۔ (۱۲۶۰۳)۔ عَنْ أُبَیِّ بْنِ کَعْبٍ، أَنَّ جِبْرِیلَ لَمَّا رَکَضَ زَمْزَمَ بِعَقِبِہِ جَعَلَتْ أُمُّ إِسْمَاعِیلَ تَجْمَعُ الْبَطْحَائَ، فَقَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((رَحِمَ اللّٰہُ ہَاجَرَ أُمَّ إِسْمَاعِیلَ، لَوْ تَرَکَتْہَا لَکَانَتْ مَائً مَعِینًا۔)) (مسند احمد: ۲۱۴۴۳)
سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب جبریل علیہ السلام نے زمزم کا پانی نکالنے کے لیے اپنی ایڑی پر زور دیا تو اسماعیل علیہ السلام کی ماں کشادہ وادی (پر بنیری بنا کر) اس کو جمع کرنے لگ گئی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ امِّ اسماعیل ہاجرہ پر رحم فرمائے، اگر وہ اس پانی کو چھوڑ دیتی تو یہ جاری چشمہ ہوتا۔
Takhreej
(۱۲۶۰۳) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط مسلم، اخرجہ ابن حبان: ۳۷۱۳ (انظر: ۲۱۱۲۵)
Explanation
فوائد:… مائے زمزم انتہائی بابرکت پانی ہے اور حدیث ِ نبوی کی رو سے کھانے سے بھی کفایت کرجاتا ہے، اس پانی کی ابتدا کیسے اور کب ہوئی؟ اس حدیث میں اس سوال کا جواب دیا جارہا ہے۔
12603
Sahih