TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 1769 - ظہر اور دوسری نمازوں میں قنوت کا بیان - دعائے قنوت کے ابواب - Musnad Ahmad in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 4 of 4 in this chapter
ظہر اور دوسری نمازوں میں قنوت کا بیان
۔ (۱۷۶۹) حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ حَدَّثَنِیْ أَبِیْ ثَنَا أَبُوْ قُطْنٍ وَأَبُوْ عَامِرٍ قاَلاَ حَدَّثَنَا ھِشَامٌ یَعْنِیْ الدَّسْتَوَائِیَّ عَنْ یَحْیٰی عَنْ أَبِیْ سَلَمَۃَ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: وَاللّٰہِ لَأُقَرِّبَنَّ لَکُمْ صَلاَۃَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم (وَفِیْ رِوَایَۃٍ إِنِّیْ لَأَقْرَبُکُمْ صَلاَۃَ بِرَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) قَالَ فَکَانَ أَبُوْھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌یَقْنُتُ فِی الرَّکْعَۃِ الْآخِرَۃِ مِنْ صَلاَۃِ الظُّہْرِ وَصَلاَۃِ الْعِشَائِ وَصَلاَۃِ الصُّبْحِ، قَالَ أَبُوْ عَامِرٍ فِی حَدِیْثِہِ: الْعِشَائِ الْآخِرَۃِ وَصَلاَۃِ الصُّبْحِ بَعْدَ مَا یَقُوْلُ سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہُ وَیَدْعُوْا لِلْمُؤُمِنِیْنَ وَیَلْعَنُ الْکُفَّارَ، قَالَ أَبُوْ عَامِرٍ وَیَلْعَنُ الْکَافِرِیْنَ۔ (مسند احمد: ۷۴۵۷)
سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: اللہ کی قسم! میں ضرور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی نماز تمہارے سامنے رکھوںگا،ایک روایت میں ہے:بلاشبہ نماز کے لحاظ سے میں تم میں سب سے زیادہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے قریب ہوں، پس سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے ظہر، عشاء اورفجر کی نمازوں کی آخری رکعت میں قنوت کیا کرتے تھے، جب سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہُ کہتے تھے، اس میں مؤمنوں کے لیے دعا کرتے اور کافروں پر لعنت کرتے تھے۔
1769
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Conclusion
تخریج
(۱۷۶۹) تخریج: أخرجہ البخاری: ۷۹۷، ومسلم: ۶۷۶ (انظر: ۷۴۶۴)

Related Chapters

170
1
اس شخص کا بیان جو یہ روایت کرتاہے کہ اس نماز کی دو رکعتیں (دوسری نمازوں کی) عام رکعات کی طرح ہوں گی
Musnad Ahmad
2
(89) CHAPTER. To offer the two Salat together at [the Zuhr (prayer) and the Asr (prayer)] at Arafat.
عرفات میں دو نمازوں ( ظہر اور عصر ) کو ملا کر پڑھنا
Sahih Bukhari
3
Chapter: It is recommended to say qunut in all prayers if a calamity befalls the Muslims – and refuge is sought from Allah (regarding that). It is recommended to say qunut in Subh at all times. And the clarification that it is to be said after raising the head from bowing in the final rak`ah, and it is recommended to say it out loud
جب مسلمانوں پر کوئی مصیبت نازل ہو تو تمام نمازوں میں قنوت نازلہ پڑھنا مستحب ہے
Sahih Muslim
4
ظہر کی دوسری رکعت میں (پہلی رکعت کی بہ نسبت) قیام مختصر کرنے کا بیان۔
Sunnan Nisai
5
ظہر میں دعائے قنوت پڑھنے کا بیان۔
Sunnan Nisai
6
Chapter: What Has Been Related About Hastening Zuhr
