TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

تکبیرات الانتقال کا بیان - تکبیرات الانتقال کا بیان - نمازی کے آگے سترہ رکھنے او راس کے پیچھے سے گزرنے کا حکم - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 30 of نمازی کے آگے سترہ رکھنے او راس کے پیچھے سے گزرنے کا حکم in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 30 of 30 · 14 Hadith
۔ (۱۶۶۳) عَنْ وَاسِعِ بْنِ حَبَّانَ قَالَ: قُلْتُ لِاْبْنِ عُمَرَ: أَخْبِرْنِیْ عَنْ صَلاَۃِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَیْفَ کَانَتْ؟ قَالَ: فَذَکَرَ التَّکْبِیْرَ کُلَّمَاوَضَعَ رَأَسَہُ وَکُلَّمَا رَفَعَہُ وَذَکَرَ اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَرَحَمْۃُ اللّٰہِ عَنْ یَمِیْنِہِ السَّلَامُ عَلَیْکُمْ عَنْ یَسَارِہِ۔ (مسند احمد: ۵۴۰۲)
واسع بن حبان کہتے ہیں: میں نے سیدنا عبداللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہا: مجھے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی نماز کے بارے میں بتائیں کہ وہ کیسی تھی؟ انہوں نے (جواب میں) یہ چیز بھی ذکر کی کہ آپ جب بھی اپنا سر جھکاتے اور اٹھاتے تو تکبیر کہتے، پھر انھوں نے دائیں طرف اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَرَحَمْۃُ اللّٰہ ِاور بائیں طرف اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ کا ذکر کیا۔
Takhreej
(۱۶۶۳) تخریج: اسنادہ قوی۔ أخرجہ النسائی: ۳/ ۶۳ (انظر: ۵۴۰۲)
Explanation
فوائد:… رکوع سے اٹھتے وقت سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہٗ کہنامسنونہے۔
1663
Sahih
۔ (۱۶۶۴) عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: إِنَّ أَبَا بَکْرٍ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ کَانُوْا یُتِمُّوْنَ التَّکْبِیْرَ فَیَکُبِّرُوْنَ إِذَا سَجَدُوْا وَ إِذَا رَفَعُوْا أَوْخَفَضُوْا کَبَّرُوْا۔ (مسند احمد: ۱۲۳۷۴)
سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: سیدنا ابو بکر، سیدنا عمر اور سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما جب سجدہ کرتے اور جب اٹھتے اور جھکتے تھے تو تکبیر کہتے تھے۔
Takhreej
(۱۶۶۴) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط مسلم۔ أخرجہ ابو یعلی: ۴۲۸۱، والطحاوی: ۱/ ۲۲۱، والبیھقی: ۱/ ۶۸ (انظر: ۱۲۲۵۹، ۱۲۳۴۹)
1664
Sahih
۔ (۱۶۶۵) عَنْ عَبْدِالرَّحْمٰنِ بْنِ غَنْمٍ عَنْ أَبِیْ مَالِکٍ الْأَ شْعَرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّہُ جَمَعَ أَصْحَابَہٗفَقَالَ: ھَلُمَّأُصَلِّیْ صَلاَۃَ نَبِیِّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: وَکَانَ رَجُلاً مِنَ الْأَشْعَرِیِّیْنَ، قَالَ فَدَعَا بِجَفْنَۃٍ مِنْ مَائٍ فَغَسَلَیَدَیْہِ ثَلاَثًا، وَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ، وَغَسَلَ وَجْہَہُ ثَلاَثًا، وَ ذِرَاعَیْہِ ثَلاَثًا، وَمَسَحَ بِرَأْسِہِ، وَأُذُنَیْہِ، وَغَسَلَ قَدَمَیْہِ، قَالَ: فَصَلَّی الظُّھْرَ فَقَرَأَ فِیْہَا بِفَاتِحَۃِ الْکِتَابِ وَکَبَّرَ ثِنْتَیْنِ وَعِشْرِیْنَ تَکْبِیْرَۃً۔ (مسند احمد: ۲۳۲۸۱)
