TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

عبیداللہ بن زیاد کا پہلے حوض کو تسلیم نہ کرنا، لیکن بعد میں اس کا اپنے اس موقف سے رجوع کر لینا اور حوض کے وجود کی تصدیق کرنا - عبیداللہ بن زیاد کا پہلے حوض کو تسلیم نہ کرنا، لیکن بعد میں اس کا اپنے اس موقف سے رجوع کر لینا اور حوض کے وجود کی تصدیق کرنا - قیامت کے برپا ہونے، صور میں پھونکے جانے اور لوگوں کے قبروں سے اٹھائے جانے کا بیان - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 21 of قیامت کے برپا ہونے، صور میں پھونکے جانے اور لوگوں کے قبروں سے اٹھائے جانے کا بیان in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 21 of 30 · 5 Hadith
۔ (۱۳۱۳۱)۔ عَنْ یَزِیْدَ بْنِ حَیَّانَ عَنْ زَیْدِ بْنِ اَرْقَمَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: بَعَثَ اِلَیَّ عُبَیْدُ اللّٰہِ بْنُ زِیَادٍ فَاَتَیْتُہُ فَقَالَ: مَا اَحَادِیْثُ تُحَدِّثُہَا اَوْ تَرْوِیْہَا عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لَانَجِدُھَا فِیْ کِتَابِ اللّٰہِ، تُحَدِّثُ اَنَّ لَہُ حَوْضًا فِی الْجَنَّۃِ،قَالَ: قَدْ حَدَّثَنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَوَعَدَنَاہُ قَالَ: کَذَبْتَ وَلٰکِنَّکَ شَیْخٌ، قَدْ خَرَفْتَ قَالَ: اِنِّی قَدْسَمِعَتْہُ اُذُنَایَ وَوَعَاہُ قَلْبِیْ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((مَنْ کَذَبَ عَلَیَّ مُتَعَمِّدًا فَلْیَتَبَوَّأْ مَقْعَدَہُ مِنْ جَہَنَّمَ۔)) وَمَا کَذَبْتُ عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند احمد: ۱۹۴۸۰)
سیدنا زید بن ارقم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: عبیدا للہ بن زیاد نے مجھے بلوایا اور جب میں اس کے پاس گیا تو اس نے کہا: تم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے یہ کیسی کیسی احادیث روایت کرتے ہو، جن کی اصل کا کتاب اللہ میں کوئی ذکر نہیں ہے، تم بیان کرتے ہو کہ جنت میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا ایک حوض ہوگا۔ سیدنا زید بن ارقم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں اس کے متعلق بیان کیا اور ہم سے اس کا وعدہ بھی کیا ہے، عبیداللہ نے کہا: تم غلط کہتے ہو، تم بوڑھے ہوگئے ہو اور تمہاری عقل چلی گئی ہے۔ سیدنا زید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: یہ بات رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے میرے کانوں نے سنی اور میرے دل نے اسے یاد رکھا ہے، جبکہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے اس فرمان کا بھی مجھے علم ہے: جس نے جان بوجھ کر میری طرف جھوٹی بات کو منسوب کیا، تو وہ اپنا ٹھکانہ جہنم سے تیار کر لے اور میں اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر جھوٹ نہیں باندھتا۔
Takhreej
-13131
13131
Sahih
