TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

نمازی کا امام کی طرف یا دائیں جانب کھنکارنے اور نماز میں کوکھوں پر ہاتھ رکھنے کی ممانعت کا بیان - نمازی کا امام کی طرف یا دائیں جانب کھنکارنے اور نماز میں کوکھوں پر ہاتھ رکھنے کی ممانعت کا بیان - نماز کو باطل کرنے والے اور اس میں مکروہ اور جائز امور کا بیان - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 8 of نماز کو باطل کرنے والے اور اس میں مکروہ اور جائز امور کا بیان in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 8 of 14 · 5 Hadith
۔ (۱۹۳۳) عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رَاٰی نُخَامَۃً فِی قِبْلَۃِ الْمَسْجِدِ فَقَامَ فَحَکَّہَا أَوْ قَالَ فَحَتَّھَا بِیَدِہِ ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَی النَّاسِ فَتَغَیَّظَ عَلَیْھِمْ وَقَالَ: ((إِنَّ اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ قِبَلَ وَجْہِ أَحَدِ کُمْ فِی صَلاَتِہ فَلاَ یتَنَخَّمَنَّ أَحَدٌ مِنْکُمْ قِبَلَ وَجْہِہِ فِی صَلاَتِہِ۔)) (مسند احمد: ۴۵۰۹)
سیدناعبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مسجد کی قبلہ والی سمت میں کھنکار دیکھا، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اٹھ کر اسے اپنے ہاتھ سے کھرچ دیا، پھر لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے، ان پر غصے کا اظہار کیا اور فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ نماز میں تمہارے چہرے کے سامنے ہوتا ہے، اس لیے کوئی آدمی نماز میں اپنے چہرے کے سامنے کی طرف نہ تھوکا کرے۔
Takhreej
(۱۹۳۳) تخریج: أخرجہ البخاری: ۱۲۱۳، ومسلم: ۵۴۷ (انظر: ۴۵۰۹)
1933
Sahih
۔ (۱۹۳۴) حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ حَدَّثَنِیْ أَبِیْ ثَنَا ابْنُ أَبِیْ عَدِیٍّ عَنْ سَعِیْدٍ وَابْنِ جَعْفَرٍثَنَا سَعِیْدٌ عَنْ قَتَادَۃَ عَنْ أَنَسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ نَبِیَّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((إِذَا کَانَ أَحَدُکُمْ فِی الصَّلاَۃِ فَإِنَّہُ مُنَاجٍ رَبَّہُ فَلاَیَتْفُلَنَّ أَحَدٌ مِنْکُمْ عَنْ یَمِیْنِہِ، قَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ فَلاَ یَتْفُلْ أَمَامَہُ وَلَا عَنْ یَمِیْنِہِ وَلٰکِنْ عَنْ یَسَارِہِ أَوْتَحْتَ قَدَمَیْہِ۔ (مسند احمد: ۱۲۰۸۶)
سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تم میںسے کوئی نماز میں ہوتا ہے تو وہ اپنے رب سے سرگوشی کررہا ہوتا ہے، اس لیے تم میںسے کوئی بھی اپنے آگے اور اپنی دائیں جانب نہ تھوکا کرے، البتہ اپنی بائیں طرف یا اپنے قدموں کے نیچے تھوک سکتا ہے۔
Takhreej
(۱۹۳۴) تخریج: أخرجہ البخاری: ۵۳۱، ومسلم: ۵۵۱ (انظر: ۱۲۰۶۳، ۱۲۸۰۹)
1934
Sahih
۔ (۱۹۳۵) عَنْ أَبِیْ رَافِعٍ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رَآی نُخَامَۃً فِی الْقِبْلَۃِ قَالَ: یَقُوْلُ مَرَّۃً: فَحَتَّہَا قَالَ: ثُمَّ قَالَ: قُمْتُ فَحَتَّیْتُہَا ثُمَّ قَالَ: ((أَیُحِبُّ أَحَدُ کُمْ إِذَا کَانَ فِی صَلَاتِہِ أَنْ یُتَنَخَّعَ فِی وَجْہِہِ أَوْ یُبْزَقََ فِیْ وَجْہِہِ؟ إِذَا کَانَ أَحَدُ کُمْ فِی صَلاَتِہِ فَلاَ یَبْزُقَنَّ بَیْنَیَدَیْہِ وَلاَ عَنْ یَمِیْنِہِ، وَلٰکِنْ عَنْ یَسَارِہِ تَحْتَ قَدَمِہِ، فَإِنْ لَمْ یَجِدْ قَالَ بِثَوْبِہِ ھٰکَذَا۔)) (مسند احمد: ۹۳۵۵)
سیدناابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے قبلہ کی جانب ایک کھنکار دیکھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے کھرچ دیا (ایک روایت کے مطابق ابوہریرہ کہتے ہیں کہ میں کھڑا ہوا اور اسے میں نے کھرچا) پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا تم میں سے کوئی پسند کرتا ہے کہ جب وہ نماز میں ہو تو اس کے چہرے پر کھنکار پھینک دیا جائے یا تھوک دیا جائے؟ جب تم سے کوئی آدمی نماز میں ہو تو وہ ہر گز اپنے سامنے اور دائیں جانب نہ تھوکا کرے، البتہ بائیں جانب قدم کے نیچے تھوک لیا کرے، اگر وہ (جگہ) نہ پائے تو اپنے کپڑے میں تھوک لیا کرے۔