سیدنا ابو مالک اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اپنے ساتھیوں کو جمع کرکے کہا: آؤ میں تمہیں اللہ کے نبی کی نماز پڑھاتا ہوں، وہ اشعری قبیلے کے آدمی تھے، پھر انھوں نے ایک ٹب منگوایا، اپنے ہاتھوں کو تین بار دھویا، پھر کلی کی اور ناک میں پانی چڑھایا اور تین دفعہ چہرہ دھویا، پھر تین بار دونوں بازو دھوئے اور اس کے بعد اپنے سر اور کانوں کا مسح کیا اور پھر اپنے پاؤں دھوئے، پھر نماز ِ ظہر پڑھائی، اس میں سورۂ فاتحہ پڑھی اور بائیس دفعہ اللہ اکبر کہا۔
Takhreej
(۱۶۶۵) تخریج: اسنادہ ضعیف من اجل شھر بن حوشب۔ أخرجہ ابن ماجہ: ۴۱۷، والطبرانی فی الکبیر : ۳۴۱۲ (انظر: )
1665
Zaeef
۔ (۱۶۶۶) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیقٍ ثَانٍ بِنَحْوِہِ) وَفِیْہِ: وَمَسَحَ بِرَأْسِہِ وَظَہْرِ قَدَمَیْہِ ثُمَّ صَلّٰی بِہِمْ ثِنْتَیْنِ وَعِشْرِیْنَ تَکْبِیْرَۃً،یُکَبِّرُ إِذَا سَجَدَ وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَہُ مِنَ السُّجُوْدِ، وَقَرَأَ فِی الرَّکْعَتَیْنِ بِفَاتِحَۃِ الْکِتَابِ وَأَسْمَعَ مَنْ یَلِیْہِ۔ (مسند احمد: ۲۳۲۸۶)
۔ (دوسری سند)اس میں ہے: اور انہوں نے اپنے سر اور پاؤں کے ظاہری حصے پر مسح کیا، پھر ان کو نماز پڑھائی اور بائیس تکبیریں کہیں، جب وہ سجدہ کرتے اور سجدے سے سر اٹھاتے تو اللہ اکبر کہتے، انھوں نے دونوں رکعتوں میں سورۂ فاتحہ کی تلاوت کی اور (اپنی آواز کو ہلکا بلند کرکے) اپنے قریب والوں کو سنائی۔
Takhreej
(۱۶۶۶) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول (انظر: ۲۲۸۹۸)
Explanation
فوائد:… چار رکعت نماز میں کل بائیس تکبیرات کہی جاتی ہیں، ہر رکعت کی پانچ اور تکبیر تحریمہ اور تیسری رکعت والی تکبیر۔
1666
Zaeef
۔ (۱۶۶۷) عَنْ أَبِیْ مَالِکٍ الْأَشْعَرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّہُ کَانَ یُسَوِّیْ بَیْنَ الْأَرْبَعِ رَکَعَاتٍ فِی الْقِرَائَۃِ وَالْقِیَامِ، وَیَجْعَلُ الرَّکْعَۃَ الْأُولٰی ھِیَ أَطْوَلُھُنَّ لِکَیْیَثُوْبَ النَّاسُ، وَیَجْعَلُ الِرّجَالَ قُدَّامَ الْغِلْمَانِ، وَالْغِلْمَانَ خَلْفَھُمْ وَالنِّسَائَ خَلْفَ الْغِلْمَانِ، وَیُکَبِّرُ کُلَّمَا سَجَدَ وَکُلَّمَا رَفَعَ، وَیُکَبِّرُ کُلَّمَا نَہَضَ بَیْنَ الرَّکْعَتَیْنِ إِذَا کَانَ جَالِسًا۔ (مسند احمد: ۲۳۲۹۹)
سیدناابو مالک اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی چاروں رکعات کی قراء ت اور قیام برابر برابر ہوتے تھے، البتہ پہلی رکعت لمبی کرتے تھے تاکہ لوگ پہنچ جائیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مردوں کو بچوں کے آگے ، بچوں کو ان کے پیچھے اور عورتوں کو بچوں کے پیچھے کھڑا کرتے تھے، اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب بھی سجدہ کرتے اور اس سے اٹھتے تو تکبیر کہتے ، اسی طرح جب دو رکعتوں کے کے بعد (تشہد کے لیے) بیٹھ کر (تیسری رکعت) کے لیے کھڑے ہوتے تو اللہ اکبر کہتے۔
