TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

عصر کے وقت اور اس کے بارے میں مزید روایات کا بیان - عصر کے وقت اور اس کے بارے میں مزید روایات کا بیان - نمازوں کے اوقات کے ابواب - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 4 of نمازوں کے اوقات کے ابواب in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 4 of 23 · 10 Hadith
۔ (۱۱۲۳)۔عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍؓ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یُصَلِّی الْعَصْرَ بِقَدْرِ مَا یَذْہَبُ الذَّاہِبُ اِلٰی بَنِیْ حَارِثَۃَ بْنِ الْحَارِثِ وَیَرْجِعُ قَبْلَ غُرُوْبِ الشَّمْسِ، وَبِقَدْرِ مَا یَنْحَرُ الرَّجُلُ الْجَزُوْرَ وَیُبَعِّضُہَا لِغُرُوْبِ الشَّمْسِ، وَکَانَ یُصَلِّی الْجُمُعَۃَ حِیْنَ تَمِیْلُ الشَّمْسُ وَکَانَ اِذَا خَرَجَ اِلٰی مَکَّۃَ صَلَّی الظُّہْرَ بِالشَّجَرَۃِ رَکَعَتَیْنِ۔)) (مسند أحمد: ۱۳۴۱۷)
سیدنا انس بن مالک ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ عصر کی نماز پڑھاتے، پھر اتنا وقت ہوتا کہ بنوحارثہ بن حارث کی طرف جانے والا جاتا اور غروب ِ آفتاب سے پہلے لوٹ آتا، یہ اتنا وقت ہوتا کہ آدمی اونٹ کا نحر کرتا اور غروبِ آفتاب سے پہلے اس کا گوشت بنا لیتا تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سورج ڈھلنے کے بعد جمعہ پڑھتے تھے اور جب مکہ کی طرف نکلتے تو درخت کے پاس ظہر کی دو رکعت نماز پڑھتے۔
Takhreej
(۱۱۲۳) تخریج: اسنادہ حسن۔ أخرجہ بطولہ ابو یعلی: ۴۳۳۰، وأخرجہ مختصرا البخاری: ۹۰۴، والترمذی: ۵۰۳ (انظر: ۱۳۳۸۴)
1123
Sahih
۔ (۱۱۲۴)۔وَعَنْہُ أَیْضًا قَالَ: مَا کَانَ أَحَدٌ أَشَدَّ تَعْجِیْلًا لِصَلَاۃِ الْعَصْرِ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِنْ کَانَ أَبْعَدَ رَجُلَیْنِ مِنَ الْأَنْصَارِ دَارًا مِنَ مَسْجِدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لَأَبُوْلُبَابَۃَ بْنُ عَبْدِالْمُنْذِرِ أَخُوْ بَنِیْ عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ وَأَبُوْعِیْسَی بْنُ جَبْرٍ أَخُوْ بَنِیْ حَارَثَۃَ دَارُ أَبِیْ لُبَابَۃَ بِقُبَائَ وَدَارُ أَبِیْ عِیْسَی بْنِ جَبْرٍ فِیْ بَنِیْ حَارِثَۃَ ثُمَّ اِنْ کَانَ لَیُصَلِّیَانِ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الْعَصْرَ، ثُمَّ یَأْتِیَانِ قَوْمَہُمَا وَمَا صَلَّوْہَا لِتَبْکِیْرِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِہَا۔ (مسند أحمد: ۱۳۵۱۶)
سیدنا انس ؓ سے مروی ہے کہ کوئی آدمی ایسا نہیں ہے، جو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی بہ نسبت نمازِ عصر جلدی پڑھتاہے، انصاریوں کے دو آدمیوں کے گھر مسجد ِ نبوی سے سب سے زیادہ دور تھے، ایک آدمی سیدنا ابو لبابہ بن عبد المنذر ؓ تھے، اس کا گھر قباء میں تھا اور دوسرا آدمی سیدنا ابو عیسی بن جبر ؓتھا، اس کا گھربنوحارثہ میں تھا، اور یہ دونوں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے ساتھ نمازِ عصر پڑھتے تھے، پھر جب یہ اپنے گھروں میں پہنچتے تھے تو انھوں نے ابھی تک یہ نماز نہیں پڑھی ہوتی تھی، یعنی رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ اتنی جلدی کرتے تھے۔
