ایک برتن تھا، اس پر منہ پر ایک چیتھڑا تھا، پس اس نے میرے لیے تھوڑی مقدار میں دودھ دوہا، پھر میں نے پیالے پر پانی بہایا،یہاں تک کہ اس کے نیچے والا حصہ ٹھنڈا ہو گیا، پھر میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور آپ کو اس حال میںپایا کہ آپ بیدار ہو چکے تھے، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ دودھ نوش فرمائیں، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پیا،یہاں تک کہ میں خوش ہو گیا، پھر میں نے کہا: کوچ کرنے کا وقت ہو چکا ہے، پس ہم وہاں سے چل پڑے، اُدھر لوگوں نے ہم کو تلاش تو کیا، لیکن صرف سراقہ بن مالک بن جعشم ہم تک پہنچ سکا، وہ گھوڑے پر سوار تھا، جب میں نے اس کو دیکھا تو میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ تلاش کرنے والا ہم تک پہنچ چکا ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: پریشان نہ ہو، بیشک اللہ تعالیٰ ہمارے ساتھ ہے۔ جب وہ اس قدر ہمارے قریب ہو گیا کہ ایکیا دو یا تین نیزوں کے فاصلے پر تھا، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ متلاشی بالکل ہمارے پاس پہنچ چکا ہے ، ساتھ ہی میں رونے لگ گیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم کیوں روتے ہو؟ میں نے کہا: اللہ کی قسم! میں اپنی ذات کے لیے نہیں، آپ کی ذات کے لیے رو رہا ہوں، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس پر بد دعا کرتے ہوئے کہا: اے اللہ! اپنی چاہت کے مطابق کسی چیز کے ساتھ اس سے کفایت کر۔ پس اس کے گھوڑے کی ٹانگیں سخت زمین میں پیٹ تک گھس گئیں اور وہ کود کر اس سے پرے ہٹ گیا اور اس نے کہا: اے محمد! میں جانتا ہوں کہ تمہاری کاروائی ہے، اب اللہ تعالیٰ سے دعا کرو کہ وہ مجھے اس مصیبت سے نجات دلا دے، اللہ کی قسم ہے، میں اپنے پیچھے آنے والے متلاشیوں کو تم لوگوں سے اندھا بنا دوں گا، یہ میرا ترکش ہے، اس میں سے ایک تیر آپ لے لیں، کیونکہ آپ عنقریب فلاں جگہ سے گزرنے والے ہیں، وہاں میرے اونٹ اور بکریاں ہیں، (میرے چرواہے کو یہ تیر دکھا کر) وہاں سے اپنی ضرورت کے مطابق جو چاہیں لے لینا، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مجھے ان کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کے لیے دعا کی، پس اس کو آزاد کر دیا گیا، پھر وہ اپنے ساتھیوں کی طرف لوٹ گیا اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم آگے چل دیئے، جبکہ میں (ابو بکر) آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ تھا، یہاں تک کہ ہم مدینہ منورہ پہنچ گئے، پس لوگ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو ملے اور لوگ راستوں پر اور چھتوں پر موجود تھے اور راستے میں خادموں اور بچوں نے ہجوم کیا ہوا تھا اور وہ کہہ رہے تھے: اللہ اکبر، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم آ گئے ہیں، محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پہنچ گئے ہیں، اب لوگوں میں یہ اختلاف پیدا ہو گیا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کس کے گھر اتریں گے، اُدھر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں آج رات عبد المطلب کے ماموؤں بنو نجار کے پاس اتروں گا، میں ان کو یہ شرف دینا چاہتا ہوں۔ جب صبح ہوئی تو جیسے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو حکم ہوا، اس کے مطابق چل پڑے۔ سیدنا براء بن عازب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: ہمارے پاس سب سے پہلے آنے والے مہاجر بنو عبد الدار کے بھائی سیدنا مصعب بن عمیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ تھے، ان کے بعد بنو فہر کے بھائی سیدنا ابن ام مکتوم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ پہنچے، پھر بیس افراد سمیت سیدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ آ گئے، ہم نے ان سے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کیا کر رہے ہیں، انھوں نے کہا: وہ میرے پیچھے تشریف لا رہے ہیں، پھر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم آگئے، جبکہ سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ان کے ساتھ تھے۔ سیدنا براء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: ابھی تک رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مدینہ میں تشریف نہیں لائے تھے کہ میں نے بعض مفصل سورتوں کی تعلیم حاصل کر لی تھی، اسرائیل راوی نے کہا: سیدنا براء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، بنو حارثہ کے انصار میں سے تھے۔