باب: ظہر جلدی پڑھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
7
Chapter: What Has Been Related About Delaying Zuhr In Severe Heat
باب: سخت گرمی میں ظہر دیر سے پڑھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
8
Chapter: : What Has Been Related About Salatul-Wusta [And It Has Been Said That It Is Zuhr]
باب: صلاۃ وسطیٰ ہی صلاۃ عصر ہے، ایک قول یہ بھی ہے کہ وہ صلاۃ ظہر ہے
Jam e Tirmazi
9
Chapter: What Has Been Related About Combining Two Prayers While [A Resident]
باب: حضر (اقامت کی حالت) میں دو نمازوں کو ایک ساتھ جمع کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
10
Chapter: [What Has Been Related] About The Virtue Of The Five Prayers
باب: پنج وقتہ نمازوں کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
11
Chapter: What Has Been Related About The Recitation For Zuhr And Asr
باب: ظہر اور عصر میں پڑھی جانے والی سورتوں کا بیان
Jam e Tirmazi
12
Chapter: What Has Been Related About A Man Who Says The Taslim After Two Rakah During The Zuhr Or Asr Prayers
باب: غلطی سے ظہر یا عصر کی دو ہی رکعت میں سلام پھیر دینے والے کا حکم
Jam e Tirmazi
13
Chapter: What Has Been Related About The Qunut In The Fajr Prayer
باب: نماز فجر میں قنوت پڑھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
14
Chapter: [What Has Been Related] About Not Performing The Qunut
باب: قنوت نہ پڑھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
15
Chapter: What Has Been Related About The Four Rak'ah Before Az-Zuhr
باب: ظہر سے پہلے چار رکعت سنت پڑھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
16
Chapter: What Has Been Related About The Two Rak'ah After Az-Zuhr
باب: ظہر کے بعد دو رکعت سنت پڑھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
17
Chapter: What Has Been Related About The Qunut In Al-Witr
باب: نماز وتر میں دعائے قنوت پڑھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
18
Chapter: What Has Been Related About Combining Two Prayers
باب: دو نمازوں کو ایک ساتھ پڑھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
19
باب: ایک ٹانگ دوسری ٹانگ پر رکھ کر چت لیٹنے کا بیان
Jam e Tirmazi
20
باب: ایک ٹانگ کو دوسری پر رکھ کر چٹ لیٹنے کی کراہت کا بیان
Jam e Tirmazi
21
باب: پانچوں نمازوں کی مثال
Jam e Tirmazi
22
بَاب الْقُنُوت
قنوت کا بیان
Mishkat
23
پانچ نمازوں کی فضیلت کا بیان اور اس چیز کا بیان کہ یہ گناہوں کا کفارہ بنتی ہیں
Musnad Ahmad
24
ظہر کے وقت اور اس کو جلدی ادا کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
25
گرمیوں کے موسم میں نمازِ ظہر کو مؤخر کرنے اور اس کو ٹھنڈا کر کے ادا کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
26
مغرب کے وقت کا بیان اور اس امر کی وضاحت کہ یہ نماز دن کی نمازوں کو طاق کرنے والی ہے
Musnad Ahmad
27
فجر اور عشا کی نمازوں کی فضیلت کا بیان
Musnad Ahmad
28
فجر اور عصر کی نمازوں کے بعد مزید نماز پڑھنے سے نہی کا بیان
Musnad Ahmad
29
