TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 1867 - نمازوں کے بعد تسبیح، تحمید، تکبیر اوراستغفار کا بیان - نماز کے بعد کیے جانے والے اذکار کے ابواب - Musnad Ahmad in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 7 of 8 in this chapter
نمازوں کے بعد تسبیح، تحمید، تکبیر اوراستغفار کا بیان
۔ (۱۸۶۷) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیقٍ ثَانٍ) قَالَ: نَزَلَ بِأَبِی الدَّرْدَائِ رَجُلٌ فَقَالَ أَبُوْ الدَّرْدَائِ: مُقِیْمٌ فَنُسَرِّحُ أَمْ ظَاعِنٌ فَنَعْلِفُ؟ قَالَ: بَلْ ظَاعِنٌ، قَالَ: فَإِنِّیْ سَأُزَوِّدُکَ زَادًا لَوْ أَجِدُ مَا ھُوَ أَفْضَلُ مِنْہُ لَزَوَّدْتُکَ، أَتَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقُلْتُ: یاَرَسُوْلَ اللّٰہِ! ذَھَبَ الْأَغْنِیَائُ بِالدُّنْیَا وَالْآخِرَۃِ، نُصَلِّیْ وَیُصَلُّوْنَ وَنَصُوْمُ وَیَصُوْمُوْنَ، وَیَتَصَدَّقُوْنَ وَلاَ نَتَصَدَّقُ۔ قَالَ: أَلاَ أَدُلُّکَ عَلٰی شَیْئٍ إِنْ أَنْتَ فَعَلْتَہُ لَمْ یَسْبِقْکَّ أَحَدٌ کَانَ قَبْلَکَ وَلَمْ یُدْرِکْکَّ أَحَدٌ بَعْدَکَ إِلاَّ مَنْ فَعَلَ الَّذِیُْ نَفْعَلُ، دُبُرَ کَلِّ صَلاَۃٍ ثَلَاثًا وَثَلاَثِیْنَ تَسْبِیْحَۃً، وَثَلاَثًا وَثَلاَثِیْنَ تَحْمِیْدَۃً، وَأَرْ بَعًا وَثَلاَثِیْنَ تَکْبِیْرَۃً۔ (مسند احمد: ۲۲۰۵۲)
۔ (دوسری سند)سیدنا ابو درداء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس ایک آدمی بطور مہمان آیا، انھوں نے اس سے پوچھا: کیا تم ٹھہرو گے کہ ہم سواری کو چراگاہ میں لے جائیںیا چلے جاؤ گے کہ ہم اس کو یہیں چارہ ڈال دیں؟ اس نے کہا: جی، میں تو جانے والا ہوں۔ یہ سن کر انھوں نے کہا: تو پھرمیں تجھے زاد راہ دیتا ہے اور وہ ایسا زادِ راہ ہے کہ اگر کوئی چیز اس سے بہتر ہوتی تو میں تجھے وہ دے دیتا، (تفصیلیہہے) کہ میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول ! مالدار لوگ تو دنیا و آخرت لیے جا رہے ہیں، ہم نماز پڑھتے ہیں، وہ بھی نماز پڑھتے ہیں، ہم روزہ رکھتے ہیں، وہ بھی روزہ رکھتے ہیں، لیکن وہ صدقہ کرتے ہیں اور ہم صدقہ نہیں کرتے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیامیں تیری رہنمائی ایسی چیز کی طرف کر دوں کہ اگر تو نے اس پر عمل کیا تو تجھ سے پہلے والے بھی تجھ سے سبقت نہیں لے جا سکیں گے اور تیرے بعد والے بھی (تیرے مقام) کو نہیں پہنچ پائیں گے، مگر وہ جو تیرے والا ہی عمل کرے گا۔ ہر نماز کے بعدتینتیس دفعہ سُبْحَانَ اللّٰہِ، تینتیس دفعہ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ ِاور چونتیس مرتبہ اَللّٰہُ اَکْبَرُ کہنا۔
1867
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Conclusion
تخریج
(۱۸۶۷) تخریج: صحیح بطرقہ و شواھدہ۔ أخرجہ الطیالسی: ۹۸۲، والطبرانی فی الدعائ : ۷۱۱، والنسائی فی عمل الیوم واللیلۃ کما فی تحفۃ الأشراف : ۸/ ۲۳۷، وابن ابی شیبۃ: ۱۰/ ۲۳۵ (انظر: ۲۱۷۰۹) وانظر الحدیث بالطریق الاول

Related Chapters

72
1
Chapter: What Has Been Related About The Virtue Of At-Tasbih, At-Takbir, At-Tahlil, And At-Tahmid
باب: تسبیح، تکبیر، تہلیل اور تحمید کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
2
بَاب ثَوَابُ التَّسْبِيحِ وَالتَّحْمِيدِ
تسبیح ، تحمید ، تہلیل اور تکبیر کے ثواب کا بیان
Mishkat
3
Chapter: What Has Been Related About At-Tasbih At The End Of Salat
باب: نماز کے بعد کی تسبیح (اذکار) کا بیان
Jam e Tirmazi
4
فجر اور عصر کی نمازوں کے بعد مزید نماز پڑھنے سے نہی کا بیان
Musnad Ahmad
5
نمازوں کے بعد اذکار،تعوذات، ادعیہ اور بعض سورتوں کے پڑھنے کا جامع بیان
Musnad Ahmad
