TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 12429 - باب سوم: یزید بن معاویہ کے عہد میں وقوع پذیر ہونے والے ایک انتہائی المناک واقعہ حرہ کا بیان - خلافت و امارت کے مسائل - Musnad Ahmad in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 2 of 3 in this chapter
باب سوم: یزید بن معاویہ کے عہد میں وقوع پذیر ہونے والے ایک انتہائی المناک واقعہ حرہ کا بیان
۔ (۱۲۴۲۹)۔ عَنْ زَیْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ، أَنَّ أَمِیرًا مِنْ أُمَرَائِ الْفِتْنَۃِ قَدِمَ الْمَدِینَۃَ، وَکَانَ قَدْ ذَہَبَ بَصَرُ جَابِرٍ، فَقِیلَ لِجَابِرٍ: لَوْ تَنَحَّیْتَ عَنْہُ، فَخَرَجَ یَمْشِی بَیْنَ ابْنَیْہِ فَنُکِّبَ، فَقَالَ: تَعِسَ مَنْ أَخَافَ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، فَقَالَ ابْنَاہُ أَوْ أَحَدُہُمَا: یَا أَبَتِ وَکَیْفَ أَخَافَ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَقَدْ مَاتَ؟ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ: ((مَنْ أَخَافَ أَہْلَ الْمَدِینَۃِ فَقَدْ أَخَافَ مَا بَیْنَ جَنْبَیَّ۔)) (مسند احمد: ۱۴۸۷۸)
زید بن اسلم سے مروی ہے کہ فتنے والے امراء میں ایک امیر مدینہ منورہ آیا، ان دنوں سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بینائی سے محروم ہو چکے تھے، کسی نے ان سے کہا: اگر آپ اس سے دور ہو جائیں (تو بہتر ہے)، پس وہ اپنے دو بیٹوں کے درمیان چلتے ہوئے ایک طرف نکل گئے اور کہا: وہ آدمی تباہ و برباد ہو، جس نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو ڈرایا اور خوف زدہ کیا، ان کے دونوں بیٹوں نے یا ان میںسے کسی ایک نے کہا: اباجان! اللہ کے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا تو انتقال ہو چکا ہے، اس نے آپ کو کیسے خوف زدہ کیا تھا؟ انہوں نے کہا: میں نے سنا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے اہل مدینہ کو خوف زدہ کیا، اس نے میرے دل کو خوف زدہ کیا۔
12429
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Conclusion
تخریج
(۱۲۴۲۹) تخریج: حدیث صحیح، اخرجہ البخاری فی التاریخ الکبیر : ۱/ ۵۳، وابن ابی شیبۃ: ۱۲/ ۱۸۰، وابن حبان: ۳۷۳۸ (انظر: ۱۴۸۱۸)

Related Chapters

68
1
باب ہفتم: سیدنا امام علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی شہادت اور اس امر کا بیان کہ ان کے جسم کا کون سا حصہ زخمی ہوگا، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کی یہ بات اس واقعہ کے وقوع پذیر ہو نے سے پہلے بتلا دی تھی اور اس امرکا بیان کہ اس کے قاتل کے ساتھ کیا سلوک کیا گیا؟
Musnad Ahmad
2
باب سوم: سیدنا معاویہ کے بعض حالات، خطبوں اور حج کا بیان
Musnad Ahmad
3
ٔٔفصل: عہد خلافت ِمعاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا ایک اہم واقعہ غزوۂ قسطنطنیہ ہے
Musnad Ahmad
4
یزید بن معاویہ کی خلافت اور ان کے عہد خلافت میں ہونے والے واقعات سے متعلقہ ابواب باب اول: یزید کی بیعت اور بعض لوگوںکی اس کی بیعت سے بے زاری اور سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کا بیان
Musnad Ahmad
5
باب دوم: یزید کے دور خلافت و امارت میں سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور سیدہ فاطمۂ زہرا ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے فرزند سیدنا حسین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی شہادت سب سے الم ناک اور افسوس ناک واقعہ ہے فصل اول: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی طرف سے سیدنا حسین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی شہادت اور ان کے مقتل کے بارے میں مروی احادیث اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے غم کا بیان
Musnad Ahmad
6
فصل: یزید بن معاویہ کی طر ف سے مدینہ کے حکمران عمرو بن سعید بن العاص اموی کا ابن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے مقابلہ کے لیے مکہ کی طرف لشکر بھیجنا اور ابو شریح ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ صحابی کی اس کو نصیحت اور سعید کے انکار کا بیان
Musnad Ahmad
7
باب پنجم: یزید بن معاویہ کی وفات
Musnad Ahmad
8
یزید بن معاویہ کی موت کے بعد سیدنا عبد اللہ بن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی خلافت اور اس میں رونما ہونے والے واقعات کا بیان باب اول: سیدنا عبداللہ بن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی بیعت کا بیان
Musnad Ahmad
9
Chapter: The Hadith: Two Wolves Free Among Sheep
باب: دولت کی ہوس اور جاہ طلبی دین کے لیے انتہائی خطرناک ہیں
Jam e Tirmazi
10
باب: سورۃ الواقعہ میں «فروح» کو راء کے ضمہ کے ساتھ پڑھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
11
باب: سورۃ الواقعہ سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
12
باب: معاویہ بن ابی سفیان رضی الله عنہما کے مناقب کا بیان
Jam e Tirmazi
13
سیدنا معاویہ بن حیدہؓکی آمد کا بیان
Musnad Ahmad
14
اذان اور اقامت کا طریقہ اور دونوں کے کلمات کی تعداد اور ابومحذورہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے واقعہ کا بیان
Musnad Ahmad
15
عورتوں، بچوں، پادریوں اور انتہائی بوڑھے لوگوں کو بالارادہ قتل کرنے سے روکنے کا بیان
Musnad Ahmad
16
فصل: ارویٰ بنت اویس اور سیدنا سعید بن زیدbکا واقعہ
Musnad Ahmad
17
قتل کا سبب بننے کی وجہ سے دیت کے واجب ہونے کا بیان اورگڑھے میں گرنے والوں کا واقعہ
Musnad Ahmad
18
لعان کے سبب، تہمت والی آیات کی تفسیر، لعان اور سیدنا ہلال بن امیہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے واقعہ کا بیان
Musnad Ahmad
19