Takhreej
(۱۶۶۷) تخریج: اسنادہ حسن۔ أخرجہ الطبرانی فی الکبیر : ۳۴۳۶، وأخرجہ ابوداود بذکر صف الرجال والغلمان فقط: ۶۷۷ (انظر: ۲۲۸۹۶، ۲۲۹۱۱)
Explanation
فوائد:… آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی رکعات کی طوالت کی مقدار مذکورہ بالا کمیت سے مختلف بھی رہی ہے، مثلا ظہر کی پہلی دو رکعتیں تیس تیس آیتوں کے برابر اور آخری دو رکعتیں پندرہ پندرہ آیتوں کے برابر ہوتی تھیں، اسی طرح نماز عصر کی پہلی دو رکعتیں ظہر کی آخری دو رکعتوں کے برابر اور اس کی آخری دو رکعتیں اس سے بھی نصف کے برابر ہوتی تھیں، جہری نمازوں میں بھییہ فرق نظر آتا تھا۔
1667
Sahih
۔ (۱۶۶۸) عَنْ عِکْرِمَۃَ قَالَ: قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌: صَلَّیْتُ الظُّہْرَ بِالْبَطْحَائِ خَلْفَ شَیْخٍ أَحْمَقَ فَکَبَّرَ ثِنْتَیْنِ وَعِشْرِیْنَ تَکْبِیْرَۃً،یُکَبِّرُ إِذَا سَجَدَ وَإِذَا رَفَعَ رَأَسَہُ، قَالَ: فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: تِلْکَ صَلَاۃُ أَبِی الْقَاسِمِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند احمد: ۱۸۸۶)
عکرمہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہا: میں نے بطحاء میں ایک شیخ کی اقتداء میں ظہر کی نماز پڑھی ہے، اس بیوقوف نے تو بائیس تکبیریں کہہ دی ہیں، جب وہ سجدہ کرتا اور اس سے سر اٹھاتا تو تکبیر کہتا تھا۔ (یہ سن کر) سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: یہ تو ابو القاسم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی نماز ہے۔
Takhreej
(۱۶۶۸) تخریج: أخرجہ البخاری: ۷۸۷ (انظر: ۱۸۸۶)
1668
Sahih
۔ (۱۶۶۹) عَنِ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: أَنَا رَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُکَبِّرُ فِی کُلِّ خَفْضٍ وَرَفْعٍ وَقِیَامٍ وَقُعُودٍ، وَیُسِلِّمُ عَنْ یَمِیْنِہِ وَعَنْ یَسَارِہِ حَتّٰییُرٰی بَیَاضُ خَدَّیْہِ، أَوْخَدِّہِ، وَرَأَیْتُ أَبَا بَکْرٍوَ عُمَرَ یَفْعَلَانِ ذٰلِکَ۔ (مسند احمد: ۳۶۶۰)
سیدناعبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دیکھا کہ آپ ہر جھکنے، اٹھنے، کھڑا ہونے اوربیٹھنے پر تکبیر کہتے اور دائیں بائیں سلام پھیرتے وقت (چہرۂ مبارک کو اتنا پھیرتے کہ) رخساروں کی سفیدی نظر آ جاتی، پھر میں نے سیدنا ابو بکر اور سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کو بھی ایسے ہی کرتے دیکھا۔
Takhreej
(۱۶۶۹) تخریج: صحیح، وھذا اسناد ضعیف۔ أخرجہ النسائی: ۲/ ۲۰۵، والترمذی: ۲۵۳ (انظر: ۳۶۶۰)
1669
Sahih
