۔ (۱۳۳۱) عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ سَعِیْدٍ بْنِ سُوَیْدٍ أَلْأَنْصَارِیِّ قَالَ سَمِعْتُ أَبَاحُمَیْدٍ وَأَبَا أُسَیْدٍیَقُوْلَانِ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اِذَا دَخَلَ اَحَدُکُمُ الْمَسْجِدَ فَلْیَقُلْ اللّٰہُمَّ افْتَحْ لَنَا اَبْوَابَ رَحْمَتِکَ وَ إِذَا خَرَجَ فَلْیَقُلْ اللّٰہُمَّ إِنَّیْ أَسْأَلُکَ مِنْ فَضْلِکَ (مسند احمد: ۱۶۱۵۴)
عبدالملک بن سعید بن سوید انصاری کہتے ہیں کہ میں نے سیّدنا ابو حمید اور سیّدناابو اسید رضی اللہ عنہما دونوں سے سنا ، وہ یہ بیان کر رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی آدمی مسجد میں داخل ہو تو یہ دعا پڑھے: اللّٰہُمَّ افْتَحْ لَنَا اَبْوَابَ رَحْمَتِکَ، اے اللہ! تو اپنی رحمت اور جب مسجد سے نکلے تو یہ پڑھے: أَللّٰھُمّ إِنِّیْ أَسْأَلُکَ مِنْ فَضْلِکَ (اے اللہ! میں تجھ سے تیرے فضل کا سوال کرتا ہوں)۔
Takhreej
(۱۳۳۱) تخر یـج: …أخرجہ مسلم: ۷۱۳،والنسائی: ۲/ ۵۳، وأخرجہ ابوداود: ۴۶۵ و زاد: ((فلیسلم او لیصل علی النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )) (انظر: ۱۶۰۵۷)
Explanation
فوائد:… چونکہ مسجد آخرت کی تجارت کا محل ہے، اس لیے اس میں داخل ہوتے وقت خصوصیت کے ساتھ رحمت کا سوال کیا جاتا ہے اور عام طور پر مومن رزق کی تلاش کے لیے مسجد سے نکلتا ہے، اس لیے اس وقت اللہ تعالیٰ کے فضل کا سوال کیا جاتا ہے۔
1331
Sahih