6
تلبیہ کے دورانیہ اور نمازوں کے بعد تلبیہ پکارنے کا بیان
Musnad Ahmad
7
سورۂ نصر کی تفسیر اور اس کے نزول کے بعد نبی کریم کا تسبیح پڑھنے کا بیان
Musnad Ahmad
8
(4) CHAPTER. One should make Witr as the last Salat (prayer) (at night).
نماز وتر رات کی تمام نمازوں کے بعد پڑھی جائے
Sahih Bukhari
9
(12) CHAPTER. Whoever offered Nawafil (optional - non-obligatory) prayers, not after the compulsory Salat (prayer) but before it.
فرض نمازوں کے بعد اور اول کی سنتوں کے علاوہ اور دوسرے نفل سفر میں پڑھنا
Sahih Bukhari
10
(11) CHAPTER. Saying Takbir (Allahu Akbar) and Tasbih (Subhan Allah) on going to bed.
سو تے وقت تکبیر و تسبیح پڑھنا
Sahih Bukhari
11
سلام پھیرنے کے بعد کی تسبیح کی تعداد کا بیان۔
Sunnan Nisai
12
سورج گرہن کے وقت تسبیح و تکبیر پڑھنے اور دعا کرنے کا بیان۔
Sunnan Nisai
13
Chapter: What Has Been Related About Combining Two Prayers While [A Resident]
باب: حضر (اقامت کی حالت) میں دو نمازوں کو ایک ساتھ جمع کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
14
Chapter: [What Has Been Related] About The Virtue Of The Five Prayers
باب: پنج وقتہ نمازوں کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
15
Chapter: What Has Been Related About At-Tasbih While Bowing And Prostrating
باب: رکوع اور سجدے میں تسبیح کا بیان
Jam e Tirmazi
16
Chapter: What Has Been Related About Salatul-Tasbih
باب: صلاۃ التسبیح کا بیان
Jam e Tirmazi
17
Chapter: What Has Been Related About Combining Two Prayers
باب: دو نمازوں کو ایک ساتھ پڑھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
18
باب: پانچوں نمازوں کی مثال
Jam e Tirmazi
19
Chapter: Something Else: Regarding The Virtue Of At-Tasbih, At-Tahmud, And At-Takbir At The End Of The Prayers And When Going To Sleep
باب: سوتے وقت ذکرو تسبیح سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
20
Chapter: What Has Been Related About Counting The Tasbih On The Hand
باب: انگلیوں پر تسبیح گننے کا بیان
Jam e Tirmazi
21
Chapter: Concerning the Virtue of Tasbih, Tahlil, and Taqdis
باب: تسبیح، تہلیل اور تقدیس کا بیان
Jam e Tirmazi
22
بَاب صَلَاة التَّسْبِيح
نماز تسبیح کا بیان
Mishkat
23
پانچ نمازوں کی فضیلت کا بیان اور اس چیز کا بیان کہ یہ گناہوں کا کفارہ بنتی ہیں
Musnad Ahmad
24
مغرب کے وقت کا بیان اور اس امر کی وضاحت کہ یہ نماز دن کی نمازوں کو طاق کرنے والی ہے
Musnad Ahmad
25
فجر اور عشا کی نمازوں کی فضیلت کا بیان
Musnad Ahmad
26
کافروں کے ساتھ لڑائی کی مصروفیت کی وجہ سے نماز کو مؤخر کرنے، نمازِ خوف کی وجہ سے اس رخصت کے منسوخ ہو جانے، فوت شدہ نمازوں کو بالترتیب ادا کرنے، پہلی نماز کے لیے اذان اور اقامت کہنے اور باقی ہر فوت شدہ نماز کے لیے صرف اقامت کہنے کا بیان
Musnad Ahmad
27
نمازوں میں قراء ت کے متعلق جامع بیان
Musnad Ahmad
28
ظہر اور دوسری نمازوں میں قنوت کا بیان
Musnad Ahmad
29
امام کا مردوں کے ساتھ تھوڑی دیر تک ٹھہرنا تاکہ عورتیں نکل جائیں اور فرضی اور نفلی نمازوں کے درمیان باہر جانے یا کلام کرنے یا جگہ بدلنے کے ساتھ فاصلہ کرنا
Musnad Ahmad
30
سفر میں نمازوں کو جمع کرنے کی مشروعیت
Musnad Ahmad
31
مقیم آدمی کا بارش وغیرہ کی وجہ سے نمازوں کو جمع کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
32
اس شخص کا بیان جو یہ روایت کرتاہے کہ اس نماز کی دو رکعتیں (دوسری نمازوں کی) عام رکعات کی طرح ہوں گی
Musnad Ahmad