۔ (۱۶۷۰) عَنْ أَبِیْ سَلَمَۃَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ قَالَ: کَانَ أَبُوْ ھُرَیْرَۃَیُصَلِّیْ بِنَا فَیُکَبِّرُ حِیْنَیَقُوْمُ وَحِیْنَیَرْکَعُ، وَاِذَا اَرَادَ اَنْ یَّسْجُدَ بَعْدَ مَا یَرْفَعُ مِنَ الرُّکُوْعِ وَإِذَ أَرَادَ أَنْ یَسْجُدَ بَعْدَ مَایَرْ فَعُ مِنَ السُّجُودِ وَإِذَا جَلَسَ،وَإِذَا أَ رَادَ أَنْ یَرْفَعَ فِی الرَّکْعَتَیْنِ کَبَّرَ، وَیُکِبِّرُ مِثْلَ ذٰلِکَ فِی الرَّکْعَتَیْنِ الْأُخْرَیَیْنِ، فَإِذَا سَلَّمَ قَالَ: وَالَّذِی نَفْسِیْ بِیَدِہِ إِنِّیْ لَأَقْرَبُکُمْ شَبَہًا بِرَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَعْنِی صَلاَتَہُ، مَازَالَتْ ھٰذِہِ صَلَاتُہٗحَتّٰی فَارَقَ الدُّنْیَا۔ (مسند احمد: ۷۶۴۴)
ابو سلمہ بن عبد الرحمن کہتے ہیں: سیدناابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ہمیں نماز پڑھاتے تھے، جب وہ کھڑے ہوتے، جب رکوع کرتے، جب رکوع سے اٹھنے کے بعد سجدہ کرنے کا ارادہ کرتے، جب سجدے سے سر اٹھانے کے بعد دوبارہ سجدہ کرتے ، جب بیٹھتے اور جب دو رکعتوں کے بعد کھڑے ہوتے تو اللہ اکبر کہتے، دوسری دو رکعتوں میں بھی اسی طرح تکبیریں کہتے، جب سلام پھیرتے تو کہتے: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! بلاشبہ میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ نماز میں تم سب کی بہ نسبت زیادہ مشابہت رکھنے والا ہوں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی نماز کییہی کیفیت رہی، حتی کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم دنیا سے جدا ہو گئے۔
Takhreej
(۱۶۷۰) تخریج: أخرجہ البخاری: ۸۰۳، وأخرج بنحوہ مسلم: ۳۹۲ (انظر: ۷۶۵۷، ۷۶۵۸)
1670
Sahih
۔ (۱۶۷۱) عَنْ سُہَیْلٍ عَنْ أَبِیْہِ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَنَّہٗکَانَیُکَبِّرُ کُلَّمَا خَفَضَ وَرَفَعَ وَیُحَدِّثُ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یَفْعَلُ ذٰلِکَ۔ (مسند احمد: ۹۳۹۱)
ابو صالح کہتے ہیں: سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ہر جھکنے اور اٹھنے میں تکبیر کہتے تھے اور پھر بیان کرتے تھے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بھی ایسے ہی کرتے تھے۔
Takhreej
(۱۶۷۱) تخریج: أخرجہ البخاری: ۷۸۵، و مسلم: ۳۹۲ (انظر: ۷۲۲۰، ۹۴۰۲)
1671
Sahih
۔ (۱۶۷۲) عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کَانَ َسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِذَا قَامَ إِلَی الصَّلاَۃِیُکَبِّرُ حَیْنَیَقُوْمُ، ثُمَّ یُکَبِّرُ حِیْنَیَرْکَعُ، ثُمَّ یَقُوْلُ سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہُ حِیْنَیَرْفَعُ صُلْبَہُ مِنَ الرَّکْعَۃِ، ثُمَّ یَقُولُ وَھُوَ قَائِمٌ رَبَّنَا لَکَ الْحَمْدُ، ثُمَّ یُکَبِّرُ حِیْنَیَہْوِیْ سَاجِدًا، ثُمَّ یُکَبِّرُ حِیْنَیَرْفَعُ رَأَسَہُ، ثُمَّ یُکَبِّرُ حِیْنَیَہْوِیْ سَاجِداً، ثُمَّ یُکَبِّرُ حِیْنَیَرْفَعُ رَأَسَہُ، ثُمَّ یَفْعَلَ ذٰلِکَ فِی الصَّلاَۃِ کُلِّہَا حَتَّییَقْضِیَھَا، وَیُکَبِّرُحِیْنَیَقُوْمُ مِنَ اللَّتَیْنِ بَعْدَ الْجُلُوْسِ۔ (مسند احمد: ۹۸۵۰)
سیدناابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب نماز کے لئے اٹھتے تو تکبیر کہتے، جب رکوع کرتے تو تکبیر کہتے، جب رکوع سے اپنی کمر اٹھاتے تو سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہُ کہتے، پھر کھڑے کھڑے رَبَّنَا لَکَ الْحَمْدُ کہتے،پھر جب سجدہ کے لیے جھکتے تو تکبیر کہتے، جب سجدہ سے سر اٹھاتے تو تکبیر کہتے، پھر جب (دوسرے) سجدے کے لیے گرتے تو تکبیر کہتے، پھر جب سر اٹھاتے تو تکبیر کہتے، پھر آپ ساری نماز میں اسی طرح کا (تکبیرات کہنے کا) عمل کرتے، یہاں تک کہ اسے پورا کر لیتے، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم دو رکعتوں کے بعد بیٹھنے کے بعد کھڑے ہوتے تو بھی اللہ اکبر کہتے تھے۔
Takhreej
(۱۶۷۲) تخریج: أخرجہ البخاری: ۷۸۹، ومسلم: ۳۹۲ (انظر: ۹۸۵۱)
1672
Sahih
۔ (۱۶۷۳) عَنْ سَعِیْدِ بْنِ الْحَارِثِ قَالَ: اِشْتَکٰی أَبُوْھُرَیْرَۃَ أَوْغَابَ فَصَلّٰی بِنَا أَبُوْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیُّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ فَجَہَرَ بِالتَّکْبِیْرِ حِیْنَ افْتَتَحَ الصَّلاَۃَ وَحِیْنَ رَکَعَ وَحِیْنَ قَالَ سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہُ وَحِیْنَ رَفَعَ رَأَسَہُ مِنَ السُّجُوْدِ وَحِیْنَ سَجَدَ وَحِیْنَ قَامَ بَیْنَ الرَّکْعَتَیْنِ حَتّٰی قَضٰی صَلاَتَہُ عَلٰی ذٰلِکَ، فَلَمَّا صَلّٰی، قِیْلَ لَہُ: قَدِ اخْتَلَفَ النَّاسُ عَلٰی صَلاَتِکَ، فَخَرَجَ فَقَامَ عِنْدَ الْمِنْبَرِ فَقَالَ: أَیُّہَا النَّاسُ، وَاللّٰہِ مَاأُبَالِیْ، اِخْتَلَفَتْ صَلاَتُکُمْ أَوْلَمْ تَخْتَلِفْ، ھٰکَذَا رَأَیْتُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُصَلِّیْ۔ (مسند احمد: ۱۱۱۵۷)
سعید بن حارث کہتے ہیں: سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیمار ہوگئے تھے یا کہیں گئے ہوئے تھے، بہرحال ہمیں سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے نماز پڑھائی، انھوں نے نماز شروع کرتے وقت، رکوع کرتے وقت، رکوع سے اٹھنے کے لیے سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہُ کہنے کے بعد، سجدہ سے سر اٹھاتے وقت، سجدہ کرتے وقت اور دو رکعتوں کے بعد (تیسری رکعت کے لیے) کھڑا ہوتے وقت اللہ اکبر کہا، حتی کہ انھوں نے اسی طریقے پر نماز پوری کی، جب انھوں نے نماز پڑھ لی تو کسی نے ان سے کہا: لوگوں نے آپ کی نماز پر اعتراض کیا ہے، (یہ سن کر) وہ نکل کر منبر کے پاس کھڑے ہوئے اور کہا: اللہ کی قسم! میں کوئی پرواہ نہیں کرتا کہ تمہاری نماز مختلف ہے یا نہیں ہے، میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو ایسے ہی نماز پڑھتے ہوئے دیکھا تھا۔
Takhreej
