TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

بنو سعد بن بکر کی طرف سے سیدنا ضمام بن ثعلبہؓکی آمد کا بیان - بنو سعد بن بکر کی طرف سے سیدنا ضمام بن ثعلبہؓکی آمد کا بیان - ایمان اور اسلام کی کتاب - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 3 of ایمان اور اسلام کی کتاب in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 3 of 11 · 3 Hadith
۔ (۶۰)۔عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍؓ قَالَ: کُنَّا قَدْ نُہِیْنَا أَنْ نَسْأَلَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنْ شَیْئٍ،فَکَانَ یُعْجِبُنَا أَنْ یَجِیْئَ الرَّجُلُ مِنْ أَہْلِ الْبَادِیَۃِ الْعَاقِلُ فَیَسْأَلَہُ وَنَحْنُ نَسْمَعُ، فَجَائَ رَجُلٌ مِنْ أَہْلِ الْبَادِیَۃِ فَقَالَ: یَامُحَمَّدُ! أَتَانَا رَسُوْلُکَ فَزَعَمَ لَنَا أَنَّکَ تَزْعُمُ أَنَّ اللّٰہَ أَرْسَلَکَ، قَالَ: ((صَدَقَ۔))، قَالَ: فَمَنْ خَلَقَ السَّمَائَ؟ قَالَ: ((اللّٰہُ۔))، قَالَ: فَمَنْ خَلَقَ الْأَرْضَ؟ قَالَ: ((اللّٰہُ۔))، قَالَ: فَمَنْ نَصَبَ ہٰذِہِ الْجِبَالَ وَجَعَلَ فِیْہَا مَا جَعَلَ؟ قَالَ: ((اَللّٰہُ۔))، قَالَ: فَبِالَّذِی خَلَقَ السَّمَائَ وَ خَلَقَ الْأَرْضَ وَ نَصَبَ ہٰذِہِ الْجِبَالَ! آللّٰہُ أَرْسَلَکَ؟ قَالَ: ((نَعَمْ۔))، قَالَ: فَزَعَمَ رَسُوْلُکَ أَنَّ عَلَیْنَا خَمْسَ صَلَوَاتٍ فِی یَوْمِنَا وَ لَیْلَتِنَا؟ قَالَ: ((صَدَقَ۔))، قَالَ: فَبِالَّّذِی أَرْسَلَکَ! آللّٰہُ أَمَرَکَ بِہٰذَا؟ قَالَ: ((نَعَمْ۔))، قَالَ: فَزَعَمَ رَسُوْلُکُ أَنَّ عَلَیْنَا زَکٰوۃً فِی أَمْوَالِنَا؟ قَالَ: ((صَدَقَ۔))، قَالَ: فَبِالَّذِی أَرْسَلَکَ! آللّٰہُ أَمَرَکَ بِہٰذَا؟ قَالَ: ((نَعَمْ۔))، قَالَ: وَ زَعَمَ رَسُوْلُکَ أَنَّ عَلَیْنَا صَوْمَ شَہْرِ رَمَضَانَ فِی سَنَتِنَا؟ قَالَ: ((نَعَمْ، صَدَقَ۔)) قَالَ: فَبِالَّذِی أَرْسَلَکَ! آللّٰہُ أَمَرَکَ بِہٰذَا؟ قَالَ: ((نَعَمْ۔))، قَالَ: وَزَعَمَ رَسُوْلُکَ أَنَّ عَلَیْنَا حَجَّ الْبَیْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ اِلَیْہِ سَبِیْلًا؟ قَالَ: ((صَدَقَ۔))،قَالَ: ثُمَّ وَلّٰی فَقَالَ: وَالَّذِی بَعَثَکَ بِالْحَقِّ نَبِیًّا لَا أَزِیْدُ عَلَیْہِنَّ شَیْئًا وَلَا أَنْقُصُ مِنْہُنَّ شَیْئًا، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَئِنْ صَدَقَ لَیَدْخُلَنَّ الْجَنَّۃَ۔)) (مسند أحمد: ۱۲۴۸۴)
سیدنا انس بن مالکؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہمیں تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے سوال کرنے سے ہی منع کر دیا گیا تھا، اس لیے ہمیں یہ بات پسند تھی کہ کوئی سمجھدار دیہاتی آئے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے سوالات کرے اور ہم سنیں، ایک دن ایسے ہی ہوا کہ ایک دیہاتی آدمی آیا اور اس نے کہا: اے محمد! آپ کا قاصد ہمارے پاس آیا اور اس نے بتلایا کہ آپ کا یہ خیال ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو مبعوث کیا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اس نے سچ کہا ہے۔ اس نے کہا: تو پھر آپ بتلائیے کہ آسمان کو کس نے پیدا کیا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے۔ اس نے کہا: زمین کو کس نے پیدا کیا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے۔ اس نے کہا: ان پہاڑوں کو کس نے پیدا کر کے ان میں بہت کچھ رکھ دیا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے۔ اس نے کہا: تو پھر اس ذات کی قسم جس نے آسمان کو پیدا کیا، زمین کو پیدا کیا اور ان پہاڑوں کو گاڑھا! کیا واقعی اللہ تعالیٰ نے آپ کو مبعوث فرمایا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جی ہاں۔ اس نے کہا: آپ کے قاصد نے یہ بات بھی کی تھی کہ ایک دن رات میں ہم پر پانچ نمازیں فرض ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اس نے سچ کہا۔ اس نے کہا: پس اس ذات کی قسم جس نے آپ کو بھیجا ہے! کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو یہ حکم دیا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جی ہاں۔ اس نے کہا: آپ کے قاصد نے یہ بھی کہا تھا کہ ہمارے مالوں میں زکوۃ فرض ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اس نے سچ کہا ہے۔ اس نے کہا: پس اس ذات کی قسم جس نے آپ کو بھیجا ہے! کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس کا حکم دیا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جی ہاں۔ اس نے کہا: آپ کا قاصد یہ بھی کہتا تھا کہ ہم پر ایک سال میں رمضان کے روزے بھی فرض ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جی ہاں، اس نے سچ کہا ہے۔ اس نے کہا: پس اس ذات کی قسم جس نے آپ کو بھیجا ہے! کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو ان روزوں کا حکم دیا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جی ہاں۔ اس نے پھر کہا: آپ کے قاصد نے یہ بھی کہا تھا کہ جو آدمی طاقت رکھتا ہو، اس پر بیت اللہ کا حج کرنا بھی فرض ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اس نے سچ کہا ہے۔ یہ سارا کچھ سن کر وہ آدمی یہ کہتے ہوئے واپس چل دیا: اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ نبی بنا کر بھیجا ہے! میں ان (عبادات) میں نہ زیادتی کروں گا اور نہ کمی۔ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اگر یہ سچ کہہ رہا ہے تو ضرور ضرور جنت میں داخل ہو گا۔
Takhreej
(۶۰) تخریج: أخرجہ البخاری: ۶۳، ومسلم: ۱۲ (انظر: ۱۲۴۵۷)
60
Sahih
۔ (۶۱) (وَ عَنْہُ فِی أُخْرٰی)۔ بِنَحْوِ ہٰذَا وَزَادَ، قَالَ الرَّجُلُ: آمَنْتُ بِمَا جِئْتَ بِہِ وَ أَنَا رَسُوْلُ مَنْ وَرَائِیْ مِنْ قَوْمِیْ، قَالَ: وَأَنَا ضِمَامُ بْنُ ثَعْلَبَۃَ أَخُو بَنِی سَعْدِ بْنِ بَکْرٍ۔ (مسند أحمد: ۱۲۷۴۹)
اسی (انسؓ) سے روایت میں ایک اسی طرح کی حدیث مروی ہے، البتہ اس میں یہ الفاظ زیادہ ہیں: میں آپ کی لائی ہوئی چیزوں پر ایمان لایا ہوں اور میں اپنی قوم کے پیچھے رہ جانے والے افراد کا قاصد ہوں، بنو سعد بن بکر سے تعلق رکھنے والا ضمام بن ثعلبہ ہوں۔
