TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

سیدنا معاویہ بن حیدہؓکی آمد کا بیان - سیدنا معاویہ بن حیدہؓکی آمد کا بیان - ایمان اور اسلام کی کتاب - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 4 of ایمان اور اسلام کی کتاب in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 4 of 11 · 4 Hadith
۔ (۶۳)۔حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ حَدَّثَنِیْ أَبِی ثَنَا إِسْمَاعِیْلُ أَنَا بَہْزُ بْنُ حَکِیْمٍ عَنْ أَبِیْہِ عَنْ جَدِّہِ مُعَاوِیَۃَ بْنِ حَیْدَۃَ ؓ قَالَ: أَتَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! وَاللّٰہِ مَا أَتَیْتُکَ حَتَّی حَلَفْتُ أَکْثَرَ مِنْ عَدَدِ أُوْلَائِ أَنْ لَا آتِیَکَ وَلَا آتِیَ دِیْنَکَ ،وَجَمَعَ بَہْزٌ بَیْنَ کَفَّیْہِ (وَفِی رِوَایَۃٍ: حَتَّی حَلَفْتُ عَدَدَ أَصَابِعِیْ ہَذِہِ أَنْ لَاآتِیَکَ وَلَا آتِیَ دِیْنَکَ) وَإِنِّی قَدْ جِئْتُ امْرَئً ا لَا أَعْقِلُ شَیْئًا إِلَّا مَا عَلَّمَنِیَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُوْلُہُ، وَإِنِّی أَسْئَلُکَ بِوَجْہِ اللّٰہِ بِمَ بَعَثَکَ رَبُّنَا إِلَیْنَا؟ قَالَ: ((بِالْاِسْلَامِ۔)) قَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! وَمَا آیَۃُ الْاِسْلَامِ؟ (وَفِی رِوَایَۃٍ: وَمَا الْاِسْلَامُ؟) قَالَ: ((أَنْ تَقُوْلَ أَسْلَمْتُ وَجْہِیَ وَتَخَلَّیْتُ وَتُقِیْمَ الصَّلَاۃَ وَ تُؤْتِیَ الزَّکَاۃَ وَکُلُّ مُسْلِمٍ عَلٰی مُسْلِمٍ مُحَرَّمٌ۔)) (مسند أحمد: ۲۰۲۹۹)
سیدنا معاویہ بن حیدہؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! اللہ کی قسم! میں آپ کے پاس آنے سے پہلے اِن سے زیادہ قسمیں اٹھائیں تھیں کہ نہ میں نے آپ کے پاس آنا ہے اور نہ آپ کا دین اختیار کرنا ہے۔ بہز راوی نے دونوں ہتھیلیوں کو جمع کر کے اشارہ کیا۔ ایک روایت میں ہے: یہاں تک کہ میں نے ان اپنی انگلیوں کی تعداد جتنی قسمیں اٹھائیں کہ نہ میں نے آپ کے پاس آنا ہے اور نہ آپ کا دین اختیار کرنا ہے، بہرحال اب میں آپ کے پاس آ گیا ہوں، جبکہ میں ایسا شخص ہوں کہ جسے کسی چیز کوئی سمجھ نہیں ہے، الا یہ کہ وہ امور جو اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول مجھے سمجھا دیں گے، اب میں آپ کو اللہ تعالیٰ کی ذات کا واسطہ دے کر کہتا ہوں کہ ہمارے ربّ نے آپ کو ہماری طرف کس چیز کے ساتھ مبعوث کیاہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اسلام کے ساتھ۔ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! اسلام کی نشانی کیا ہے، اسلام کیا چیز ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: تیرا یہ کہنا کہ میں نے اپنا چہرہ (اللہ کے لیے) مطیع کر دیا ہے اور میں (شرکیہ دین سے) باز آ گیا ہوں، پھر تو نماز قائم کرے، زکاۃ ادا کرے اور ہر مسلمان، دوسرے مسلمان پر حرام ہے۔
Takhreej
(۶۳) تخریج: اسنادہ حسن۔ أخرجہ ابن ماجہ: ۲۳۴، والنسائی: ۵/ ۴ (انظر: ۲۰۰۴۳)
63
Sahih
۔ (۶۴) ((أَخَوَانِ نَصِیْرَانِ، لَا یَقْبَلُ اللّٰہُ مِنْ مُشْرِکٍ یُشْرِکُ بَعْدَ مَا أَسْلَمَ عَمَلًا أَوْ یُفَارِقَ الْمُشْرِکِیْنَ إِلَی الْمُسْلِمِیْنَ۔)) (مسند أحمد: ۲۰۳۰۰)
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: دو مدد کرنے والے بھائی، اللہ تعالیٰ شرک کرنے والا مشرک سے اس کے اسلام قبول کرنے کے بعد اس کا کوئی عمل اس وقت تک قبول نہیں کرتے، جب تک ایسا نہ ہو جائے کہ وہ مشرکوں کو چھوڑ کر مسلمانوں سے آ ملے۔
Takhreej
(۶۴) تخریج: انظر الحدیث السابق
64
Sahih