(۱۶۷۳) تخریج: أخرجہ البخاری: ۸۲۵ (انظر: ۱۱۱۴۰)
1673
Sahih
۔ (۱۶۷۴) عَنْ أَبِیْ مُوْسَی الْأَشْعَرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: لَقَدْ ذَکَّرَنَا عَلِیُّ ابْنُ أَبِیْ طَالِبٍ صَلاَۃً کُنَّا نُصَلِّیْہَا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِمَّا نَسِیْنَاھَا وَإِمَّا تَرَکْنَاھَا عَمَدًا یُکَبِّرُ کُلَّمَا رَکَعَ وَکُلَّمَا رَفَعَ وَکُلَّمَا سَجَدَ۔ (مسند احمد: ۱۹۷۲۳)
سیدناابو موسیٰ اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: سیدناعلی بن ابی طالب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے تو ہمیں وہ نماز یاد کرا دی ہے، جو ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ پڑھتے تھے، یا تو ہم اسے بھول گئے ہیںیا جان بوجھ کر اسے چھوڑ دیا ہے، سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ جب رکوع کرتے،(رکوع سے) اٹھتے اور سجدہ کرتے تو اللہ اکبر کہتے تھے۔
Takhreej
(۱۶۷۴) حدیث صحیح۔ أخرجہ البزار: ۵۳۵، والطحاوی فی شرح معانی الآثار : ۱/ ۲۲۱ (انظر: ۱۹۴۹۴)
1674
Sahih
۔ (۱۶۷۵) عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ الشِّخِّیْرِ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَیْنٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: صَلَّیْتُ خَلْفَ عَلِیِّ بْنِ أَبِیْ طَالِبٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ صَلاَۃً ذَکَّرَنِیْ صَلاَۃً صَلَّیْتُہَا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَالْخَلِیْفَتَیْنِ، قَالَ: فَانْطَلَقْتُ فَصَلَّیْتُ مَعَہُ فَإِذَا ھُوَ یُکَبِّرُ کُلَّمَا سَجَدَ وَکُلَّمَا رَفَعَ رَأْسَہُ مِنَ الرُّکُوعِ، فَقُلْتُ: یَا أَبَا نُجَیْدٍ مَنْ أَوَّلُ مَنْ تَرَکَہُ؟ قَالَ: عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ حِیْنَ کَبُرَ وَضَعُفَ صَوْتُہُ تَرَکَہُ۔ (مسند احمد: ۲۰۱۲۲)
سیدنا عمران بن حصین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا علی بن ابی طالب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی اقتدا میں ایک نماز پڑھی، انہوں نے تو مجھے وہ نماز یاد دلا دی، جسے میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور دو خلیفوں کے ساتھ پڑھا تھا۔ مطرف کہتے ہیں: (یہ سن کر) میں چلا گیا اور ان کے ساتھ نماز پڑھی، (میں نے دیکھا کہ) جب وہ سجدہ کرتے اور جب اپنا سر رکوع سے اٹھاتے تو تکبیر کہتے، پھر میں نے پوچھا: اے ابو نجید! سب سے پہلے کس نے اس طریقے کو ترک کیا؟ انھوں نے کہا: جب سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بوڑھے ہوئے اور ان کی آواز کمزور ہو گئی تو انھوں نے اس کو ترک کر دیا تھا۔
Takhreej
(۱۶۷۵) تخریج: حدیث صحیح۔ أخرجہ ابن خزیمۃ: ۵۸۱، وأخرج البخاری: ۸۲۶، ۷۸۶ ومسلم: ۳۹۳ بلفظ متقارب منہ (انظر: ۱۹۸۸۱، ۱۹۹۵۲)
Explanation