کافروں کے ساتھ لڑائی کی مصروفیت کی وجہ سے نماز کو مؤخر کرنے، نمازِ خوف کی وجہ سے اس رخصت کے منسوخ ہو جانے، فوت شدہ نمازوں کو بالترتیب ادا کرنے، پہلی نماز کے لیے اذان اور اقامت کہنے اور باقی ہر فوت شدہ نماز کے لیے صرف اقامت کہنے کا بیان
Musnad Ahmad
30
پہلی دو رکعتوں میں فاتحہ کے بعد سورت پڑھنے اور دوسری دو رکعتوں میں اس کا پڑھنے کا مسنون ہونے یا نہ ہونے کا بیان
Musnad Ahmad
31
نمازوں میں قراء ت کے متعلق جامع بیان
Musnad Ahmad
32
ظہر و عصر میں قراء ت کا بیان
Musnad Ahmad
33
صبح میں قنوت اور اس کا سبب اورکیا وہ رکوع سے پہلے ہے یا اس کے بعد؟
Musnad Ahmad
34
بلند آواز سے قنوت کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
35
ان لوگوں کی دلیل کا بیان جو صبح کی نماز میں مصائب کے علاوہ قنوت نہ کرنے کے قائل ہیں
Musnad Ahmad
36
وتر میں قنوت اور اس کے الفاظ کا بیان
Musnad Ahmad
37
امام کا مردوں کے ساتھ تھوڑی دیر تک ٹھہرنا تاکہ عورتیں نکل جائیں اور فرضی اور نفلی نمازوں کے درمیان باہر جانے یا کلام کرنے یا جگہ بدلنے کے ساتھ فاصلہ کرنا
Musnad Ahmad
38
نمازوں کے بعد تسبیح، تحمید، تکبیر اوراستغفار کا بیان
Musnad Ahmad
39
نمازوں کے بعد اذکار،تعوذات، ادعیہ اور بعض سورتوں کے پڑھنے کا جامع بیان
Musnad Ahmad
40
ظہر کی سننِ رواتب اور ان کی فضیلت کا بیان
Musnad Ahmad
41
سفر میں نمازوں کو جمع کرنے کی مشروعیت
Musnad Ahmad
42
فصل اول:ظہر وعصر اور مغرب و عشاء کو تقدیم و تاخیر کے ساتھ جمع کر کے ادا کرنا
Musnad Ahmad
43
فصل دوم:ظہر و عصر کو جمع کر کے ادا کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
44
مقیم آدمی کا بارش وغیرہ کی وجہ سے نمازوں کو جمع کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
45
نماز خوف کی دوسری صورت امام ہرگروہ کو ایک ایک رکعت پڑھائے اور لوگ ایک ایک رکعت الگ الگ پڑھیں
Musnad Ahmad
46
نماز خوف کی تیسری صورت ہر گروہ کا امام کے ساتھ والی ایک رکعت پر ہی اکتفا کرنا اور دوسری کی قضائی نہ دینا
Musnad Ahmad
47
نمازِ خوف کی چوتھی صورت امام ہر گروہ کو ایک ایک رکعت پڑھا کر اس قدر انتظار کرے کہ وہ لوگ دوسری رکعت خود پڑھ لیں
Musnad Ahmad
48
نماز خوف کی ساتویں صورت ایک گروہ کا پہلی رکعت میں قیام سے لے کر پہلے سجدے تک امام کے ساتھ شریک ہونا اور دوسرے گروہ کا اُسی رکعت کے دوسرے سجدے میں شریک ہونا، پھر ’’دوسری رکعت‘‘ میں سب کا امام کے ساتھ شرکت کرنا
Musnad Ahmad
49
تلبیہ کے دورانیہ اور نمازوں کے بعد تلبیہ پکارنے کا بیان
Musnad Ahmad
50
مزدلفہ میں مغرب اور عشاء کی نمازوں کو جمع کرنے اور وہاں رات بسر کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
No related chapter matched that.

Related Hadith

6
Musnad Ahmad
1395
۔ (۱۳۹۵) عَنْ عُمَیْرِ بْنِ إِسْحَاقَ قَالَ کُنْتُ مَعَ الْحَسَنِ بْنِ عَلِیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ فَلَقِیَنَا أَبُوْھُرَیْرَۃَ فَقَالَ أَرِنِیْ أُقَبِّلُ مِنْکَ حَیْثُ رَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُقَبِِّلُ فَقَالَ بِقَمِیْصِہِ قَالَ فَقَبَّلَ سُرَّتَہُ۔ (مسند احمد: ۷۴۵۵)
