TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 10156 - توبہ کے حکم اور اس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کا اپنے مؤمن بندے سے خوش ہونے کا بیان - توبہ کی کتاب - Musnad Ahmad in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 8 of 17 in this chapter
توبہ کے حکم اور اس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کا اپنے مؤمن بندے سے خوش ہونے کا بیان
۔ (۱۰۱۵۶)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَیَفْرَحُ بِرَاحِلَتِہِ اِذَا ضَلَّتْ مِنْہُ ثُمَّ وَجَدَھَا؟)) قَالُوْا: نَعَمْ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! قَالَ: ((وَالَّذِیْ نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِیَدِہِ، اللّٰہُ اَشَدُّ فَرَحًا بِتَوْبَۃِ عَبْدِہِ اِذَا تَابَ مِنْ اَحَدِکُمْ بِرَاحِلَتِہِ اِذَا وَجَدَھَا۔)) (مسند احمد: ۸۱۷۷)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب کسی آدمی کی سواری گم ہو جائے تو کیا وہ اس کو پا لینے پر خوش ہوتا ہے؟ لوگوں نے کہا: جی ہاں اے اللہ کے رسول! آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) کی جان ہے! اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی توبہ کی وجہ سے اس سے زیادہ خوشی ہوتی ہے، جو تم میں سے کسی کو سواری پا لینے کی وجہ سے ہوتی ہے۔
10156
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Conclusion
تخریج
(۱۰۱۵۶) تخریج: أخرجہ مسلم: ص ۲۱۰۲(انظر: ۸۱۹۲)

Related Chapters

2,354
1
باب: اللہ تعالیٰ اپنے بندے پر اپنی نعمت کا اثر دیکھنا پسند کرتا ہے
Jam e Tirmazi
2
اللہ تعالیٰ کا اپنے نبی کو دعوت کا اظہار و اعلان کرنے کا حکم دینا اور کفارِ قریش کا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ مسلمان ہونے والے کمزوروں کو ایذا دینا
Musnad Ahmad
3
فیصلے میں اللہ تعالیٰ کے عدل و انصاف ، اس کے اپنے مومن بندے پر رحم کرنے اور اس کی ستر پوشی کرنے اور کافراور منافق کو ذلیل و رسوا کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
4
Chapter: What Has Been Related About How Many Prayers Allah Made Obligatory Upon His Servants
باب: اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر کتنی نمازیں فرض کی ہیں؟
Jam e Tirmazi
5
باب: اپنے بندوں کے لیے اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی مثال کا بیان
Jam e Tirmazi
6
اس عقیدے کا بیان کہ بارش اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے، اس کی مخلوق ہے اور اسی کی ایجاد کردہ ہے اور اس آدمی کے کفر کا بیان جو یہ کہتا ہے کہ فلاں ستارے کی وجہ سے بارش ہوئی ہے
Musnad Ahmad
7
اس کا بیان کہ جب اللہ تعالیٰ کسی بندے کی روح کسی علاقے میں قبض کرنے کا فیصلہ کرتا ہے تو اس کے لیے اس میں کوئی ضرورت بنا دیتا ہے نیز اچانک موت کا بیان
Musnad Ahmad
8
اللہ تعالیٰ اور اپنے مالک کی اطاعت کرنے والے غلام کے ثواب اور اس کی مخالفت کرنے والے غلام کی وعید کا بیان
Musnad Ahmad
9
اللہ تعالی کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے کیے جانے والے نیک اعمال کی اجرت کا بیان
Musnad Ahmad
10
اللہ تعالی کے حکم سے جادوکی تاثیر کا اور اس آدمی کی وعید کا بیان جو اُس کے حکم کے بغیر اس کی تصدیق کرتا ہو