۔ (۱۳۱۳۲)۔ وَعَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ بُرَیْدَۃَ الْاَسْلَمِیِّ قَالَ: شَکَّ عُبَیْدُ اللّٰہِ بْنُ زِیَادٍ فِی الْحَوْضِ، فَاَرْسَلَ اِلٰی اَبِیْ بَرْزَۃَ الْاَسْلَمِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ فَاَتَاہُ، فَقَالَ لَہُ جُلَسَائُ عُبَیْدِ اللّٰہِ: اِنَّمَا اَرْسَلَ اِلَیْکَ الْاَمِیْرُ لِنَسْاَلَکَ عَنِ الْحَوْضِ، ھَلْ سَمِعْتَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْہِ شَیْئًا؟ قَالَ: نَعَمْ، سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَذْکُرُہُ، فَمَنْ کَذَّبَ بِہٖفَلَاسَقَاہُاللّٰہُمِنْہُ۔ (مسنداحمد: ۲۰۰۰۱)
سیدنا عبد اللہ بن بریدہ اسلمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ عبیداللہ بن زیاد کو حوض کے بارے میں شک ہونے لگا، اس لیے اس نے سیدنا ابو برزہ اسلمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو بلوایا، جب یہ اس کے ہاں گئے تو اس کے ہم نشینوں نے ان سے کہا: امیر نے آپ کو اس لیے بلوایا ہے کہ ہم آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے حوض کے متعلق دریافت کرنا چاہتے ہیں کہ آیا آپ نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے حوض کے بارے میں کچھ سنا ہے؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، میںنے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اس کا ذکر کرتے ہوئے سنا ہے، اور جو اس کوجھٹلائے گا، اللہ تعالیٰ اس کو اس سے نہ پلائے۔
Takhreej
(۱۳۱۳۲) تخریج: حدیث صحیح، أخرجہ ابوداود: ۴۷۴۹ (انظر: ۱۹۷۶۳)
13132
Sahih
۔ (۱۳۱۳۳)۔ وَعَنْ اَبِیْ طَالُوْتَ الْعَنَزِیِّ قَالَ: سَمِعْتُ اَبَا بَرْزَۃَ الْاَسْلَمِیَّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ وَخَرَجَ مِنْ عِنْدِ عُبَیْدِ اللّٰہِ بْنِ زِیَادٍ وَھُوَ مُغْضَبٌ فَقَالَ: مَاکُنْتُ اَظُنُّ اَنِّیْ اَعِیْشُ حَتّٰی اَخْلُفَ فِیْ قَوْمٍ یُعَیِّرُوْنِیْ بِصُحْبَۃِ مُحَمَّدٍ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، قَالُوْا: اِنَّ مُحَمَّدِیَّکُمْ ہٰذَا لَدَحْدَاحٌ، سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ فِی الْحَوْضِ، فَمَنْ کَذَّبَ فَلَاسَقَاہُ اللّٰہُ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی مِنْہُ۔ (مسند احمد: ۲۰۰۱۷)
ابو طالوت عنزی سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:میں نے سیدنا ابو برزہ اسلمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو غصے کی حالت میں دیکھا، جبکہ وہ اس وقت عبید اللہ بن زیاد کے پاس سے نکل رہے تھے اور کہہ رہے تھے: یہ تو میرا خیال نہیں تھا کہ مجھے اپنی زندگی میں یہ دن بھی دیکھنے پڑیں گے کہ لوگ مجھے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی صحبت کی عار دلائیں گے، یہ میرے بارے میں کہتے ہیں: یہ تمہارا محمدی پست قد والا موٹوہے، جبکہ میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو حوض کر ذکر کرتے ہوئے سنا تھا، اب جو اس حوض کی تکذیب کرے گا، اللہ تعالیٰ اسے اس سے نہ پلائے۔
Takhreej