33
مزدلفہ میں مغرب اور عشاء کی نمازوں کو جمع کرنے اور وہاں رات بسر کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
34
منیٰ میں نمازوں کو قصر کرکے ادا کرنے اور ان دنوں میں روزہ کے ناجائز ہونے کا بیان
Musnad Ahmad
35
تسبیح کی مختلف انواع کا بیان
Musnad Ahmad
36
تحمید اور اس کی فضیلت کا بیان
Musnad Ahmad
37
(95) CHAPTER. Recitation of the Quran (Surat Al-Fatiha) is compulsory for the Imam and the followers, at home and on journey, in all As-Salat (the prayers) whether the recitation is done silently or aloud.
امام اور مقتدی کے لیے قرآت کا واجب ہونا ، حضر اور سفر ہر حالت میں ، سری اور جہری سب نمازوں میں
Sahih Bukhari
38
(111) CHAPTER. Saying of Amin aloud by the Imam.
( جہری نمازوں میں ) امام کا بلند آواز سے آمین کہنا
Sahih Bukhari
39
(139) CHAPTER. To invoke and glorify Allah in prostration.
سجدہ میں تسبیح اور دعا کا بیان
Sahih Bukhari
40
(3) CHAPTER. To perform a long prostration in the Tahajjud (night prayer).
رات کی نمازوں میں لمبے سجدے کرنا
Sahih Bukhari
41
(7) CHAPTER. Sahw (forgetfulness) in compulsory Salat (prayer) and Nawafil.
سجدہ سہو فرض اور نفل دونوں نمازوں میں کرنا چاہیے
Sahih Bukhari
42
(89) CHAPTER. To offer the two Salat together at [the Zuhr (prayer) and the Asr (prayer)] at Arafat.
عرفات میں دو نمازوں ( ظہر اور عصر ) کو ملا کر پڑھنا
Sahih Bukhari
43
(63) CHAPTER. The saying of Amin.
( جہری نمازوں میں ) بالجہر آمین کہنے کی فضیلت کا بیان
Sahih Bukhari
44
Chapter: Explaining the prayers which are one of the pillars of Islam
نمازوں کا بیان ، یہ اسلام کے ارکان میں سے ایک ہے
Sahih Muslim
45
Chapter: The night journey on which the messenger of Allah (saws) was taken up into the heavens and the prayers were enjoined
رسو ل اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ کو رات کے وقت آسمانوں پر لے جانا اور نمازوں کی فرضیت
Sahih Muslim
46
Chapter: Men Saying The Tasbih And Women Clapping If They Notice Anything During The Prayer
نماز میں اگر کوئی بات پیش آ جائے تو مرد تسبیح کہے اور عورت ہاتھ (کی پشت) پر ہاتھ مارے
Sahih Muslim
47
Chapter: Moderation When Reciting Qur'an In A Prayer When It Is To Be Recited Out Loud, And Making it Neither Too Loud Nor Too Soft, And When There Is The Fear Of Negative Consequences If It Is Recited Out Loud
جہری نمازوں میں جب بلند قراءت کی وجہ سے کسی خرابی کا اندیشہ ہو تو جہر اور آہستہ کے مابین درمیانی آواز میں قراءت کرنا
Sahih Muslim
48
Chapter: It is recommended to say qunut in all prayers if a calamity befalls the Muslims – and refuge is sought from Allah (regarding that). It is recommended to say qunut in Subh at all times. And the clarification that it is to be said after raising the head from bowing in the final rak`ah, and it is recommended to say it out loud
جب مسلمانوں پر کوئی مصیبت نازل ہو تو تمام نمازوں میں قنوت نازلہ پڑھنا مستحب ہے
Sahih Muslim
49
Chapter: The Tasbih At The Beginning Of The Day And When Going To Sleep
دن کے آغاز اور سوتے وقت تسبیح کرنا
Sahih Muslim
50
Chapter: The Attributes Of Paradise And Its People, And Their Glorifying Allah Every Morning And Evening
جنت اور اہل جنت کی صفات اور اس میں صبح و شام ان کی تسبیحات
Sahih Muslim
No related chapter matched that.