Musnad Ahmad
11
اس چیز کا بیان کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے مخلوقات کے دلوں میں جو رحمت ودیعت رکھی ہے، یہ اس کی رحمت کا (۱۰۰ واں) حصہ ہے
Musnad Ahmad
12
اس چیز کا بیان کہ توحید پرستوں کو اللہ تعالیٰ کی رحمت سے ناامید نہیں ہونا چاہیے اور اس میں امت ِ محمدیہ کے لیے خوشخبری ہے
Musnad Ahmad
13
قریشیوں کا نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو قتل کرنے کا مشورہ کرنا اور اللہ تعالیٰ کا آپ کو ہجرت کا حکم دے دینا
Musnad Ahmad
14
اس امت کے فرعون ابوجہل ملعون کے قتل اور اس پر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خوشی کا بیان
Musnad Ahmad
15
غزوۂ خندق( احزاب) کے موقع پر اللہ تعالیٰ کا اپنے نبی کی دعا کو قبول کرنے، کفار کی جماعتوں کو شکست دینے، ان کے تتر بتر ہو جانے اور ان کے ناکام ونامراد واپس لوٹ جانے کا بیان
Musnad Ahmad
16
امت کے لیے سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کی برکتوںمیں سے ایک برکت یہ بھی ہے کہ ان کی وجہ سے تیمم کی رخصت کا حکم نازل ہوا
Musnad Ahmad
17
فصل: حکمرانوں کو اس بات سے ڈرانا کہ وہ برے لوگوں کو اپنے خاص مشیر بنائیں اور اس امر کا بیان کہ حکمرانوں کے لیے اللہ کے اموال کس قد ر حلال ہیں
Musnad Ahmad
18
فصل اول: گمراہ کرنے والے حکمرانوں کا بیان، اللہ تعالیٰ ہمیں ان کے شر سے محفوظ رکھے
Musnad Ahmad
19
فرشتوں، نبیوں اور مومنوں کی شفاعت کا بیان، اس سے واضح ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ توحید والے اپنے بندوں پر کس قدر مہربان ہے
Musnad Ahmad
20
بعض صحابہ کا نبی کر یم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اپنے حق میں شفاعت کی درخواست کرنااور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا ہر اس شخص کے حق میں سفارش کرنا، جس کو اس حال میں موت آئی ہو کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو
Musnad Ahmad
21
پل صراط ،انبیاء اور اہل ایمان کی شفاعت اور اللہ تعالیٰ کے اپنے موحد بندوں پر مہربانی کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
22
اہل ایمان کا جنت میں اپنے ربّ کا دیدار کرنا اور یہ سب سے بڑی نعمت ہو گی، جو اللہ تعالیٰ ان کو عطا کرے گا، اللہ ہمیں اس سے محروم نہ رکھے (آمین)نیز اس باب میں موقف سے موت کے ذبح ہونے تک کے ابواب کی تلخیص بھی ہے
Musnad Ahmad
23
(17) CHAPTER. (The Statement of Allah) “But if they repent [by rejecting Shirk (polytheism) and accept Islamic Monotheism] and perform As-Salat (Iqamat-as-Salat) and give Zakat then leave their way free.” (V.9:5)
اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی تفسیر میں کہ اگر وہ ( کافر ) توبہ کر لیں اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ ادا کریں تو ان کا راستہ چھوڑ دو ( یعنی ان سے جنگ نہ کرو )
Sahih Bukhari
24
(1) CHAPTER. The prescription of Friday [Salat-ul-Jumuah (Jumuah prayer)].
جمعہ کی نماز فرض ہے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی وجہ سے کہ
Sahih Bukhari
25
(6) CHAPTER. The statement of the Prophet : “Allah frightens Ibadahu (His devotees or slaves) with Kusuf (eclipse).”