(۱۳۱۳۳) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
13133
Sahih
۔ (۱۳۱۳۴)۔ حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ حَدَّثَنِیْ اَبِیْ ثَنَا عَبْدُاللّٰہِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ اَنَا مَعْمَرٌ عَنْ مَطَرٍ عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ بُرَیْدَۃَ قَالَ شَکَّ عُبَیْدُاللّٰہِ بْنِ زِیَادٍ فِی الْحَوْضِ فَقَالَ لَہُ اَبُوْ سَبِرَۃ رَجُلٌ مِنْ صَحَابَۃِ عُبَیْدِ اللّٰہِ بْنِ زِیَادٍ: فَاِنَّ اَبَاکَ حِیْنَ انْطَلَقَ وَافِدًا اِلٰی مُعَاوِیَۃَ، اِنْطَلَقْتُ مَعَہُ فَلَقِیْتُ عَبْدَاللّٰہِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ فَحَدَّثَنِیْ مِنْ فِیْہِ اِلٰی فِیَّ حَدِیْثًا سَمِعَہُ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَاَمْلَاَہُ عَلَیَّ وَکَتَبْتُہُ، قَالَ: فَاِنِّیْ اَقْسَمْتُ عَلَیْکَ لَمَا اَعْرَقْتَ ہٰذَا الْبِرْذَوْنَ حَتّٰی تَاْتِیَنِیْ بِالْکِتَابِ، قَالَ: فَرَکِبْتُ الْبِرْذَوْنَ فَرَکَضْتُہُ حَتّٰی عَرَقَ، فَاَتَیْتُہُ بِالْکِتَابِ فَاِذَا فِیْہِ حَدَّثَنِیْ عَبْدُ اللّٰہِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ اَنَّہُ سَمِعَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِنَّ اللّٰہَ یُبْغِضُ الْفُحْشَ وَالتَّفَحُّشَ، وَالَّذِیْ نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِیَدِہٖ! لَاتَقُوْمُ السَّاعَۃُ حَتّٰییُخَوَّنَ الْاَمِیْنُ وَیُوْتَمَنُ الْخَائِنُ حَتّٰییَظْہَرَ الْفُحْشُ وَقَطِیْعَۃُ الْاَرْحَامِ وَسُوْئُ الْجِوَارِ، وَالَّذِیْ نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِیَدِہٖ! اِنَّ مَثَلَ الْمُوْمِنِ کَمَثَلِ الْقِطْعَۃِ مِنَ الذَّھَبِ نَفَخَ عَلَیْہَا صَاحِبُہَا فَلَمْ تَغَیَّرْ وَلَمْ تَنْقُصْ، وَالَّذِیْ نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِیَدِہٖ! اِنَّ مَثَلَ الْمُوْمِنِ لَکَمَثَلِ النَّحْلَۃِ اَکَلَتْ طَیِّبًا وَوَضَعَتْ طَیِّبًا وَوَقَعَتْ فَلَمْ تَکْسِرْ وَلَمْ تَفْسُدْ۔)) قَالَ: ((اَلَا اِنَّ لِیْ حَوْضًا مَا بَیْنَ نَاحِیَتَیْہِ کَمَا بَیْنَ اَیْلَۃَ اِلٰی مَکَّۃَ اَوْ قَالَ صَنْعَائَ اِلَی الْمَدِیْنَۃِ وَاِنَّ فِیْہِ مِنَ الْاَبَارِیْقِ مِلْئَ الْکَوَاکِبِ، ھُوَ اَشَدُّ بَیَاضًا مِنَ اللَّبَنِ، وَاَحْلٰی مِنَ الْعَسَلِ، مَنْ شَرِبَ مِنْہُ لَمْ یَظْمَاْ بَعْدَھَا اَبَدًا۔)) قَالَ اَبُوْ سَبِرَۃَ: فَاَخَذَ عُبَیْدُ اللّٰہِ بْنُ زِیَادٍ اَلْکِتَابَ فَجَزِعْتُ عَلَیْہِ فَلَقِیَنِیْیَحْیٰی بْنُ یَعْمُرَ فَشَکَوْتُ ذٰلِکَ اِلَیْہِ فَقَالَ: وَاللّٰہِ! لَاَنَا اَحْفَظُ لَہُ مِنِّیْ لِسُوْرَۃٍ مِنَ الْقُرْآنِ فَحَدَّثَنِیْ بِہٖکَمَاکَانَفِی الْکِتَابِ سَوَائً۔ (مسند احمد: ۶۸۷۲)