عویمر عجلان اور ان کی بیوی کے درمیان لعان کے واقعہ کی وضاحت
Musnad Ahmad
20
شراب کے مفاسد اور شراب کی حرمت سے قبل سیدنا حمزہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی دو اونٹنیوں کے متعلق واقعہ
Musnad Ahmad
21
سورۂ واقعہ {ثُلَّۃٌ مِنَ الْاَوَّلِیْنَ وَقَلِیْلٌ مِّنَ الْآخِرِیْنَ} کی تفسیر
Musnad Ahmad
22
سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی بھوک کا واقعہ اور اس معاملے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے عظیم معجزے کا بیان
Musnad Ahmad
23
موسی علیہ السلام کا پتھر کے ساتھ واقعہ
Musnad Ahmad
24
موسی علیہ السلام کا خضر علیہ السلام کے ساتھ واقعہ
Musnad Ahmad
25
واقعہ کی تفصیل اور دشمن کے خلاف قتال کی ترغیب
Musnad Ahmad
26
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے چچا سیّدنا حمزہ بن عبدالمطلب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی شہادت کا واقعہ اور ان کے قاتل اور قتل کے سبب کا بیان
Musnad Ahmad
27
غزوۂ بنو مصطلق میں واقعۂ افک کی وجہ سے اُمّ المؤمنین سیّدہ عائشہ صدیقہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کی ابتلاء وآزمائش کا بیان
Musnad Ahmad
28
غزوۂ خندق اور غزوۂ بنی قریظہ کے بعض مشترکہ واقعات اور سیدنا سعد بن معاذ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے زخمی ہونے کا واقعہ
Musnad Ahmad
29
سلمہ بن اکوع ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا واقعہ یہ دراصل گزشتہ دو ابواب کی تلخیص پر مشتمل ہے
Musnad Ahmad
30
اس زہر آلود بکری کا واقعہ جو یہود نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں کھانے کے لیے بھیجی تھی اور اس موقع پر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے معجزہ کا ظہور
Musnad Ahmad
31
غزوۂ فتح مکہ کی تاریخ اور اہلِ مکہ کے نام حاطب بن ابی بلتعہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے مکتوب کا واقعہ
Musnad Ahmad
32
حنین کے قیدیوں کو لائے جانے اور ان کی قبولِ اسلام کی بیعت کا بیان اور اس صحابی کا واقعہ جس نے نذر مانی تھی کہ اگر وہ آدمی ہمارے پاس لا یا گیا جو آج سارا دن ہم پر زور دار حملے کرتا رہا تو میں اس کی گردن اڑاؤں گا
Musnad Ahmad
33
سیدنا کعب بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا واقعہ، جبکہ یہ ان لوگوں میں سے ہیں جو غزوۂ تبوک سے پیچھے رہ گئے تھے، اور ان کی توبہ کی قبولیت کے بیان میں قرآن کریم نازل ہوا
Musnad Ahmad
34
سیدنا جریر بن عبداللہ بجلی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی مدینہ منورہ آمد، ان کی بیعت اور قبولِ اسلام کا واقعہ
Musnad Ahmad
35
اس امر کا بیان کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے معجزات میں سے ایک معجزہ سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے اونٹ والا بھی ہے، جو دوران سفر چلنے سے عاجز آکر راستے میں بیٹھ گیا تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے اپنا قدم مبارک مارا تو وہ انتہائی پھرتیلا ہو گیا
Musnad Ahmad
36
دو مشکیزوں والی خاتون کا واقعہ
Musnad Ahmad
37
واقعۂ افک ،سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کی آزمائش اور سات آسمانوں کے اوپر سے ان کی براء ت کا نزول
Musnad Ahmad
38
ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے پیالہ توڑنے کے واقعہ میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے عدل اور آپ کے اخلاق کا ظہور
Musnad Ahmad
39
سیدنا حاطب بن ابی بلتعہ کی فضیلت اور ان کا واقعہ
Musnad Ahmad
40
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے خادم سیدنا ربیعہ بن کعب اسلمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ اور ان کے نکاح کا واقعہ اور اس میں سیدنا ابو بکر صدیق ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی منقبت کا بیان
Musnad Ahmad
41
سیدنا سلمان فارسی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، ان کا واقعہ اور ان کے قبول اسلام کا از اول تا آخر مکمل اور مفصل واقعہ
Musnad Ahmad
42
سیدنا عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ اور ان کے قبول اسلام کا واقعہ
Musnad Ahmad
43
سیدنا معاویہ بن قرہ مزنی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے والد سیدنا قرہ بن ایاس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
Musnad Ahmad
44
سیدنا معاویہ بن ابی سفیان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
Musnad Ahmad
45
سیدنا ابوذرغفاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ اور ان کے اسلام لانے کا واقعہ
Musnad Ahmad
46
باب دوم: سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی بیعت اور واقعۂ سقیفہ کا بیان
Musnad Ahmad
47
فصلِ دوم: سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے زمانۂ خلا فت میں ۱۵ ھ ؁ میں ہونے والے واقعۂ یرموک کا بیان
Musnad Ahmad
48
باب چہارم: سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی خلافت کے دوران رونما ہونے والے بعض واقعات کا بیان جرعہ کے دن والا واقعہ
Musnad Ahmad
49
فصل دوم: سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ہاں دو آدمیوں کا جھگڑا، ان میں سے ہر ایک کا دعویٰ تھا کہ اس نے سیدنا عمار ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو قتل کیا ہے
Musnad Ahmad
50
باب ششم: واقعہ نہروان اور وہاں پر خوارج کا قتل نیز خوارج کی مذمت اور ان کو قتل کرنے کے بارے میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ارشادات کا بیان اس باب میں کئی فصلیں ہیں فصل اول: خوارج کی بنیاد کا بیان
Musnad Ahmad
No related chapter matched that.

