۔ (۱۲۳۶۰)۔ عَنْ عَاصِمِ بْنِ کُلَیْبٍ، عَنْ أَبِیہِ، قَالَ: کُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ عَلِیٍّ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ، فَقَالَ: إِنِّی دَخَلْتُ عَلٰی رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَلَیْسَ عِنْدَہُ أَحَدٌ إِلَّا عَائِشَۃُ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا، فَقَالَ: ((یَا ابْنَ أَبِی طَالِبٍ کَیْفَ أَنْتَ وَقَوْمَ کَذَا وَکَذَا؟)) قَالَ: قُلْتُ: اللّٰہُ وَرَسُولُہُ أَعْلَمُ، قَالَ: ((قَوْمٌ یَخْرُجُونَ مِنَ الْمَشْرِقِ، یَقْرَئُ وْنَ الْقُرْآنَ، لَا یُجَاوِزُ تَرَاقِیَہُمْ،یَمْرُقُونَ مِنَ الدِّینِ مُرُوقَ السَّہْمِ مِنَ الرَّمِیَّۃِ، فَمِنْہُمْ رَجُلٌ مُخْدَجُ الْیَدِ، کَأَنَّ یَدَیْہِ ثَدْیُ حَبَشِیَّۃٍ۔)) (مسند احمد: ۱۳۷۸)
فصل دوم: خوارج، ان کے قائد کی علامت اور ان کی خدمت اور اس کا بیان کہ ان کو قتل کرنے کا حکم ہے اور یہ بیان کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا گروہ بر حق تھا
Takhreej
(۱۲۳۶۰) تخریج: اسنادہ جیّد، اخرجہ البزار: ۸۷۲، والنسائی فی خصائص علی : ۱۸۳، وابویعلی: ۴۷۲، ۴۸۲ (انظر: ۱۳۷۸)
12360
Sahih