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو سورج گرہن کے ذریعہ ڈراتا ہے
Sahih Bukhari
26
(67) CHAPTER. The Statement of Allah: … And those employed to collect (the funds) … (V. 9:60)
اللہ تعالیٰ نے سورۃ التوبہ میں فرمایا زکوٰۃ کے تحصیلداروں کو بھی زکوٰۃ سے دیا جائے گا
Sahih Bukhari
27
(182) CHAPTER. Allah may support the religion (Islam) with a Fajir (an evil, disobedient, wicked) man.
اللہ تعالیٰ کبھی اپنے دین کی مدد ایک فاجر شخص سے بھی کرا لیتا ہے
Sahih Bukhari
28
(5) CHAPTER. Allah's Statement: “And it is He Who sends the winds as heralds of glad tidings, going before his Mercy (rain)...” (V.25:48)
اللہ پاک کا سورۃ الاعراف میں یہ ارشاد کہ ” وہ اللہ تعالیٰ ہی ہے جو اپنی رحمت ( بارش ) سے پہلے خوشخبری دینے والی ہواؤں کو بھیجتا ہے ‘‘ ۔
Sahih Bukhari
29
(22) CHAPTER: And a believing man of Firaun's (Pharaoh) family, who hid his faith said.. (up to).. A Musrif (a polytheist, or a murderer who shed blood without a right, or those who commit great sins, oppressor, transgressor), a liar! (V.40:28)
( اللہ تعالیٰ نے فرمایا ) اور فرعون کے خاندان کے ایک مومن مرد ( شمعان نامی ) نے کہا جو اپنے ایمان کو پوشیدہ رکھے ہوئے تھا ‘ اللہ تعالیٰ کے ارشاد مسرف کذاب تک ۔
Sahih Bukhari
30
(26) CHAPTER. The Statement of Allah: “[Those to whom We gave the Scripture (Jews and Christians)] recognise him (Muhammad (p.b.u.h) or the Kabah at Makkah) as they recognise their own sons. But verily, a party of them conceal the truth while they know it - [i.e., the qualities of Muhammad (p.b.u.h) which are written in the Taurat (Torah) and the Injeel (Gospel)]. (V.2:146)
اللہ تعالیٰ کا سورۃ البقرہ میں یہ ارشاد کہ اہل کتاب اس رسول کو اس طرح پہچان رہے ہیں جیسے اپنے بیٹوں کو پہچانتے ہیں اور بیشک ان میں سے ایک فریق کے لوگ حق کو جانتے ہیں پھر بھی وہ اسے چھپاتے ہیں ۔
Sahih Bukhari
31
(22) CHAPTER. (Allah's Statement): “Not for you (O Muhammad , but for Allah) is the decision; whether He turns in mercy to (pardon) them or punishes them; verily, they are the Zalimun (polytheists, and wrong-doers, disobedients).” (V.3:128)
اللہ تعالیٰ کا فرمان ” آپ کو اس امر میں کوئی اختیار نہیں ۔ اللہ خواہ ان کی توبہ قبول کرے یا انہیں عذاب کرے پس بیشک وہ ظالم ہیں ۔
Sahih Bukhari
32
(50) CHAPTER. The Statement of Allah: “And give to the women (whom you marry) their Mahr with a good heart...” (V.4:4)
اللہ تعالیٰ کا فرمان اور عورتوں کو ان کا مہر خوش دلی ۔
Sahih Bukhari
33
(8) CHAPTER. “O Prophet! Why do you forbid (for yourself) that which Allah has allowed to you…?” (V.66:1)
اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا ” اے پیغمبر ! جو چیز اللہ نے تیرے لیے حلال کی ہے اسے تو اپنے اوپر کیوں حرام کرتا ہے “ ۔
Sahih Bukhari
34
(75) CHAPTER. What is allowed to say when one is angry or harsh for Allah's sake.
غصہ سے پرہیز کرنا اللہ تعالیٰ کے فرمان ( سورۃ شوریٰ ) کی وجہ سے
Sahih Bukhari
35
(19) CHAPTER. The Statement of Allah: “...And invoke Allah for them...”.
