TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 11500 - نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے خطوط اور کاتبین کا بیان اور اس میں کئی فصلیں ہیں فصل اول: غیر مسلم حکمرانوں کے نام رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے مکتوبات کا بیا ن - سنہ (۱) ہجری کے اہم واقعات - Musnad Ahmad in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 3 of 12 in this chapter
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے خطوط اور کاتبین کا بیان اور اس میں کئی فصلیں ہیں فصل اول: غیر مسلم حکمرانوں کے نام رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے مکتوبات کا بیا ن
۔ (۱۱۵۰۰)۔ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ حَدَّثَنَا الْجُرَیْرِیُّ عَنْ أَبِی الْعَلَائِ بْنِ الشِّخِّیرِ، قَالَ: کُنْتُ مَعَ مُطَرِّفٍ فِی سُوقِ الْإِبِلِ فَجَائَ أَعْرَابِیٌّ مَعَہُ قِطْعَۃُ أَدِیمٍ أَوْ جِرَابٍ، فَقَالَ: مَنْ یَقْرَأُ؟ أَوَفِیکُمْ مَنْ یَقْرَأُ؟ قُلْتُ: نَعَمْ، فَأَخَذْتُہُ فَإِذَا فِیہِ: ((بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیمِ مِنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لِبَنِی زُہَیْرِ بْنِ أُقَیْشٍ حَیٍّ مِنْ عُکْلٍ، إِنَّہُمْ إِنْ شَہِدُوا أَنْ لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللّٰہِ وَفَارَقُوا الْمُشْرِکِینَ وَأَقَرُّوْا بِالْخُمُسِ فِی غَنَائِمِہِمْ وَسَہْمِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَصَفِیِّہُ فَإِنَّہُمْ آمِنُونَ بِأَمَانِ اللّٰہِ وَرَسُولِہِ۔)) فَقَالَ لَہُ بَعْضُ الْقَوْمِ: ہَلْ سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم شَیْئًا تُحَدِّثُنَاہُ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالُوْا: فَحَدِّثْنَا رَحِمَکَ اللَّہُ، قَالَ: سَمِعْتُہُ یَقُولُ: ((مَنْ سَرَّہُ أَنْ یَذْہَبَ کَثِیرٌ مِنْ وَحَرِ صَدْرِہِ فَلْیَصُمْ شَہْرَ الصَّبْرِ أَوْ ثَلَاثَۃَ أَیَّامٍ مِنْ کُلِّ شَہْرٍ۔)) فَقَالَ لَہُ الْقَوْمُ أَوْ بَعْضُہُمْ: أَأَنْتَ سَمِعْتَ ہٰذَا مِنْ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ، أَلَا أُرَاکُمْ تَتَّہِمُونِی أَنْ أَکْذِبَ عَلٰی رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَقَالَ إِسْمَاعِیلُ مَرَّۃً: تَخَافُونَ وَاللّٰہِ! لَا حَدَّثْتُکُمْ حَدِیثًا سَائِرَ الْیَوْمِ ثُمَّ انْطَلَقَ۔ (مسند احمد: ۲۱۰۱۷)
ابو علاء بن شخیر سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں مطرف کے ہمراہ اونٹوں کی منڈی میں تھا کہ ایک بدّو مطرف کے پاس آیا، اس کے پاس چمڑے کا ایک ٹکڑا تھا، اس نے کہا: کیا تم میں سے کوئییہ پڑھ سکتا ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں، اس نے مجھے پکڑایا تو دیکھا کہ اس میںلکھا ہوا تھا: بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیمِ، اللہ کے رسول محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی طرف سے عکل خاندان کی ایک شاخ بنو زہیر کے نام ہے، یہ لوگ اگر اس بات کی گواہی دیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اللہ کے رسول ہیں اور وہ مشرکین سے الگ تھلگ ہو جائیںاور اموال غنیمتمیں سے خمس کے متعلق اقرار کریں کہ وہ اللہ اور اس کے رسول کا ہے اور اللہ کے رسول مال غنیمت کی تقسیم سے پہلے بھی مال غنیمت میں سے جو لینا چاہیں لے سکتے ہیں، تو انہیں اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے امان دی جائے گی۔ یہ سن کر کچھ لوگوں نے اس سے کہا: تم نے اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے جو کچھ سنا ہے، کیا تم اس میں سے کچھ ہمیں بیان کر سکتے ہو؟ اس نے کہا: جی ہاں۔لوگوں نے کہا: آپ پر اللہ کی رحمت ہو، آپ ہمیں وہ سنائیں۔ انھوں نے کہا:میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو فرماتے سنا کہ جو شخص یہ چاہتا ہو کہ اس کے سینے میں سے غصہ اور کینہ نکل جائے اسے چاہیے کہ وہ صبر والے مہینےیعنی ماہ رمضان کے اور ہر ماہ تین روزے رکھے۔ اس کییہ بات سن کر کچھ لوگوں نے کہا: کیا آپ نے خود رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے یہ سنا ہے؟ اس نے کہا: خبر دار! میرا خیال ہے، میں سمجھتا ہوں کہ تم لوگ اس بارے میں میرے متعلق یہ بد گمانی کر رہے ہو کہ شاید میں نے یہ بات کہہ کر اللہ کے رسول پر بہتان باندھ دیا ہے، تم تو یہ سن کر ڈر گئے ہو، اللہ کی قسم! میں تمہیں مزید کوئی حدیث بیان نہ کروں گا، اس کے بعد وہ آگے چل دیئے۔
11500
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Conclusion
تخریج
(۱۱۵۰۰) تخریج: اسنادہ صحیح، اخرجہ ابوداود: ۲۹۹۹، والنسائی: ۷/ ۱۳۴ (انظر: ۲۰۷۳۷)

Related Chapters

29
1
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے کاتبین کا تذکرہ ان میں سے عثمان بن عفان کا تذکرہ
Musnad Ahmad
2
باب دوم: سیدنا عثمان کے مناقب اور اس میں کئی فصلیں ہیں فصل اول: سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی فضیلت کا بیان، نیز نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی آزمائشوں کی طرف اشارہ کرنا اور ان میں ان کا حق پر ہونا
Musnad Ahmad
3
باب پنجم: جنگ صفین اور سیدنا عمار بن یاسر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی شہادت اس باب میں کئی فصلیں ہیں فصل اول: سیدنا عمار ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی شجاعت کا بیان اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا ان کے بارے میں فرمانا کہ ایک باغی گروہ عمار کو قتل کرے گا
Musnad Ahmad
4
باب ششم: واقعہ نہروان اور وہاں پر خوارج کا قتل نیز خوارج کی مذمت اور ان کو قتل کرنے کے بارے میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ارشادات کا بیان اس باب میں کئی فصلیں ہیں فصل اول: خوارج کی بنیاد کا بیان
Musnad Ahmad
5
باب دوم: اہل بیت کے متعلق پہلے ذکر کردہ فضائل کے علاوہ سیدنا حسن ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے مزید مناقب کا بیان اس باب میں کئی فصلیں ہیں فصل اول: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی سیدنا حسن ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے اور ان سے محبت کرنے والے سے محبت کا بیان
Musnad Ahmad
6
باب سوم: صدیق اکبر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے دورخلافت میں واقع ہونے والے بعض واقعات کا بیان اس باب میں کئی فصلیں ہیں فصل اول: سیدہ فاطمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کا رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی میراث کے مطالبہ کرنے کے لیے سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی طرف پیغام بھیجنا
Musnad Ahmad
7
Chapter: The Prophet (SAW) Acquired A Ring When He Wanted To Send Letters To The Non-Arabs
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب عجم(کے حکمرانوں) کی طرف خط لکھنے کاارادہ فرمایا تو آپ نے انگوٹھی بنوائی
Sahih Muslim
8
کاتبین میں سے ایک سیدنا علی بن ابو طالب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ تھے
Musnad Ahmad
9
کاتبین میں سے ایک سیدنا زید بن ثابت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ تھے
Musnad Ahmad
10
فصل: حکمرانوں کو اس بات سے ڈرانا کہ وہ برے لوگوں کو اپنے خاص مشیر بنائیں اور اس امر کا بیان کہ حکمرانوں کے لیے اللہ کے اموال کس قد ر حلال ہیں
Musnad Ahmad
11
فصل اول: گمراہ کرنے والے حکمرانوں کا بیان، اللہ تعالیٰ ہمیں ان کے شر سے محفوظ رکھے
Musnad Ahmad
12
باب چہارم: مناقب صحابہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ میں سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو جو مناسب بیان ہو چکے ہیں۔ ان کے علاوہ ان کے مزید مناقب اور اس میں کئی فصلیں ہیں فصل اول: سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی فضیلت
Musnad Ahmad
13
باب دوم: سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے مناقب اس باب کی کئی فصلیں ہیں فصل: سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے بعض فضائل اور ان کا اپنے اسلاف کی اقتداء کرنا
Musnad Ahmad
14
باب سوم: سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے بعض فتووں، فیصلوں اور ان کے دور خلافت میں پیش آنے والے بعض واقعات کا بیان اس باب کی کئی فصلیں ہیں فصل اول: سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے بعض فتووں اور فیصلوں کا بیان
Musnad Ahmad
15
باب پنجم: سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا محاصرہ اور اس موقع پر ان کی طرف سے اور ان سے کی جانے والی گفتگو کا بیان اس باب کی کئی فصلیں ہیں فصل اول: محاصرہ کے دنوں میں بعض صحابہ کے سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی طرف میلان رکھنے کا بیان
Musnad Ahmad
16
ٔٔباب دوم: پیچھے مناقب اہل بیت میں بیان کیے جانے والے فضائل کے علاوہ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے مناقب اس میں کئی فصلیں ہیں فصل اول: سیدنا علی بن ابی طالب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے مناقب کے بارے میں سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ایک مفصل وجامع حدیث
Musnad Ahmad
17
Chapter: What Has Been Related About The Misguiding A'immah
باب: گمراہ کرنے والے حکمرانوں کا بیان
Jam e Tirmazi
18
بَاب رزق الْوُلَاة وهداياهم
حکمرانوں کے وظائف اور ان کے تحائف کا بیان
Mishkat
19
ظالم حاکموں کی مذمت اور مُنصِف حکمرانوں کی فضیلت کا بیان
Musnad Ahmad
20
حکمرانوں سے قصاص لیے جانے کا بیان، الا یہ کہ مستحق صلح کر لے یا معاف کر دے
Musnad Ahmad
21
فصل اول: حکمرانوں کی اطاعت کے وجوب اور ان کی بغاوت نہ کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
22
فصل سوم: حکمرانوں کی خیر خواہی کرنے کے وجوب اوران کو بھی نیکی کا حکم دینے اور برائی سے منع کرتے رہنے کا بیان
Musnad Ahmad
23
باب ہشتم: مسجد نبوی کی فضیلت کا بیان اس میں کئی فصلیں ہیں فصل اول: فضیلت مسجد نبوی
Musnad Ahmad
24
باب دوم: شام اور اہل شام اور وہاں کے بعض علاقوں کے فضائل اس میں کئی فصلیں ہیں فصل اول: مطلق طور پر شام کے فضائل کا بیان
Musnad Ahmad
25
باب سوم: یمن اور اہل یمن اور اس کے بعض شہروں اور قبائل کی فضیلت اس میں کئی فصلیں ہیں فصل اول: مطلق طور پر یمن کی فضیلت کا بیان
Musnad Ahmad
26
Chapter: Obeying Rulers even if they withhold the people's rights
امراء (حکمرانوں ) کی اطاعت چاہے وہ حقوق ادا نہ کرتے ہو
Sahih Muslim
27
CHAPTER: Regarding Fighting Against The Tyrant Rulers.