عبد اللہ بن بریدہ کہتے ہیں کہ عبیداللہ بن زیاد کو حوض کو ثر کے بارے میں شک ہوا،اس کے ہم نشینو ںمیں سے ابو سبرہ نامی ایک شخص نے اس سے کہا: تمہارا والد جب وفد کی صورت میں سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس گیا تو میں بھی اس کے ساتھ تھا،سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے میری ملاقات ہوئی، انھوں نے براہ راست مجھے ایک حدیث بیان کی، جو انہوں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سنی تھی، انھوں نے مجھے باقاعدہ املا کرائی اور میں نے اسے لکھ لیا۔ عبید اللہ نے کہا:میں تمہیںاللہ کی قسم دے کر کہتا ہوں کہ تم اس خچر کو اس قدر تیز دوڑاؤ کہ اسے پسینہ آجائے اور اس طرح تم وہ تحریر میرے پاس لے کر آؤ، ابو سبرہ کہتے ہیں: میں خچر پر سوار ہوا اوراسے ایڑی لگائی، یہاں تک کہ اسے خوب پسینہ آگیا اور میں وہ تحریرلے کر اس کے پاس واپس پہنچ گیا، اس میں تحریر تھا کہ مجھے سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فحش کلامی اور تکلف کے ساتھ فحش باتیں کرنے کو انتہائی نا پسند کرتا ہے، اس ذا ت کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے! قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی، جب تک اس طرح نہیں ہو جاتا کہ دیانت دار کو خائن اور خائن کو دیانت دار قرار دیا جائے، فحش کلامی اور تکلف کے ساتھ فحش کلامی عام ہوجائے گی اور قطع رحمی اور ہمسایوں کے ساتھ بدسلوکی بھی عام ہوجائے گی۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے! مومن کی مثال سونے کے ایک ٹکڑے کی طرح ہے کہ اگراس کا مالک اس پر پھونک مارے تو وہ نہ تبدیل ہوتا ہے اور نہ اس میں کوئی کمی آتی ہے۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے! مومن کی مثال شہد کی مکھی کی سی ہے، جو پاکیزہ چیز کھاتی اور پاکیزہ چیز نکالتی ہے، وہ جہاں بھی بیٹھتی ہے، نہ تو کسی چیز کو توڑتی ہے اور نہ اسے خراب کرتی ہے۔ پھر آپ نے فرمایا: خبردار ! آخر ت میں میرا ایک حوض ہوگا، جس کے دونوں کناروں کے درمیان اتنا فاصلہ ہو گا کہ جتنی مسافت ایلہ اور مکہ مکرمہ کے درمیان یاصنعاء سے مدینہ منورہ کے درمیان ہے اور وہاں پانی پینے کے لیے برتنوں کی تعداد ستاروں سے بھی زیادہ ہوگی، حوض کا پانی دودھ سے زیادہ سفید اور شہد سے زیادہ شریں ہوگا، جس نے ایک دفعہ وہ پی لیا، اس کے بعد وہ کبھی بھی پیاس محسو س نہیں کرے گا۔ ابو سبرہ کہتے ہیں: عبیداللہ بن زیاد نے وہ تحریر لے لی اور میں گھبرا گیا، اس کے بعد یحییٰ بن یعمرسے میری ملاقات ہوئی، میںنے ان سے اس چیز کا اظہار کیا، انھوں نے کہا: اللہ کی قسم مجھے یہ حدیث قرآنی سورت کی بہ نسبت بھی زیادہ یاد ہے، پھر انہوں نے مجھے وہ حدیث بعینہٖ اسی طرح بیان کر دی، جیسے وہ اس کتاب میں لکھی ہوئی تھی۔
Takhreej
(۱۳۱۳۴) تخریج: صحیح لغیرہ، أخرجہ باخصر منہ الحاکم: ۱/ ۷۵ (انظر: ۶۸۷۲)
13134
Sahih