Takhreej
(۱۱۲۴) تخریج: اسنادہ حسن۔ أخرجہ الطبرانی فی الکبیر : ۴۵۱۵، والدارقطنی: ۱/ ۲۵۴، والحاکم: ۱/ ۱۹۵ (انظر: ۱۳۴۸۲)
1124
Sahih
۔ (۱۱۲۵)۔ وَعَنْہُ قَالَ: کَانَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُصَلِّی الْعَصْرَ والشَّمْسُ بَیْضَائُ مُحَلِّقَۃٌ فَأَرْجِعُ اِلَی أَہْلِیْ وَعَشِیْرَتِیْ فِیْ نَاحِیَۃِ الْمَدِیْنَۃِ فَأَقُوْلُ: اِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَدْ صَلّٰی فَقُوْمُوْا فَصَلُّوْا۔ (مسند أحمد: ۱۲۹۴۲)
سیدنا انسؓ سے ہی مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ عصر کی نماز پڑھتے، جبکہ سورج سفید اور ہالے والا ہوتا تھا، پس میں اپنے اہل اور رشتہ داروں کی طرف لوٹتا، جو کہ مدینہ کے ایک کونے میں تھے، اور جا کر ان سے کہتا: بیشک رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے نماز پڑھ لی، تم بھی اٹھو اور نماز پڑھو۔
Takhreej
(۱۱۲۵) تخریج: حدیث صحیح۔ أخرجہ النسائی: ۱/ ۲۵۳ (انظر: ۱۲۹۱۲)
1125
Sahih
۔ (۱۱۲۶)۔وعَنِ الزُّہْرِیِّ قَالَ: أَخْبَرَنِیْ أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یُصَلِّی الْعَصْرَ فَیَذْہَبُ الذَّاہِبُ اِلَی الْعَوَالِیْ وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَۃٌ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: بَیْضَائُ حَیَّۃٌ۔)) قَالَ الزُّہْرِیُّ: وَالْعَوَالِیْ عَلٰی مِیْلَیْنِ مِنَ الْمَدِیْنَۃِ وَثَلَاثَۃٍ أَحْسَبُہُ، قَالَ: وَأَرْبَعَۃٍ۔ (مسند أحمد: ۱۲۶۷۲)
سیدنا انس بن مالکؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نمازِ عصر ادا کرتے، پھر بستیوں کی طرف جانے والا پہنچ جاتا، لیکن ابھی تک سورج بلند (ایک کے مطابق) سفید اور زندہ ہوتا۔ امام زہری نے کہا: یہ بستیاں، مدینہ منورہ سے دو دو ، تین تین اور (خیال ہے کہ راوی نے چار چار کا لفظ بھی بولا) میلوں کے فاصلے پر واقع تھیں۔
Takhreej
(۱۱۲۶) تخریج: أخرجہ البخاری: ۵۵۱، ومسلم: ۶۲۱ (انظر: ۱۲۶۴۴)
1126
Sahih
۔ (۱۱۲۷)۔عَنْ رَافِعٍِ بْنِ خَدِیْجِؓ قَالَ: کُنَّا نُصَلِّیْ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صَلَاۃَ الْعَصْرِ ثُمَّ تُنْحَرُ الْجَزُوْرَ فَتُقْسَمُ عَشَرَ قَسْمٍ ثُمَّ تُطْبَخُ فَنَأْکُلُ لَحْمًا نَضِیْجًا قَبْلَ أَنْ تَغِیْبَ الشَّمْسُ، قَالَ: وَکُنَّا نُصَلِّی الْمَغْرِبَ عَلٰی عَہْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَیَنْصَرِفُ أَحَدُنَا وَاِنَّہُ لَیَنْظُرُ اِلٰی مَوَاقِعِ نَبْلِہِ۔ (مسند أحمد: ۱۷۴۰۷)
سیدنا رافع بن خدیجؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے ساتھ نمازِ عصر ادا کرتے، پھر اونٹ نحر کیا جاتا، پھر اس کو دس حصوں میں تقسیم کر کے پکایا جاتا اور پھر ہم سورج کے غروب ہونے سے قبل بھونا ہوا گوشت کھا لیتے تھے۔ اور ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے زمانے میں مغرب کی نماز پڑتے، پھر جب آدمی فارغ ہوتا تو وہ اپنے تیروں کے گرنے کی جگہوں کو دیکھ لیتا۔
Takhreej