Related Hadith

61
Musnad Ahmad
12651
۔ (۱۲۶۵۱)۔ عَنْ زَیْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ، أَنَّ أَمِیرًا مِنْ أُمَرَائِ الْفِتْنَۃِ قَدِمَ الْمَدِینَۃَ، وَکَانَ قَدْ ذَہَبَ بَصَرُ جَابِرٍ، فَقِیلَ لِجَابِرٍ: لَوْ تَنَحَّیْتَ عَنْہُ، فَخَرَجَ یَمْشِی بَیْنَ ابْنَیْہِ فَنُکِّبَ، فَقَالَ: تَعِسَ مَنْ أَخَافَ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ ابْنَاہُ أَوْ أَحَدُہُمَا: یَا أَبَتِ وَکَیْفَ أَخَافَ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَقَدْ مَاتَ؟ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((مَنْ أَخَافَ أَہْلَ الْمَدِینَۃِ فَقَدْ أَخَافَ مَا بَیْنَ جَنْبَیَّ۔)) (مسند احمد: ۱۴۸۷۸)
سیدنا جابر بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ظالم حکمرانوں میں سے ایک حکمران مدینہ منورہ آیا، اس وقت سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی بینائی ختم ہو چکی تھی، کسی نے سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہا: اگر آپ اس سے ایک طرف ہی رہیں تو بہتر ہوگا، پس وہ اپنے دو بیٹوں کے درمیان چلتے ہوئے گئے تو انہیں چوٹ لگ گئی پس انہوں نے کہا: ہلاک ہواوہ آدمی جس نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو خوف زدہ کیا، ان کے دونوں یا ایک بیٹے نے کہا: اباجان!اس نے اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو کیسے خوف زدہ کیا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تو وفات پاچکے ہیں؟ انہو ں نے کہا: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: جس نے اہل مدینہ کو خوف زدہ کیا اس نے مجھے ڈرایا۔
Musnad Ahmad
5137
۔ (۵۱۳۷)۔ عن حُذَیْفَۃ بْنِ الْیَمَانِ، قَالَ: مَا مَنَعَنِی أَنْ أَشْہَدَ بَدْرًا إِلَّا أَنِّی خَرَجْتُ، أَنَا وَأَبِی حُسَیْلٌ فَأَخَذَنَا کُفَّارُ قُرَیْشٍ، فَقَالُوْا: إِنَّکُمْ تُرِیدُونَ مُحَمَّدًا، قُلْنَا: مَا نُرِیدُ إِلَّا الْمَدِینَۃَ، فَأَخَذُوا مِنَّا عَہْدَ اللّٰہِ وَمِیثَاقَہُ لَنَنْصَرِفَنَّ إِلَی الْمَدِینَۃِ وَلَا نُقَاتِلُ مَعَہُ، فَأَتَیْنَا رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَأَخْبَرْنَاہُ الْخَبَرَ، فَقَالَ: ((انْصَرِفَا نَفِیْ بِعَہْدِہِمْ وَنَسْتَعِینُ اللّٰہَ عَلَیْہِمْ۔)) (مسند أحمد: ۲۳۷۴۶)
۔ سیدنا حذیفہ بن یمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: مجھے غزوۂ بدر میں شرکت کرنے سے روکنے والی چیز یہ تھی کہ میں اور میرے باپ سیدنا حُسَیل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نکلے، لیکن کفار ِ قریش نے ہم کو پکڑ لیا اور انھوں نے کہا: بیشک تم محمد ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) کے پاس جانا چاہتے ہو، ہم نے کہا: ہم تو صرف مدینہ جا رہے ہیں، پھر انھوں نے ہم سے اللہ تعالیٰ کا عہد اور پکا وعدہ لیا کہ ہم واقعی مدینہ جائیں گے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ مل کر قتال نہیں کریں گے، پس جب ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس پہنچے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو واقعہ کی خبر دی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اب تم چلے جاؤ، ہم ان سے کیے گئے تمہارے معاہدے کو پورا کریں گے اور ان کے خلاف اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کریں گے۔
Musnad Ahmad
8557
۔ (۸۵۵۷)۔ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ أَ نَّ قَوْمًا مِنْ الْعَرَبِ، أَ تَوْا رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الْمَدِینَۃَ، فَأَ سْلَمُوْا وَأَ صَابَہُمْ وَبَائُ الْمَدِینَۃِ حُمَّاہَا فَأُرْکِسُوا فَخَرَجُوا مِنْ الْمَدِینَۃِ، فَاسْتَقْبَلَہُمْ نَفَرٌ مِنْ أَ صْحَابِہِ یَعْنِی أَصْحَابَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالُوْا لَہُمْ: مَا لَکُمْ رَجَعْتُمْ؟ قَالُوْا: أَ صَابَنَا وَبَائُ الْمَدِینَۃِ فَاجْتَوَیْنَا الْمَدِینَۃَ فَقَالُوْا: أَ مَا لَکُمْ فِی رَسُولِ اللّٰہِ أُسْوَۃٌ؟ فَقَالَ بَعْضُہُمْ: نَافَقُوْا وَقَالَ بَعْضُہُمْ لَمْ یُنَافِقُوا ہُمْ مُسْلِمُونَ، فَأَنْزَلَ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ: {فَمَا لَکُمْ فِی الْمُنَافِقِینَ فِئَتَیْنِ وَاللّٰہُ أَ رْکَسَہُمْ بِمَا کَسَبُوْا۔} الْآیَۃَ [النسائ: ۸۸]۔ (مسند احمد: ۱۶۶۷)
۔ سیدنا عبدالرحمن بن عوف ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ عرب کے کچھ لوگ مدینہ منورہ میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئے اور مسلمان ہو گئے،لیکن جب وہ مدینہ کی وبایعنی بخار میں مبتلا ہوئے تو ان کو پلٹا دیا گیا اور وہ مدینہ سے نکل گئے، ان کو آگے سے صحابۂ کرام کا ایک گروہ ملا اور اس نے ان سے پوچھا: کیا ہوا ہے تم کو،واپس جا رہے ہو؟ انھوں نے کہا: ہمیں مدینہ کی وبا لگ گئی ہے اور اس شہر کی آب و فضا موافق نہ آنے کی وجہ سے پیٹ میں بیماری پیدا ہو گئی ہے۔ مسلمانوں نے کہا:کیا تمہارے لیے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی ذات میں نمونہ نہیں ہے؟ اب بعض مسلمانوں نے کہا: وہ منافق ہو گئے ہیں اور بعض نے کہا: وہ منافق نہیں ہوئے، بلکہ مسلمان ہیں، پس اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کر دی: {فَمَا لَکُمْ فِی الْمُنَافِقِینَ فِئَتَیْنِ وَاللّٰہُ أَرْکَسَہُمْ بِمَا کَسَبُوْا۔} … پھر تمھیں کیا ہوا کہ منافقین کے بارے میں دو گروہ ہوگئے، حالانکہ اللہ نے انھیں اس کی وجہ سے الٹا کر دیا جو انھوں نے کمایا۔
Musnad Ahmad
10808
