TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

کعبہ کے اندر نفلی نماز پڑھنے کا بیان - کعبہ کے اندر نفلی نماز پڑھنے کا بیان - قبلہ کے آداب - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 3 of قبلہ کے آداب in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 3 of 4 · 5 Hadith
۔ (۱۴۵۸) عَنْ أُسَامَۃَ بْنِ زَیْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ: دَخَلْتُ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الْبَیْتَ فَجَلَسَ فَحَمِدَ اللّٰہِ وَأَثْنٰی عَلَیْہِ وَکَبَّرَ وَھَلَّلَ، ثُمَّ قَامَ إِلَی مَابَیْنَیَدَیْہِ مِنَ الْبَیْتِ فَوَضَعَ صَدْرَہُ عَلَیْہِ وَخَدَّہُ وَیَدَیْہُ۔ قَالَ: ثُمَّ کَبَّرَ وَھَلَّلَ وَ دَعَا ثُمَّ فَعَلَ ذٰلِکَ بِالْأَرْکَانِ کُلِّہَا، ثُمَّ خَرَجَ فَأَقْبَلَ عَلَی الْقِبْلَۃِ وَھُوَ عَلَی الْبَابِ، فَقَالَ: ((ھَذِہِ الْقِبْلَۃُ، ھٰذِہِ الْقِبْلَۃُ۔)) مَرَّتَیْنِ أَوْثَـلَاثًا۔ (مسند احمد: ۲۲۱۶۶)
سیّدنااسامہ بن زید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ بیت اللہ میں داخل ہوا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وہاں بیٹھ گئے اور اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا اورتکبیر و تہلیل بیان کی،پھر اپنے سامنے والے بیت اللہ کے حصے کی طرف کھڑے ہوئے اور اپنا سینہ ، رخسار اور ہاتھ اس پر رکھ دیئے، پھر اللہ تعالیٰ کی تکبیر و تہلیل بیان کی اور دعا بھی کی، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تمام کونوں میں یہی عمل کیا۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم باہر تشریف لائے اور دروازے پر کھڑے ہو کر قبلہ کی طرف متوجہ ہوئے اور دو یا تین مرتبہ فرمایا: یہی قبلہ ہے،یہی قبلہ ہے۔
Takhreej
(۱۴۵۸) تخریـج:… حدیث صحیح، أخرجہ النسائی: ۵/ ۲۲۰، وابن خزیمۃ: ۳۰۰۵، وأخرجہ البخاری: ۳۹۸، ومسلم: ۱۳۳۰ بلفظ: ان النبی ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لما دخل البیت دعا فی نواحیہ کلھا ولم یصل فیہ حتی خرج، فلما خرج رکع رکعتین فی قبُل الکعبۃ، وقال: ((ھذہ القبلۃ۔))۔ (انظر: ۲۱۷۵۴، ۲۱۸۲۳)۔
1458
Sahih
۔ (۱۴۵۹) عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ قَالَ: قُلْتُ لِعَطَائٍ: أَسَمِعْتَ ابْنَ عَبَّاسِ یَقُولُ: إِنَّمَا أُمِرْتُمْ بِالطَّوَافِ وَلَمْ تُوْمَرُوْا بِالدُّخُوْلِ۔ قَالَ: لَمْ یَکُنْیَنْھٰی عَنْ دُخُولِہِ، وَلٰـکِنَّیْ سَمِعْتُہُ یَقُوْلُ: أَخْبَرَنِیْ أُسَامَۃُ بْنُ زَیْدٍ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لَمَّادَخَلَ الْبَیْتَ دَعَا فِیْ نَوَاحَیْہِ کُلِّہَا وَلَمْ یُصَلِّ فِیْہِ حَتّٰی خَرَجَ، فَلَمَّا خَرَجَ رَکَعَ رَکْعَتَیْنِ فِی قُبُلِ الْقِبْلَۃِ۔ قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ وَقاَلَ: ((ھٰذِہِ الْقِبْلَۃُ۔)) (مسند احمد: ۲۲۱۵۲)
ابن جریج کہتے ہیں کہ میں نے عطاء سے پوچھاکہ کیاآپ نے سیّدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھاکہ تمہیں صرف بیت اللہ کا طواف کرنے کا حکم دیا گیا ہے، نہ کہ اس میں داخل ہونے کا؟ انہوں نے جواب دیا: وہ اس میںداخل ہونے سے منع تو نہیں کرتے تھے، البتہ میں نے ان کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا تھا: سیّدنااسامہ بن زید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے مجھے بتایا کہ جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بیت اللہ میں داخل ہوئے تو آپ نے اس کے سارے کونوںمیں دعا کی اور نماز نہیں پڑھی،یہاں تک کہ باہر تشریف لے آئے،باہر نکل کرقبلہ کے سامنے دو رکعتیں ادا کیں اور فرمایا: یہ قبلہ ہے۔
Takhreej
(۱۴۵۹) تخریـج:… اسنادہ صحیح علی شرط الشیخین و أخرج المرفوع منہ البخاری: ۳۹۸، ومسلم: ۱۳۳۰(انظر: ۲۱۷۵۴، ۲۱۸۰۹)۔
1459
Sahih
۔ (۱۴۶۰) عَنْ عَمْرِو بْنِ دِیْنَارٍ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ حَدَّثَ عَنْ بِلَالٍ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صَلّٰی فِی الْبَیْتِ۔ قَالَ: وَکَانَ ابْنُ عَبَّاسِ یَقُوْلُ: لَمْ یُصَلِّ فِیْہِ وَلٰکِنَّہُ کَبَّرَ فِی نَوَاحِیْہِ۔ (مسند احمد: ۲۴۴۱۶)