عمیر بن اسحاق کہتے ہیں کہ میں حسن بن علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کے ساتھ تھا، سیّدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ہمیں ملے اور کہنے لگے: ادھر آئو میں تمہیں اس مقام پر بوسہ دوں جہاں میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو بو سہ دیتے ہوئے دیکھا تھا، پھر انھوں نے قمیص اٹھا کر ان کی ناف پر بوسہ دیا۔
Musnad Ahmad
1567
۔ (۱۵۶۷) عَنِ الْعَلَائِ بْنِ عَبْدِالرَّحَمَنِ بْنِ یَعْقُوبَ أَنَّ أَبَا السَّائِبِ مَوْلٰی ھِشَامِ بْنِ زُھْرَۃَ أَخْبَرَہُ أَنَّہُ سَمِعَ أَبَا ھُرَیْرَۃَیَقُوْلُ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ صَلّٰی صَلَاۃً لَمْ یَقْرَأْ فِیْہَا بِأُمِّ الْقُرْآنِ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ بِفَاتِحَۃِ الْکِتَابِ) فِھَی خِدَاجٌ، ھِیَ خِدَاجٌ غَیْرُ تَمَامٍ۔)) قَالَ أَبُوْ السَّائِبِ لِأَبِیْ ھُرَیْرَۃَ: إِنِّیْ أَکُوْنُ أَحْیَانًا وَرَائَ الإِْمَامِ، قَالَ أَبُوْ السَّائِبِ: فَغَمَزَ أَبُوْھُرَیْرَۃَ ذِرَاعِیْ، فَقَالَ: یَافَارِسِیُّ! اِقْرَأْھَا فِیْ نَفْسِکَ ،إِنِّی سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((قَالَ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ: قَسَمْتُ الصَّلَاۃَ بَیْنِیْ وَبَیْنَ عَبْدِیْ نِصْفَیْنِ فَنِصْفُہَا لِیْ وَنِصْفُہَا لِعَبْدِیْ وَلِعَبْدِیْ مَا سَأَلَ۔)) قَالَ أَبُوْھُرَیْرَۃَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِقْرَئُوْا یَقُوْلُ فَیَقُوْلُ الْعَبْدُ: {اَلَحْمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ} فَیَقُوْلُ اللّٰہُ: حَمِدَنِیْ عَبْدِیْ، وَیَقُوْلُ الْعَبْدُ: {اَلرَّحْمٰنِ الرْحِیْمِ} فَیَقُوْلُ اللّٰہُ: أَثْنٰی عَلَیَّ عَبْدِیْ، فَیَقُوْلُ الْعَبْدُ: {مَالِکِ یَوْمِ الدِّیِن} فَیَقُوْلُ اللّٰہُ: مَجَّدَنِیْ عَبْدِیْ، وَقَالَ: ھٰذِہٖبَیْنِیْ وَبَیْنَ عَبْدِیْ،یَقُوْلُ الْعَبْدُ: {إِیَّاکَ نَعْبُدُ وَإِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ} قَالَ: أَجِدُھاَ لِعَبْدِیْ وَلِعَبْدِیْ مَا سأَلَ، قَالَ یَقُوْلُ عَبْدِیْ: {اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَـقِیْمَ۔ صِرَاطَ الَّذِیْنَ أَنْعَمْتَ عَلَیْہِمْ غَیْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَیْہِمْ وَلَا الضَّالِّیْنَ} یَقُوْلُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ: ھٰذَا لِعَبْدِیْ وَلِعَبْدِیْ مَا سَأَلَ۔)) (مسند احمد: ۷۸۲۳)
سیّدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے نماز پڑھی اور اس میں اس نے ام القرآن یعنی سورۂ فاتحہ نہیں پڑھی تو وہ نماز ناقص ہے، ناقص ہے، نامکمل ہے۔ ابو لسائب نے سیّدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہا: بسا اوقات میں امام کے پیچھے ہوتا ہوں، (تو اس وقت میں فاتحہ کی تلاوت کیسے کروں)؟ سیّدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے جواب دیتے ہوئے میرے بازو کو دبایا اور کہا: اے فارسی! اسے اپنے دل میں پڑھ لیاکر، کیونکہ میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا : اللہ تعالیٰ کہتا ہے: میں نے نماز (یعنی سورۂ فاتحہ) کو اپنے اور اپنے بندے کے درمیان دو حصوں میں تقسیم کیا ہے، اس کا نصف میرے لیے ہے اور نصف میرے بندے کے لیے ، اور میرے بندے کے لیے وہ ہے جو وہ سوال کرے۔ سیّدناأبو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: فاتحہ پڑھو، جب بندہ {اَلَحْمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ} پڑھتا ہے تو اللہ فرماتاہے: میرے بندے نے میری تعریف کی ہے۔ جب بندہ {اَلرَّحْمٰنِ الرْحِیْمِ} کہتا ہے تو اللہ فرماتا ہے: میرے بندے نے میری ثنا بیان کی، جب بندہ {مَالِکِ یَوْمِ الدِّیِن} پڑھتا ہے تو اللہ فرماتا ہے: میرے بندے نے میری شان بیان کی ۔ اور اللہ تعالیٰ کہتا ہے: یہ (اگلی آیت) میرے اور میرے بندے کے درمیان ہے، جب بندہ کہتا ہے: {إِیَّاکَ نَعْبُدُ وَإِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ} کہتا ہے تو اللہ فرماتا ہے: میں اس (آیت کے دوسرے جملے کو) اپنے بندے کے لیے پاتا ہوں اور میرے بندے کے لیے وہ ہے جو اس نے سوال کیا،جب بندہ کہتا ہے: {اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَـقِیْمَ۔ صِرَاطَ الَّذِیْنَ أَنْعَمْتَ عَلَیْہِمْ غَیْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَیْہِمْ وَلَا الضَّالِّیْنَ} تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: یہ میرے بندے کے لیے ہے اور میرے بندے کے لیے وہ ہے جو اس نے سوال کیا ہے۔
Musnad Ahmad
1673
۔ (۱۶۷۳) عَنْ سَعِیْدِ بْنِ الْحَارِثِ قَالَ: اِشْتَکٰی أَبُوْھُرَیْرَۃَ أَوْغَابَ فَصَلّٰی بِنَا أَبُوْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیُّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ فَجَہَرَ بِالتَّکْبِیْرِ حِیْنَ افْتَتَحَ الصَّلاَۃَ وَحِیْنَ رَکَعَ وَحِیْنَ قَالَ سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہُ وَحِیْنَ رَفَعَ رَأَسَہُ مِنَ السُّجُوْدِ وَحِیْنَ سَجَدَ وَحِیْنَ قَامَ بَیْنَ الرَّکْعَتَیْنِ حَتّٰی قَضٰی صَلاَتَہُ عَلٰی ذٰلِکَ، فَلَمَّا صَلّٰی، قِیْلَ لَہُ: قَدِ اخْتَلَفَ النَّاسُ عَلٰی صَلاَتِکَ، فَخَرَجَ فَقَامَ عِنْدَ الْمِنْبَرِ فَقَالَ: أَیُّہَا النَّاسُ، وَاللّٰہِ مَاأُبَالِیْ، اِخْتَلَفَتْ صَلاَتُکُمْ أَوْلَمْ تَخْتَلِفْ، ھٰکَذَا رَأَیْتُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُصَلِّیْ۔ (مسند احمد: ۱۱۱۵۷)
سعید بن حارث کہتے ہیں: سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیمار ہوگئے تھے یا کہیں گئے ہوئے تھے، بہرحال ہمیں سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے نماز پڑھائی، انھوں نے نماز شروع کرتے وقت، رکوع کرتے وقت، رکوع سے اٹھنے کے لیے سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہُ کہنے کے بعد، سجدہ سے سر اٹھاتے وقت، سجدہ کرتے وقت اور دو رکعتوں کے بعد (تیسری رکعت کے لیے) کھڑا ہوتے وقت اللہ اکبر کہا، حتی کہ انھوں نے اسی طریقے پر نماز پوری کی، جب انھوں نے نماز پڑھ لی تو کسی نے ان سے کہا: لوگوں نے آپ کی نماز پر اعتراض کیا ہے، (یہ سن کر) وہ نکل کر منبر کے پاس کھڑے ہوئے اور کہا: اللہ کی قسم! میں کوئی پرواہ نہیں کرتا کہ تمہاری نماز مختلف ہے یا نہیں ہے، میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو ایسے ہی نماز پڑھتے ہوئے دیکھا تھا۔
Musnad Ahmad
6661