اللہ تعالیٰ کا سورۃ التوبہ میں فرمانا
Sahih Bukhari
36
(3) CHAPTER. The Statement of Allah: “Verily Allah is the All-Provider, Owner of Power, the Most Strong.” (V.51:58)
اللہ تعالیٰ کا ارشاد سورۃ الجن میں کہ ” وہ غیب کا جاننے والا ہے اور اپنے غیب کو کسی پر نہیں کھولتا “
Sahih Bukhari
37
(6) CHAPTER. The Statement of Allah: “The King of mankind.” (V.114:2)
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ” اور وہی غالب ہے ‘ حکمت والا “ ۔
Sahih Bukhari
38
(19) CHAPTER. The Statement of Allah: “... To one whom I have created with Both My Hands...” (V.38:75)
اللہ تعالیٰ نے ( شیطان سے ) فرمایا ” تو نے اس کو کیوں سجدہ نہیں کیا جسے میں نے اپنے دونوں ہاتھوں سے بنایا “ ۔
Sahih Bukhari
39
(24) CHAPTER. The Statement of Allah: “Some faces that Day shall be Nadirah (shining and radiant). Looking at their Lord.” (V.75:22,23)
سورۃ قیامت میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ” اس دن بعض چہرے تروتازہ ہوں گے ‘ وہ اپنے رب کو دیکھنے والے ہوں گے ‘ یا دیکھ رہے ہوں گے ۔
Sahih Bukhari
40
اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ پر ایمان ، دینی احکام پر عمل ، اس کی طرف دعوت ، اس کے بارے میں سوال کرنے ، دین کے تحفظ اور جن لوگوں تک دین نہ پہنچا ہو ان تک پہنچانے کا حکم
Sahih Muslim
41
Chapter: Clarifying that faith decreases with shortcoming in obedience, and the word Kufr may be used with regard to matters other than dsbelief in Allah, such as ingratitude for blessings and not fulfilling one's duties
اللہ کی اطاعت میں کمی کی وجہ سے ایمان میں کمی ہو جاتی ہے ، نیز اللہ تعالیٰ کے ساتھ صریح کفر کے علاوہ دوسرے امور،مثلاً : اس کی نعمتوں اور حقوق کے کفران (ناشکری) کو بھی کفر سے تعبیر کیا گیا ہے
Sahih Muslim
42
Chapter: Regarding the saying of Allah, the most High: And warn your tribe of near kindred.
اللہ تعالیٰ کا فرمان کہ اپنے رشتہ داروں کو ڈرائیں۔
Sahih Muslim
43
Chapter: When Allah Loves A Person. He Commands Jibril To Love Him, And He Loves Him, And The People Of Heaven Love Him, Then He Finds Acceptance On Earth
جب اللہ تعالیٰ کسی سے محبت کرتا ہے تو جبرائیل کو حکم دیتا ہے تو وہ اس سے محبت کرتے ہیں اور آسمان والے اس سے محبت کرتے ہیں، پھر زمین میں اس کے لیے مقبولیت رکھ دی جاتی ہے
Sahih Muslim
44
Chapter: Exhortation To Repent And Rejoicing Therein
توبہ کی تلقین اور اس پر (اللہ عزوجل کی) خوشی
Sahih Muslim
45
Chapter: The Command To Think Positively Of Allah At The Time Of Death
موت کے وقت اللہ تعالیٰ سے اچھا گمان رکھنے کا حکم
Sahih Muslim
46
CHAPTER: The Fasting Person Pouring Water Upon Himself Due To Thirst, And Exaggerating In Sniffing Water Into The Nose.