باب: ظالم حکمرانوں کے ساتھ جہاد کرنے کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
28
ظالم حکمرانوں کے پیچھے نماز پڑھنے کا بیان۔
Sunnan Nisai
29
باب: بادشاہوں اور حکمرانوں سے قصاص لینے کا بیان۔
Sunnan Nisai
No related chapter matched that.

Related Hadith

65
Musnad Ahmad
10790
۔ (۱۰۷۹۰)۔ (مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ یَسَارٍ عَنِ الزُّہْرِیِّ مُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمِ بْنِ شِہَابٍ عَنْ عُرْوَۃَ بْنِ الزُّبَیْرِ عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَۃَ وَمَرْوَانَ بْنِ الْحَکَمِ قَالَا: خَرَجَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَامَ الْحُدَیْبِیَۃِ،یُرِیدُ زِیَارَۃَ الْبَیْتِ لَا یُرِیدُ قِتَالًا، وَسَاقَ مَعَہُ الْہَدْیَ سَبْعِینَ بَدَنَۃً، وَکَانَ النَّاسُ سَبْعَ مِائَۃِ رَجُلٍ، فَکَانَتْ کُلُّ بَدَنَۃٍ عَنْ عَشَرَۃٍ، قَالَ: وَخَرَجَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَتّٰی إِذَا کَانَ بِعُسْفَانَ لَقِیَہُ بِشْرُ بْنُ سُفْیَانَ الْکَعْبِیُّ، فَقَالَ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! ہٰذِہِ قُرَیْشٌ قَدْ سَمِعَتْ بِمَسِیرِکَ فَخَرَجَتْ، مَعَہَا الْعُوذُ الْمَطَافِیلُ قَدْ لَبِسُوا جُلُودَ النُّمُورِ، یُعَاہِدُونَ اللّٰہَ أَنْ لَا تَدْخُلَہَا عَلَیْہِمْ عَنْوَۃً أَبَدًا، وَہٰذَا خَالِدُ بْنُ الْوَلِیدِ فِی خَیْلِہِمْ، قَدِمُوا إِلٰی کُرَاعِ الْغَمِیمِ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((یَا وَیْحَ قُرَیْشٍ لَقَدْ أَکَلَتْہُمُ الْحَرْبُ، مَاذَا عَلَیْہِمْ لَوْ خَلَّوْا بَیْنِی وَبَیْنَ سَائِرِ النَّاسِ، فَإِنْ أَصَابُونِی کَانَ الَّذِی أَرَادُوْا وَإِنْ أَظْہَرَنِی اللّٰہُ عَلَیْہِمْ دَخَلُوا فِی الْإِسْلَامِ وَہُمْ وَافِرُونَ، وَإِنْ لَمْ یَفْعَلُوا قَاتَلُوا وَبِہِمْ قُوَّۃٌ فَمَاذَا تَظُنُّ قُرَیْشٌ؟ وَاللّٰہِ! إِنِّی لَا أَزَالُ أُجَاہِدُہُمْ عَلَی الَّذِی بَعَثَنِی اللّٰہُ لَہُ حَتّٰییُظْہِرَہُ اللّٰہُ لَہُ أَوْ تَنْفَرِدَ ہٰذِہِ السَّالِفَۃُ۔)) ثُمَّ أَمَرَ النَّاسَ فَسَلَکُوا ذَاتَ الْیَمِینِ بَیْنَ ظَہْرَیِ الْحَمْضِ عَلٰی طَرِیقٍ تُخْرِجُہُ عَلٰی ثَنِیَّۃِ الْمِرَارِ وَالْحُدَیْبِیَۃِ مِنْ أَسْفَلِ مَکَّۃَ، قَالَ: فَسَلَکَ بِالْجَیْشِ تِلْکَ الطَّرِیقَ، فَلَمَّا رَأَتْ خَیْلُ قُرَیْشٍ قَتَرَۃَ الْجَیْشِ قَدْ خَالَفُوا عَنْ طَرِیقِہِمْ، نَکَصُوا رَاجِعِینَ إِلٰی قُرَیْشٍ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَتّٰی إِذَا سَلَکَ ثَنِیَّۃَ الْمُرَارِ بَرَکَتْ نَاقَتُہُ، فَقَالَ النَّاسُ: خَلَأَتْ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((مَا خَلَأَتْ وَمَا ہُوَ لَہَا بِخُلُقٍ وَلٰکِنْ حَبَسَہَا حَابِسُ الْفِیلِ عَنْ مَکَّۃَ، وَاللّٰہِ! لَا تَدْعُونِی قُرَیْشٌ الْیَوْمَ إِلٰی خُطَّۃٍیَسْأَلُونِی فِیہَا صِلَۃَ الرَّحِمِ إِلَّا أَعْطَیْتُہُمْ إِیَّاہَا، ثُمَّ قَالَ لِلنَّاسِ: انْزِلُوا۔)) فَقَالُوا: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! مَا بِالْوَادِی مِنْ مَائٍ یَنْزِلُ عَلَیْہِ النَّاسُ، فَأَخْرَجَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سَہْمًا مِنْ کِنَانَتِہِ فَأَعْطَاہُ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِہِ، فَنَزَلَ فِی قَلِیبٍ مِنْ تِلْکَ الْقُلُبِ، فَغَرَزَہُ فِیہِ فَجَاشَ الْمَاء ُ بِالرَّوَائِ حَتّٰی ضَرَبَ النَّاسُ عَنْہُ بِعَطَنٍ، فَلَمَّا اطْمَأَنَّ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِذَا بُدَیْلُ بْنُ وَرْقَائَ فِی رِجَالٍ مِنْ خُزَاعَۃَ، فَقَالَ لَہُمْ کَقَوْلِہِ لِبُشَیْرِ بْنِ سُفْیَانَ، فَرَجَعُوا إِلٰی قُرَیْشٍ: فَقَالُوْا: یَا مَعْشَرَ قُرَیْشٍ! إِنَّکُمْ تَعْجَلُونَ عَلٰی مُحَمَّدٍ، وَإِنَّ مُحَمَّدًا لَمْ یَأْتِ لِقِتَالٍ، إِنَّمَا جَائَ زَائِرًا لِہٰذَا الْبَیْتِ مُعَظِّمًا لَحَقِّہِ فَاتَّہَمُوہُمْ، قَالَ مُحَمَّدٌ: یَعْنِی ابْنَ إِسْحَاقَ، قَالَ الزُّہْرِیُّ: وَکَانَتْ خُزَاعَۃُ فِی عَیْبَۃِ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مُسْلِمُہَا وَمُشْرِکُہَا لَا یُخْفُونَ عَلٰی رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم شَیْئًا کَانَ بِمَکَّۃَ قَالُوا: وَإِنْ کَانَ إِنَّمَا جَائَ لِذٰلِکَ فَلَا وَاللّٰہِ! لَا یَدْخُلُہَا أَبَدًا عَلَیْنَا عَنْوَۃً وَلَا تَتَحَدَّثُ بِذٰلِکَ الْعَرَبُ، ثُمَّ بَعَثُوا إِلَیْہِ مِکْرَزَ بْنَ حَفْصِ بْنِ الْأَخْیَفِ أَحَدَ بَنِی عَامِرِ بْنِ لُؤَیٍّ، فَلَمَّا رَآہُ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((ہٰذَا رَجُلٌ غَادِرٌ۔)) فَلَمَّا انْتَہٰی إِلٰی رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَلَّمَہُ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِنَحْوٍ مِمَّا کَلَّمَ بِہِ أَصْحَابَہُ، ثُمَّ رَجَعَ إِلٰی قُرَیْشٍ فَأَخْبَرَہُمْ بِمَا قَالَ لَہُ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: فَبَعَثُوا إِلَیْہِ الْحِلْسَ بْنَ عَلْقَمَۃَ الْکِنَانِیَّ، وَہُوَیَوْمَئِذٍ سَیِّدُ الْأَحَابِشِ، فَلَمَّا رَآہُ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((ہٰذَا مِنْ قَوْمٍ یَتَأَلَّہُونَ، فَابْعَثُوا الْہَدْیَ فِی وَجْہِہِ۔)) فَبَعَثُوا الْہَدْیَ فَلَمَّا رَأَی الْہَدْیَیَسِیلُ عَلَیْہِ مِنْ عَرْضِ الْوَادِی فِی قَلَائِدِہِ قَدْ أَکَلَ أَوْتَارَہُ مِنْ طُولِ الْحَبْسِ عَنْ مَحِلِّہِ، رَجَعَ وَلَمْ یَصِلْ إِلٰی رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِعْظَامًا لِمَا رَأٰی، فَقَالَ: یَا مَعْشَرَ قُرَیْشٍ! قَدْ رَأَیْتُ مَا لَا یَحِلُّ صَدُّہُ الْہَدْیَ فِی قَلَائِدِہِ قَدْ أَکَلَ أَوْتَارَہُ مِنْ طُولِ الْحَبْسِ عَنْ مَحِلِّہِ، فَقَالُوا: اجْلِسْ إِنَّمَا أَنْتَ أَعْرَابِیٌّ لَا عِلْمَ لَکَ، فَبَعَثُوا إِلَیْہِ عُرْوَۃَ بْنَ مَسْعُودٍ الثَّقَفِیَّ، فَقَالَ: یَا مَعْشَرَ قُرَیْشٍ! إِنِّی قَدْ رَأَیْتُ مَا یَلْقٰی مِنْکُمْ مَنْ تَبْعَثُونَ إِلٰی مُحَمَّدٍ، إِذَا جَائَ کُمْ مِنَ التَّعْنِیفِ وَسُوئِ اللَّفْظِ، وَقَدْ عَرَفْتُمْ أَنَّکُمْ وَالِدٌ وَأَنِّی وَلَدٌ، وَقَدْ سَمِعْتُ بِالَّذِی نَابَکُمْ فَجَمَعْتُ مَنْ أَطَاعَنِی مِنْ قَوْمِی، ثُمَّ جِئْتُ حَتّٰی آسَیْتُکُمْ بِنَفْسِی، قَالُوْا: صَدَقْتَ مَا أَنْتَ عِنْدَنَا بِمُتَّہَمٍ، فَخَرَجَ حَتّٰی أَتٰی رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَجَلَسَ بَیْنَیَدَیْہِ، فَقَالَ: یَا مُحَمَّدُ! جَمَعْتَ أَوْبَاشَ النَّاسِ ثُمَّ جِئْتَ بِہِمْ لِبَیْضَتِکَ لِتَفُضَّہَا، إِنَّہَا قُرَیْشٌ قَدْ خَرَجَتْ مَعَہَا الْعُوذُ الْمَطَافِیلُ، قَدْ لَبِسُوا جُلُودَ النُّمُورِ، یُعَاہِدُونَ اللّٰہَ أَنْ لَا تَدْخُلَہَا عَلَیْہِمْ عَنْوَۃً أَبَدًا، وَأَیْمُ اللّٰہِ! لَکَأَنِّی بِہٰؤُلَائِ قَدِ انْکَشَفُوا عَنْکَ غَدًا، قَالَ، وَأَبُوبَکْرٍ الصِّدِّیقُ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالَی عَنْہُ خَلْفَ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَاعِدٌ، فَقَالَ: امْصُصْ بَظْرَ اللَّاتِ! أَ نَحْنُ نَنْکَشِفُ عَنْہُ؟ قَالَ: مَنْ ہٰذَا؟ یَا مُحَمَّدُ! قَالَ: ((ہٰذَا ابْنُ أَبِی قُحَافَۃَ۔)) قَالَ: وَاللّٰہِ! لَوْلَا یَدٌ کَانَتْ لَکَ عِنْدِی لَکَافَأْتُکَ بِہَا وَلٰکِنَّ ہٰذِہِ بِہَا، ثُمَّ تَنَاوَلَ لِحْیَۃَ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَالْمُغِیرَۃُ بْنُ شُعْبَۃَ وَاقِفٌ عَلٰی رَأْسِ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی الْحَدِیدِ، قَالَ: یَقْرَعُیَدَہُ، ثُمَّ قَالَ، أَمْسِکْ یَدَکَ عِنْ لِحْیَۃِ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَبْلُ وَاللّٰہِ! لَا تَصِلُ إِلَیْکَ، قَالَ: وَیْحَکَ مَا أَفَظَّکَ وَأَغْلَظَکَ؟ قَالَ: فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: مَنْ ہٰذَا؟ یَا مُحَمَّدُ! قَالَ: ((ہٰذَا ابْنُ أَخِیکَ الْمُغِیرَۃُ بْنُ شُعْبَۃَ۔)) قَالَ: أَغُدَرُ ہَلْ غَسَلْتَ سَوْأَتَکَ إِلَّا بِالْأَمْسِ، قَالَ: فَکَلَّمَہُ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِمِثْلِ مَا کَلَّمَ بِہِ أَصْحَابَہُ فَأَخْبَرَہُ أَنَّہُ لَمْ یَأْتِیُرِیدُ حَرْبًا، قَالَ: فَقَامَ مِنْ عِنْدِ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَقَدْ رَأٰی مَا یَصْنَعُ بِہِ أَصْحَابُہُ لَا یَتَوَضَّأُ وُضُوئً إِلَّا ابْتَدَرُوہُ، وَلَا یَبْسُقُ بُسَاقًا إِلَّا ابْتَدَرُوہُ، وَلَا یَسْقُطُ مِنْ شَعَرِہِ شَیْئٌ إِلَّا أَخَذُوہُ، فَرَجَعَ إِلٰی قُرَیْشٍ فَقَالَ: یَا مَعْشَرَ قُرَیْشٍ! إِنِّی جِئْتُ کِسْرٰی فِی مُلْکِہِ، وَجِئْتُ قَیْصَرَ وَالنَّجَاشِیَّ فِی مُلْکِہِمَا، وَاللّٰہِ! مَا رَأَیْتُ مَلِکًا قَطُّ مِثْلَ مُحَمَّدٍ فِی أَصْحَابِہِ، وَلَقَدْ رَأَیْتُ قَوْمًا لَا یُسْلِمُونَہُ لِشَیْئٍ أَبَدًا فَرَوْا رَأْیَکُمْ، قَالَ: وَقَدْ کَانَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَبْلَ ذٰلِکَ بَعَثَ خِرَاشَ بْنَ أُمَیَّۃَ الْخُزَاعِیَّ إِلٰی مَکَّۃَ وَحَمَلَہُ عَلٰی جَمَلٍ لَہُ یُقَالُ لَہُ: الثَّعْلَبُ، فَلَمَّا دَخَلَ مَکَّۃَ عَقَرَتْ بِہِ قُرَیْشٌ وَأَرَادُوْا قَتْلَ خِرَاشٍ، فَمَنَعَہُمْ الْأَحَابِشُ حَتّٰی أَتٰی رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَدَعَا عُمَرَ لِیَبْعَثَہُ إِلٰی مَکَّۃَ، فَقَالَ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! إِنِّی أَخَافُ قُرَیْشًا عَلٰی نَفْسِی وَلَیْسَ بِہَا مِنْ بَنِی عَدِیٍّ أَحَدٌ یَمْنَعُنِی، وَقَدْ عَرَفَتْ قُرَیْشٌ عَدَاوَتِی إِیَّاہَا وَغِلْظَتِی عَلَیْہَا، وَلٰکِنْ أَدُلُّکَ عَلٰی رَجُلٍ ہُوَ أَعَزُّ مِنِّی عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، قَالَ، فَدَعَاہُ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَبَعَثَہُ إِلٰی قُرَیْشٍ،یُخْبِرُہُمْ أَنَّہُ لَمْ یَأْتِ لِحَرْبٍ وَأَنَّہُ جَائَ زَائِرًا لِہٰذَا الْبَیْتِ مُعَظِّمًا لِحُرْمَتِہِ فَخَرَجَ عُثْمَانُ حَتّٰی أَتٰی مَکَّۃَ، وَلَقِیَہُ أَبَانُ بْنُ سَعِیدِ بْنِ الْعَاصِ فَنَزَلَ عَنْ دَابَّتِہِ وَحَمَلَہُ بَیْنَیَدَیْہِ وَرَدِفَ خَلْفَہُ وَأَجَارَہُ حَتّٰی بَلَّغَ رِسَالَۃَ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَانْطَلَقَ عُثْمَانُ حَتّٰی أَتٰی أَبَا سُفْیَانَ وَعُظَمَائَ قُرَیْشٍ، فَبَلَّغَہُمْ عَنْ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَا أَرْسَلَہُ بِہِ،فَقَالُوا لِعُثْمَانَ: إِنْ شِئْتَ أَنْ تَطُوفَ بِالْبَیْتِ فَطُفْ بِہِ، فَقَالَ: مَا کُنْتُ لِأَفْعَلَ حَتّٰییَطُوفَ بِہِ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: فَاحْتَبَسَتْہُ قُرَیْشٌ عِنْدَہَا، فَبَلَغَ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَالْمُسْلِمِینَ أَنَّ عُثْمَانَ قَدْ قُتِلَ، قَالَ مُحَمَّدٌ: فَحَدَّثَنِی الزُّہْرِیُّ: أَنَّ قُرَیْشًا بَعَثُوا سُہَیْلَ بْنَ عَمْرٍو أَحَدَ بَنِی عَامِرِ بْنِ لُؤَیٍّ، فَقَالُوا: ائْتِ مُحَمَّدًا فَصَالِحْہُ وَلَا یَکُونُ فِی صُلْحِہِ إِلَّا أَنْ یَرْجِعَ عَنَّا عَامَہُ ہٰذَا فَوَاللّٰہِ! لَا تَتَحَدَّثُ الْعَرَبُ أَنَّہُ دَخَلَہَا عَلَیْنَا عَنْوَۃً أَبَدًا، فَأَتَاہُ سُہَیْلُ بْنُ عَمْرٍو فَلَمَّا رَآہُ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((قَدْ أَرَادَ الْقَوْمُ الصُّلْحَ حِینَ بَعَثُوا ہٰذَا الرَّجُلَ۔)) فَلَمَّا انْتَہٰی إِلٰی رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تَکَلَّمَا وَأَطَالَا الْکَلَامَ وَتَرَاجَعَا حَتّٰی جَرٰی بَیْنَہُمَا الصُّلْحُ، فَلَمَّا الْتَأَمَ الْأَمْرُ وَلَمْ یَبْقَ إِلَّا الْکِتَابُ، وَثَبَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فَأَتٰی أَبَا بَکْرٍ، فَقَالَ: یَا أَبَا بَکْرٍ! أَوَلَیْسَ بِرَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَوَلَسْنَا بِالْمُسْلِمِینَ أَوَلَیْسُوا بِالْمُشْرِکِینَ؟ قَالَ، بَلٰی، قَالَ: فَعَلَامَ نُعْطِی الذِّلَّۃَ فِی دِینِنَا؟ فَقَالَ أَبُو بَکْرٍ: یَا عُمَرُ الْزَمْ غَرْزَہُ حَیْثُ کَانَ، فَإِنِّی أَشْہَدُ أَنَّہُ رَسُولُ اللّٰہِ، قَالَ عُمَرُ: وَأَنَا أَشْہَدُ، ثُمَّ أَتٰی رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! أَوَلَسْنَا بِالْمُسْلِمِینَ أَوَلَیْسُوا بِالْمُشْرِکِینَ؟ قَالَ: ((بَلٰی۔)) قَالَ: فَعَلَامَ نُعْطِی الذِّلَّۃَ فِی دِینِنَا؟ فَقَالَ: ((أَنَا عَبْدُ اللّٰہِ وَرَسُولُہُ لَنْ أُخَالِفَ أَمْرَہُ وَلَنْ یُضَیِّعَنِی۔)) ثُمَّ قَالَ عُمَرُ: مَا زِلْتُ أَصُومُ وَأَتَصَدَّقُ وَأُصَلِّی وَأَعْتِقُ مِنَ الَّذِی صَنَعْتُ مَخَافَۃَ کَلَامِی الَّذِی تَکَلَّمْتُ بِہِ یَوْمَئِذٍ حَتّٰی رَجَوْتُ أَنْ یَکُونَ خَیْرًا، قَالَ: وَدَعَا رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلِیَّ بْنَ أَبِی طَالِبٍ، فَقَالَ لَہُ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((اکْتُبْ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیمِ۔)) فَقَالَ سُہَیْلُ بْنُ عَمْرٍو: لَا أَعْرِفُ ہٰذَا وَلٰکِنْ اکْتُبْ بِاسْمِکَ اللّٰہُمَّ، فَقَالَ لَہُ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((اکْتُبْ بِاسْمِکَ اللّٰہُمَّ، ہٰذَا مَا صَالَحَ عَلَیْہِ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللّٰہِ سُہَیْلَ بْنَ عَمْرٍو۔)) فَقَالَ سُہَیْلُ بْنُ عَمْرٍو: لَوْ شَہِدْتُ أَنَّکَ رَسُولُ اللّٰہِ لَمْ أُقَاتِلْکَ وَلٰکِنْ اکْتُبْ ہٰذَا مَا اصْطَلَحَ عَلَیْہِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ وَسُہَیْلُ بْنُ عَمْرٍو عَلٰی وَضْعِ الْحَرْبِ عَشْرَ سِنِینَ،یَأْمَنُ فِیہَا النَّاسُ وَیَکُفُّ بَعْضُہُمْ عَنْ بَعْضٍ، عَلٰی أَنَّہُ مَنْ أَتٰی رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنْ أَصْحَابِہِ بِغَیْرِ إِذْنِ وَلِیِّہِ رَدَّہُ عَلَیْہِمْ، وَمَنْ أَتٰی قُرَیْشًا مِمَّنْ مَعَ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لَمْ یَرُدُّوہُ عَلَیْہِ، وَإِنَّ بَیْنَنَا عَیْبَۃً مَکْفُوفَۃً، وَإِنَّہُ لَا إِسْلَالَ وَلَا إِغْلَالَ، وَکَانَ فِی شَرْطِہِمْ حِینَ کَتَبُوا الْکِتَابَ أَنَّہُ مَنْ أَحَبَّ أَنْ یَدْخُلَ فِی عَقْدِ مُحَمَّدٍ وَعَہْدِہِ دَخَلَ فِیہِ وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ یَدْخُلَ فِی عَقْدِ قُرَیْشٍ وَعَہْدِہِمْ دَخَلَ فِیہِ، فَتَوَاثَبَتْ خُزَاعَۃُ فَقَالُوا: نَحْنُ مَعَ عَقْدِ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَعَہْدِہِ، وَتَوَاثَبَتْ بَنُو بَکْرٍ فَقَالُوا: نَحْنُ فِی عَقْدِ قُرَیْشٍ وَعَہْدِہِمْ، وَأَنَّکَ تَرْجِعُ عَنَّا عَامَنَا ہٰذَا فَلَا تَدْخُلْ عَلَیْنَا مَکَّۃَ، وَأَنَّہُ إِذَا کَانَ عَامُ قَابِلٍ خَرَجْنَا عَنْکَ فَتَدْخُلُہَا بِأَصْحَابِکَ وَأَقَمْتَ فِیہِمْ ثَلَاثًا مَعَکَ سِلَاحُ الرَّاکِبِ لَا تَدْخُلْہَا بِغَیْرِ السُّیُوفِ فِی الْقُرُبِ، فَبَیْنَا رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَکْتُبُ الْکِتَابَ إِذْ جَائَ ہُ أَبُو جَنْدَلِ بْنُ سُہَیْلِ بْنِ عَمْرٍو فِی الْحَدِیدِ، قَدْ انْفَلَتَ إِلٰی رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: وَقَدْ کَانَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خَرَجُوا وَہُمْ لَا یَشُکُّونَ فِی الْفَتْحِ لِرُؤْیَا رَآہَا رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَلَمَّا رَأَوْا مَا رَأَوْا مِنَ الصُّلْحِ وَالرُّجُوعِ وَمَا تَحَمَّلَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلٰی نَفْسِہِ، دَخَلَ النَّاسَ مِنْ ذَلِکَ أَمْرٌ عَظِیمٌ حَتّٰی کَادُوا أَنْ یَہْلَکُوا، فَلَمَّا رَأٰی سُہَیْلٌ أَبَا جَنْدَلٍ قَامَ إِلَیْہِ فَضَرَبَ وَجْہَہُ ثُمَّ قَالَ: یَا مُحَمَّدُ! قَدْ لُجَّتِ الْقَضِیَّۃُ بَیْنِی وَبَیْنَکَ قَبْلَ أَنْ یَأْتِیَکَ ہٰذَا، قَالَ: ((صَدَقْتَ۔)) فَقَامَ إِلَیْہِ فَأَخَذَ بِتَلْبِیبِہِ، قَالَ: وَصَرَخَ أَبُو جَنْدَلٍ بِأَعْلٰیصَوْتِہِیَا مَعَاشِرَ الْمُسْلِمِینَ! أَتَرُدُّونَنِی إِلٰی أَہْلِ الشِّرْکِ، فَیَفْتِنُونِی فِی دِینِی، قَالَ: فَزَادَ النَّاسُ شَرًّا إِلٰی مَا بِہِمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((یَا أَبَا جَنْدَلٍ! اصْبِرْ وَاحْتَسِبْ فَإِنَّ اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ جَاعِلٌ لَکَ وَلِمَنْ مَعَکَ مِنَ الْمُسْتَضْعَفِینَ فَرَجًا وَمَخْرَجًا، إِنَّا قَدْ عَقَدْنَا بَیْنَنَا وَبَیْنَ الْقَوْمِ صُلْحًا، فَأَعْطَیْنَاہُمْ عَلٰی ذٰلِکَ، وَأَعْطَوْنَا عَلَیْہِ عَہْدًا، وَإِنَّا لَنْ نَغْدِرَ بِہِمْ۔)) قَالَ: فَوَثَبَ إِلَیْہِ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ مَعَ أَبِی جَنْدَلٍ فَجَعَلَ یَمْشِی إِلٰی جَنْبِہِ وَہُوَ یَقُولُ: اصْبِرْ أَبَا جَنْدَلٍ فَإِنَّمَا ہُمُ الْمُشْرِکُونَ وَإِنَّمَا دَمُ أَحَدِہِمْ دَمُ کَلْبٍ، قَالَ: وَیُدْنِی قَائِمَ السَّیْفِ مِنْہُ قَالَ: یَقُولُ: رَجَوْتُ أَنْ یَأْخُذَ السَّیْفَ فَیَضْرِبَ بِہِ أَبَاہُ، قَالَ: فَضَنَّ الرَّجُلُ بِأَبِیہِ وَنَفَذَتِ الْقَضِیَّۃُ، فَلَمَّا فَرَغَا مِنْ الْکِتَابِ وَکَانَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُصَلِّی فِی الْحَرَمِ وَہُوَ مُضْطَرِبٌ فِی الْحِلِّ، قَالَ: فَقَامَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((یَا أَیُّہَا النَّاسُ انْحَرُوا وَاحْلِقُوا۔)) قَالَ: فَمَا قَامَ أَحَدٌ، قَالَ: ثُمَّ عَادَ بِمِثْلِہَا فَمَا قَامَ رَجُلٌ حَتّٰی عَادَ بِمِثْلِہَا فَمَا قَامَ رَجُلٌ، فَرَجَعَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَدَخَلَ عَلٰی أُمِّ سَلَمَۃَ فَقَالَ: ((یَا أُمَّ سَلَمَۃَ مَا شَأْنُ النَّاسِ؟)) قَالَتْ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! قَدْ دَخَلَہُمْ مَا قَدْ رَأَیْتَ فَلَا تُکَلِّمَنَّ مِنْہُمْ إِنْسَانًا وَاعْمِدْ إِلٰی ہَدْیِکَ حَیْثُ کَانَ فَانْحَرْہُ وَاحْلِقْ، فَلَوْ قَدْ فَعَلْتَ ذٰلِکَ فَعَلَ النَّاسُ ذٰلِکَ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لَا یُکَلِّمُ أَحَدًا حَتّٰی أَتٰی ہَدْیَہُ فَنَحَرَہُ، ثُمَّ جَلَسَ فَحَلَقَ فَقَامَ النَّاسُ یَنْحَرُونَ وَیَحْلِقُونَ، قَالَ: حَتّٰی إِذَا کَانَ بَیْنَ مَکَّۃَ وَالْمَدِینَۃِ فِی وَسَطِ الطَّرِیقِ فَنَزَلَتْ سُورَۃُ الْفَتْحِ۔ (مسند احمد: ۱۹۱۱۷)
۔(دوسری سند) سیدنا مسور بن مخرمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور سیدنا مروان بن حکم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ حدیبیہ کے سال رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم زیارت بیت اللہ کے ارادہ سے روانہ ہوئے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا لڑائی کا کوئی ارادہ نہیں تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ذبح کرنے کے لیے اپنے ساتھ ستر اونٹ بھی لے گئے، آپ کے رفقاء کی تعداد سات سو تھی۔ ہر دس آدمیوں کی طرف سے ایک اونٹ تھا،اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم روانہ ہوئے،جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عسفان کے مقام پر پہنچے تو بشر بن سفیان کعبی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے ملا۔ اس نے بتلایا کہ اللہ کے رسول! قریش کو آپ کی روانگی کی اطلاع ہو چکی ہے، وہ نئے نئے بچوں والی شیر دار اونٹنیاں لئے، چیتوں کی کھالیں اوڑھے آپ کے مقابلے اور راستہ روکنے کے لیے نکلے ہوئے ہیں اور وہ اللہ کے ساتھ عہد کر چکے ہیں کہ وہ ہمیں زبردستی مکہ میں بالکل داخل نہیں ہونے دیں گے اور خالد بن ولید اپنے گھڑ سواروں کے ساتھ کراع غمیم کی طرف بڑھتا آ رہا ہے۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے قریش کی ہلاکت! لڑائیوں نے ان کا ستیاناس کر دیا ہے، اگر یہ لوگ میرے اور میرے ان صحابہ کے سامنے سے ہٹ جاتے اور (حرم میںجانے دیتے) تو ان کو کیا تکلیف تھی، اگر ان لوگوں نے اپنے ارادے کے مطابق مجھے تکلیف دی لی تو (ٹھیک ہے)، اور اگر اللہ تعالی نے مجھے ان پر غالب کر دیا اور یہ اسلام میں داخل ہو گئے، جبکہ ان کی تعداد بہت زیادہ ہے، (تو ٹھیک)، بصورتِ دیگر اگر انھوں نے ایسا نہ کیا، تو یہ لڑیں گے، جبکہ ان کے پاس قوت بھی ہے، لیکن اب قریشی لوگ کیا گمان رکھتے ہیں؟ اللہ کی قسم! میں اس نکتے کو سامنے رکھ کر ان سے لڑتا رہوں،یہاں تک کہ اللہ تعالی اس دین کو غالب کر دے گا، یا پھر میری گردن کا یہ پہلو الگ ہو جائے گا (یعنی میں فوت ہو جاؤں گا)۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے لوگوں کو حکم دیا، پس حمض بوٹی سے ہوتے ہوئے اور اپنی دائیں طرف چلتے ہوئے ایسے راستے پر ہو لیے ، جو مرار گھاٹی اور حدیبیہکی طرف جار رہا تھا، یہ مکہ سے نشیبی جگہ تھی،یہ لشکر اس راستے پر ہو لیا، جب قریشیوں کے گھڑ سوار لشکر نے اِس لشکر کا غبار اور اس کے راستہ تبدیل کر لینے کو دیکھا تو وہ قریش کی طرف واپس پلٹ گئے۔ پس رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بھی روانہ ہو گئے اور جب مِرار گھاٹی میں چلے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی اونٹنی بیٹھ گئے، لوگوں نے کہا: اونٹنی ضد کر گئی، اڑی کر گئی، نبی ٔ کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نہ اس نے ضدکی ہے اور نہ یہ اس کی عادت ہے، دراصل اسے اس اللہ نے آگے جانے سے روکا ہے، جس نے ہاتھیوں کو روکا تھا۔ اللہ کی قسم! یہ کافر مجھ سے کوئی بھی ایسا مطالبہ کریں، جس کے ذریعے وہ مجھ سے صلہ رحمی کا سوال کریں گے تو میں ان کا وہ مطالبہ پورا کر دوں گا۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے لوگوں سے فرمایا: اتر جاؤ۔ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس علاقے میں تو پانی ہی نہیں ہے کہ اس کے پاس لشکر پڑاؤ ڈال سکے، پس رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے ترکش میں سے ایک تیر نکالا اور اپنے صحابہ میں سے ایک آدمی کو دیا، اس نے وہ تیر کنویں میں گاڑھا اور بہت زیادہ پانی ابلنے لگا، (لوگوں نے پیا) یہاں تک کہ انھوں نے اپنے اونٹوں کو بھی سیراب کر لیا، ابھی رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مطمئن ہوئے ہی تھے کہ بنو خزاعہ کے چند افراد سمیت بدیل بن ورقا آ گیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان سے وہی بات کہی، جو بشیر بن سفیان کو کہی تھی، سو وہ قریشیوں کی طرف لوٹ گئے اور کہا: اے قریش کی جماعت! تم محمد ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) پر جلدی کر رہے ہو، جبکہ وہ قتال کے لیے نہیں آئے، وہ تو صرف اس گھر کی زیارت اور اس کے حق کی تعظیم کے لیے آئے ہیں، لیکن قریشیوں نے اِن کی بات کی تصدیق نہیں کی، دراصل بنو خزاعہ کے مسلمان اور مشرک، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے راز دان تھے، مکہ میں جو کچھ ہوتا، یہ لوگ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے کوئی چیز مخفی نہیں رکھتے تھے۔ پس قریشیوں نے کہا: اگرچہ (محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) اس مقصد کے لیے آئے ہوں گے، لیکن نہیں، بخدا! یہ نہیں ہو سکتا کہ وہ ہم پر زبردستی گھس آئیں اور عرب لوگ مختلف باتیں کرنے لگیں۔ پھر انھوں نے بنو عامر بن لؤی کے ایک آدمی مکرز بن حفص بن اخیف کو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی طرف بھیجا، جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کو دیکھا تو (اپنے صحابہ کو متنبہ کرتے ہوئے) فرمایا: یہ دھوکے باز آدمی ہے۔ جب وہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس پہنچا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے وہی گفتگو جو اس سے پہلے اس کے ساتھیوں سے کی تھی،یہ بھی قریش کی طرف لوٹ گیا اور انھیں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے بیانات کی خبر دی، قریش نے اب کی بار حلس بن علقمہ کنانی کو بھیجا،یہ آدمی مختلف قبائل کی جماعتوں کا سردار تھا، جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کو دیکھا تو فرمایا: یہ آدمی ان لوگوں میں ہے، جو اللہ تعالی کے حق اور حرمت کا پاس و لحاظ رکھتے ہیں، ہدی کے جانوروں کو اس کے سامنے لاؤ۔ صحابہ نے ایسے ہی کیا اور ہدیاں اس کے سامنے لے آئے، اب ہوا یوں کہ جب اس آدمینے وادی کے عرض میں ہدیاں اور ان کے گردنوں میں قلادے دیکھے اور دیکھا کہ زیادہ دیر ان کو ٹھہرانے کی وجہ سے ان کے تانت کھائے جا چکے ہیں، تو یہ آدمییہ منظر دیکھنے کے بعد ان چیزوں کی تعظیم کی وجہ سے واپس لوٹ گیا اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تک پہنچا ہی نہیں، اس نے واپس آ کر کہا: اے قریش کی جماعت! میں ایسی چیزیں دیکھ آیا ہوں، جن کو روکنا حلال نہیں ہے، ہدی کے جانور ہیں، ان کے گردنوں میں قلادے ہیں اور زیادہ دیر ٹھہرائے جانے کی وجہ سے ان کے تانت کھائے جا چکے ہیں، قریش نے جواباً کہا: تو بیٹھ جا، تو تو بدّو ہے اور تجھے کوئی علم نہیں ہے، اب کی بار انھوں نے عروہ بن مسعود ثقفی کو بھیجا، اس نے کہا: قریش کی جماعت! تم لوگ جن افراد کو محمد ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) کی طرف بھیج رہے ہو اور ان کے تبصروں کی وجہ سے تمہیں جو سرزنش اور برے الفاظ سننے پڑ رہے ہیں، میں وہ سب کچھ دیکھ رہا ہوں، تم جانتے ہو کہ تم والد کے اور میں تمہارا بیٹا ہونے کے قائم مقام ہوں (لہذا میں تمہارا پاس و لحاظ رکھوں گا)، جس معاملے کا تمہیں سامنا کرنا پڑا، میں وہ باتیں بھی سن چکا ہوں۔ پھر میں نے اپنی قوم میں سے ان لوگوں کو جمع کیا، جنہوں نے میری بات مان لی، پھر میں آیا اور میں نے اپنی جان کے ساتھ تمہارا تعاون کیا، قریشیوں نے کہا: تم سچ کہہ رہے ہو اور تم ہمارے نزدیک قابل اعتماد آدمی ہو، پس یہ آدمی نکل پڑا، یہاں تک کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس پہنچا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سامنے بیٹھ گیا اور کہا: اے محمد! آپ نے جنگوں میں ثابت قدم نہ رہنے والے مختلف لوگوں کو جمع کر لیا اور پھر ان کو لے کر یہاں آ گئے، تاکہ ان کی اصل کو ہی ختم کر دیں،یہ قریش نکل پڑے ہیں، ان کے ساتھ حاملہ اور دودھ والی اونٹنیاں موجود ہیں (مراد کہ یہ ان کا کھانا پینا ہے )، انھوں نے چیتوں کی کھالیں پہن رکھی ہیں اور انھوں نے اللہ تعالی سے معاہدہ کر رکھا ہے کہ آپ کبھی بھی ان پر زبردستی نہ گھس سکیں گے، اور اللہ کی قسم ہے، مجھے تو یوں لگ رہا ہے کہ یہ لوگ کل (جب میدان سجے گا) تو تجھے چھوڑ کر بھاگ جائیں گے۔ سیدنا ابو بکر صدیق ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پیچھے بیٹھے تھے، انھوں نے اِس کییہ بات سن کر کہا: تو لات کے ختنے میں کٹ جانے چمڑے کے ٹکڑے کو چوسے، کیا ہم آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو چھوڑ جائیں گے؟ اس نے کہا: اے محمد! یہ آدمی کون ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ ابن ابی قحافہ ہیں۔ عروہ بن مسعود نے کہا: اللہ کی قسم! اگر تیرا مجھ پر احسان نہ ہوتا تو میں تجھ سے اس بات کا بدلہ لیتا، چلو یہ بات اس احسان کے بدلے ہو گئے، پھر عروہ نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی داڑھی مبارک پکڑی، جبکہ سیدنا مغیرہ بن شعبہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اسلحہ سے لیس رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سر مبارک کے پاس کھڑے تھے، انھوں نے عروہ کے ہاتھ پر ضرب لگائی اور کہا: اپنے ہاتھ کو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی داڑھی مبارک سے دور رکھ، اللہ کی قسم! وگرنہ تیرا ہاتھ تجھ تک نہ پہنچ پائے گا (یعنی میں اس کو کاٹ دوں گا)، عروہ نے آگے سے کہا: او تو ہلاک ہو جائے، تو تو کس قدر سخت گیر آدمی ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مسکرا دیئے، اس نے کہا: اے محمد! یہ کون ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ تیرا بھتیجا مغیرہ بن شعبہ ہے۔ عروہ نے کہا: او دھوکے باز! تو نے تو کل اپنی شرمگاہ کو دھویا ہے (یعنی ماضی قریب میں ہی مال خرچ کر کے اپنی خیانت کے ضرر کودور کیا ہے)، بہرحال رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اِس آدمی سے اسی طرح کی گفتگو فرمائی، جیسے اس سے قبل اس کے ساتھیوں سے کی تھی کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لڑائی کے ارادے سے نہیںآئے۔ پس یہ آدمی رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس سے چلا گیا اور اس نے دیکھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے اصحاب، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ کیا سلوک کرتے ہیں، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وضو کرتے ہیں تو یہ لوگ (آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے اعضائے شریفہ سے گرنے والے پانی کی طرف) لپک پڑتے ہیں اور جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تھوکتے ہیں تو یہ لوگ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے تھوک کی طرف لپک پڑتے ہیں اور جب بھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا کوئی بال گرتا ہے تو یہ اس کو اٹھا لیتے ہیں، پس عروہ قریش کی طرف لوٹ گیا اور کہا: اے قریش کی جماعت! میں کسریٰ کے ہاں اس کی مملکت میں اور قیصرونجاشی کے ہاں بھی ان کے ملکوں میں گیا ہوں، اللہ کی قسم! میں نے کبھی کسی بادشاہ کا اتنا احترام نہیں دیکھا جتنا احترام محمد ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) کا ان کے اصحاب میں ہے، میں نے ان کو دیکھا ہے کہ وہ اسے کسی ناگوار حالت کے سپرد نہ کریں گے، اب تم غور کر لو، اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قبل ازیں خراش بن امیہ خزاعی کو مکہ کی طرف بھیج چکے تھے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے ثعلب نامی ایک اونٹ پر سوار کرایا تھا، وہ جب مکہ میں پہنچا تو قریش نے اس کے اونٹ کی کونچیں کاٹ دی تھیں اسے بھی قتل کرنا چاہتے تھے لیکن کچھ لوگوں نے انہیں ان کو قتل کرنے سے روک دیا، وہ اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے خدمت میں واپس آگیا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مکہ کی طرف بطور سفیر بھیجنے کے لیے عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو بلوایا تو انہوں نے کہا: اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مجھے قریش کی طرف سے اپنی جان کا خطرہ ہے اور وہاں بنو عدی کا کوئی ایسا آدمی نہیں ہے جو مجھے تحفظ دے سکے اور مجھے قریش سے جس قدر عداوت ہے، وہ سب اس سے بخوبی واقف ہیں، البتہ میں آپ کو ایک ایسے آدمی کے متعلق بتلاتا ہوں جو اہلِ مکہ کے ہاں مجھ سے زیادہ معزز اور محترم ہے اور وہ ہیں سیدنا عثمان بن عفان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ،رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کو بلوا کر قریش کی طرف اپنا سفیر بنا کر بھیجا تاکہ ان کو بتلائیں کہ ہم لوگ لڑائی کے لیے نہیں، محض بیت اللہ کی حرمت کی تعظیم کرنے کی خاطر صرف زیارت و طواف کے لیےآئے ہیں۔ سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ روانہ ہو کر مکہ مکرمہ آئے۔ ان کی ابان بن سعید بن العاص سے ملاقات ہو گئی، وہ اپنی سواری سے نیچے اترا اور آپ کو اپنے آگے بٹھا کر خود پیچھے بیٹھا اور اس نے عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو پناہ دی تاکہ وہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا پیغام پہنچا دیں۔ سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ابو سفیان اور دیگر عظائے قریش کے پاس گئے اور اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کو جو پیغام دے کر بھیجا تھا، وہ پیغام ان تک پہنچایا۔ انہوں نے سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہا: اگر آپ بیت اللہ کا طواف کرنا چاہیں تو کر لیں، وہ بولے جب تک اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بیت اللہ کا طواف نہ کریں میں نہیں کر سکتا۔ ان کو قریش نے اپنے ہاں روک لیا، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور مسلمانوں تک یہ افواہ پہنچی کہ عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو قتل کر دیا گیا ہے۔ قریش نے سہیل بن عمرو کو جو بنو عامر بن لؤی میں سے تھے کو بھیجا اور کہا کہ تم جا کر محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے صلح کی بات کرو۔ اس میںیہ شق ضرور ہو کہ وہ امسال بغیر عمرہ کئے واپس چلے جائیں، تاکہ عرب کبھی یہ نہ کہہ سکیں کہ محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم زبردستی ہمارے ہاں آگئے، پھر سہیل آیا، اس سے آگے سارا وہی بیان ہے جو قبل ازیں پہلی سند سے حدیث میں بیان ہو چکا ہے۔ یہاں تک کہ صلح ہو گئی۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا علی بن ابی طالب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو بلا کر ان سے فرمایا لکھو۔ بسم اللہ الرحمن الرحیم تو سہیل بن عمر ونے کہا میں تو اس کلام کو نہیں سمجھتا۔ اس کی بجائے آپ لکھیں: بِاسْمِکَ اللّٰہُمَّ تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے فرمایا تم بِاسْمِکَ اللّٰہُمَّ ہی لکھ دو،یہ وہ معاہدہ ہے جو محمد رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سہیل بن عمرو کے ساتھ کر رہے ہیں، سہیل بن عمرو پھر بولا کہ اگر میںیہ گواہی دیتا کہ آپ اللہ کے رسول ہیں تو میں آپ سے کبھی بھی قتال نہ کرتا۔ آپ یوں لکھیں کہ یہ وہ معاہدہ جس کے تحت محمد بن عبداللہ اور سہیل بن عمرو عہد کرتے ہیں کہ دس سال تک آپس میں کوئی لڑائی نہ کریں گے۔ اس عرصہ میں لوگ اطمینان اور امن سے رہیں گے اور ایک دوسرے پر حملہ کرنے سے باز رہیں گے۔ نیزیہ کہ ( مکہ سے) کوئی مسلمان اپنے سر پرست کی اجازت کے بغیر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس گیا تو وہ اسے اہل مکہ کی طرف واپس بھیجیں گے اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھیوں میں سے اگر کوئی قریش کے پاس آیا تو وہ اسے واپس نہیں کریں گے، اس دوران ہمارے دل ایک دوسرے کی طرف سے صاف رہیں گے، خفیہ چوریاں نہ کریں گے اور نہ دلوں میں بغض رکھیں گے، معاہدہ صلح میںیہ شرط بھی تھی کہ دیگر قبائل میں سے جو محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا حلیف بننا چاہے بن سکے گا، اسی طرح جو قریش کا حلیف بننا چاہے بن سکے گا۔ خزاعہ قبیلہ نے جلدی سے کہا: ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے عقدوعہد میں آتے ہیں اور بنو بکر قبیلہ نے کہا کہ ہم قریش کے عقدوعہد میں آتے ہیں۔ نیزیہ کہ آپ اس سال عمرہ کئے بغیر واپس چلے جائیں اور مکہ میں نہ آئیں، جب آئندہ سال ہو گا ہم آپ کو نہیں روکیں گے۔ آپ اپنے اصحاب کی معیت میں مکہ میں آسکیں گے اور تین دن قیام کریں گے۔ آپ کے ہمراہ محض اس قدر ہتھیار ہوں گے، جس قدر کسی سوار کے پاس دورانِ سفر ہوتے ہیں، آپ کی تلواریں میانوں میں رہیں گی۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ابھییہ تحریر لکھوا رہے تھے کہ ابو جندل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بن سہیل بن عمر بیڑیوں میں مقید کسی طرح بچ بچا کر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس پہنچ گئے۔رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے اصحاب جب مدینہ منورہ سے روانہ ہوئے تھے تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے خواب کی بنیاد پر انہیں فتح کا کامل یقین تھا، لیکن جب انہوں نے یہ صورت حال دیکھی کہ آپ کفار کے ساتھ صلح کر رہے ہیں اور عمرہ کئے بغیر واپسی کے لیے آمادہ ہوئے ہیں۔ اور آپ نے بظاہر اپنے خلاف شرائط کو قبول کر لیا ہے تو صحابہ کو شدید دھچکا لگا، قریب تھا کہ کچھ لوگ ہلاک ہو جاتے۔ سہیل نے ابو جندل کو دیکھا تو وہ اُٹھ کر ابو جندل کی طرف گیا اور اس کے چہرے پر تھپڑ مارا اور کہا: اے محمد! آپ کے اور میرے درمیان صلح کا معاہدہ اس کے آنے سے پہلے طے پا چکا ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہاں ٹھیک ہے۔ تو وہ اُٹھ کر ابو جندل کی طرف گیا اور اس کے کپڑوں کو پکڑ کر سختی سے جھنجوڑا۔ ابو جندل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بلند آواز سے چیخے: ارے مسلمانو! کیا تم مجھے مشرکین کی طرف واپس کر دو گے تاکہ وہ دین کی وجہ سے مجھے مزید سزائیں دیں؟ لوگوں کے دلوں میں جو برے خیالات آچکے تھے، یہ دیکھ کر ان کے خیالات مزید منتشر ہو گئے۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ابو جندل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے فرمایا: صبر کرو اور اللہ سے ثواب وجزا کی امید رکھو،تم اور تمہارے علاوہ جس قدر کمزور لوگ ہیں، اللہ تعالیٰ تم سب کی رہائی کی کوئی راہ نکال دے گا، ہم ان لوگوں کے ساتھ صلح کا معاہدہ کر چکے ہیں، اس بارے میں ہم ان کو اور وہ ہمیں عہد دے چکے ہیں، ہم وعدہ خلافی ہرگز نہیں کریں گے۔ سیدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، سیدنا ابو جندل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی طرف لپک کر گئے اور اس کے پہلو بہ پہلو چلنے لگے اور ان سے کہنے لگے: ابو جندل! صبر کرو، یہ لوگ مشرک ہیں، ان کا خون کتوں کا سا ہے۔ ساتھ ہی سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اپنی تلوار کا دستہ ابو جندل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے قریب کرتے گئے، مجھے لگتا تھا کہ وہ تلوار ابو جندل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے باپ کو مار دیں گے، اس نے اپنے باپ کو بچا لیا اور یہ قضیہ مکمل ہو گیا، اس کے بعد راوی نے ساری تفصیل ذکر کی کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے صحابہ کو اونٹ نحر کرنے اور بال منڈوانے کا حکم دیا، انہوں نے تعمیل میں توقف کیا،یہاں تک کہ پہلے خود آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے اونٹ کو نحر کیا اور سر منڈوایا جیسا کہ پہلی سند سے مفصل بیان ہو چکا ہے، اس کے بعد لوگ اُٹھ کر اپنے اپنے اونٹوں کو نحر کرنے لگے اور بال منڈانے لگے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب مکہ اور مدینہ کے درمیان ابھی راستہ ہی میں تھے کہ سورۂ فتح نازل ہوئی۔
Musnad Ahmad
11776
۔ (۱۱۷۷۶)۔ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ، أَخْبَرَنَا أَیُّوبُ، عَنْ حُمَیْدِ بْنِ ہِلَالٍ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ عَبْدِ الْقَیْسِ کَانَ مَعَ الْخَوَارِجِ، ثُمَّ فَارَقَہُمْ قَالَ: دَخَلُوْا قَرْیَۃً فَخَرَجَ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ خَبَّابٍ ذَعِرًا یَجُرُّ رِدَائَہُ، فَقَالُوْا: لَمْ تُرَعْ، قَالَ: وَاللّٰہِ! لَقَدْ رُعْتُمُونِی، قَالُوْا: أَنْتَ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ خَبَّابٍ صَاحِبُ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَہَلْ سَمِعْتَ مِنْ أَبِیکَ حَدِیثًا یُحَدِّثُہُ عَنْ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تُحَدِّثُنَاہُ؟ قَالَ: نَعَمْ، سَمِعْتُہُ یُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّہُ ذَکَرَ فِتْنَۃً الْقَاعِدُ فِیہَا خَیْرٌ مِنَ الْقَائِمِ وَالْقَائِمُ فِیہَا خَیْرٌ مِنَ الْمَاشِی وَالْمَاشِی فِیہَا خَیْرٌ مِنَ السَّاعِی، قَالَ: فَإِنْ أَدْرَکْتَ ذَاکَ فَکُنْ عَبْدَ اللّٰہِ الْمَقْتُولَ، قَالَ أَیُّوبُ: وَلَا أَعْلَمُہُ إِلَّا قَالَ: وَلَا تَکُنْ عَبْدَ اللّٰہِ الْقَاتِلَ، قَالُوْا: أَأَنْتَ سَمِعْتَ ہَذَا مِنْ أَبِیکَ یُحَدِّثُہُ عَنْ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَقَدَّمُوہُ عَلٰی ضَفَّۃِ النَّہَرِ فَضَرَبُوْا عُنُقَہُ فَسَالَ دَمُہُ کَأَنَّہُ شِرَاکُ نَعْلٍ مَا ابْذَقَرَّ وَبَقَرُوْا أُمَّ وَلَدِہِ عَمَّا فِی بَطْنِہَا۔ (مسند احمد: ۲۱۳۷۸)