۔ (۶۶۶۱)۔ عَنْ سُہَیْلٍ عَنْ اَبِیْہِ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((کُلُّ ابْنِ آدَمَ لَہُ حَظُّہُ مِنَ الزِّنَا، فَزِنَا الْعَیْنَیْنِ النَّظْرُ، وَزِنَا الْیَدَیْنِ الْبَطْشُ، وَزِنَا الرِّجْلَیْنِ الْمَشْیُ، وَزِنَا الْفَمِ الْقُبَلُ وَالْقَلْبُ یَہْوِیْ وَیَتَمَنَّی وَیُصَدِّقُ ذَالِکَ أَوْ یُکَذِّبُہُ الْفَرْجُ۔)) وَحَلَّقَ عَشْرَۃً ثُمَّ أَدْخَلَ أُصْبُعَہُ السَّبَابَۃَ فِیْہَا،یَشْہَدُ عَلٰی ذَالِکَ أَبُوْھُرَیْرَۃَ، لَحْمُہُ وَدَمُہُ۔ (مسند احمد: ۱۰۹۳۳)
۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: آدم کے ہر بیٹے کا زنا میں حصہ ہے، آنکھوں کا زنا دیکھنا ہے، ہاتھوں کا زنا پکڑنا ہے، پائوں کا زنا چلنا ہے،منہ کا زنا بوسہ لینا ہے اور دل اس کی خواہش اور تمنا کرتا ہے اور پھر شرمگاہ ان امور کی تصدیق کرتی ہے یا تکذیب۔ پھر سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے دس کے عدد کا حلقہ بنایا اور دوسرے ہاتھ کی انگشت ِ شہادت کو اس میں داخل کیا اور کہا:ابوہریرہ کا گوشت اور خون اس پر گواہی دیتا ہے۔
Musnad Ahmad
6862
۔ (۶۸۶۲)۔ عَنِ ابْنِ الْمُسَیَّبِ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خَطَبَ أُمَّ ھَانِیئٍ بِنْتَ اَبِی طَالِبٍ فَقَالَتْ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! إِنِّی قَدْ کَبُرْتُ وَلِیَ عِیَالٌ، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((خَیْرُ نِسَائٍ رَکِبْنَ نِسَائُ قُرَیْشٍ، اَحْنَاہُ عَلٰی وَلَدٍ فِی صِغَرِہِ وَاَرْعَاہُ عَلٰی زَوْجٍ فِی ذَاتِ یَدِہِ۔)) قَالَ أَبُوْھُرَیْرَۃَ: وَلَمْ تَرْکَبْ مَرْیَمُ بِنْتُ عِمْرَانَ بَعِیْرًا۔ (مسند احمد: ۷۶۳۷)
۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ام ہانی بنت ابی طالب کو منگنی کا پیغام بھیجا۔ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میری عمر بڑی ہے اور میرے بال بچے بھی ہیں۔ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بہترین عورتیں جو اونٹ پر سوار ہوتی ہیں، وہ قریش کی عورتیں ہیں، وہ اپنے چھوٹے بچوں پر بے حد شفقت کرتی ہیں اور خاوند کی ملکیت کی بے حد حفاظت کرتی ہیں۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: سیدنا مریم بنت عمران کبھی اونٹ پر سوار نہیں ہوئی تھیں۔
Musnad Ahmad
7046
۔ (۷۰۴۶)۔ عَنْ عِکْرَمَۃَ بْنِ عَمَّارٍ سَمِعْتُ أَبَا غَادِیَۃَ الْیَمَانِیَّ قَالَ: أَتَیْتُ الْمَدِیْنَۃَ فَجَائَ رَسُوْلُ کَثِیْرِ بْنِ الصَّلْتِ فَدَعَا ھُمْ، فَمَا قَامَ اِلَّا أَبُوْ ھُرَیْرَۃَ وَخَمْسَۃٌ مِنْہُمْ، اَنَا أَحَدُھُمْ، فذَھَبُوْا فَأَکَلُوْا، ثُمَّ جَائَ أَبُوْھُرَیْرَۃَ فَغَسَلَ یَدَہ، ثُمَّ قَالَ: وَاللّٰہِ! یَا أَھْلَ الْمَسْجِدِ اِنَّکُمْ لَعُصَاۃٌ لِأَبِی الْقَاسِمِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند احمد: ۷۸۷۱)
۔ ابو غادیہیمانی سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں مدینہ میں آیا، کثیر بن صلت کا قاصد آیا اور اس نے مسجد والوں کو دعوت دی، صرف سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور مزید پانچ آدمی کھڑے ہوئے، میں ان میں ایک تھا، پس یہ لوگ گئے اور کھانا کھایا، جب سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ واپس آئے تو انھوں نے ہاتھ دھوئے اور کہا: اللہ کی قسم! اے اہل مسجد! بیشک تم ابو القاسم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے نافرمان ہو۔