۔ (۱۳۱۳۵)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ آخَرَ) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ حَدَّثَنِیْ اَبِیْ ثَنَا یَحْیٰی ثَنَا حُسَیْنُ نِ الْمُعَلِّمُ ثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ بُرَیْدَۃَ عَنْ اَبِیْ سَبِرَۃَ قَالَ کَانَ عُبَیْدُ اللّٰہ بْنُ زِیَادٍیَسْاَلُ عَنِ الْحَوْضِ حَوْضِ مُحَمَّدٍ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَکَانَ یُکَذِّبُ بِہٖبَعْدَمَاسَاَلَاَبَابَرْزَۃَ وَالْبَرَائَ بْنَ عَازِبٍ وَعَائِذَ بْنَ عَمْرٍو وَرَجُلًا آخَرَ وَکَانَ یُکَذِّبُ بِہٖ،فَقَالَاَبُوْسَبِرَۃَ: اَنَا اُحَدِّثُکَ بِحَدِیْثٍ فِیْہِ شِفَائُ ہٰذَا، اِنَّ اَبَاکَ بَعَثَ مَعَیَ بِمَالٍ اِلٰی مُعَاوِیَۃَ فَلَقِیْتُ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ عَمْرٍو، فَحَدَّثَنِیْ بِمَا سَمِعَ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَاَمْلٰی عَلَیَّ فَکَتَبْتُ بِیَدِیْ فَلَمْ اَزِدْ حَرْفًا وَلَمْ اَنْقُصْ حَرْفًا، حَدَّثَنِیْ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِنَّ اللّٰہَ لَایُحِبُّ الْفُحْشَ، فَذَکَرَ نَحْوَہُ وَفِیْہِ: اَلَا اِنَّ مَوْعِدَکُمْ حَوْضِیْ، عَرْضُہُ وَطُوْلُہُ وَاحِدٌ، ھُوَ کَمَا بَیْنَ اَیْلَۃَ وَمَکَّۃَ وَھُوَ مَسِیْرَۃُ شَہْرٍ، فِیْہِ مَثَلُ النُّجُوْمِ أَبَارِیْقُ، شَرَابُہُ اَشَدُّ بَیَاضًامِنَ الْفِضَّۃِ، مَنْ شَرِبَ مِنْہُ مَشْرَبًا لَمْ یَظْمَاْ بَعْدَہُ اَبَدًا۔)) فَقَالَ عُبَیْدُ اللّٰہِ: مَا سَمِعْتُ فِی الْحَوْضِ حَدِیْثًا اَثَبْتَ مِنْ ہٰذَا فَصَدَّقَ بِہٖوَاَخَذَالصَّحِیْفَۃَ فَحَبَسَہَا عِنْدَہُ۔ (مسند احمد: ۶۵۱۴)
۔ (دوسری سند) ابو سبرہ کہتے ہیں: عبیدا للہ بن زیاد، جناب محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے حوض کے بارے میں دریافت کرتا رہتا تھا، وہ اس بارے میں سیدنا ابو برزہ ، سیدنا براء بن عازب ، سیدنا عائذبن عمرو اور ایک اور صحابی سے پوچھ چکا تھا، پھر بھی وہ اس کی تکذیب کیا کرتا تھا۔ ایک دن ابو سبرہ نے اس سے کہا: میں آپ کو ایک حدیث بیان کرتا ہوں، اس میں آپ کے اشکال کا حل موجود ہے، تمہارے والد نے مال دے کر مجھے سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس روانہ کیا تھا، وہاں سیدنا عبد اللہ بن عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے میری ملاقات ہوگئی تھی، انہوں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سنی ہوئی احادیث مجھے بیان کیں اور ان کی املا بھی کرائی تھیں، میںنے ان احادیث کو اپنے ہاتھ سے لکھ لیا تھا، میںنے ان میں ایک حرف کی بھی کمی بیشی نہیں کی، انھوں نے مجھے بیان کیا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا ہے: اللہ تعالیٰ فحش کلامی کو پسند نہیں کرتا، …اس سے آگے حدیث پہلی حدیث کی طرح ہے، البتہ اس میں یہ اضافہ ہے: خبردار! میرے ساتھ تمہاری ملاقات میرے حوض پر ہوگی، اس کا طول اور عرض برابر ہے، وہ ایلہ سے مکہ مکرمہ تک کی مسافت جتنا وسیع ہے، یہ ایک مہینے کی مسافت ہے، وہاں آسمان کے تاروں کی تعداد کے برابر پانی پینے کے برتن ہوں گے، اس حوض کا پانی چاندی سے زیادہ سفید ہوگا، جس نے ایک دفعہ وہ پی لیا، اس کے بعد اسے کبھی بھی پیاس محسوس نہیں ہوگی۔ یہ حدیث سن کر عبیداللہ بن زیاد نے کہا: میں نے حوض کوثر کے بارے میں اس سے زیادہ صحیح اور مضبوط حدیث نہیں سنی، پھر اس نے اس کی تصدیق کی اور اس صحیفہ (کتاب) کو لے کر اپنے پاس رکھ لیا۔