حمید بن ہلال سے روایت ہے، وہ قبیلہ عبد القیس کے ایک آدمی سے روایت کرتے ہیں، جو شروع میں خوارج کے ساتھ تھا، پھر ان سے الگ ہو گیا تھا، اس سے مروی ہے کہ خوارج ایک بستی میں داخل ہوئے، سیدنا عبداللہ بن خباب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اپنی چادر گھسیٹتے ہوئے خوف زدہ سے ہو کر اس بستی سے باہر نکل گئے۔ خوارج نے ان سے کہا: آپ پریشان نہ ہوں، آپ گھبرائیں نہیں، آپ کو کچھ نہیں کہا جائے گا۔انہوںنے کہا: اللہ کی قسم! تم لوگوں نے تو مجھے ڈرا ہی دیا تھا۔ خوارج نے کہا: آپ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے صحابی خباب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے بیٹے عبداللہ ہیں؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، خوارج نے پوچھا: کیا آپ نے اپنے والد سے کوئی حدیث سنی ہو، جسے وہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے بیان کرتے ہوں، براہ کرم آپ ہمیں وہ حدیث تو بیان کر دیں۔ سیدنا عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: جی ہاں، میں نے اپنے والد کو سنا، انھوں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے بیان کیا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک فتنے کا ذکر کیا کہ اس فتنہ کے دوران کھڑے آدمی کی بہ نسبت بیٹھا رہنے والا اور چلنے والے کی نسبت کھڑا رہنے والا اور فتنہ میں دوڑنے والے کی بہ نسبت عام رفتار سے چلنے والابہتر ہوگا۔رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر تمہارا اس قسم کے حالات سے سامنا ہو تو اللہ کا مقتول بندہ بن جانا۔ حدیث کے راوی حمید کے شاگرد ایوب نے کہا: مجھے یقین ہے کہ حمید بن ہلال نے اس سے آگے یہ بھی بیان کیا کہ تم اللہ کے قاتل بندے نہ بننا۔ خوارج نے پوچھا:کیا آپ نے یہ حدیث برا ہ راست اپنے والد سے سنی ہے کہ وہ اس حدیث کو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے بیان کرتے تھے۔ سیدنا عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: جی بالکل، عبدالقیس کا ایکفرد بیان کرتا ہے کہ یہ حدیث سننے کے باوجود انہوںنے سیدنا عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو نہر (دریا) کے کنارے لے جا کر ان کی گردن اڑا دی اور ان کا خون دریا کے پانی میں اس طرح چلا گویاکہ وہ جوتے کا تسمہ ہے، (یعنی وہ پانی کے اندر حل نہ ہوا اور دھاگے یا تسمے کی مانند پانی میں بہتا رہا۔) اور ان ظالموں نے ان کی ام ولد کا پیٹ بھی پھاڑ ڈالا۔
Musnad Ahmad
4921
۔ (۴۹۲۱)۔ حَدَّثَنَا خُبَیْبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ، عَنْ أَبِیہِ، عَنْ جَدِّہِ، قَالَ: أَتَیْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَہُوَ یُرِیدُ غَزْوًا أَنَا وَرَجُلٌ مِنْ قَوْمِی وَلَمْ نُسْلِمْ، فَقُلْنَا: إِنَّا نَسْتَحْیِی أَنْ یَشْہَدَ قَوْمُنَا مَشْہَدًا لَا نَشْہَدُہُ مَعَہُمْ، قَالَ: ((أَوَ أَسْلَمْتُمَا؟)) قُلْنَا: لَا، قَالَ: ((فَإِنَّا لَا نَسْتَعِینُ بِالْمُشْرِکِینَ عَلَی الْمُشْرِکِینَ۔)) قَالَ: فَأَسْلَمْنَا وَشَہِدْنَا مَعَہُ، فَقَتَلْتُ رَجُلًا، وَضَرَبَنِی ضَرْبَۃً، وَتَزَوَّجْتُ بِابْنَتِہِ بَعْدَ ذٰلِکَ، فَکَانَتْ تَقُولُ: لَا عَدِمْتَ رَجُلًا وَشَّحَکَ ہَذَا الْوِشَاحَ، فَأَقُولُ: لَا عَدِمْتِ رَجُلًا عَجَّلَ أَبَاکِ النَّارَ۔ (مسند أحمد: ۱۵۸۵۵)
۔ سیدنا خبیب بن یساف ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں اور میری قوم کا ایک آدمی رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئے، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ایک غزوے کے لیے جانا چاہ رہے تھے، ابھی تک ہم مسلمان نہیں ہوئے تھے، پس ہم نے کہا: بیشک ہم اس چیز سے شرم محسوس کرتے ہیں کہ ہماری قوم ایک لڑائی میں شریک ہو اور ہم ان کے ساتھ شامل نہ ہوں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا تم مسلمان ہو گئے ہو؟ انھوں نے کہا: نہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک ہم مشرکوںکی مخالفت میں مشرکوں سے مدد طلب نہیں کرتے۔ یہ ارشاد سن کر ہم مسلمان ہو گئے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ اس غزوے میں حاضر ہوئے، میں نے ایک آدمی کو قتل کیا اور اس نے بھی مجھے ایک ضرب لگائی تھی، پھر میں نے اس کی بیٹی سے شادی کر لی تھی، وہ کہا کرتی تھی: تو اس آدمی کو گم نہ پائے، جس نے تجھے کندھے اور پہلو کے درمیان ضرب لگائی تھی، اور میں اس کو کہتا تھا: تو اس آدمی کو گم نہ پائے، جس نے تیری باپ کو جلدی جلدی آگ میں بھیج دیا۔
Musnad Ahmad
4922
۔ (۴۹۲۲)۔ عَـنْ عُـرْوَۃَ، عَـنْ عَـائِشَۃَ أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خَرَجَ إِلَی بَدْرٍ، فَتَبِعَہُ رَجُلٌ مِنْ الْمُشْرِکِینَ، فَلَحِقَہُ عِنْدَ الْجَمْرَۃِ، فَقَالَ: إِنِّی أَرَدْتُ أَنْ أَتْبَعَکَ وَأُصِیبَ مَعَکَ، قَالَ: ((تُؤْمِنُ بِاللّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُولِہِ؟)) قَالَ: لَا، قَالَ: ((ارْجِعْ فَلَنْ نَسْتَعِینَ بِمُشْرِکٍ۔)) قَالَ: ثُمَّ لَحِقَہُ عِنْدَ الشَّجَرَۃِ، فَفَرِحَ بِذَاکَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَکَانَ لَہُ قُوَّۃٌ وَجَلَدٌ، فَقَالَ: جِئْتُ لِأَتْبَعَکَ وَأُصِیبَ مَعَکَ، قَالَ: ((تُؤْمِنُ بِاللّٰہِ وَرَسُولِہِ۔)) قَالَ: لَا، قَالَ: ((ارْجِعْ فَلَنْ أَسْتَعِینَ بِمُشْرِکٍ۔)) قَالَ: ثُمَّ لَحِقَہُ حِینَ ظَہَرَ عَلَی الْبَیْدَائِ، فَقَالَ لَہُ مِثْلَ ذٰلِکَ، قَالَ: ((تُؤْمِنُ بِاللّٰہِ وَرَسُولِہِ؟)) قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَخَرَجَ بِہِ۔ (مسند أحمد: ۲۵۶۷۳)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بدر کی طرف نکلے، ایک مشرک آدمی بھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پیچھے چلا اور جمرہ کے پاس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو پا لیا اور اس نے کہا: میں بھی چاہتا ہوں کہ آپ کے ساتھ مل کر لڑوں اور مالِ غنیمت حاصل کروں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے پوچھا: کیا تو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھتا ہے؟ اس نے کہا: نہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو پھر تو لوٹ جا، پس بیشک ہم کسی مشرک مدد طلب نہیں کرتے۔ لیکن پھر وہ درخت کے پاس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو جا ملا، صحابۂ کرام کو اس سے بڑی خوشی ہوئی، کیونکہ یہ بڑا مضبوط اور سخت آدمی تھا، اس نے کہا: میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ مل کر لڑنے اور مالِ غنیمت حاصل کرنے کے لیے آیا ہوں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا تو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھتا ہے؟ اس نے کہا: نہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو پھر لوٹ جا، پس بیشک میں ہرگز مشرک سے مدد طلب نہیں کرتا۔ پھر جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بیداء مقام پر چڑھے تو وہی آدمی پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو آ ملا اور وہی بات کہی، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا تو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول پر ایمان رکھتا ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں، پس اس بار آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس کو لے کر آگے بڑھے۔
Musnad Ahmad
4923
۔ (۴۹۲۳)۔ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَا تَسْتَضِیئُوْا بِنَارِ الْمُشْرِکِینَ، وَلَا تَنْقُشُوا خَوَاتِیمَکُمْ عَرَبِیًّا۔)) (مسند أحمد: ۱۱۹۷۶)
۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مشرکوں کی آگ سے روشنی حاصل نہ کرو اور اپنی انگوٹھیوں پر عربی نقش نہ بنواؤ۔
Musnad Ahmad
4936