فوائد:… وَکُلَّمَا رَفَعَ رَأْسَہُ مِنَ الرُّکُوع (اور جب اپنا سر رکوع سے اٹھاتے تو تکبیر کہتے)۔ ایسے معلوم ہوتا ہے کہ درست الفاظ مِنَ السُّجُوْد کے ہیں، سیاق و سباق کا یہی تقاضا ہے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی کئی احادیث سے ثابت ہے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رکوع سے سر اٹھاتے وقت سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہُ کہتے تھے۔ یہ سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا عذر تھا، پھر بھی کئی اہل علم نے اس سے یہ مراد لی ہے کہ سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ مخفی انداز میں کہتے تھے اور یہ بھی ممکن ہے کہ وہ ان تکبیرات کو ترک کرنا جائز سمجھتے ہوں، بعض روایات کے مطابق سب سے پہلے ان تکبیرات کو سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے یا زیاد نے ترک کیا تھا، ممکن ہے کہ سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی اقتدا میں اور زیاد نے ان کی اقتدا میں ترک کر دی ہوں۔ بہرحال مسئلہ اپنی جگہ پر واضح ہے اور متواتراحادیث میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا ان تکبیرات والا عمل ثابت ہے۔
1675
Sahih
۔ (۱۶۷۶) عَنَ شُعْبَۃَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عِمْرَانَ رَجُلٌ کَانَ بِوَاسِطٍ قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَاللّٰہِ بْنَ عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزٰییُحَدِّثُ عَنْ أَبِیْہِ أَنَّہُ صَلّٰی مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَکَانَ لَایُتِمُّ التَّکْبِیْرَ،یَعْنِیْ إِذَا خَفَضَ وَإِذَا رَفَعَ۔ (مسند احمد: ۱۵۴۲۶)
سیدنا عبد الرحمن بن ابزی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ نماز پڑھی،آپ تکبیر نہیں کہتے تھے، یعنی جب جھکتے اور اٹھتے تھے۔
Takhreej
(۱۶۷۶) تخریج: حدیث ضعیف، أعلہ الأئمۃ لنکارتہ، فقد تفرد بہ الحسن بن عمران وھو ممن لا یحتمل تفردہ۔ أخرجہ ابوداود: ۸۳۷، والطیالسی: ۱۲۸۷ (انظر: ۱۵۳۵۲)
Explanation
فوائد:… امام ابوداود نے کہا: اس حدیث کا معنییہ ہے کہ جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رکوع سے سر اٹھاتے اور سجدہ کرنے کا ارادہ کرتے تو اللہ اکبر نہیں کہتے تھے اور اسی طرح جب سجدوں سے کھڑے ہوتے تو تکبیر نہیں کہتے تھے۔ امام بیہقی نے کہا: ممکن ہے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تکبیر کہی ہو، لیکن اس حدیث کے راوی نے نہ سنی ہو، اور اس امر کا امکان بھی ہے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جواز کے لیے تکبیر نہ کہی ہو۔ (انظر: ۱۵۳۵۲) بہرحال یہ حدیث ضعیف ہے اور کئی احادیث ِ صحیحہ کی روشنی میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے تکبیرات الانتقال منقول ہیں۔
1676
Zaeef

Chapters

30
01
نمازی کے لیے سترے کے مستحب ہونے اور اس کے قریب ہونے کا بیان اور اس کی وضاحت کہ وہ کس چیز کا ہو اور نمازی کی کس طرف ہونا چاہیے؟