Related Hadith

12
Musnad Ahmad
1866
۔ (۱۸۶۶) عَنْ أَبِیْ عُمَرَ الصِّیْنِیِّ عَنْ أَبِیْ الدَّرْدَائِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّہُ کَانَ إِذَا نَزَلَ بِہِ ضَیْفٌ قَالَ: یَقُوْلُ لَہُ أَبُوْ الدَّرْدَائِ: مُقِیْمٌ فَنُسَرِّحُ أَوْظَاعِنٌ فَنَعْلِفُ؟ قَالَ: فَإِنْ قَالَ لَہُ ظَاعِنٌ قَالَ لَہُ: مَاأَجِدُ لَکَ شَیْئًا خَیْرًا مِنْ شَیْئٍ أَمَرَنَا بِہِ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قُلْنَا: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! ذَھَبَ الْأَغْنِیَائُ بِالْأَجْرِ، یَحُجُّونَ وَلاَ نَحُجُّ، وَیُجَاھِدُوْنَ وَلاَ نُجَاھِدُ، وَکَذَا وَکَذَا، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أَلاَ أَدُلُّکُمْ عَلٰی شَیْئٍ إِنْ أَخَذْتُمْ بِہِ جِئْتُمْ مِنْ أَفْضَلِ مَایَجِیئُ بِہِ أَحَدٌ مِنْہُمْ، أَنْ تُکَبِّرُوا اللّٰہَ أَرْبَعًاوَثَلاَ ثِیْنَ، وَتُسَبِّحُوْہُ ثَلاَثًا وَّثَلاَثِیْنَ وَتَحْمَدُوْا ثَلاَثًا وَّ ثَلاَثِیْنَ فِیْ دُبُرِ کُلِّ صَلاَۃٍ۔)) (مسند احمد: ۲۸۰۶۵)
ابو عمر صینی کہتے ہیں: سیدناابو درداء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس جب کوئی مہمان آتا تو وہ اسے کہتے: کیا آپ ٹھہریں گے کہ ہم آپ کی سواری کو چراگاہ میں چرائیںیا آپ جائیں گے کہ ہم یہیںاس کو چارہ ڈال دیں۔ جب وہ مہمان کہتا کہ وہ تو جانے والا ہے تو سیدنا ابو الدرداء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اسے کہتے: میں تیرے لئے اس سے بہتر کوئی چیز نہیں پاتا کہ جس کا رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں حکم دیا، بات یہ ہے کہ ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! سارا اجر تو مالدار لوگ لیے جا رہے ہیں، وہ حج کرتے ہیں اور ہم حج نہیں کر سکتے، وہ جہاد کرتے ہیں اور ہم جہاد نہیں کر سکتے اور وہ فلاں فلاں عمل بھی کرتے ہیں۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا میں تمہاری ایسی چیز کی طرف رہنمائی نہ کر دوں کہ اگر تم نے اس کو تھامے رکھا تو تم ایسا افضل عمل کرو گے کہ ان میں سے کوئی ایک ایسا عمل کرتا ہے، تم ہر نماز کے بعد چونتیس مرتبہ اَللّٰہُ اَکْبَرُ، تینتیس مرتبہ سُبْحَانَ اللّٰہِ اور تینتیس مرتبہ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ کہا کرو۔
Musnad Ahmad
11905
۔ (۱۱۹۰۵)۔ عَنْ أَبِی عُمَرَ، عَنْ أَبِی الدَّرْدَائِ قَالَ: نَزَلَ بِأَبِی الدَّرْدَائِ رَجُلٌ، فَقَالَ أَبُو الدَّرْدَائِ: مُقِیمٌ فَنَسْرَحَ أَمْ ظَاعِنٌ فَنَعْلِفَ، قَالَ: بَلْ ظَاعِنٌ، قَالَ: فَإِنِّی سَأُزَوِّدُکَ زَادًا لَوْ أَجِدُ مَا ہُوَ أَفْضَلُ مِنْہُ لَزَوَّدْتُکَ، أَتَیْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقُلْتُ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ ذَہَبَ الْأَغْنِیَائُ بِالدُّنْیَا وَالْآخِرَۃِ نُصَلِّی وَیُصَلُّونَ، وَنَصُومُ وَیَصُومُونَ، وَیَتَصَدَّقُونَ وَلَا نَتَصَدَّقُ، قَالَ: ((أَلَا أَدُلُّکَ عَلَی شَیْئٍ إِنْ أَنْتَ فَعَلْتَہُ لَمْ یَسْبِقْکَ أَحَدٌ کَانَ قَبْلَکَ وَلَمْ یُدْرِکْکَ أَحَدٌ بَعْدَکَ إِلَّا مَنْ فَعَلَ الَّذِی تَفْعَلُ، دُبُرَ کُلِّ صَلَاۃٍ ثَلَاثًا وَثَلَاثِینَ تَسْبِیحَۃً، وَثَلَاثًا وَثَلَاثِینَ تَحْمِیدَۃً، وَأَرْبَعًا وَثَلَاثِینَ تَکْبِیرَۃً۔)) (مسند احمد: ۲۲۰۵۲)
سیدنا ابو درداء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی ان کے ہاں مہمان ٹھہرا، انھوں نے اس سے دریافت کیا کہ اگر آپ ہمارے ہاں قیام فرمائیں تو ہم آپ کی سواری کو چراگاہ میں بھجوا دیں اور اگر جلد روانگی کا پروگرام ہو تو ہم اسے یہیں چارہ ڈال دیں۔ اس آدمی نے کہا:نہیں، میں تو بس جانے والا ہوں، انہوں نے فرمایا: میں آپ کو ایک زادِ راہ دینا چاہتا ہوں، اگر میرے پاس اس سے بہتر کوئی تحفہ ہوتا تو میں وہ آپ کی نذر کرتا۔ میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں گیا تھا اور آپ سے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! مالدار لوگ دنیا کے لحاظ سے بھی آگے نکل گئے اور آخرت کے لحاظ سے بھی ۔ہم (غریب لوگ) نماز پڑھتے ہیں اور وہ امیر لوگ بھی نماز ادا کرتے ہیں، ہم بھی روزے رکھتے ہیں اور وہ بھی روزے رکھتے ہیں، لیکن وہ صدقہ کرتے ہیں اور ہم صدقہ نہیں کر سکتے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا میں تمہیں ایک ایسا عمل نہ بتلائوں، اگر تم اس پر عمل کرو تو نہ اگلوں میں سے کوئی تم سے آگے بڑھ سکے گا اور نہ پچھلوں میں سے کو تجھ کو پا سکے گا، ماسوائے اس کے جو اسی پر عمل کرے، تم ہر نماز کے بعد تینتیس بار سُبْحَانَ اللّٰہِ تینتیس بار اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ اور چونتیس بار اَللّٰہُ اَکْبَرُ کہا کرو۔
Musnad Ahmad
1854
۔ (۱۸۵۴) عَنْ زَیْدِ بْنِ أَرْقَمَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کَانَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ فِیْ دُبُرِ صَلاَتِہِ: ((اَللّٰھُمَّ رَبَّنَا وَرَبَّ کُلِّ شَیْئٍ أَنَاشَہِیْدٌ أَنَّکَ أَنْتَ الرَّبُّ وَحْدَکَ لاَشَرِیْکَ لَکَ (قَالَ أِبْرَاھِیْمُ مَرَّتَیْنِ )رَبَّنَا وَرَبَّ کُلِّ شَیْئٍ، أَنَا شَہِیْدٌ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُکَ وَرَسُوْلُکَ، رَبَّنَا وَرَبَّ کُلِّ شَیْئٍ، أَنَا شَہِیْدٌ أَنَّ العِبَادَ کُلَّہُمْ إِخْوَۃٌ، اَللّٰہُمَّ رَبَّنَا وَرَبَّ کُلِّ شَیْئٍ! اِجْعَلْنِیْ مُخْلِصًا لَکَ وَأَھْلِیْ فِیْ کُلِّ سَاعَۃٍ مِنَ الدُّنْیَا وَالْآخِرَۃِ، ذَاالْجَلاَلِ وَالْإِکْرَامِ! اِسْمَعْ وَاسْتَجِبْ، اَللّٰہُ الْأَکْبَرُ الْأَکْبَرُ نُوْرُ السَّمٰوَاتِ وَالْأَرْضِ، اَللّٰہُ الْأَکْبَرُ الْأَ کْبَرُ حَسْبِیَ اللّٰہُ وَنِعْمَ الْوَکِیْلُ، اَللّٰہُ الْأَ کْبَرُ الْأَ کْبَرُ۔)) (مسند احمد: ۱۹۵۰۸)