۔ (۴۹۳۶)۔ عَنْ بُرَیْدَۃَ الْاَسْلَمِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کَانَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِذَا بَعَثَ أَمِیرًا عَلٰی سَرِیَّۃٍ أَوْ جَیْشٍ أَوْصَاہُ فِی خَاصَّۃِ نَفْسِہِ بِتَقْوَی اللّٰہِ، وَمَنْ مَعَہُ مِنْ الْمُسْلِمِینَ خَیْرًا، وَقَالَ: ((اغْزُوا بِسْمِ اللّٰہِ فِی سَبِیلِ اللّٰہِ، قَاتِلُوْا مَنْ کَفَرَ بِاللّٰہِ، فَإِذَا لَقِیتَ عَدُوَّکَ مِنَ الْمُشْرِکِینَ فَادْعُہُمْ إِلٰی إِحْدٰی ثَلَاثِ خِصَالٍ أَوْ خِلَالٍ، فَأَیَّتُہُنَّ مَا أَجَابُوکَ إِلَیْہَا فَاقْبَلْ مِنْہُمْ وَکُفَّ عَنْہُمْ، ادْعُہُمْ إِلَی الْإِسْلَامِ فَإِنْ أَجَابُوکَ فَاقْبَلْ مِنْہُمْ، ثُمَّ ادْعُہُمْ إِلَی التَّحَوُّلِ مِنْ دَارِہِمْ إِلٰی دَارِ الْمُہَاجِرِینَ، وَأَعْلِمْہُمْ إِنْ ہُمْ فَعَلُوا ذٰلِکَ أَنَّ لَہُمْ مَا لِلْمُہَاجِرِینَ، وَأَنَّ عَلَیْہِمْ مَا عَلَی الْمُہَاجِرِینَ، فَإِنْ أَبَوْا وَاخْتَارُوْا دَارَہُمْ، فَأَعْلِمْہُمْ أَنَّہُمْ یَکُونُونَ کَأَعْرَابِ الْمُسْلِمِینَ، یَجْرِی عَلَیْہِمْ حُکْمُ اللّٰہِ الَّذِی یَجْرِی عَلَی الْمُؤْمِنِینَ، وَلَا یَکُونُ لَہُمْ فِی الْفَیْئِ وَالْغَنِیمَۃِ نَصِیبٌ إِلَّا أَنْ یُجَاہِدُوا مَعَ الْمُسْلِمِینَ، فَإِنْ ہُمْ أَبَوْا فَادْعُہُمْ إِلٰی إِعْطَائِ الْجِزْیَۃِ، فَإِنْ أَجَابُوا فَاقْبَلْ مِنْہُمْ وَکُفَّ عَنْہُمْ، فَإِنْ أَبَوْا فَاسْتَعِنِ اللّٰہَ ثُمَّ قَاتِلْہُمْ)) وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ بِنَحْوِہِ: ((وَإِذَا حَاصَرْتَ أَہْلَ حِصْنٍ، فَأَرَادُوکَ أَنْ تَجْعَلَ لَہُمْ ذِمَّۃَ اللّٰہِ وَذِمَّۃَ نَبِیِّکَ، فَلَا تَجْعَلْ لَہُمْ ذِمَّۃَ اللّٰہِ وَلَا ذِمَّۃَ نَبِیِّہِ، وَلٰکِنْ اجْعَلْ لَہُمْ ذِمَّتَکَ وَذِمَّۃَ أَبِیکَ وَذِمَمَ أَصْحَابِکَ، فَإِنَّکُمْ إِنْ تُخْفِرُوْا ذِمَمَکُمْ وَذِمَمَ آبَائِکُمْ أَہْوَنُ مِنْ أَنْ تُخْفِرُوا ذِمَّۃَ اللّٰہِ وَذِمَّۃَ رَسُولِہِ، وَإِنْ حَاصَرْتَ أَہْلَ حِصْنٍ، فَأَرَادُوکَ أَنْ تُنْزِلَہُمْ عَلَی حُکْمِ اللّٰہِ، فَلَا تُنْزِلْہُمْ عَلٰی حُکْمِ اللّٰہِ، وَلٰکِنْ أَنْزِلْہُمْ عَلٰی حُکْمِکَ، فَإِنَّکَ لَا تَدْرِی أَتُصِیبُ حُکْمَ اللّٰہِ فِیہِمْ أَمْ لَا۔)) قَالَ عَبْدُ الرَّحْمٰنِ: ھٰذَا اَوْنَحْوُہٗ۔ (مسند أحمد: ۲۳۴۱۸)
۔ سیدنا بریدہ اسلمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے ، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب کسی شخص کو چھوٹے یا بڑے لشکر کا امیر بنا کر بھیجتے تو خاص طور پر اس کو اللہ سے ڈرتے اور اس کے ساتھ والے مسلمانوں کو خیر و بھلائی کی نصیحت کرتے اور فرماتے: اللہ تعالیٰ کے نام کے ساتھ اس کی راہ میں جہاد کر، اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر کرنے والوں سے قتال کر، جب تو اپنے مشرک دشمنوں کے سامنے آئے تو ان کو تین خصلتوں میں سے ایک کی طرف دعوت دے، وہ ان میں سے جس چیز کا مثبت جواب دیں، تو ان سے وہ قبول کر لے اور ان پر حملہ کرنے سے رک جا، سب سے پہلے ان کو اسلام کی دعوت دے، اگر وہ قبول کر لیں تو تو ان سے اس چیز کو قبول کر لے، پھر ان کو دعوت دے کہ وہ اپنے گھروں سے مہاجروں کے گھروں کی طرف ہجرت کریں اور ان کو یہ بتلا کہ اگر وہ ایسا کریں گے تو ان کو وہ حقوق ملیں گے، جو مہاجرین کو ملے ہوئے ہیں اور ان پر وہ ذمہ داریاں عائد ہوں گی، جو مہاجرین پر ہیں، اگر وہ اس طرح ہجرت کرنے سے انکار کر دیں تو تو ان کو بتلا دے کہ ان کا حکم بدو مسلمانوں کا ہو گا، ان پر اللہ تعالیٰ کا وہی حکم چلے گا، جو اس قسم کے مسلمانوں پر چلتا ہے، ان کے لیے مالِ فے اور مالِ غنیمت میں سے کوئی حصہ نہیں ہو گا، الا یہ کہ وہ مسلمانوں کے ساتھ جہاد کریں، اگر وہ اسلام قبول کرنے سے انکار کر دیں تو ان کو جزیہ دینے کی دعوت دے، اگر وہ مان جائیں تو تو ان سے یہ جزیہ قبول کر لے اور ان سے رک جا اور اگر وہ جزیہ دینے سے بھی انکار کر دیں تو اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کر اور ان سے قتال شروع کر دے۔ دوسری سند: اسی قسم کا متن مروی ہے، البتہ اس میں ہے: اور جب تو اہل قلعہ کا محاصرہ کر لے اور وہ تجھ سے یہ چاہیں کہ تو ان کو اللہ کا ذمہ اور اپنے نبی کا ذمہ دے، تو تونے ایسے نہیں کرنا، ان کو اللہ اور اس کے نبی کا ذمہ نہیں دینا،ہاں ان کو اپنا، اپنے باپ کا اور اپنے ساتھیوں کا ذمہ دے سکتے ہو، اس کی وجہ یہ ہے کہ اگر تم نے اپنے اور اپنے آباء کے ذموں کو توڑ دیا تو یہ فعل اس سے ہلکا ہو گا کہ تم اللہ اور اس کے رسول کا ذمہ توڑ دو، اسی طرح اگر تو اہل قلعہ کا محاصرہ کر لے اور وہ یہ ارادہ کریں کہ تو ان کو اللہ کے حکم پر اتارے تو تو نے ان کو اللہ کے حکم پر نہیں اتارنا، بلکہ اپنے حکم پر اتارنا ہے، کیونکہ تو نہیں جانتا کہ تو اللہ تعالیٰ کے حکم کو پا لے گا یا نہیں۔
Musnad Ahmad
4946
۔ (۴۹۴۶)۔ عَنْ أَنَسٍ قَالَ: بَعَثَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بُسَیْسَۃَ عَیْنًا یَنْظُرُ مَا فَعَلَتْ عِیرُ أَبِی سُفْیَانَ، فَجَائَ وَمَا فِی الْبَیْتِ أَحَدٌ غَیْرِی وَغَیْرُ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، قَالَ: لَا أَدْرِی مَا اسْتَثْنَی بَعْضَ نِسَائِہِ، فَحَدَّثَہُ الْحَدِیثَ، قَالَ: فَخَرَجَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَتَکَلَّمَ فَقَالَ: ((إِنَّ لَنَا طَلِبَۃً فَمَنْ کَانَ ظَہْرُہُ حَاضِرًا فَلْیَرْکَبْ مَعَنَا۔)) فَجَعَلَ رِجَالٌ یَسْتَأْذِنُونَہُ فِی ظَہْرٍ لَہُمْ فِی عُلُوِّ الْمَدِینَۃِ، قَالَ: ((لَا، إِلَّا مَنْ کَانَ ظَہْرُہُ حَاضِرًا۔)) فَانْطَلَقَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَأَصْحَابُہُ حَتّٰی سَبَقُوا الْمُشْرِکِینَ إِلٰی بَدْرٍ۔ (مسند أحمد: ۱۲۴۲۵)
۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا بُسیسہ کو بطورِ جاسوس بھیجا، تاکہ وہ دیکھیں کہ ابو سفیان کے قافلے کا کیا بنا ہے، پس جب وہ لوٹے تو گھر میں میرے اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے علاوہ کوئی نہیں تھا، ثابت راوی کہتے ہیں: مجھے اس چیز کا علم نہ ہو سکا کہ راوی نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بعض بیویوں کا استثنا کیا تھا یا نہیں، بہرحال سیدنا بُسیسہ نے حالات سے آگاہ کیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم باہر تشریف لائے اور فرمایا: ہم نے کوئی چیز تلاش کرنی ہے، جس کے پاس سواری موجود ہے، وہ ہمارے ساتھ چلے۔ بعض لوگوں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اجازت طلب کی کہ ان کی سواریاں مدینہ منورہ کے بالائی حصے میں ہے (جبکہ وہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ جانا چاہتے ہیں، لہذا ان کا انتظار کیا جائے)، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نہیں، صرف وہی آ جائیں، جن کے پاس سواریاں موجود ہیں۔ پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے صحابہ چل پڑے اور مشرکوں سے پہلے بدر میں پہنچ گئے۔
Musnad Ahmad
4987
۔ (۴۹۸۷)۔ عَنِ الْمُغِیرَۃِ بْنِ شُعْبَۃَ أَنَّہُ صَحِبَ قَوْمًا مِنَ الْمُشْرِکِینَ، فَوَجَدَ مِنْہُمْ غَفْلَۃً، فَقَتَلَہُمْ وَأَخَذَ أَمْوَالَہُمْ، فَجَائَ بِہَا إِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، فَأَبٰی رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنْ یَقْبَلَہَا۔ (مسند أحمد: ۱۸۳۳۴)
۔ سیدنا مغیرہ بن شعبہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ وہ مشرکوں کی ایک قوم کے ساتھی بنے، لیکن جب انھوں نے ان کو غافل پایا تو ان سب کو قتل کر دیا اور ان کا مال لے کر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آگئے، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے وہ مال قبول کرنے سے انکار کر دیا۔
Musnad Ahmad
4988
۔ (۴۹۸۸)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ الصَّعْبَ بْنَ جَثَّامَۃَ، قَالَ: قُلْتُ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! الدَّارُ مِنْ دُورِ الْمُشْرِکِینَ نُصَبِّحُہَا لِلْغَارَۃِ، فَنُصِیبُ الْوِلْدَانَ تَحْتَ بُطُونِ الْخَیْلِ، وَلَا نَشْعُرُ، فَقَالَ: ((إِنَّہُمْ مِنْہُمْ۔)) (مسند أحمد: ۱۶۸۰۶)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ سیدنا صعب بن جثامہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! مشرکوں کی بستی ہو اور ہم اس پر صبح کے وقت اچانک حملہ کر دیں اور ان کے بچے گھوڑوں کے نیچے آ کر مارے جائیں، جبکہ ہمیں سمجھ ہی نہ آئے تو (ان بچوں کا قتل کیسا ہو گا)؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک ان کے بچے بھی ان ہی میں سے ہیں۔