Takhreej
(۱۳۱۳۵) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
Explanation
فوائد:… ۱۔ اس فصل کی احادیث میں حوض کوثر کا اثبات ہے۔ نیز یہ بھی پتہ چلا کہ عبیداللہ بن زیاد شرو ع میں حوض کوثر کے وجود کا انکاری تھا۔ بعد میں زید بن ارقم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور عبد اللہ بن عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی احادیث سن کر اس نے اپنے رائے سے رجوع کر لیا۔ ۲۔ نیز معلوم ہوا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی طرف جھوٹ بات کو عمداً منسوب کرنے والے کا انجام جہنم ہے۔ ۳۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ عبیداللہ بن زیاد نے ابو برزہ اسلمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو نبی کر یم کے صحابی ہونے کا طعنہ دیا اور بطور طنز ان کو محمدی کہا۔ ۴۔ نیز معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کو بطور عادت والی فحش کلامی اور بطور تکلف والی فحش کلامی بھی ناپسند ہے۔ ۵۔ نیز یہ بھی معلوم ہوا کہ کسی دیانت دار کو خائن اور خائن کو دیانت دار سمجھنا ، بطور عادت فحش کلامی کرنا ، اور تکلف کے ساتھ فحش کلامی کرنا ، قطعی رحمی اور ہمسایوں کے ساتھ بدسلوکی یہ سب کام قیامت کی علامات میں سے ہیں۔ ۶۔ نیز معلوم ہوا کہ حوض کوثر انتہائی وسیع و عریض ہوگا۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بطور تمثیل فرمایا کہ جس طرح ایلہ سے مکہ مکرمہ تک یا صنعاء سے مدینہ منورہ تک کی مسافت ہے۔ حوض کوثر کے دو کناروں یا دو جانبوں کے درمیان اسی طرح مسافت ہوگی۔ اور وہاں پانی پینے کے لیے برتن نجوم ہائے فلک کے برابر تعداد میں ہوں گے۔ اور حوض کوثر کا پانی دودھ سے سفید تر، شہد سے شیریں تر ہوگا اور اسے پینے والے کو کبھی پیاس محسوس نہیں ہوگی۔
13135
Sahih

Chapters

30
01
اس بارے میں سیدنا ابو رزین لقیط بن عامر بن منتفق عقیلی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی جامع حدیث
6 Hadith
02
قیامت کے اچانک برپا ہو جانے اور سب سے آخرمیں مرنے والے آدمی کا بیان
3 Hadith
03
لوگوں کو ان کی قبروں سے اٹھائے جانے ، میدان ِ حشر میں جمع کیے جانے اور ان کی اس وقت کی شدید گھبراہٹ کا بیان لوگوں کو اٹھائے جانے کا اور سب سے پہلے اٹھائے جانے والے بشر کا بیان
8 Hadith
04
حشر اور اس میں لوگوں کی کیفیت کا بیان
4 Hadith
05
قیامت کے دن کی ہولناکی اور سورج کے لوگوں کے سروں کے قریب ہو جانے کا بیان
6 Hadith
06
جہنم والوںکی تعداد اور ان میں سے بعض کی علامات
5 Hadith
07
قیامت کے دن گنہگاروں کے حق میں شفاعت کا بیان قیامت کے دن رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا اپنی امت کے حق میں شفاعت کرنے کاحریص ہونا
7 Hadith
08
شفاعت کے منکرین کا رد
1 Hadith
09