عمرو بن دینار سے مروی ہے کہ سیّدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے سیّدنا بلال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے بیان کیا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بیت اللہ میں نماز پڑھی تھی۔ انھوں نے کہا: سیّدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ تو یہ بیان کرتے تھے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس میں نماز نہیں پڑھی تھی،البتہ اس کے مختلف کونوں میں تکبیر کہی (اللہ کی بڑھائی بیان کی) تھی۔
Takhreej
(۱۴۶۰) تخریـج:… اسنادہ صحیح علی شرط الشیخین، أخرجہ ابن خزیمۃ: ۳۰۰۸، والطحاوی فی شرح معانی الآثار : ۱/ ۳۹۰، والطبرانی: ۱۰۳۳(انظر: ۲۳۹۱۹)
1460
Sahih
۔ (۱۴۶۱) عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما أَنَّہُ سَأَلَ بِلَالًا ھَلْ صَلّٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی الْکَعْبَۃِ؟ قَالَ: نَعَمْ، رَکَعَ رَکْعَتَیْںِ بَیْنَ السَّارِیَتَیْنِ۔ (مسند احمد: ۲۴۳۸۲)
سیّدناابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے: کہ انہوںنے بلال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے پوچھا: کیا رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کعبہ میں نماز پڑھی تھی؟ توانہوںنے جواب دیا: ہاں، دو ستونوںکے درمیان دو درکعتیں پڑھی تھیں۔
Takhreej
(۱۴۶۱) تخریـج:… أخرجہ البخاری: ۳۹۷، ۱۱۶۷ وفیہ: نعم رکع رکعتین بین ھاتین الساریتین …۔ قال: ثم خرج فصلی فی وجہ الکعبۃ رکعتین۔ وأخرجہ مسلم: ۱۳۲۹ (انظر: ۲۳۸۸۵، ۲۳۹۰۷، ۲۳۹۲۲)۔
1461
Sahih
۔ (۱۴۶۲) عَنْ عُثْمَانَ بْنِ طَلْحَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم دَخَلَ الْبَیْتَ فَصَلّٰی رَکْعَتَیْنِ وِجَاھَکَ حِیْنَ تَدْخُلُ بَیْنَ السَّارِ یَتَیِْنَ۔ (مسند احمد: ۱۵۴۶۲)
سیّدناعثمان بن طلحہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بیت اللہ میں داخل ہوئے اور ان دو ستونوں کے درمیان نماز پڑھی، جو تیرے داخل ہوتے وقت تیرے سامنے پڑتے ہیں۔
Takhreej
(۱۴۶۲) تخریـج:… صحیح لغیرہ، وھذا اسناد ضعیف لانقطاعہ، أخرجہ الطیالسی: ۱۳۶۵، والطبرانی فی الکبیر : ۸۳۹۸، والبیھقی فی السنن : ۲/ ۳۲۸ (انظر: ۱۵۳۸۷)
Explanation
فوائد:… عام قارئین کے لیے درج بالا احادیث میں تناقض پایا جا رہا ہے، کیونکہ سیّدنا اسامہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے بیان کے مطابق آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کعبہ میں نماز نہیں پڑھی، لیکن سیّدنا بلال اور سیّدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کی روایت کے مطابق آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کعبہ میں نماز پڑھی ہے۔ اس میں حقیقت میں تضاد کی کوئی صورت نہیں پائی جا رہی، محدثین کااس امر پر اتفاق ہے کہ اس باب میں سیّدنا بلال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی حدیث کو ہی لیا جائے گا، کیونکہ ان کے پاس زیادہ علم ہے اور ان کی حدیث مثبت ہے، جس کو نفی والی حدیث پر مقدّم کیا جاتا ہے۔ پورے واقعہ کے مطابق آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور صحابہ کرام نے بیت اللہ میںداخل ہو کر دراوزہ بند کر دیا تھا اور ہر کوئی دعا میں مصروف ہو گیا تھا، اس لیے ممکن ہے کہ سیّدنا اسامہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو نماز پڑھتے ہوئے نہ دیکھا ہو اور سیّدنا بلال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے دیکھ لیا ہو۔ بعض اہل علم کا خیال ہے کہ دو علیحدہ علیحدہ واقعات ہیں، جیسا امام ابن حبان نے کہا: میرے نزدیک راجح بات یہ ہے کہ ان دو احادیث کا تعلق دو مختلف واقعات سے ہے، فتح مکہ کے موقع پر جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بیت اللہ میں داخل ہوئے تو نماز پڑھی، لیکن حجۃ الوداع کے موقع پر داخل تو ہوئے، لیکن نماز نہیں پڑھی۔ (تلخیص از صحیح ابن حبان: ۷/ ۴۸۳) تطبیق کے بعد معلوم ہوا کہ کعبہ کی عمارت کے اندر فرضی اور نفلی دونوں نمازیں پڑھنا جائز ہیں، امام احمد اور امام ابوحنیفہ سمیت جمہوراہل علم کا یہی خیال ہے، کیونکہ ایسی غیر اضطراری صورت میں نفل اور فرض دونوں نمازوں کے لیے قبلہ کا ایک حکم ہے۔
1462
Sahih