TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

سلام کی تخفیف کا اور اس کے ساتھ ہاتھ کے اشارے کی کراہیت کا بیان - سلام کی تخفیف کا اور اس کے ساتھ ہاتھ کے اشارے کی کراہیت کا بیان - سلام کے ساتھ نماز سے خارج ہونے اور اس کے متعلقات کا بیان - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 2 of سلام کے ساتھ نماز سے خارج ہونے اور اس کے متعلقات کا بیان in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 2 of 7 · 3 Hadith
۔ (۱۸۳۴) عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَذْفُ السَّلاَمِ سُنَّۃٌ۔ (مسند احمد: ۱۰۸۹۸)
سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: سلام کی تخفیف سنت ہے۔
Takhreej
(۱۸۳۴) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف قرۃ بن عبد الرحمن۔ أخرجہ ابوداود: ۱۰۰۴، وبأثرہ: قال عیسی: نھانی ابن المبارک عن رفع ھذ الحدیث، وأخرجہ مرفوعا ابن خزیمۃ: ۷۳۴، والحاکم: ۱/ ۲۳۱ (انظر: ۱۰۸۸۵)
Explanation
فوائد:… اس حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ سلام کے الفاظ کو لمبا کر کے ادا نہ کیا جائے، بلکہ امام کو چاہیے کہ وہ مناسب جلدی کے ساتھ سلام کہہ دے۔ اہل علم نے اسی صورت کو مستحب سمجھا ہے۔
1834
Zaeef
۔ (۱۸۳۵) عَنْ جَابِرِ بِنْ سَمُرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ کُنَّا إِذَا صَلَّیْنَا وَرَائَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قُلْنَا: اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ بَأَیْدِیْنَایَمِیْنًا وَّشِمَالًا فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَابَالُ أَقْوَامٍ یَرْمُوْنَ بَأَیْدِیْہِمْ کَأَنَّہَا أَذْنَابُ الْخَیْلِ الشُّمْسِ أَلَا یَسْکُنُ أَحَدُکُمْ وَیُشِیْرُ بِیَدِہِ عَلٰی فَخِذِہٖثُمَّیُسَلِّمُ عَلٰی صَاحِبِہِ عَنْ یَّمِیْنِہِ وَعَنْ شِمَالِہِ۔)) (مسند احمد: ۲۱۰۹۱)
سیدناجابر بن سمرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: جب ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی اقتداء میں نماز پڑھتے تو ہاتھوں کے ساتھ دائیں بائیں اشارہ کر کے اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ کہتے۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ان لوگوں کا کیاحال ہے جو نماز میں اپنے ہاتھوں کے ساتھ یوں اشارہ کرتے ہیں جیسے وہ سرکش گھوڑوں کی دمیں ہیں، کیا تم میں سے ہر ایک کو یہ صورت کفایت نہیں کرتی کہ اپنا ہاتھ ران پر ہی رکھے اور دائیں بائیں سلام پھیر دے۔
Takhreej
(۱۸۳۵) تخریج: أخرجہ مسلم: ۴۳۱ (انظر: ۲۰۸۰۶)
1835
Sahih
۔ (۱۸۳۶) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیقٍ ثَانٍ) قَالَ: کُنَّا نَقُوْلُ خَلْفَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِذَا سَلَّمْنَا: اَلسَّلاَمَ عَلَیْکُمْیُشِیْرُ أَحَدُنَا بِیَدِہِ عَنْ یَمِیْنِہِ وَعَنْ شِمَالِہِ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَا بَالُ الَّذِیْنَیَرْمُوْنَ بَأَیْدِیْہِمْ فِیِ الصَّلاَۃِ کَأَنَّہَا أَذْنَابُ الْخَیْلِ الشُّمْسِ، أَلاَ یَکْفِیْ أَحَدَکُمْ أَنْ یَضَعَیَدَہُ عَلٰی فَخِذِہِ ثُمَّ یُسَلِّمُ عَنْ یَمِیْنِہِ وَعَنْ شِمَالِہِ۔)) (مسند احمد: ۲۱۲۸۱)
۔ (دوسری سند)انھوں نے کہا: ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی اقتدا میں جب سلام پھیرتے تو اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ کہتے اور ہم میں سے ہر کوئی اپنے ہاتھ سے دائیں اور بائیں اشارہ بھی کرتا، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ان لوگوں کا کیا حال ہے جو نماز میں اپنے ہاتھوں سے یوں اشارہ کرتے ہیں جیسے وہ سرکش گھوڑوں کی دمیں ہیں، کیاتم میں سے ایک فرد کو اتنا کافی نہیں ہے کہ وہ اپنا ہاتھ ران پر ہی رکھے اور پھردائیں بائیں سلام پھیر دے۔
Takhreej
(۱۸۳۶) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول (انظر: ۲۰۹۷۲)
Explanation
فوائد:… حدیث ِ مبارکہ کا مفہوم واضح ہے اور ہمارے ہاں اسی سنت کے مطابق سلام پھیرا جاتا ہے۔ ایک تنبیہ ضروری ہے کہ سیدنا جابر بن سمرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی اس موضوع سے متعلقہ مختصر روایت سے احناف نے یہ استدلال کشید کرنے کی کوشش کی ہے کہ رکوع والے رفع الیدین سے منع کیا جا رہا ہے، لیکن حقیقت ِ حال یہ ہے کہ ان کا یہ استدلال انتہائی کمزور ہے، کیونکہ تفصیلی روایت میں سلام کے وقت اشارہ کرنے کی وضاحت موجود ہے۔
1836
Sahih