۔ (۱۰۸۰۸)۔ عَنْ إِیَاسٍ قَالَ: حَدَّثَنِی أَبِی: قَالَ: قَدِمْنَا مَعَ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الْحُدَیْبِیَۃَ، وَنَحْنُ أَرْبَعَ عَشْرَۃَ مِائَۃً وَعَلَیْہَا خَمْسُونَ شَاۃً لَا تُرْوِیہَا، فَقَعَدَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلٰی جَبَاہَا، فَإِمَّا دَعَا وَإِمَّا بَسَقَ، فَجَاشَتْ فَسَقَیْنَا وَاسْتَقَیْنَا، قَالَ: ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم دَعَا بِالْبَیْعَۃِ فِی أَصْلِ الشَّجَرَۃِ فَبَایَعْتُہُ أَوَّلَ النَّاسِ، وَبَایَعَ وَبَایَعَ حَتّٰی إِذَا کَانَ فِی وَسَطٍ مِنَ النَّاسِ، قَالَ: یَا سَلَمَۃُ! بَایِعْنِی، قَالَ: قَدْ بَایَعْتُکَ فِی أَوَّلِ النَّاسِ، یَا رَسُولَ اللّٰہِ! قَالَ: ((وَأَیْضًا فَبَایِعْ۔)) وَرَآنِی أَعْزَلًا فَأَعْطَانِی حَجَفَۃً أَوْ دَرَقَۃً، ثُمَّ بَایَعَ وَبَایَعَ حَتّٰی إِذَا کَانَ فِی آخِرِ النَّاسِ، قَالَ: ((أَلَا تُبَایِعُنِی؟)) قَالَ: قُلْتُ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! قَدْ بَایَعْتُ أَوَّلَ النَّاسِ وَأَوْسَطَہُمْ وَآخِرَہُمْ، قَالَ: ((وَأَیْضًا فَبَایِعْ۔)) فَبَایَعْتُہُ، ثُمَّ قَالَ: ((أَیْنَ دَرَقَتُکَ أَوْ حَجَفَتُکَ الَّتِی أَعْطَیْتُکَ؟)) قَالَ: قُلْتُ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! لَقِیَنِی عَمِّی عَامِرٌ أَعْزَلًا فَأَعْطَیْتُہُ إِیَّاہَا، قَالَ: فَقَالَ: ((إِنَّکَ کَالَّذِی قَالَ اللَّہُمَّ ابْغِنِی حَبِیبًا ہُوَ أَحَبُّ إِلَیَّ مِنْ نَفْسِی۔)) وَضَحِکَ، ثُمَّ إِنَّ الْمُشْرِکِینَ رَاسَلُونَا الصُّلْحَ حَتّٰی مَشَی بَعْضُنَا إِلٰی بَعْضٍ، قَالَ: وَکُنْتُ تَبِیعًا لِطَلْحَۃَ بْنِ عُبَیْدِ اللّٰہِ، أَحُسُّ فَرَسَہُ وَأَسْقِیہِ وَآکُلُ مِنْ طَعَامِہِ وَتَرَکْتُ أَہْلِی وَمَالِی مُہَاجِرًا إِلَی اللّٰہِ وَرَسُولِہِ، فَلَمَّا اصْطَلَحْنَا نَحْنُ وَأَہْلُ مَکَّۃَ، وَاخْتَلَطَ بَعْضُنَا بِبَعْضٍ، أَتَیْتُ الشَّجَرَۃَ فَکَسَحْتُ شَوْکَہَا وَاضْطَجَعْتُ فِی ظِلِّہَا، فَأَتَانِی أَرْبَعَۃٌ مِنْ أَہْلِ مَکَّۃَ فَجَعَلُوا وَہُمْ مُشْرِکُونَ یَقَعُونَ فِی رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَتَحَوَّلْتُ عَنْہُمْ إِلٰی شَجَرَۃٍ أُخْرٰی وَعَلَّقُوا سِلَاحَہُمْ وَاضْطَجَعُوا، فَبَیْنَمَا ہُمْ کَذٰلِکَ إِذْ نَادٰی مُنَادٍ مِنْ أَسْفَلِ الْوَادِی: یَا آلَ الْمُہَاجِرِینَ! قُتِلَ ابْنُ زُنَیْمٍ، فَاخْتَرَطْتُ سَیْفِی فَشَدَدْتُ عَلَی الْأَرْبَعَۃِ، فَأَخَذْتُ سِلَاحَہُمْ فَجَعَلْتُہُ ضِغْثًا، ثُمَّ قُلْتُ: وَالَّذِی أَکْرَمَ مُحَمَّدًا! لَایَرْفَعُ رَجُلٌ مِنْکُمْ رَأْسَہُ إِلَّا ضَرَبْتُ الَّذِییَعْنِی فِیہِ عَیْنَاہُ، فَجِئْتُ أَسُوقُہُمْ إِلٰی رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَجَائَ عَمِّی عَامِرٌ بِابْنِ مِکْرَزٍ یَقُودُ بِہِ فَرَسَہُ یَقُودُ سَبْعِینَ حَتّٰی وَقَفْنَاہُمْ فَنَظَرَ إِلَیْہِمْ، فَقَالَ: ((دَعُوہُمْ یَکُونُ لَہُمْ بُدُوُّ الْفُجُورِ۔)) وَعَفَا عَنْہُمْ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَأُنْزِلَتْ: {وَہُوَ الَّذِی کَفَّ أَیْدِیَہُمْ عَنْکُمْ وَأَیْدِیَکُمْ عَنْہُمْ} ثُمَّ رَجَعْنَا إِلَی الْمَدِینَۃِ فَنَزَلْنَا مَنْزِلًا یُقَالُ لَہُ: لَحْیُ جَمَلٍ، فَاسْتَغْفَرَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لِمَنْ رَقِیَ الْجَبَلَ فِی تِلْکَ اللَّیْلَۃِ، کَانَ طَلِیعَۃً لِرَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَأَصْحَابِہِ، فَرَقِیتُ تِلْکَ اللَّیْلَۃَ مَرَّتَیْنِ أَوْ ثَلَاثَۃً، ثُمَّ قَدِمْنَا الْمَدِینَۃَ، وَبَعَثَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِظَہْرِہِ مَعَ غُلَامِہِ رَبَاحٍ وَأَنَا مَعَہُ، وَخَرَجْتُ بِفَرَسِ طَلْحَۃَ أُنَدِّیہِ عَلٰی ظَہْرِہِ فَلَمَّا أَصْبَحْنَا إِذَا عَبْدُ الرَّحْمٰنِ بْنُ عُیَیْنَۃَ الْفَزَارِیُّ قَدْ أَغَارَ عَلٰی ظَہْرِ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَاسْتَاقَہُ أَجْمَعَ وَقَتَلَ رَاعِیَہُ۔ (مسند احمد: ۱۶۶۳۳)
ایاس سے مروی ہے، وہ کہتے ہیںمیرے والد سیدنا سلمہ بن اکوع ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے مجھے بیان کیا کہ ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی معیت میں حدیبیہ کے مقام پر پہنچے، ہم چودہ سو کی تعداد میں تھے، وہاں پچاس بکریاں تھیں اور وہاں کا پانی ان کے لیے بھی نا کافی تھا، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس کنوئیں کے کنارے بیٹھ گئے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یا تو دعا کییا اس میں اپنا لعاب مبارک ڈالا، پس کنواں تو جوش مارنے لگا۔ ہم نے پانی خود پیا اور جانوروں کو بھی پلایا، بعدازاں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک درخت کے نیچے سب لوگوں کو بیعت کے لیے پکارا، سب سے پہلے سلمہ بن اکوع ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے بیعت کی اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لوگوں سے بیعت لیتے رہے، یہاں تک کہ جب آدھے لوگ بیعت کر چکے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: سلمہ! تم بیعت کرو۔ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں تو سب سے پہلے بیعت کر چکا ہوں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: دوبارہ بیعت کرو۔ چنانچہ انہوں نے دوبارہ بیعت کی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے بغیر اسلحہ کے یعنی خالی ہاتھ دیکھا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے ڈھال عطا فرمائی اور پھر لوگوں سے بیعت لیتے رہے۔ یہاں تک کہ جب آخری لوگ بیعت کر رہے تھے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پھر فرمایا: ابن اکوع! کیا تم میری بیعت نہیں کر و گے؟ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں تو سب سے پہلے بھی اور لوگوں کے وسط میں بھی بیعت کر چکا ہوں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: پھر بیعت کرو۔ چنانچہ میں نے سہ بارہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بیعت کی۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں نے تمہیں جو ڈھال دی ہے، وہ کہاں ہے؟ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے میرا چچا عامر بغیر اسلحہ کے یعنی خالی ہاتھ ملے تو میں نے وہ ڈھال ان کو دے دی۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم تو اس آدمی کی مانند ہو، جس نے کہا تھا یا اللہ مجھے ایسے دوست مہیا کر جو مجھے اپنے آپ سے بھی زیادہ محبوب ہوں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یہ فرما کر مسکرا دئیے، اس کے بعد مشرکین ہمارے ساتھ صلح کی کوششیں کرتے رہے، یہاں تک کہ ہم میں سے بعض ایک دوسرے کی طرف بھی گئے۔ میں اس وقت سیدنا طلحہ بن عبیداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا خدمت گزار تھا، میں ان کے گھوڑے کو سہلاتا، اسے پانی پلاتا اور میں ان کے کھانے میں سے کھانا کھاتا اور میں اللہ اور اس کے رسول کی طرف ہجرت کرنے کی وجہ سے اپنے اہل وعیال اور اموال کو چھوڑ کر ان سے لا تعلق ہو چکا تھا۔ جب ہماری اہل مکہ سے صلح ہوئی اور ہم ایک دوسرے سے ملنے جلنے لگے، ایک درخت کے نیچے جا کر میں نے اس کے کانٹے صاف کئے اور اس کے سائے میں لیٹ گیا،مکہ کے باشندوں میں سے چار مشرک میرے پاس آگئے اور وہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے بارے میں نازیبا الفاظ کہنے لگے،میں ان کو چھوڑ کر ایک اور درخت کے نیچے چلا گیا، انہوں نے اپنے ہتھیار درخت کے ساتھ لٹکائے اور لیٹ گئے، وہ ابھی اسی حال میں تھے کہ وادی کے پست حصے کی جانب سے ایک پکارنے والے نے پکارا: اے مہاجرین! ابن زُنیم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو قتل کر دیا گیا ہے۔ میں اپنی تلوار سونت کر ان چاروں کی طرف دوڑا، میں نے ان کے ہتھیار اپنے قبضہ میں لے لئے اور میں نے ان سے کہا: اس ذات کی قسم جس نے محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو عزت سے نوازا ہے! اگر تم میں سے کسی نے اپنا سر اوپر کو اُٹھایا تو میں اسے قتل کر دوں گا، میں ان کو ہانک کر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں لے آیا اور میرے چچا عامر نے ابن مکرز کو گرفتار کر لیا، وہ اسے اپنے گھوڑے پر کر رہا تھا، ان کے ساتھ مزید ستر مشرکین تھے، یہاں تک کہ ہم سب آکر رک گئے۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان لوگوں کی طرف دیکھ کر فرمایا: ان کو چھوڑ دو، گناہ کا آغاز انہی کے ذمہ ہے۔ اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان سے در گزر فرمایا اور یہ آیت نازل ہوئی: {وَہُوَ الَّذِی کَفَّ أَیْدِیَہُمْ عَنْکُمْ وَأَیْدِیَکُمْ عَنْہُمْ}… اور وہ ذات ہے جس نے ان کے ہاتھوں کوتم سے اور تمہارے ہاتھوں کو ان سے روکا۔ (سورۂ فتح: ۲۴) اس کے بعد ہم مدینہ منورہ کی طرف واپس چل دئیے، ہم واپسی پر لحی جمل نامی ایک مقام پر ٹھہرے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے وہاں اس آدمی کے حق میں مغفرت کی دعا کی جو اس رات پہاڑ پر چڑھ کر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور صحابہ کرام کا پہرہ دے، پس میں اس رات دو یا تین مرتبہ پہاڑ پر چڑھا، پھر ہم مدینہ منورہ پہنچ گئے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنا اونٹ دوسرے اونٹوں میں پہنچانے کے لیے اپنے غلام رباح ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ہاتھ بھیجا، میں بھی سیدنا طلحہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے گھوڑے پر سوار اسے دوڑاتا ہوا، رباح کے ہمراہ تھا، صبح ہوئی تو ہم نے دیکھا کہ عبدالرحمن بن عیینہ فرازی رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے اونٹوں کو لوٹ کر ان سب کو لے گیا اور اونٹوں کے چرواہے کو قتل کر گیا ہے۔
Musnad Ahmad
11674
۔ (۱۱۶۷۴)۔ عَنْ حُذَیْفَۃَ بْنِ الْیَمَانِ قَالَ: مَا مَنَعَنِی أَنْ أَشْہَدَ بَدْرًا إِلَّا أَنِّی خَرَجْتُ أَنَا وَأَبِی حُسَیْلُ فَأَخَذَنَا کُفَّارُ قُرَیْشٍ، فَقَالُوْا إِنَّکُمْ تُرِیدُونَ مُحَمَّدًا؟ قُلْنَا: مَا نُرِیدُ إِلَّا الْمَدِینَۃَ، فَأَخَذُوْا مِنَّا عَہْدَ اللّٰہِ وَمِیثَاقَہُ لَنَنْصَرِفَنَّ إِلَی الْمَدِینَۃِ وَلَا نُقَاتِلُ مَعَہُ، فَأَتَیْنَا رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَأَخْبَرْنَاہُ الْخَبَرَ، فَقَالَ: ((انْصَرِفَا نَفِی بِعَہْدِہِمْ وَنَسْتَعِینُ اللّٰہَ عَلَیْہِمْ۔)) (مسند احمد: ۲۳۷۴۶)
سیدنا حذیفہ بن یمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: غزوۂ بدر میں ہماری عدم شرکت کی وجہ یہ ہوئی کہ میں اور میرا والد سیدنا حسیل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ جا رہے تھے کہ قریشی کفار نے ہمیں گرفتار کر لیا، انھوں نے کہا کہ تم لوگ محمد ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) کی طرف جا رہے ہو۔ ہم نے کہا کہ ہم تو مدینہ کی طرف جا رہے ہیں۔ انہوںنے ہم سے اللہ کی قسم اور پختہ عہد لیا کہ ہم مدینہ کی طرف جائیں اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ مل کر ان کے خلاف لڑائی میں حصہ نہ لیں۔ ہم نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں جا کر سارا واقعہ بیان کیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم دونوں چلے جاؤ، ہم ان سے کیے ہوئے عہد و پیمان کو پورا کریں گے اور ان کے خلاف اللہ کی مدد کے خواستگار ہیں۔