سیدنازید بن ارقم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنی نماز کے بعد یہ دعا کرتے تھے: اَللّٰھُمَّ رَبَّنَا وَرَبَّ کُلِّ شَیْئٍ أَنَاشَہِیْدٌ أَنَّکَ أَنْتَ الرَّبُّ وَحْدَکَ لاَشَرِیْکَ لَکَ رَبَّنَا وَرَبَّ کُلِّ شَیْئٍ، أَنَا شَہِیْدٌ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُکَ وَرَسُوْلُکَ، رَبَّنَا وَرَبَّ کُلِّ شَیْئٍ، أَنَا شَہِیْدٌ أَنَّ العِبَادَ کُلَّہُمْ إِخْوَۃٌ، اَللّٰہُمَّ رَبَّنَا وَرَبَّ کُلِّ شَیْئٍ! اِجْعَلْنِیْ مُخْلِصًا لَکَ وَأَھْلِیْ فِیْ کُلِّ سَاعَۃٍ مِنَ الدُّنْیَا وَالْآخِرَۃِ، ذَاالْجَلاَلِ وَالْإِکْرَامِ! اِسْمَعْ وَاسْتَجِبْ، اَللّٰہُ الْأَکْبَرُ الْأَکْبَرُ نُوْرُ السَّمٰوَاتِ وَالْأَرْضِ، اَللّٰہُ الْأَکْبَرُ الْأَ کْبَرُ حَسْبِیَ اللّٰہُ وَنِعْمَ الْوَکِیْلُ، اَللّٰہُ الْأَ کْبَرُ الْأَ کْبَرُ۔ (اے اللہ! ہمارے رب اور ہرچیز کے رب میںگواہ ہوں کہ تو ہی اکیلا رب ہے، تیرا کوئی شریک نہیں، اے ہمارے رب اور ہر چیز کے رب! میں گواہ ہوں کہ محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تیرے بندے اور رسول ہیں، اے ہمارے رب اور ہر چیز کے رب! میں گواہ ہوں کہ سارے بندے بھائی بھائی ہیں، اے اللہ! ہمارے رب اور ہر چیز کے رب! مجھے اور میرے اہل کو دنیا و آخرت کی ہر گھڑی میں اپنے لئے مخلص بنادے، اے جلال و اکرام والے! سن لے اور قبول کرلے، اللہ سب سے بڑا ہے، سب سے بڑا ہے، آسمانوں اور زمین کا نور ہے اللہ سب سے بڑا ہے، سب سے بڑا ہے، مجھے اللہ ہی کافی ہے اور وہ بہترین کارساز ہے، اللہ سب سے بڑاہے، سب سے بڑا ہے۔)
Musnad Ahmad
6009
۔ (۶۰۰۹)۔ عَنْ مَسْلَمَۃَ بْنِ مُخَلَّدٍ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ سَتَرَ مُسْلِمًا فِی الدُّنْیَا سَتَرَہُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ فِی الدُّنْیَا وَالْآخِرَۃِ، وَمَنْ نَجّٰی مَکْرُوْبًا فَکَّ اللّٰہُ عَنْہُ کُرْبَۃً منْ کُرَبِ یَوْمِ الْقَیَامَۃِ، وَمَنْ کَانَ فِیْ حَاجَۃِ أَخِیْہِ کَانَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ فِی حَاجَتِہِ)) (مسند احمد:۱۷۰۸۴)
۔ سیدنا مسلمہ بن مخلد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو دنیا میں مسلمان کی عیب پوشی کرے گا، اللہ تعالی دنیا وآخرت میںاس کی عیب پوشی کرے گا،جومصیبت زد ہ کو نجات دلائے گا، اللہ تعالیٰ اسے قیامت کے مصائب سے ایک مصیبت سے آزاد کرے گااور جو شخص اپنے بھائی کی مدد میں رہے گا، اللہ تعالی اس کی حاجت پوری کرنے میں رہے گا۔
Musnad Ahmad
7044
