۔ (۱۰۴۶۲)۔ عَنْ مُحَمَّدِ بنِ جُبَیْرِ بْنِ مُطْعَمٍ عَنْ أَبِیْہِ عَنِ النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قَالَ: ((اِنَّ لِیْ أَسْمَائً، أَنَا مُحَمَّدٌ وَأَنَا أَحْمَدُ وَأَنَا الْحَاشِرُ الَّذِیْیُحْشَرُ النَّاسُ عَلٰی قَدَمِیْ، وَأَنَا الْمَاحِی الَّذِیْیُمْحَی بِیَ الْکُفْرُ، وَأَنَا الَعَاقِبُ وَالَعَاقِبُ الَّذِیْ لَیْسَ بَعْدَہُ نَبِیٌّ۔)) (مسند احمد: ۱۶۸۵۴)
۔ سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک میرے کچھ نام ہیں، میں محمد ہوں، میں احمد ہوں، میں حاشر ہوں، لوگوں کا میرے قدم پر حشر ہو گا، میں ماحی ہوں، یعنی میرے ذریعے کفر کو مٹایا جائے گا اور میں عاقب ہوں اور عاقب وہ ہوتا ہے، جس کے بعد کوئی نبی نہیں ہوتا۔
Takhreej
(۱۰۴۶۲) تخریج: أخرجہ البخاری: ۴۸۹۶، ومسلم: ۲۳۵۴ (انظر: ۱۶۷۳۴)
Explanation
فوائد:… مُحَمَّد: وہ شخصیت جس کی تعریف کی گئی ہو۔
اَحْمَد: اللہ تعالیٰ کی تعریف کرنے والوں میں سے سب سے زیادہ حمد و ثنا بیان کرنے والا۔
اَلْحَاشِر: جس کے قدم پر لوگوں کا حشر ہو گا، یعنی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نبوت کے بعد لوگ حشر میں جائیں گے، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آخری نبی ہیں،یعنی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نبوت کے بعد قیامت آئے گی، پہلے نہیں آ سکتی۔
اَلْمَاحِی: اس کا لفظی معنی مٹانے والا اور اثر زائل کرنے والا ہے، مراد وہ ہستی جس کے ذریعے زمین کے ان خطّوں سے کفر کو مٹا دیا جائے گا، جہاں تک آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا دین پہنچے گا اور بالآخر عیسی علیہ السلام کے نزول کے وقت سارا کفر مٹ جائے گا۔
اَلْعَاقِب: لفظی معنی سب کے اخیر میں آنے والا ہے، مراد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا خاتم النبیین ہوناہے۔
10462
Sahih