باب: روزہ دار پیاس کی وجہ سے اپنے اوپر پانی ڈالے اور ناک میں پانی چڑھانے میں مبالغہ کرے اس کے حکم کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
47
اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق وضو کرنے کا بیان
Sunnan Ibn e Maja
48
جو کوئی تین چیزوں کی وجہ سے مقروض ہو جائے تو اللہ تعالیٰ اس کا قرض ادا کرا دے گا
Sunnan Ibn e Maja
49
باب: رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم اور ازواج مطہرات کے نکاح کا بیان اور اس چیز کا بیان جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کے لیے جائز قرار دیا اور اپنی مخلوق کو منع کیا تاکہ ساری مخلوق پر آپ کی بزرگی اور فضیلت ظاہر ہو سکے۔
Sunnan Nisai
50
باب: اس چیز کا بیان جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول سے اپنی قربت دکھانے کے لیے حلال رکھا اور اپنی مخلوق کے لیے حرام کر دیا۔
Sunnan Nisai
No related chapter matched that.

Related Hadith

3
Musnad Ahmad
5050
۔ (۵۰۵۰)۔ حَدَّثَنَا إِیَاسُ بْنُ سَلَمَۃَ بْنِ الْأَکْوَعِ، عَنْ أَبِیہِ قَالَ: غَزَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہَوَازِنَ وَغَطَفَانَ، فَبَیْنَمَا نَحْنُ کَذٰلِکَ إِذْ جَائَ رَجُلٌ عَلٰی جَمَلٍ أَحْمَرَ، فَانْتَزَعَ شَیْئًا مِنْ حَقَبِ الْبَعِیرِ، فَقَیَّدَ بِہِ الْبَعِیرَ، ثُمَّ جَائَ یَمْشِی حَتّٰی قَعَدَ مَعَنَا یَتَغَدّٰی، قَالَ: فَنَظَرَ فِی الْقَوْمِ فَإِذَا ظَہْرُہُمْ فِیہِ قِلَّۃٌ وَأَکْثَرُہُمْ مُشَاۃٌ، فَلَمَّا نَظَرَ إِلَی الْقَوْمِ خَرَجَ یَعْدُو، قَالَ: فَأَتٰی بَعِیرَہُ فَقَعَدَ عَلَیْہِ، قَالَ: فَخَرَجَ یَرْکُضُہُ وَہُوَ طَلِیعَۃٌ لِلْکُفَّارِ، فَاتَّبَعَہُ رَجُلٌ مِنَّا مِنْ أَسْلَمَ عَلٰی نَاقَۃٍ لَہُ وَرْقَائَ، قَالَ إِیَاسٌ: قَالَ أَبِی: فَاتَّبَعْتُہُ أَعْدُو عَلٰی رِجْلَیَّ، قَالَ: وَرَأْسُ النَّاقَۃِ عِنْدَ وَرِکِ الْجَمَلِ، قَالَ: وَلَحِقْتُہُ فَکُنْتُ عِنْدَ وَرِکِ النَّاقَۃِ، وَتَقَدَّمْتُ حَتَّی کُنْتُ عِنْدَ وَرِکِ الْجَمَلِ، ثُمَّ تَقَدَّمْتُ حَتَّی أَخَذْتُ بِخِطَامِ الْجَمَلِ، فَقُلْتُ لَہُ: إِخْ! فَلَمَّا وَضَعَ الْجَمَلُ رُکْبَتَہُ إِلَی الْأَرْضِ اخْتَرَطْتُ سَیْفِی فَضَرَبْتُ رَأْسَہُ فَنَدَرَ ثُمَّ جِئْتُ بِرَاحِلَتِہِ أَقُودُہَا، فَاسْتَقْبَلَنِی رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَعَ النَّاسِ، قَالَ:(( مَنْ قَتَلَ ہٰذَا الرَّجُلَ؟)) قَالُوْا ابْنُ الْأَکْوَعِ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَہُ سَلَبُہُ أَجْمَعُ۔)) (مسند أحمد: ۱۶۶۵۱)