۔ (۶۵) ((مَا لِیْ أُمْسِکُ بِحْجَزِکُمْ عَنِ النَّارِ، أَلَا إِنَّ رَبِّیْ دَاعِیَّ وَ إِنَّہُ سَائِلٌ ہَلْ بَلَّغْتَ عِبَادِیْ وَ أَنَا قَائِلٌ لَہُ رَبِّ قَدْ بَلَّغْتُہُمْ ، أَلَا فَلْیُبَلِّغِ الشَّاہِدُ مِنْکُمُ الْغَائِبَ۔)) (مسند أحمد: ۲۰۲۹۲)
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: مجھے کیا ہوا ہے کہ میں آگ سے بچانے کے لیے تم کو کمروں سے پکڑ رہا ہوں، خبردار! بیشک میرا ربّ مجھے بلانے والا ہے اور وہ مجھ سے یہ سوال کرنے والا ہے کہ کیا تم نے میرے بندوں تک میرا پیغام پہنچا دیا تھا، اور میں یہ کہتے ہوئے جواب دوں گا کہ اے میرے ربّ! میں نے ان تک پہنچا دیا تھا، خبردار! موجودہ لوگ، غیر موجود لوگوں تک یہ پیغام پہنچا دیں۔
Takhreej
(۶۵) تخریج: انظر الحدیث رقم: ۶۳
Explanation
فوائد: …مراد یہ ہے کہ لوگوں کا رویہ تو ہوتا ہے کہ وہ برائیاں کر کے آگ میں گھسنے کی کوشش کرتے ہیں، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ ان کو مختلف حکمتوں کے ذریعے اس طرح روکنے کی کوشش کر رہے ہوتے ہیں کہ گویا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ ان کو پکڑ رہے ہیں۔ لوگو! یہ بات ذہن نشین کر لو کہ ہم یہ شہادت دیتے ہیں کہ محمد رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے ہم تک مکمل دین پہنچا دیا ہے، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے تبلیغِ دین کے حوالے سے جو ذمہ داری ہمیں سونپی تھی، چند افراد کے علاوہ اس دور کے تمام مسلمان اس کو پورا کرنے سے غافل ہیں، سرے سے والدین کو یہ شعور نہیں ہے کہ ان کی اولاد کے حوالے سے ان پر کون سی ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں، ہم نے بزعم خود مساجد و مدارس سے متعلقہ لوگوں کو اس مِشن کا مکمل ذمہ دار سمجھ لیا، جبکہ نہ ہم اُن کے وجود کو کوئی اہمیت دیتے ہیں اور نہ ان کی باتوں کو۔
65
Sahih
۔ (۶۶) ((ثُمَّ إِنَّکُمْ مَدْعُوُّوْنَ وَمُفَدَّمَۃٌ أَفْوَاہُکُمْ بِالْفِدَامِ وََإِنَّ أَوَّلَ مَا یُبِیْنُ (وَ فِی رِوَایَۃٍ یُتَرْجِمُ)،۔)) قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : بِیَدِہِ عَلٰی فَخِذِہِ (وَفِی رِوَایَۃٍ: ثُمَّ إِنَّ أَوَّلَ مَا یُبِیْنُ عَنْ أَحَدِکُمْ لَفَخِذُہُ وَ کَفُّہُ )۔)) قَالَ: قُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! ہَذَا دِیْنُنُا؟ قَالَ: ((ہَذَا دِیْنُکُمْ وَ أَیْنَمَا تُحْسِنْ یَکْفِکَ۔)) (مسند أحمد: ۲۰۳۰۲)
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: پھر تم کو (قیامت کے دن) بلایا جائے گا، جبکہ تمہارے منہ، منہ بند سے بندھے ہوئے ہوں گے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے ران کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: سب سے پہلے یہ چیز بولے گی۔ ایک روایت میںہے: تمہاری طرف سے سب سے پہلے بولنے والی چیز ران اور ہتھیلی ہو گی۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا یہ ہمارا دین ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: یہ تمہارا دین ہے اور تم جہاں بھی نیکی کرو گے، تم کو کفایت کرے گی۔
Takhreej
(۶۶) تخریج: انظر الحدیث رقم: ۶۳
Explanation
فوائد: …قیامت والے دن لوگوں کو مختلف مراحل سے گزارا جائے گا، بعض مراحل پر لوگ اپنی زبانوں سے باتیں کریں گے، لیکن بعض مقامات پر ان کی زبانوں کو بند کر کے ان کے مختلف اعضا کو بولنے کی طاقت دی جائے گی، ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {اَلْیَوْمَ نَخْتِمُ عَلٰی اَفْوَاھِھِمْ وَتُکَلِّمُنَا اَیْدِیْھِمْ وَتَشْھَدُ اَرْجُلُھُمْ بِمَا کَانُوْا یَکْسِبُوْنَ} … ہم آج کے دن ان کے منہ پر مہریں لگا دیں گے اور ان کے ہاتھ ہم سے باتیں کریں گے اور ان کے پاؤں گواہیاں دیں گے، ان کاموں کی جو وہ کرتے تھے۔ (سورۂ یس: ۶۵)
66
Sahih