Takhreej
(۶۱) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
Explanation
فوائد: …شریعت کا اصول یہ ہے کہ ضرورت کے وقت اہل علم سے سوال کیا جائے، جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {فَاسْئَلُوْا اَھْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ} … پس تم اہل علم سے سوال کرو، اگر تم نہیں جانتے۔ (سورۂ نحل: ۴۳، سورۂ انبیاء: ۷) لیکن دوسری طرف آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے بلا ضرورت سوال کرنے سے منع بھی کر رکھا تھا، اس لیے ان آداب کو جاننے والے صحابہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے سوال کرنے میں احتیاط کرتے تھے، لیکن ان کی خواہش یہ ہوتی تھی کہ سوالات کا سلسلہ ہونا چاہیے تاکہ مختلف احکام کی وضاحت ہوتی رہے، اس لیے وہ یہ چاہتے تھے کہ کوئی سمجھدار دیہاتی آدمی آئے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے سوالات کرے۔
61
Sahih
۔ (۶۲)۔عَنْ طَلْحَۃَ بْنِ عُبَیْدِ اللّٰہِ ؓ قَالَ: جَائَ أَعْرَابِیٌّ اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! مَا الْاِسْلَامُ؟ قَالَ: ((خَمْسُ صَلَوَاتٍ فِی یَوْمٍ وَ لَیْلَۃٍ۔)) قَالَ: ہَلْ عَلَیَّ غَیْرُہُنَّ؟ قَالَ: ((لَا۔)) وَسَأَلَہُ عَنِ الصَّوْمِ، فَقَالَ: ((صِیَامُ رَمَضَانَ۔)) قَالَ: ہَلْ عَلَیَّ غَیْرُہُ؟ قَالَ: ((لَا۔))قَالَ: وَذَکَرَ الزَّکَاۃَ، قَالَ: ہَلْ عَلَیَّ غَیْرُہَا؟ قَالَ: ((لَا۔))قَالَ: وَاللّٰہِ! لَا أَزِیْدُ عَلَیْہِنَّ وَلَا اَنْقُصُ مِنْہُنَّ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أَفْلَحَ إِنْ صَدَقَ۔)) (مسند أحمد: ۱۳۹۰)
سیدنا طلحہ بن عبید اللہ ؓ سے مروی ہے کہ ایک بدّو ، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس آیا ور کہا: اے اللہ کے رسول! اسلام کیا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: ایک دن رات میں پانچ نمازیں۔ اس نے کہا: کیا ان کے علاوہ بھی مجھ پر کوئی نماز ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جی نہیں۔ پھر اس نے روزوں کے بارے میں سوال کیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: رمضان کے روزے۔ اس نے کہا: کیا ان کے علاوہ بھی مجھ پر کوئی روزہ ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جی نہیں۔ پھر زکوۃ کا ذکر ہوا اور اس نے کہا: کیا اس کے علاوہ بھی مجھ پر کوئی زکوۃ ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جی نہیں۔ بالآخر اس نے کہا: اللہ کی قسم! میں ان عبادات میں نہ کوئی زیادتی کروں گا اور نہ کمی۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اگر اس نے سچ کہا ہے تو کامیاب ہو گیا ہے۔
Takhreej
(۶۲) تخریج:أخرجہ البخاری: ۴۶، ۲۶۷۸، ومسلم: ۱۱(انظر: ۱۳۹۰)
Explanation
فوائد: …ان احادیث میں ارکانِ اسلام کا بیان ہے، جن کی مکمل ادائیگی پر کامیابی کا مژدہ سنایا گیا ہے۔
62
Sahih