۔ (۱۶۵)۔عَنْ سَعْدٍ بْنِ أَبِیْ وَقَّاصٍؓ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وَہُوَ یَقُوْلُ: ((اِنَّ الْاِیْمَانَ بَدَأَ غَرِیْبًا وَسَیَعُوْدُ کَمَا بَدَأَ، فَطُوْبٰی یَوْمَئِذٍ لِلْغُرَبَائِ اِذَا فَسَدَ الزَّمَانُ، وَالَّذِیْ نَفْسُ أَبِی الْقَاسِمِ بِیَدِہِ لَیَأْرِزَنَّ الْاِیْمَانُ بَیْنَ ہَذَیْنِ الْمَسْجِدَیْنِ کَمَاتَأْرِزُ الْحَیَّۃُ فِی جُحْرِہَا۔)) (مسند أحمد: ۱۶۰۴)
سیدنا سعد بن ابی وقاص ؓ سے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: بیشک اجنبیت کی حالت میں اسلام کا ظہور شروع ہوا تھا اور عنقریب یہ ایسے ہی ہو جائے، جیسے ابتداء کے وقت تھا، بہرحال اُس وقت کے اجنبیت والوں کے لیے خوشخبری ہے، جبکہ باقی زمانے میں فساد آ چکا ہو گا۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں ابو القاسم کی جان ہے! ایمان ان دومسجدوں کی طرف اس طرح پناہ لے گا، جیسے سانپ اپنے بل کی طرف پناہ پکڑتا ہے۔
Takhreej
(۱۶۵) تخریج: اسنادہ جیّد ۔ أخرجہ ابویعلی: ۷۵۶، والبزار: ۱۱۱۹ (انظر: ۱۶۰۴)
Explanation
فوائد: …اگرچہ اس وقت دنیا پر اسلام کا خاصہ شہرہ ہے اور اس کو ماننے والوں کی تعداد بھی بہت زیادہ ہے، بہرحال عملی اور حقیقی اسلام میں کچھ اجنبیت کا احساس پایا جا رہا ہے، اصل دین اور اس کے تقاضے اکثر مسلمانوں کے ہاں غیر متعارف ہوتے جا رہے ہیں۔ اس حدیث ِ مبارکہ میں جو پیشن گوئی کی گئی ہے، اس کا عملی ظہور آخری زمانہ میں ہو گا، ممکن ہے کہ ایسا اس وقت ہو جب دجال کے خروج کا وقت قریب آ جائے گا یا جب بہت زیادہ فتنے ظہور پذیر ہو جائیں گے اور کافر اور ظالم لوگ مسلم ممالک پر غالب آ جائے گے، اس وقت اہل ایمان اپنے ایمان کے تحفظ کے لیے حرمین شریفین میں پہنچ جائیں گے۔
165
Sahih