Musnad Ahmad
11964
۔ (۱۱۹۶۴)۔ عَنْ أَبِی نَضْرَۃَ عَنْ رَجُلٍ مِنَ الطُّفَاوَۃِ قَالَ: نَزَلْتُ عَلٰی أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ: وَلَمْ أُدْرِکْ مِنْ صَحَابَۃِ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رَجُلًا أَشَدَّ تَشْمِیرًا، وَلَا أَقْوَمَ عَلٰی ضَیْفٍ مِنْہُ، فَبَیْنَمَا أَنَا عِنْدَہُ وَہُوَ عَلٰی سَرِیرٍ لَہُ، وَأَسْفَلَ مِنْہُ جَارِیَۃٌ لَہُ سَوْدَائُ، وَمَعَہُ کِیسٌ فِیہِ حَصًی وَنَوًی یَقُولُ: سُبْحَانَ اللّٰہِ سُبْحَانَ اللّٰہِ حَتّٰی إِذَا أَنْفَذَ مَا فِی الْکِیسِ أَلْقَاہُ إِلَیْہَا فَجَمَعَتْہُ فَجَعَلَتْہُ فِی الْکِیسِ ثُمَّ دَفَعَتْہُ إِلَیْہِ، فَقَالَ لِی: أَلَا أُحَدِّثُکَ عَنِّی وَعَنْ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قُلْتُ: بَلٰی، قَالَ: فَإِنِّی بَیْنَمَا أَنَا أُوعَکُ فِی مَسْجِدِ الْمَدِینَۃِ إِذْ دَخَلَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الْمَسْجِدَ، فَقَالَ: ((مَنْ أَحَسَّ الْفَتَی الدَّوْسِیَّ؟ مَنْ أَحَسَّ الْفَتَی الدَّوْسِیَّ؟)) فَقَالَ لَہُ قَائِلٌ: ہُوَ ذَاکَ یُوعَکُ فِی جَانِبِ الْمَسْجِدِ حَیْثُ تَرٰی یَا رَسُولَ اللّٰہِ، فَجَائَ فَوَضَعَ یَدَہُ عَلَیَّ وَقَالَ لِی مَعْرُوفًا، فَقُمْتُ فَانْطَلَقَ حَتّٰی قَامَ فِی مَقَامِہِ الَّذِی یُصَلِّی فِیہِ، وَمَعَہُ یَوْمَئِذٍ صَفَّانِ مِنْ رِجَالٍ وَصَفٌّ مِنْ نِسَائٍ أَوْ صَفَّانِ مِنْ نِسَائٍ وَصَفٌّ مِنْ رِجَالٍ، فَأَقْبَلَ عَلَیْہِمْ فَقَالَ: ((إِنْ نَسَّانِی الشَّیْطَانُ شَیْئًا مِنْ صَلَاتِی فَلْیُسَبِّحِ الْقَوْمُ وَلْیُصَفِّقِ النِّسَائُ۔)) فَصَلّٰی رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَلَمْ یَنْسَ مِنْ صَلَاتِہِ شَیْئًا، فَلَمَّا سَلَّمَ أَقْبَلَ عَلَیْہِمْ بِوَجْہِہِ فَقَالَ: ((مَجَالِسَکُمْ ہَلْ مِنْکُمْ إِذَا أَتٰی أَہْلَہُ أَغْلَقَ بَابَہُ وَأَرْخٰی سِتْرَہُ، ثُمَّ یَخْرُجُ فَیُحَدِّثُ فَیَقُولُ: فَعَلْتُ بِأَہْلِی کَذَا، وَفَعَلْتُ بِأَہْلِی کَذَا؟)) فَسَکَتُوْا فَأَقْبَلَ عَلَی النِّسَائِ فَقَالَ: ((ہَلْ مِنْکُنَّ مَنْ تُحَدِّثُ؟)) فَجَثَتْ فَتَاۃٌ کَعَابٌ عَلٰی إِحْدٰی رُکْبَتَیْہَا وَتَطَاوَلَتْ لِیَرَاہَا رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَیَسْمَعَ کَلَامَہَا فَقَالَتْ: إِی وَاللّٰہِ إِنَّہُمْ لَیُحَدِّثُونَ وَإِنَّہُنَّ لَیُحَدِّثْنَ، فَقَالَ: ((ہَلْ تَدْرُونَ مَا مَثَلُ مَنْ فَعَلَ ذٰلِکَ؟ إِنَّ مَثَلَ مَنْ فَعَلَ ذٰلِکَ مَثَلُ شَیْطَانٍ وَشَیْطَانَۃٍ، لَقِیَ أَحَدُہُمَا صَاحِبَہُ بِالسِّکَّۃِ قَضٰی حَاجَتَہُ مِنْہَا وَالنَّاسُ یَنْظُرُونَ إِلَیْہِ۔)) ثُمَّ قَالَ: ((أَلَا لَا یُفْضِیَنَّ رَجُلٌ إِلٰی رَجُلٍ وَلَا امْرَأَۃٌ إِلَی امْرَأَۃٍ إِلَّا إِلٰی وَلَدٍ أَوْ وَالِدٍ۔)) قَالَ: وَذَکَرَ ثَالِثَۃً فَنَسِیتُہَا، ((أَلَا إِنَّ طِیبَ الرَّجُلِ مَا وُجِدَ رِیحُہُ وَلَمْ یَظْہَرْ لَوْنُہُ، أَلَا إِنَّ طِیبَ النِّسَائِ مَا ظَہَرَ لَوْنُہُ وَلَمْ یُوجَدْ رِیحُہُ۔)) (مسند احمد: ۱۰۹۹۰)
ابو نضرہ سے روایت ہے، وہ بنو طفاوہ قبیلہ کے ایک فرد سے روایت کرتے ہیں کہ میں سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ہاں مہمان ٹھہرا، میں نے صحابۂ کرام میں سے کسی کو ان سے بڑھ کر مہمان نواز نہیں پایا، میں ان کے ہاں ٹھہرا ہوا تھا اور وہ اپنی چارپائی پر تشریف فرما تھے، ان کی سیاہ فام لونڈی نیچے تھی، سیدنا ابو ہریرہ کے پاس ایک تھیلی میں کنکر اور گٹھلیاں تھیں، سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سُبْحَانَ اللّٰہِ، سُبْحَانَ اللّٰہِ پڑھتے جاتے، جب تھیلی خالی ہو جاتی تو وہ اسے اس لونڈی کی طرف پھینکتے اور وہ تمام کنکروں اور گٹھلیوں کو تھیلی میں جمع کر کے ان کے حوالے کر دیتی۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے مجھ سے کہا: کیا میں تمہیں اپنا اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا ایک واقعہ نہ سنائوں۔ میں نے عرض کیا: جی ضرور سنائیں، انہوں نے کہا: مجھے بخار تھا اور میں مدینہ منورہ کی مسجد یعنی مسجد نبوی میں تھا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مسجد میں تشریف لائے اور فرمایا: کسی کو دوسی جوان یعنی ابو ہریرہکے متعلق علم ہو، کسی کو دوسی جوان کا علم ہو۔ (کہ وہ کہاں ہے؟) کسی نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو بتلایا کہ اے اللہ کے رسول! وہ دیکھیں وہ تو مسجد کے ایک کونے میں بخار میں مبتلا پڑا ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے آکر اپنا ہاتھ مبارک مجھ پر رکھا اور میرے ساتھ پیاری پیاری باتیں کیں۔ یہاں تک کہ میں اٹھ کھڑا ہوا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم چل کر اپنی نماز والی جگہ پر تشریف لے گئے، اس روز آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ مردوں کی دو اور عورتوں کی ایک صف یا عورتوں کی دو اور مردوں کی ایک صف تھی۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے لوگوں کی طرف رخ کرکے ارشاد فرمایا: اگر شیطان مجھے نماز میں کچھ بھلوا دے تو مرد حضرات سُبْحَانَ اللّٰہِ کہہ دیاکریں اور عورتیں اپنے ہاتھ پر دوسرا ہاتھ مار کر آواز پیدا کریں (جس سے میں اپنی بھول اور غلطی پر متنبہ ہو جائوں گا)۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نماز پڑھائی اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نماز میں نہ بھولے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نماز کا سلام پھیرا اور لوگوں کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا: تم اپنی اپنی جگہوں پر بیٹھے رہو،کیا تم میں کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جو اپنے اہل خانہ کے ہاں جا کر دروازہ بند کرکے پردے لٹکانے کے بعد (حق زوجیت سے فارغ ہو کر) باہر جا کر لوگوں کی بتلائے کہ میں نے اپنی بیوی کے ساتھ یوں کیا اور یہ کیا۔ آپ کی بات سن کر صحابۂ کرام خاموش رہے، اس کے بعد آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے عورتوں کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا: کیا تم میں کوئی عورت بھی ایسی ہے جو ایسی باتیں کرتی ہو؟ تو ابھرے ہوئے سینہ والی ایک نوجوان لڑکی اپنے ایک گھٹنے کے بل ذرا اونچی ہو کر گردن اٹھا کر آپ کی طرف دیکھنے لگی تاکہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس کی طرف توجہ فرمائیں اور اس کی بات سنیں۔ اس نے کہا: اللہ کی قسم! مرد بھی ایسی باتیں کرتے ہیں اور عورتیں بھی۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ ایسی باتیں کرنے والوں کی کیا مثال ہے؟ ایسی باتیں کرنے والوں کی مثال شیطان اور شیطاننی کی مانند ہے، جو راستے میں ہی ایک دوسرے سے ملیں اور بر سر عام ایک دوسرے سے اپنی نفسانی خواہش پوری کریں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مزید فرمایا: خبر دار! کوئی مرد کسی مرد یا کسی عورت کے ساتھ اور کوئی عورت کسی مرد یا کسی عورت کے ساتھ ایک کپڑے میں علیحدہ نہ لیٹے، صرف باپ اور اس کا بیٹا اس طرح لیٹ سکتے ہیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک تیسری بات کا بھی ذکر کیا جو مجھے بھول گئی ہے۔ خبردار! مردوں کی خوشبو ایسی ہونی چاہیے جس کی صرف خوشبو ہو اور رنگ نہ ہو اور عورتوں کی خوشبو ایسی ہونی چاہیے کہ جس کا رنگ ہو اور خوشبو نہ ہو۔
Musnad Ahmad
12124
۔ (۱۲۱۲۴)۔ فَقَالَ عُبَادَۃُ لِأَبِی ہُرَیْرَۃَ: یَا أَبَا ہُرَیْرَۃَ! إِنَّکَ لَمْ تَکُنْ مَعَنَا إِذْ بَایَعْنَا رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، إِنَّا بَایَعْنَاہُ عَلَی السَّمْعِ وَالطَّاعَۃِ فِی النَّشَاطِ وَالْکَسَلِ، وَعَلَی النَّفَقَۃِ فِی الْیُسْرِ وَالْعُسْرِ، وَعَلَی الْأَمْرِ بِالْمَعْرُوفِ وَالنَّہْیِ عَنِ الْمُنْکَرِ، وَعَلٰی أَنْ نَقُولَ فِی اللّٰہِ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی، وَلَا نَخَافَ لَوْمَۃَ لَائِمٍ فِیہِ، وَعَلٰی َٔنْ نَنْصُرَ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إِذَا قَدِمَ عَلَیْنَایَثْرِبَ فَنَمْنَعُہُ مِمَّا نَمْنَعُ مِنْہُ أَنْفُسَنَا وَأَزْوَاجَنَا وَأَبْنَائَ نَا، وَلَنَا الْجَنَّۃُ، فَہٰذِہِ بَیْعَۃُ رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ الَّتِی بَایَعْنَا عَلَیْہَا، فَمَنْ نَکَثَ فَإِنَّمَایَنْکُثُ عَلٰی نَفْسِہِ، وَمَنْ أَوْفٰی بِمَا بَایَعَ رَسُولَ اللّٰہِ وَفَّی اللّٰہُ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی بِمَا بَایَعَ عَلَیْہِ نَبِیَّہُ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، فَکَتَبَ مُعَاوِیَۃُ إِلَی عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ أَنَّ عُبَادَۃَ بْنَ الصَّامِتِ قَدْ أَفْسَدَ عَلَیَّ الشَّامَ وَأَہْلَہُ، فَإِمَّا تُکِنُّ إِلَیْکَ عُبَادَۃَ، وَإِمَّا أُخَلِّی بَیْنَہُ وَبَیْنَ الشَّامِ، فَکَتَبَ إِلَیْہِ أَنْ رَحِّلْ عُبَادَۃَ حَتّٰی تُرْجِعَہُ إِلٰی دَارِہِ مِنَ الْمَدِینَۃِ، فَبَعَثَ بِعُبَادَۃَ حَتّٰی قَدِمَ الْمَدِینَۃَ، فَدَخَلَ عَلٰی عُثْمَانَ فِی الدَّارِ وَلَیْسَ فِی الدَّارِ غَیْرُ رَجُلٍ مِنَ السَّابِقِینَ أَوْ مِنَ التَّابِعِینَ، قَدْ أَدْرَکَ الْقَوْمَ فَلَمْ یَفْجَأْ عُثْمَانَ إِلَّا وَہُوَ قَاعِدٌ فِی جَنْبِ الدَّارِ، فَالْتَفَتَ إِلَیْہِ فَقَالَ: یَا عُبَادَۃَ بْنَ الصَّامِتِ! مَا لَنَا وَلَکَ؟ فَقَامَ عُبَادَۃُ بَیْنَ ظَہْرَیِ النَّاسِ، فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَبَا الْقَاسِمِ مُحَمَّدًا صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ: ((إِنَّہُ سَیَلِی أُمُورَکُمْ بَعْدِی رِجَالٌ یُعَرِّفُونَکُمْ مَا تُنْکِرُونَ، وَیُنْکِرُونَ عَلَیْکُمْ مَا تَعْرِفُونَ، فَلَا طَاعَۃ لِمَنْ عَصَی اللّٰہَ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی، فَلَا تَعْتَلُّوا بِرَبِّکُمْ۔)) (مسند احمد: ۲۳۱۴۹)
سیدنا عبادہ بن صامت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ انھوںنے سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہا: ابو ہریرہ! تم تو اس وقت موجود نہ تھے، جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہجرت کر کے ہمارے ہاں یثرب میں تشریف لائے، ہم نے آپ کے ہاتھ پر بیعت کی تھی کہ ہم چستی اور سستی یعنی ہر حال میں آپ کی بات سن کر اس کی اطاعت کریںگے، اور خوش حالی ہو یا تنگ دستی، جب بھی ضرورت پڑی تو ہر حال میں خرچ کریں گے، نیکی کا حکم دیں گے اور برائی سے منع کریں گے، اور ہر حال میں اللہ تعالیٰ کی خوشنودی والی بات کریں گے اور کسی ملامت کرنے والے سے خوف زدہ نہیں ہوں گے، ہم نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی دل وجان سے مدد کریں گے اورجن جن چیزوں سے ہم اپنی جانوں، بیویوں اور بیٹوں کو بچاتے ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو بھی ان سے بچائیں گے اور اس کے بدلے ہمیں جنت ملے گی۔ یہ وہ امورِ بیعت ہیں، جن پر ہم نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ہاتھ پر بیعت کی ہے، جو اس کی خلاف ورزی کرے گا، اس کا وبال اسی پر ہوگا۔ اللہ کے بارے میں جو بیعت رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے لی اور کی ہے، کون ہے جو اپنی بیعت کو ان سے بڑھ کر پورا کرنے والا ہو؟ سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے سیدنا عثمان بن عفان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو لکھا کر سیدنا عبادہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے شام اور اہل شام کو میرے خلاف کر دیا ہے، آپ یا تو عبادہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو اپنے ہاں بلالیں، ورنہ میں انہیں شام سے باہر نکلوا دوں گا۔ سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے انہیں لکھا کہ آپ سیدنا عبادہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو مدینہ واپس بھیج دیں، پس سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے سیدنا عبادہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو واپس بھجوادیا، پس جب وہ مدینہ واپس آئے تو وہ سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ گھرمیں ان کے ہاں گئے، گھر میں سابقین اولین میں سے صرف ایک آدمی تھا اور وہ بھی لوگوںکے پاس چلا گیا، عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے گھر کے ایک کونے میں تشریف فرما تھے، وہ سیدنا عبادہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی طرف متوجہ ہوئے اور کہا: عبادہ!آپ کا اور ہمارا کیا معاملہ ہے؟ سیدنا عبادہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ لوگوں کے درمیان کھڑے ہوئے اور کہا: میں نے ابو القاسم محمد رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو فرماتے سنا ہے کہ عنقریب تمہارے معاملات پر اسے لوگ غالب آجائیں گے کہ تم جن کاموں کو غلط سمجھتے ہو گے، وہ انہیں صحیح سمجھیں گے اور تم جن کاموں کو اچھا سمجھتے ہو گے، وہ انہیں غلط سمجھیں گے، جو آدمی اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرے تو اس کی اطاعت نہیں کی جاسکتی، تم اپنے رب کے ہاں اس کی کوئی معذرت پیش نہیں کر سکو گے۔
Musnad Ahmad
141
۔ (۱۴۱)۔عَنْ أَبِیْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ الْجُہَنِیِّؓ قَالَ: بَیْنَمَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم طَلَعَ رَاکِبَانِ فَلَمَّا رَآہُمَا قَالَ: ((کِنْدِیَّانِ مَذْحِجِیَّانِ۔)) حَتَّی أَتَیَاہُ فَاِذَا رِجَالٌ مِنْ مَذْحِجٍ۔ قَالَ: فَدَنَا اِلَیْہِ أَحَدُہُمَا لِیُبَایِعَہُ قَالَ: فَلَمَّا أَخَذَ بِیَدِہِ قَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! أَرَأَیْتَ مَنْ رَآکَ فَآمَنَ بِکَ وَصَدَّقَکَ وَاتَّبَعَکَ مَا ذَا لَہُ؟ قَالَ: ((طُوْبٰی لَہُ۔)) قَالَ: فَمَسَحَ عَلٰی یَدِہٖ فَانْصَرَفَ، ثُمَّ أَقْبَلَ الْآخَرُ حَتَّی أَخَذَ بِیَدِہِ لِیُبَایِعَہُ قَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! أَرَأَیْتَ مَنْ آمَنَ بِکَ وَصَدَّقَکَ وَاتَّبَعَکَ وَلَمْ یَرَکَ قَالَ: ((طُوْبٰی لَہُ، ثُمَّ طُوْبٰی لَہُ، ثُمَّ طُوْبٰی لَہُ۔)) قَالَ: فَمَسَحَ عَلٰی یَدِہِ فَانْصَرَفَ۔ (مسند أحمد: ۱۷۵۲۳)
سیدنا ابو عبد الرحمن جہنیؓ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک طرف سے دو سوار نمودار ہوئے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے ان کو دیکھ کر فرمایا: یہ دو کندی مذحجی آدمی ہیں۔ جب وہ دونوں پہنچ گئے تو معلوم ہوا کہ واقعی ان کا تعلق مذحج قبیلے سے ہے، پھر ان میں سے ایک بیعت کرنے کے لیے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے قریب ہوا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کا ہاتھ پکڑ کر کہا: اے اللہ کے رسول! جو آدمی آپ کا دیدار کرتا ہے، آپ پر ایمان لاتا ہے، آپ کی تصدیق کرتا ہے اور آپ کی پیروی کرتاہے، اس کے لیے اجر میں کیا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اس کے لیے خوشخبری ہے۔ پھر اس نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے مبارک ہاتھ پر اپنا ہاتھ پھیرا اور پیچھے ہٹ گیا، پھر دوسرا بندہ آگے آیا اور بیعت کرنے کے لیے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کا ہاتھ پکڑا اور کہا: اے اللہ کے رسول! آپ کا کیا خیال ہے کہ جو آپ پر ایمان لاتا ہے، آپ کی تصدیق کرتا ہے اور آپ کی پیروی کرتا ہے، لیکن وہ آپ کو دیکھ نہیں پاتا تو اس کے لیے کیا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اس کے لیے خوشخبری ہے، پھر اس کے لیے خوشخبری ہے، پھر اس کے لیے خوشخبری ہے۔ پھراس نے بھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے مبارک ہاتھ پر اپنا ہاتھ پھیرا اور پیچھے ہٹ گیا۔
Musnad Ahmad
323
۔ (۳۲۳)۔عَنْ أَبِیْ سَعِیْدٍ نِ الْخُدْرِیِّؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((اِنِّیْ تَارِکٌ فِیْکُمُ الثَّقَلَیْنِ، أَحَدُہُمَا أَکْبَرُ مِنَ الْآخَرِ، کِتَابُ اللّٰہِ حَبْلٌ مَمْدُوْدٌ مِنَ السَّمَائِ اِلَی الْأَرْضِ، وَعِتْرَتِیْ أَھْلُ بَیْتِیْ وَإِنَّہُمَا لَنْ یَفْتَرِقَا حَتَّی یَرِدَا عَلَیَّ الْحَوْضَ)) (مسند أحمد:۱۱۱۲۰)
سیدنا ابو سعید خدری ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: میں تم میں دو بیش قیمت چیزیں چھوڑ کر جا رہا ہوں، ان میں سے ایک دوسری سے بڑی ہے، اللہ تعالیٰ کی کتاب ایک رسی ہے، جس کو آسمان سے زمین کی طرف لٹکایا گیا ہے اور میری نسل میرے اہل بیت ہیں اور یہ دونوں چیزیں جدا نہیں ہوں گی، یہاں تک کہ دونوں میرے حوض پر آ جائیں گی۔