(۱۱۲۷) تخریج: أخرجہ البخاری: ۲۴۸۵، ومسلم: ۶۲۵ (انظر: ۱۷۲۷۵)
1127
Sahih
۔ (۱۱۲۸)۔ عَنْ أَبِیْ أَرْوٰیؓ قَالَ: کُنْتُ أُصَلِّیْ مَعَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الْعَصْرَ ثُمَّ آتِی الشَّجَرَۃَ قَبْلَ غُرُوْبِ الشَّمْسِ۔ (مسند أحمد: ۱۹۲۳۲)
سیدنا ابو اروی ؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے ساتھ نمازِ عصر پڑھتا اور پھر غروبِ آفتاب سے قبل درخت کے پاس پہنچ جاتا تھا۔
Takhreej
(۱۱۲۸) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف ابی واقد اللیثی۔ أخرجہ ابن ابی شیبۃ: ۱/ ۳۲۷، والبزار: ۳۷۲، والطبرانی فی الکبیر : ۲۲/ ۹۲۵ (انظر: ۱۹۰۲۳)
Explanation
فوائد:… ہیثمی کی ابو اروٰی سے ہی مروی روایت میں ذوالحلیفہ آنے کا ذکر ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ زیر مطالعہ حدیث میں مذکور درخت ذوالحلیفہ میں تھا۔ (بلوغ الامانی) (عبداللہ رفیق)
1128
Zaeef
۔ (۱۱۲۹)۔عَنْ عَائِشَۃَؓ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یُصَلِّی الْعَصْرَ والشَّمْسُ طَالِعَۃٌ فِیْ حُجْرَتِیْ لَمْ یَظْہَرِ الْفَیْئُ بَعْدُ۔ (مسند أحمد: ۲۴۵۹۶)
سیدہ عائشہؓ سے مروی ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ عصر کی نماز پڑھتے تھے، جبکہ سورج (کی دھوپ) میرے حجرے میں ہوتی تھی، ابھی تک سایہ اوپر چڑھا نہیں ہوتا تھا۔
Takhreej
(۱۱۲۹) تخریج: أخرجہ البخاری: ۵۴۶، ومسلم: ۶۱۱(انظر: ۲۴۰۹۵)
1129
Sahih
۔ (۱۱۳۰) (وَمِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ)۔عَنْ عُرْوَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یُصَلِّی الْعَصْرَ والشَّمْسُ لَمْ تَخْرُجْ مِنْ حُجْرَتِہَا وَکَانَ الْجِدَارُ بَسْطَۃً وَأَشَارَ عَامِرٌ (أَحَدُالرُّوَاۃِ) بِیَدِہِ۔ (مسند أحمد: ۲۶۹۱۰)
۔ (دوسری سند) سیدہ عائشہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نمازِ عصر ادا کرتے، جبکہ سورج ان کے حجرے میںہوتا تھا اور دیوار کھلی سی (زیادہ بلند نہیں) ہوتی تھی۔ (عامر (راوی) نے ایسے ہاتھ کے ساتھ اشارہ کر کے وضاحت کی)۔
Takhreej
(۱۱۳۰) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
1130
Sahih
۔ (۱۱۳۱)۔ عَنْ عَبْدِ الْوَاحِدِ بْنِ نَافِعِ الْکِلَابِیِّ مِنْ أَھْلِ الْبَصْرَۃِ قَالَ: مَرَرْتُ بِمَسْجِدِ الْمَدِیْنَۃِ فَأُقِیْمَتِ الصَّلَاۃُ فَاِذَا شَیْخٌ فَلَامَ الْمُؤَذِّنَ وَقَالَ: أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ أَبِیْ أَخْبَرَنِیْ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یَأْمُرُ بِتَأْخِیْرِ ہٰذِہِ الصَّلٰوۃِ، قَالَ: قُلْتُ: مَنْ ھٰذَا الشَّیْخُ؟ قَالُوْا: ھٰذَا عَبْدُاللّٰہِ بْنُ رَافِعِ بْنِ خَدَیْجٍ۔ (مسند أحمد: ۱۷۴۱۴)
اہل بصرہ کا ایک آدمی عبد الواحد بن نافع کلابی کہتا ہے: میں شہر کی مسجد سے گزرا، پس نماز کے لیے اقامت کہہ دی گئی، لیکن ایک بزرگ نے مؤذن کو ملامت کی اور کہا: کیا تجھے علم نہیں ہے کہ میرے باپ نے مجھے بتلایا ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے اس نماز کو مؤخر کرنے کا حکم دیتے تھے۔ میں نے کہا: یہ بزرگ کون ہے؟ انھوں نے کہا: یہ عبد اللہ بن رافع بن خدیج ہے۔