10 Hadith
02
نمازی کے آگے گزرنے والے آدمی وغیرہ کو روکنے کا بیان
11 Hadith
03
نمازی اور اُس کے سترہ کے در میان سے گزرنے کے متعلق سختی کا بیان
3 Hadith
04
جو شخص اس حالت میں نماز پڑھے کہ ا س کے آگے کوئی انسان یا چوپایہ ہو
3 Hadith
05
امام کا سترہ ہی مقتدی کا سترہ ہے او ر کسی چیز کے گزر جانے سے نماز منقطع نہیں ہوتی
6 Hadith
06
سترے کے بغیر نماز پڑھنے کا بیان
4 Hadith
07
نماز کے جامع طریقے کا بیان
14 Hadith
08
نماز کے افتتاح او ر اس میںخشوع کا بیان
7 Hadith
09
تکبیر تحریمہ وغیرہ کے وقت رفع الیدین کرنے کا بیان (رفع الیدین قبل از رکوع و بعد از رکوع)
7 Hadith
10
اسی باب کی ایک فصل اس شخص کی دلیل کے متعلق جس کے خیال کے مطابق تکبیرۂ تحریمہ کے علاوہ رفع الیدین نہیں ہے
9 Hadith
11
تکبیر تحریمہ کے بعد، قراء ت سے پہلے، {وَلَاالضَّآلِّیْنَ} کہنے کے بعد اور سورت (کی تلاوت)کے بعد یعنی رکوع سے پہلے سکتوں کا بیان
4 Hadith
12
دعائے استفتاح اور قراء ت سے پہلے تعوذ کا بیان
8 Hadith
13
سورۂ فاتحہ کی تلاوت کرتے وقت {بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیْمِ} (پڑھنے) کا بیان
8 Hadith
14
سورۃ الفاتحہ کی تفسیر اور اس کی دلیل جس کا یہ خیال ہے کہ {بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ} فاتحہ کی آیت نہیں ہے
2 Hadith
15
فاتحہ پڑھنے کے وجوب کا بیان
8 Hadith
16
مقتدی کی قراء ت اور جب اپنے امام کو سنے تو اس کے خاموش ہونے کا بیان
9 Hadith
17
نماز میں بلند آواز سے قراء ت کرنے کی ممانعت، جب وہ دوسرے نمازی پر (قراء ت) گڈ مڈ کر رہا ہو
6 Hadith
18
آمین کہنے او رقراء ت میں اسے بلند آواز یاآہستہ کہنے کا بیان
5 Hadith
19
اس شخص کے حکم کا بیان جو قراء ت کا فریضہ اچھی طرح ادا نہیں کر سکتا
1 Hadith
20
پہلی دو رکعتوں میں فاتحہ کے بعد سورت پڑھنے اور دوسری دو رکعتوں میں اس کا پڑھنے کا مسنون ہونے یا نہ ہونے کا بیان
5 Hadith
21
ایک رکعت میں دو یا زائد سورتیںیا ایک سورت کابعض حصہ تلاوت کرنے اور ایک سورت یا بعض آیات کو تکرارکے ساتھ تلاوت کرنے کا بیان
7 Hadith
22
نمازوں میں قراء ت کے متعلق جامع بیان
5 Hadith
23
ظہر و عصر میں قراء ت کا بیان
11 Hadith
24
مغرب میں قراء ت کا بیان
7 Hadith
25
عشا میں قراء ت کرنے کا بیان
5 Hadith
26
صبح میں اور جمعہ کی دن کی صبح میں قراء ت کا بیان
11 Hadith
27
قراء ت کے سری اورجہری ہونے کا اور ترتیل وغیرہ کا بیان
7 Hadith
28
امام پر طاری ہونے والے (امور) اور اس کو لقمہ دینے کا حکم
3 Hadith
29
سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اور سیّدنا ابی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ کی قراء ت کا نماز میں حجت ہونے کا بیان جن کی قراء ت پر تعریف کی گئی ہے
4 Hadith
30
تکبیرات الانتقال کا بیان
14 Hadith
No chapter matched that.