۔ سیدنا سلمہ بن اکوع ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہوازن اور غطفان کے ساتھ جہاد کیا، ہم ایک مقام پر بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک آدمی سرخ اونٹ پر آیا اور اونٹ کے تنگ میں سے کوئی چیز نکالی اور اس کے ساتھ اپنے اونٹ کو باندھا، پھر آیا اور ہمارے ساتھ دوپہر کا کھانا کھانے لگا، اس نے ہمارے لوگوں کا جائزہ لیا اور دیکھا کہ ہمارے سوار تھوڑے ہیں اور زیادہ تر لوگ پیدل ہیں، یہ جائزہ لے کر وہ دوڑتا ہوا نکلا، اپنے اونٹ کے پاس گیا اور اس پر بیٹھ کر اس کو دوڑانے لگا، یہ دراصل کافروں کا جاسوس تھا، بنواسلم قبیلے کا ایک آدمی اپنی سیاہی نما اونٹنی پر سوار ہوا اور اس کا پیچھا کیا، سیدنا سلمہ بن اکوع ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میں اپنی ٹانگوں پر دوڑا، اس آدمی کی اونٹنی کا سر جاسوس کے اونٹ کے پچھلی ٹانگ تک پہنچ چکا تھے، پیچھے سے میں بھی ملا جا رہا تھا اور اس کی اونٹنی کی پچھلی ٹانگ کے برابر تک پہنچ چکا تھا، میں میں اور آگے بڑھا اور جاسوس کے اونٹ کے پچھلے حصے کے برابر ہو گیا، پھر میں اور آگے بڑھا اور اونٹ کی لگام پکڑ لی اور اس کو بیٹھنے کی آواز دی، جب اونٹ نے اپنا گھٹنا زمین پر رکھا تو میں نے اپنی تلوار سونتی اور اس کے سر پر ماری اوروہ گر پڑا، پھر میں اونٹنی لے کر واپس آ گیا، آگے سے کچھ لوگوں سمیت رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم آ رہے تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کس نے اس آدمی کو قتل کیا ہے؟ لوگوں نے کہا: ابن اکوع نے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس کا سارا سلب اس کے لیے ہے۔
Musnad Ahmad
10711
۔ (۱۰۷۱۱)۔ عَنْ قَتَادَۃَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ: وَحُدِّثَ أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ أَنَّ نَبِیَّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَمَرَ بِبِضْعَۃٍ وَعِشْرِینَ رَجُلًا مِنْ صَنَادِیدِ قُرَیْشٍ، فَأُلْقُوا فِی طُوًی مِنْ أَطْوَائِ بَدْرٍ خَبِیثٍ مُخْبِثٍ، قَالَ: وَکَانَ إِذَا ظَہَرَ عَلٰی قَوْمٍ أَقَامَ بِالْعَرْصَۃِ ثَلَاثَ لَیَالٍ، قَالَ: فَلَمَّا ظَہَرَ عَلٰی بَدْرٍ أَقَامَ ثَلَاثَ لَیَالٍ، حَتّٰی إِذَا کَانَ الثَّالِثُ أَمَرَ بِرَاحِلَتِہِ فَشُدَّتْ بِرَحْلِہَا ثُمَّ مَشٰی، وَاتَّبَعَہُ أَصْحَابُہُ قَالُوا: فَمَا نَرَاہُ یَنْطَلِقُ إِلَّا لِیَقْضِیَ حَاجَتَہُ، قَالَ: حَتّٰی قَامَ عَلٰی شَفَۃِ الطُّوٰی، قَالَ: فَجَعَلَ یُنَادِیہِمْ بِأَسْمَائِہِمْ وَأَسْمَائِ آبَائِہِمْ: ((یَا فُلَانُ بْنَ فُلَانٍ! أَسَرَّکُمْ أَنَّکُمْ أَطَعْتُمُ اللّٰہَ وَرَسُولَہُ، ہَلْ وَجَدْتُمْ مَا وَعَدَکُمْ رَبُّکُمْ حَقًّا؟)) قَالَ عُمَرُ: یَا نَبِیَّ اللّٰہِ! مَا تُکَلِّمُ مِنْ أَجْسَادٍ لَا أَرْوَاحَ فِیہَا؟ قَالَ: ((وَالَّذِی نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِیَدِہِ، مَا أَنْتُمْ بِأَسْمَعَ لِمَا أَقُولُ مِنْہُمْ۔)) قَالَ قَتَادَۃُ: أَحْیَاہُمُ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ لَہُ حَتّٰی سَمِعُوا قَوْلَہُ تَوْبِیخًا وَتَصْغِیرًا وَنِقْمَۃً۔ (مسند احمد: ۱۲۴۹۸)
سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ان کو بیان کیا گیا کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بیس سے زائد قریشی سرداروں کے متعلق حکم دیا اور انہیں بدر کے کنوؤں میں سے ایک کنوئیں میں پھینک دیا گیا۔ وہ کنواں بڑا خبیث اور گندا تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا معمول یہ تھا کہ جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کسی قوم پر فتح پاتے تو وہاں تین رات قیام فرماتے، اسی طرح آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب بدر میں فتح یاب ہوئے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے وہاں بھی تین رات قیام فرمایا، جب تیسرا دن ہوا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنی سواری کو تیار کرنے کا حکم فرمایا، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم روانہ ہو ئے، صحابہ نے بھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی پیروی کی، صحابہ کہتے ہیں کہ ہم سب نے سمجھا کہ آپ اپنی کسی ضروری حاجت کے لیے تشریف لے جا رہے ہیں۔ چلتے چلتے آپ اس کنوئیں کے کنارے پر جا رکے اور ان مقتول کفار قریش کو ان کے ناموں اور ان کے آباء کے ناموں کا ذکر کر کے ان کو پکارا اور یوں فرمایا: اے فلاں بن فلاں! کیا اب تمہیںیہ بات اچھی لگتی ہے کہ تم اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے؟ تمہارے رب نے تمہارے ساتھ جو وعدہ کیا تھا، کیا تم نے اسے سچا پالیا ہے؟ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے عرض کیا: اللہ کے نبی! کیا آپ ایسے اجسام سے ہم کلام ہو رہے ہیں، جن میں روحیں ہی نہیں ہیں؟ قتادہ کا بیان ہے کہ اللہ تعالیٰ نے زجروتوبیخ، رسوائی اور اظہار ناراضگی کے لیے ان کفار کو زندہ کر دیا تھا۔
Musnad Ahmad
10905
۔ (۱۰۹۰۵)۔ حَدَّثَنَا إِیَاسُ بْنُ سَلَمَۃَ بْنِ الْأَکْوَعِ عَنْ أَبِیہِ، قَالَ: غَزَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہَوَازِنَ وَغَطَفَانَ، فَبَیْنَمَا نَحْنُ کَذٰلِکَ إِذْ جَائَ رَجُلٌ عَلٰی جَمَلٍ أَحْمَرَ فَانْتَزَعَ شَیْئًا مِنْ حَقَبِ الْبَعِیرِ فَقَیَّدَ بِہِ الْبَعِیرَ، ثُمَّ جَاء َ یَمْشِی حَتّٰی قَعَدَ مَعَنَایَتَغَدّٰی، قَالَ: فَنَظَرَ فِی الْقَوْمِ فَإِذَا ظَہْرُہُمْ فِیہِ قِلَّۃٌ، وَأَکْثَرُہُمْ مُشَاۃٌ، فَلَمَّا نَظَرَ إِلَی الْقَوْمِ خَرَجَ یَعْدُو، قَالَ: فَأَتٰی بَعِیرَہُ فَقَعَدَ عَلَیْہِ، قَالَ: فَخَرَجَ یَرْکُضُہُ وَہُوَ طَلِیعَۃٌ لِلْکُفَّارِ، فَاتَّبَعَہُ رَجُلٌ مِنَّا مِنْ أَسْلَمَ عَلٰی نَاقَۃٍ لَہُ وَرْقَائَ، قَالَ إِیَاسٌ: قَالَ أَبِی: فَاتَّبَعْتُہُ أَعْدُو عَلَی رِجْلَیَّ، قَالَ: وَرَأْسُ النَّاقَۃِ عِنْدَ وَرِکِ الْجَمَلِ، قَالَ: وَلَحِقْتُہُ فَکُنْتُ عِنْدَ وَرِکِ النَّاقَۃِ، وَتَقَدَّمْتُ حَتّٰی کُنْتُ عِنْدَ وَرِکِ الْجَمَلِ، ثُمَّ تَقَدَّمْتُ حَتّٰی أَخَذْتُ بِخِطَامِ الْجَمَلِ، فَقُلْتُ لَہُ: إِخْ، فَلَمَّا وَضَعَ الْجَمَلُ رُکْبَتَہُ إِلَی الْأَرْضِ اخْتَرَطْتُ سَیْفِی فَضَرَبْتُ رَأْسَہُ فَنَدَرَ، ثُمَّ جِئْتُ بِرَاحِلَتِہِ أَقُودُہَا فَاسْتَقْبَلَنِی رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَعَ النَّاسِ، قَالَ: ((مَنْ قَتَلَ ہٰذَا الرَّجُلَ؟)) قَالُوا: ابْنُ الْأَکْوَعِ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((لَہُ سَلَبُہُ أَجْمَعُ۔)) (مسند احمد: ۱۶۶۵۱)
سیدنا سلمہ بن اکوع ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے،وہ کہتے ہیں: ہم نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ مل کر بنو ہوازن اور غطفان پر حملہ کیا، ہم لڑائی میں مصروف تھے کہ ایک آدمی اپنے سرخ اونٹ پر سوار آیا، اس نے اونٹ کے اوپر بندھی تھیلی سے کوئی چیز نکال کر اس کے ساتھ اونٹ کو باندھا، پھر وہ چلتا چلتا آکر ہمارے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھانے لگا، اس سے لوگوں پر نظر ڈالی اس نے دیکھا کہ تعداد بہت کم ہے، اور اکثر لوگ پیدل ہیں، اس نے جب یہ حالت دیکھی تو بھاگ کھڑا ہوا، اونٹ کے پاس پہنچ کر اس پر بیٹھا اور اسے ایڑ لگا دی، درحقیقت وہ کفار کا جاسوس تھا، ہم میں سے بنو اسلم کا ایک آدمی اپنی سفید اونٹنی پر سوار ہو کر اس کے پیچھے ہو لیا۔ سیدنا سلمہ کہتے ہیں: میں بھی پیدل اس کے پیچھے دوڑا، مسلمان کی اونٹنی کا سر کافر کے اونٹ کے پچھلے حصے کے ساتھ لگا ہوا تھا۔ ( یعنی دونوں قریب قریب تھے) میں آگے بڑھ کر اونٹ کے پیچھے پہنچ گیا۔ پھر میں نے اونٹ سے آگے نکل کر اس کی لگام پکڑ لی، اورمیں نے مخصوص آواز دے کر اونٹ کو بٹھایا، جب اونٹ نے اپنے گھٹنے زمین پر رکھ دئیے تو میں نے اپنی تلوار لہرا کر اس کے سر پر ماری، اس کا سر اڑ گیا، پھر میں اس کا اونٹ لیے آیا تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مجھے لوگوں کے ہمراہ ملے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دریافت فرمایا: اس آدمیکو کس نے قتل کیا؟ لوگوں نے بتلایا کہ سیدنا ابن اکوع ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے، پس رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس سے چھینا ہوا سارا مال اسی کا ہے۔