۔ (۷۰۴۴)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ: شَرُّ الطَّعَامِ طَعَامُ الْوَلِیْمَۃِیُدْعَی الْغَنِیُّ وَیُتْرَکُ الْمِسْکِیْنُ( وَفِیْ لَفْظٍ: یُدْعٰی إِلَیْہَا الْأَغْنِیَائُ وَیُتْرَکُ الْمَسَاکِیْنُ) وَھِیَ حَقٌّ، وَمَنْ تَرَکَہَا فَقَدْ عَصٰی، وَکَانَ مَعْمَرٌ رُبَّمَا قَالَ: وَمَنْ لَمْ یُجِبِ الدَّعْوَۃَ فَقَدْ عَصَی اللّٰہَ وَرَسُوْلَہُ۔ (مسند احمد: ۷۶۱۳)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ولیمے کا کھانا بدترین کھانا ہے، جس میں مالداروں کو بلایا جاتا ہے اور مسکینوں کو چھوڑ دیا جاتا ہے، جبکہ یہ دعوت حق ہے، جس نے اس کو چھوڑا اس نے نافرمانی کی، معمر راوی کے الفاظ یہ تھے: جس نے دعوت قبول نہ کی، اس نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی نافرمانی کی۔
Musnad Ahmad
9062
۔ (۹۰۶۲)۔ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ، اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ لَھَا: ((اِنَّہُ مَنْ اُعْطِیَ مِنَ الرِّفْقِ، فَقَدْ اُعْطِیَ حَظَّہُ مِنَ الدُّنْیَا وَالْآخِرَۃِ، وَصِلَۃُ الرَّحِمِ، وَحُسْنُ الْخُلْقِ، وَحُسْنُ الْجَوَارِ یَعْمُرَانِ الدِّیَارِ، وَیَزِیْدَ انِ فِی الْاَعْمَارِ۔)) (مسند احمد: ۲۵۷۷۳)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اُن کو فرمایا : جس کو نرمی عطا کی گئی، اُس کو دنیا و آخرت کی خیر و بھلائی سے نواز دیا گیا اور صلہ رحمی، حسنِ اخلاق اور پڑوسی سے اچھا سلوک کرنے (جیسے امورِ خیر) گھروں (اور قبیلوں) کو آباد کرتے ہیں اور عمروں میں اضافہ کرتے ہیں۔
Musnad Ahmad
9111
۔ (۹۱۱۱)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ نَفَّسَ عَنْ مُؤْمِنٍ کُرْبَۃً مِنْ کُرَبِ الدُّنْیَا نَفَّسَ اللّٰہُ عَنْہُ کُرْبَۃً مِنْ کُرَبِ یَوْمِ الْقِیَامَۃِ، وَمَنْ سَتَرَ مُسْلِمًا سَتَرَہُ اللّٰہُ فِی الدُّنْیَا وَالْآخِرَۃِ، وَمَنْ یَسَّرَ عَلٰی مُعْسِرٍ یَسَّرَ اللّٰہُ عَلَیْہِ فِی الدُّنْیَا وَالْآخِرَۃِ، وَاللّٰہُ فِیْ عَوْنِ الْعَبْدِ مَاکَانَ الْعَبْدُ فِیْ عَوْنِ اَخِیْہِ، وَمَنْ سَلَکَ طَرِیْقًایَلْتَمِسُ فِیْہِ عَلْمًا سَھَّلَ اللّٰہُ لَہُ بِہٖطَرِیْقًا اِلَی الْجَنَّۃِ، وَمَا اجْتَمَعَ قَوْمٌ فِیْ بَیْتٍ مِنْ بُیُوْتِ اللّٰہِ یَتْلُوْنَ کِتَابَ اللّٰہِ وَیَتَدَارَسُوْنَہُ بَیْنَھُمْ اِلاَّ نَزَلَتْ عَلَیْھِمُ السَّکِیْنَۃُ، وَغَشِیَتْھُمُ الرَّحْمَۃُ، وَحَفَّتْھُمُ الْمَلائِکَۃُ، وَذَکَرَھُمُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ فِیْمَنْ عِنْدَہُ وَمَنْ اَبْطَاَ بِہٖعَمَلُہُلَمْیُسْرِعْ بِہٖنَسَبُہُ۔)) (مسنداحمد: ۷۴۲۱)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو شخص کسی مومن سے دنیا کی تکالیف میں سے کوئی تکلیف دور کرے گا، اللہ تعالیٰ اس کی قیامت کی تکالیف میں سے ایک