حشر والوں کے لیے شفاعت عظمیٰ کا رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ خاص ہونا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا سب سے پہلا سفارشی ہونا
1 Hadith
10
سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی حدیث
1 Hadith
11
بسلسلۂ شفاعت سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی حدیث
1 Hadith
12
بسلسلۂ شفاعت سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی حدیث
2 Hadith
13
بسلسلۂ شفاعت سیدنا ابو بکر صدیق ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی حدیث، اور اس میں اصدقائ، انبیاء اور شہداء کی شفاعت کا تذکرہ
1 Hadith
14
امت کا ایک گروہ، جو عذاب کا مستحق ہو گا،لیکن جہنم میں داخل ہونے سے پہلے ہی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا ان کے حق میں سفارش کر دینا، اور ایک گروہ کو اللہ تعالیٰ کی رحمت سے جہنم سے نکالنا، جن کو بعد میں بھی جہنمی ہی کہا جائے گا
4 Hadith
15
فرشتوں، نبیوں اور مومنوں کی شفاعت کا بیان، اس سے واضح ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ توحید والے اپنے بندوں پر کس قدر مہربان ہے
3 Hadith
16
بعض صحابہ کا نبی کر یم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اپنے حق میں شفاعت کی درخواست کرنااور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا ہر اس شخص کے حق میں سفارش کرنا، جس کو اس حال میں موت آئی ہو کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو
6 Hadith
17
امت محمدیہ کے بعض صالحین کی دوسرے بعض نیک لوگوں کے حق میں شفاعت کرنے کا بیان
5 Hadith
18
کوثر اور اس کی صفات کا بیان
4 Hadith
19
حوض کا سر چشمہ کوثر کی نہر ہو گی
1 Hadith
20
حوض کی کیفیت اور اس سے متعلقہ دیگر روایات
3 Hadith
21
عبیداللہ بن زیاد کا پہلے حوض کو تسلیم نہ کرنا، لیکن بعد میں اس کا اپنے اس موقف سے رجوع کر لینا اور حوض کے وجود کی تصدیق کرنا
5 Hadith
22
ان لوگوں کا تذکرہ، جنہیں حوض کو ثر سے دھتکار دیا جائے گا، اللہ تعالیٰ پناہ میں رکھے
7 Hadith
23
حوضِ کوثر پر آنے والے لوگوں کی کثرت اوراس حوض کی صفات کے ساتھ ساتھ اس پر آنے والے بعض لوگوں کی صفات کا بیان
4 Hadith
24
نامہ اعمال کی وصولی اور ترازو کا بیان
4 Hadith
25
محاسبہ کی سختی ، اہل ایمان کا مزید نیکیاں نہ کر لانے پر ندامت اور کفار کی ڈانٹ ڈپٹ کا بیان
8 Hadith
26
قیامت کے دن زمین اور انسان کے اعضاء کی انسان کے خلاف شہادت
2 Hadith
27
قیامت کے دن قصاص اور مظلوموں کو ان کے حقوق دلائے جانے کا بیان
7 Hadith
28
فیصلے میں اللہ تعالیٰ کے عدل و انصاف ، اس کے اپنے مومن بندے پر رحم کرنے اور اس کی ستر پوشی کرنے اور کافراور منافق کو ذلیل و رسوا کرنے کا بیان
8 Hadith
29
مومنوں کی آزمائش اور ان کو جہنم سے بچانے کے لیے ان کے بدلے کافروں کو جہنم میں ڈالنے کا بیان
4 Hadith
30
پل صراط ،انبیاء اور اہل ایمان کی شفاعت اور اللہ تعالیٰ کے اپنے موحد بندوں پر مہربانی کرنے کا بیان
5 Hadith
No chapter matched that.