۔ (۶۱۴۱)۔ عَنْ عَبْدِالرَّحْمٰنِ بْنِ شِبْلٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم : ((اِقْرَئُ وْا الْقُرْآنَ وَلَا تَأْکُلُوْا بِہٖوَلَاتَسْتَکْثِرُوْابِہٖوَلَاتَجْفُوْاعَنْہُ،وَلَاتَغْلُوْافِیْہِ۔)) (مسند احمد: ۱۵۶۲۰)
۔ سیدنا عبدالرحمن بن شبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قرآن کی تلاوت کرو اور اس کوکھانے کا ذریعہ نہ بنائو اور نہ ہی اس کے ذریعہ مال کی کثرت طلب کرو، اس کی تلاوت سے نہ دوری اختیار کرواور نہ اس کے بارے میں غلوّ میں پڑو۔
Takhreej
(۶۱۴۱) حدیث صحیح۔ أخرجہ الطبرانی فی ’’الاوسط‘‘: ۲۵۹۵،و البزار: ۲۳۲۰ (انظر: ۱۵۵۳۵)
Explanation
فوائد:… آخری دو جملوں کا مفہوم یہ ہے کہ قرآن مجید کے سلسلے میں اعتدال اختیار کیا جائے اور افراط و تفریط سے بچا جائے، نہ اس طرح ہونے پائے کہ آدمی اس کی تلاوت سے دور ہو جائے اور نہ یہ صورت صحیح ہے کہ آدمی غلوّ کرتے ہوئے اس کی حدود سے تجاوز شروع کر دے۔
6141
Sahih