تکلیف دور کرے گا، جو آدمی کسی مسلمان کی پردہ پوشی کرے گا، اللہ تعالیٰ دنیا و آخرت میں اس کی پردہ پوشی کرے گا، جو فرد کسی تنگدست اور بدحال پر آسانی کرے گا اللہ تعالیٰ اس پر دنیا و آخرت میں آسانی فرمائے گا، اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی مدد میں لگا رہتا ہے جب تک بندہ اپنے بھائی کی تائید ونصرت میں لگا رہتا ہے، اور جو علم کی جستجو میں کسی راستے پر چلتا ہے، اس وجہ سے اللہ تعالیٰ اس کے جنت کی طرف جانے والے راستے کو آسان کردیتا ہے، جب لوگ اللہ تعالیٰکے کسی گھر میں جمع ہو کر کتاب ِ الہی کی تلاوت کرتے ہیں اور اس کی ایک دوسرے کو تعلیم دیتے ہیں تو ان پر سکینت کا نزول ہوتا ہے، رحمت ان کو ڈھانپ لیتی ہے، فرشتے ان کو گھیر لیتے ہیں اور اللہ تعالیٰ ان کا ذکر ان ہستیوں میں کرتا ہے، جو اس کے پاس ہیں اور جس شخص کو اس کے عمل نے پیچھے کر دیا، اس کا نسب اس کو آگے نہیں لے جا سکے گا۔
Musnad Ahmad
9112
۔ (۹۱۱۲)۔ عَنْ مَسْلَمَۃَ بْنِ مَخْلَدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ سَتَرَ مُسْلِمًا فِی الدُّنْیَا سَتَرَہُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ فِی الدُّنْیَا وَالْآخِرَۃِ، وَمَنْ نَجّٰی مَکْرُوْبًا فَکَّ اللّٰہُ عَنْہُ کُرْبَۃً مِنْ کُرَبِ یَوْمِ الْقِیَامَۃِ، وَمَنْ کَانَ فِیْ حَاجَۃِ اَخِیْہِ کَانَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ فِیْ حَاجَتِہِ۔)) (مسند احمد: ۱۷۰۸۴)
۔ سیدنا مسلمہ بن مخلد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو آدمی کسی مسلمان کی پردہ پوشی کرے گا، اللہ تعالیٰ دنیا و آخرت میں اس کی پردہ پوشی کرے گا، جو آدمی کسی مغموم اور پریشان حال کو نجات دلاتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کی روزِ قیامت کی پریشانیوں میں سے ایک پریشانی دور کر دے گا اور جو آدمی اپنے بھائی کی حاجت کو پورا کرنے میںلگا رہتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کی ضرورت کو پورا کرتا رہتا ہے ۔
Musnad Ahmad
9607
۔ (۹۶۰۷)۔ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ، اَنَّ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ لَھَا: ((اِنَّہُ مَنْ اُعْطِیَ حَظَّہُ مِنَ الرِّفْقِ، فَقَدْ اُعْطِیَ حَظَّہُ مِنْ خَیْرِ الدُّنْیَا وَالْآخِرَۃِ، وَصِلَۃُ الرَّحِمِ، وَحُسْنُ الْخُلُقِ، وَحُسْنُ الْجِوَارِ یَعْمُرَانِ الدِّیَارَ، وَیَزِیْدَانِ فِیْ الْاَعْمَارِ۔)) (مسند احمد: ۲۵۷۷۳)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اُن کو فرمایا : جس کو نرمی عطا کی گئی، اُس کو دنیا و آخرت کی خیر و بھلائی سے نواز دیا گیا اور صلہ رحمی، حسنِ اخلاق اور پڑوسی سے اچھا سلوک کرنے (جیسے امورِ خیر) گھروں (اور قبیلوں) کو آباد کرتے ہیں اور عمروں میں اضافہ کرتے ہیں۔