Takhreej
(۱۱۳۱) اسنادہ ضعیف ومتنہ منکر، عبد الواحد بن نافع کلَّموا علیہ۔ أخرجہ الدارقطنی: ۱/ ۲۵۱ (انظر: ۱۷۲۸۲)
1131
Zaeef
۔ (۱۱۳۲)۔ عَنْ أَبِیْ مَلِیْحٍ قَالَ: کُنَّا مَعَ بُرَیْدَۃَ (یَعْنِی الْأَسْلَمِیَّ) فِیْ غَزَاۃٍ فِیْ یَوْمٍ ذِیْ غَیْمٍ فَقَالَ: بَکِّرُوْا بِالصَّلَاۃِ فاِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ تَرَکَ صَلَاۃَ الْعَصْرِ حَبِطَ عَمَلُہُ۔)) (مسند أحمد: ۲۳۳۴۵)
ابو ملیح کہتے ہیں: ہم سیدنا بریدہ اسلمی ؓ کے ساتھ ایک غزوے میں تھے، انھوں نے بادل والے دن کہا: اس نماز کو جلدی ادا کر لو، کیونکہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جس نے نمازِ عصر ترک کر دی، اس کا عمل ضائع ہو جائے گا۔
Takhreej
(۱۱۳۲) تخریج: أخرجہ البخاری: ۵۵۳، ۵۹۴(انظر: ۲۲۹۵۷)
1132
Sahih

Chapters

23
01
جامع اوقات کا بیان
13 Hadith
02
ظہر کے وقت اور اس کو جلدی ادا کرنے کا بیان
6 Hadith
03
گرمیوں کے موسم میں نمازِ ظہر کو مؤخر کرنے اور اس کو ٹھنڈا کر کے ادا کرنے کا بیان
6 Hadith
04
عصر کے وقت اور اس کے بارے میں مزید روایات کا بیان
10 Hadith
05
نماز عصر کی فضیلت اور اس کے نمازِ وسطی ہونے کا بیان
9 Hadith
06
نمازِ عصر کو ترک کرنے والے اور اس کو اس کے وقت سے مؤخر کرنے والے کی وعید کا بیان
5 Hadith
07
مغرب کے وقت کا بیان اور اس امر کی وضاحت کہ یہ نماز دن کی نمازوں کو طاق کرنے والی ہے
15 Hadith
08
نمازِ مغرب کو جلدی ادا کر لینے اور اس کو عشاء کا نام دینے کی کراہت کا بیان
15 Hadith
09
نمازِ فجر کے وقت اور اس نماز کو اندھیرے میں یا روشنی میں پڑھنے کا بیان
8 Hadith
10
فجر اور عشا کی نمازوں کی فضیلت کا بیان
5 Hadith
11
نمازِ فجر سے طلوع آفتاب تک (جائے نماز پر) بیٹھے رہنے کی فضیلت
2 Hadith
12
اس چیز کا بیان کہ جس نے نماز میں سے ایک رکعت کو پا لیا، پس تحقیق اس نے ساری نماز کو پا لیا
4 Hadith
13
ان اوقات کے ابواب، جن میں نماز ادا کرنا منع ہے نہی کے اوقات کا جامع بیان
5 Hadith
14
فجر اور عصر کی نمازوں کے بعد مزید نماز پڑھنے سے نہی کا بیان
5 Hadith
15
عصر کے بعد مزید دو رکعت نماز پڑھنے کا بیان
7 Hadith
16
طلوع فجر کے بعد نماز پڑھنے کا بیان
2 Hadith
17
طلوع آفتاب، غروبِ آفتاب اور زوال کے وقت نماز پڑھنے سے نہی کا بیان
6 Hadith
18
مکہ مکرمہ میں اس کی رخصت کا بیان
1 Hadith
19
اس چیز کا بیان کہ نماز کو بھول جانے کا وقت وہ ہے،جب اس کو یاد آئے
3 Hadith
20
سورج طلوع ہونے تک نمازِ فجر سے سوئے رہنے والے کا بیان
9 Hadith
21
کافروں کے ساتھ لڑائی کی مصروفیت کی وجہ سے نماز کو مؤخر کرنے، نمازِ خوف کی وجہ سے اس رخصت کے منسوخ ہو جانے، فوت شدہ نمازوں کو بالترتیب ادا کرنے، پہلی نماز کے لیے اذان اور اقامت کہنے اور باقی ہر فوت شدہ نماز کے لیے صرف اقامت کہنے کا بیان
3 Hadith
22
فوت ہونے والی نفلی نماز اور وظیفوں کی قضائی کی مشروعیت کا بیان
4 Hadith
23
ان لوگوں کی دلیل کا بیان جو سننِ رواتب کے فوت جانے کی صورت میں ان کی قضاء نہ دینے کے قائل ہیں
1 Hadith
No chapter matched that.