چٹائی، ٹاٹوں،پوستینوںاور اوڑھنیوں پر نماز پڑھنے کا بیان - چٹائی، ٹاٹوں،پوستینوںاور اوڑھنیوں پر نماز پڑھنے کا بیان - نمازی کی جائے نماز، کپڑے اور بدن کا نجاست سے پاک ہونے کا بیان اور جو نجاست معلوم نہ ہو اس سے در گزر کا بیان - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation
Chapter 3 of نمازی کی جائے نماز، کپڑے اور بدن کا نجاست سے پاک ہونے کا بیان اور جو نجاست معلوم نہ ہو اس سے در گزر کا بیان in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.
سیّدناانس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میرے ایک چچے نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے کھانا تیار کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آ کر کہا؛ اے اللہ کے رسول! میں چاہتا ہوں کہ آپ میرے گھر میں کھانا کھائیں، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے پاس تشریف لے گئے، گھر میں کھجور کی بنی ہوئی چٹائیوںمیںسے ایک چٹائیپڑی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی ایک طرف کے بارے میں حکم فرمایا تو اسے صاف کر کے اس پر پانی چھڑکا گیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس پر نماز پڑھی اور ہم نے بھی آپ کے ساتھ نماز ادا کی۔
سیّدنا انس رضی اللہ عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بسا اوقات ہمارے گھر میں تشریف لاتے تھے، اگر نماز کا وقت ہوجاتا تو آپ اس چٹائی کے بارے میں حکم دیتے جو آپ کے نیچے ہوتی تھی، پس اسے صاف کرکے اس پر پانی چھڑک دیا جاتا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس پر کھڑے ہوتے اور ہم آپ کے پیچھے کھڑے ہوجاتے اور آپ ہمیں نماز پڑھاتے۔ ان کییہ چٹائی کجھور کے پتوں سے بنی ہوتی تھی۔
زوجۂ رسول سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم او ڑھنی پر نماز پڑھ رہے ہوتے تھے، جبکہ میں حیض کی حالت میں آپ کے پہلو میں ہوتی تھی، جب آپ سجدہ کرتے تو آپ کا کپڑا مجھے لگتا رہتا تھا۔
سیّدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے زوجۂ رسول سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کپڑے میں نماز پڑھ لیتے تھے، جس میں آپ کے ساتھ سوتے تھے؟ انہوںنے جواب دیا: ہاں، لیکن جب تک اس میں کوئی گندگی نہ دیکھتے تھے۔
سیّدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پو چھا: کیا میںاس کپڑے میں نماز پڑھ سکتا ہوں جس میں اپنی بیوی کے پاس آتا ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہاں، لیکن اگر تو اس میں کوئی(گندگی والی ) چیز دیکھے تو اسے دھو لیا کر۔
Takhreej
(۱۴۴۶) تخریـج:… صحیح، الا انہ اختلف فی رفع ھذا الحدیث ووقفہ، ومال الامام احمد وابو حاتم الی وقفہ، وصححہ مرفوعا ابن حبان والبوصیری۔ أخرجہ ابن ماجہ: ۵۴۲ (انظر: ۲۰۸۲۵)۔
محمد بن سرین کہتے ہیں: مجھے یہ بتایا گیا کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا تھا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہماری شمیزوں میںنماز نہیں پڑھتے تھے۔ ایک راوی بشر کہتے ہیں کہ یہ وہ کپڑا ہے جسے قمیص کے نیچے پہنا جاتا ہے ۔
فوائد:… یہ وہ کپڑا ہے جسے قمیص کے نیچے پہنا جاتا ہے سے مراد وہ لباس ہے جو بدن کے ساتھ ملا ہوا ہوتا ہے، اس کو تحتانی لباس کہتے ہیں، ہمارے ہاں عام طور پر عورتوں کے ایسے کپڑے کو شمیز کہا جاتا ہے۔
سیّدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو امامۃیا امیمہ بنت ابی العاص اٹھائے ہوئے دیکھا،یہ سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کی بیٹی تھی، جب آپ کھڑے ہوتے تو اسے اٹھالیتے تھے اور جب رکوع کرتے تو اسے نیچے رکھ دیتے حتی کہ آپ نماز سے فارغ ہوجاتے ۔
فوائد:… آخری حدیث کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دوران نماز اپنی نواسی کو اٹھائے رکھا، یہ فرضی نماز کا واقعہ ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے، جیسا کہ صحیح مسلم کی روایت سے معلوم ہوتا ہے۔ اس عمل کا تعلق جواز سے ہے۔ یہ تمام دعوے اور تاویلیں باطل ہیں کہ یہ رخصت نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ خاص تھی،یا منسوخ ہو چکی ہے، یا اس کا تعلق نفلی نماز سے ہے۔ مزید اس حدیث سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ بچے کے جسم اور کپڑے کو پاک ہی سمجھا جائے گا، جب تک نجاست کے اثرات واضح نہ ہو جائیںیایقینی طور پر علم نہ ہو جائے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا امہات المؤمنین کے تحتانی لباس میں نماز نہ پڑھنا، علامہ عظیم آبادی نے اس کی وجہ بیان کرتے ہوئے کہا: یہ حدیث دلالت کرتی ہے کہ عورتوں کے ان کپڑوں سے اجتناب کرنا چاہیے ، جن کے بارے میں پلید ہو جانے کاخطرہ ہو اور یہی حکم باقی کپڑوں کا ہے۔ (عون المعبود: ۱/ ۳۳۶) امام ابوداود نے یہ حدیث ذکر کرنے کے بعد یہ باب قائم کیا ہے: باب الرخصۃ فی ذلک اور اس مین یہ حدیث ذکر کی ہے: سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک چادر پہن کر نماز پڑھتے، جبکہ اس کا کچھ حصہ آپ کی کسی حائضہ بیوی پر ہوتا تھا۔ (ابوداود: ۳۶۹، ابن اجہ: ۶۵۳) لیکن اس حدیث سے رخصت کی گنجائش نکالنا محل نظر ہے، کیونکہ عورت کا لباس زیب تن کرنا اور بات ہے اور خاوند کے لباس کے بعض حصے کا اس کی بیوی سے لگ جانا اور اس پر پڑ جانا اور بات ہے۔ شرعی نصوص کی روشنی میں اس باب کا خلاصہ یہ ہے کہ نجس کپڑا زیب تن کرنا منع ہے، اسی طرح مرد حضرات اس لباس سے بھی گریز کریں گے، جو عورتوں کے ساتھ خاص ہوتا ہے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم طبعی طور پر امہات المؤمنین کا تحتانی لباس نہ پہنتے ہوں۔