Takhreej
(۱۹۳۵) تخریج: أخرجہ مسلم: ۵۵۰ (انظر: ۹۳۶۶)
Explanation
فوائد:… سیدنا طارق بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، نبی پاک سے روایت کرتے ہیں، آپ نے فرمایا: ((إِذَا صَلَّیْتَ فَلاَ تَبْصُقْ بَیْنَیَدَیْکَ، وَلاَ عَنْ یَمِیْنِکَ، وَلٰکِنِ ابْصُقْ تِلْقَائَ شِمَالِکَ إِنْ کَانَ فَارِغاً وَإِلاَّ فَتَحْتَ قَدَمَیْکَ وَادْلُکْہُ۔)) (سنن نسائی: ۱/ ۱۱۹، مسند احمد: ۶/ ۳۹۶) یعنی: جب تو نماز پڑھے تونہ اپنے سامنے تھوک اور نہ ہی دائیں طرف، بلکہ اگر بائیں جانب خالی ہے تو اُدھر تھوک لے، وگرنہ اپنے قدموں تلے تھوک کر اُس کو مل دے۔ اس میں نمازی کی قدر ومنزلت کا بیان ہے کہ اللہ تعالیٰ بھی اپنا رخِ انور اس کی طرف پھیر دیتے ہیں، لیکن شرط یہ ہے کہ وہ ظاہری طور پر اور باطنی طور پر یکسوئی اختیار کرے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کو بے توجہی اور برائی سے نفرت ہے۔ نیز اس حدیث سے نمازی کو ضرورت کے مطابق تھوکنے کی گنجائش ملتی ہے، اس پر تفصیلی بحث یہ ہے۔ عصر حاضر میںمساجد کی خوبصورت عمارتوں اور اس میں بچھی ہوئی خوبصورت چٹائیوں اور قالینوں کی وجہ سے درج بالا حدیث کو سمجھنے میں دقت پیش آئی ہے۔ یہ احادیث اس وقت بیان کی گئی تھیں، جب مساجد کا فرش نرم مٹی اور ریت پر مشتمل ہوتا تھا اور ان میں بچھانے کے لئے صفیں بھی نہیں ہوتی تھیں۔ درحقیقت مسئلہ یوں ہے کہ بوقت ِ ضرورت مسجد میں تھوکنا جائز ہے، جیسا کہ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مسجد کی قبلہ والی سمت میں تھوک دیکھی، جو آپ پر بڑی گراں گزری، بہرحال آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کو صاف کیا اور فرمایا: ((اِنَّ اَحَدَکُمْ اِذَا قَامَ فِیْ صَلَاتِہٖفَاِنَّّمَایُنَاجِیْ رَبَّہٗ،فَلَایَبْزُقَنَّ فِیْ قِبْلَتِہٖوَلٰکِنْعَنْیَّسَارِہٖ اَوْ تَحْتَ قَدَمِہٖ۔)) (بخاری: ۴۰۵) یعنی: جب تم میں سے کوئی آدمی نماز میں کھڑا ہوتا ہے تو وہ اپنے ربّ سے سرگوشی کر رہا ہوتا ہے، اس لئے وہ قبلہ والی سمت میں نہ تھوکے، البتہ بائیں جانب یا اپنے پاؤں کے نیچے تھوک سکتا ہے۔ پھر (تیسرا طریقہ بیان کرتے ہوئے) آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنی چادر کا کنارہ پکڑا، اس میں تھوکا اور اس کو مل دیا اور فرمایا: یا پھر اس طرح کر لیا کرے۔ اس موضوع پر دلالت کرنے والی کئی احادیث ہیں، لیکن درج ذیل حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ رخصت اس وقت ہے جب آدمی نماز پڑھ رہا ہو اور اسے مجبوراً تھوکنا پڑ جائے۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ہی بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ((اَلْبُزَاقُ فِیْ الْمَسْجِدِ خَطِیْئَۃٌ وَکَفَّارَتُھَا دَفْنُھَا۔)) (بخاری:۴۱۵) یعنی: مسجد میں تھوکنا گناہ ہے اور اس کا کفارہ تھوک کو دفن کر دینا ہے۔ رہا مسئلہ قبلہ والی سمت میں تھوکنے کا، تو وہ بھی منع ہے، جیسا کہ مذکورہ بالا حدیث سے پتہ چلتا ہے، نیز اس موضوع پر کئی دوسری احادیث موجود ہیں۔ بہرحال مساجد کی موجودہ صورتحال کو سامنے رکھتے ہوئے آخری طریقہ اختیار کیا جائے یعنی کپڑے یا ٹشو پیپر وغیرہ پر تھوک لیا جائے۔
1935
Sahih
۔ (۱۹۳۶) عَنْ زِیَادِ بْنِ صُبَیْحٍ الْحَنَفِیِّ قَالَ: کُنْتُ قَائِمًا أُصَلِّیْ إِلَی الْبَیْتِ وَشَیْخٌ إِلٰی جَانِبِیْ فَأَطَلْتُ الصَّلاَۃَ فَوَضَعْتُ یَدِیْ عَلٰی خَصْرِیْ، فَضَرَبَ الشَّیْخُ صَدْرِیْ بِیَدِہِ ضَرْبَۃً لَایَأْلُوْ، فَقُلْتُ فِی نَفْسِیْ: مَارَابَہُ مِنِّیْ، فَأَسْرَعْتُ الإِْنْصِرَافَ، فَإِذَا غُلاَمٌ خَلْفَہُ قَاعِدٌ، فَقُلْتُ: مَنْ ھٰذَا الشَّیْخُ؟ فَقَالَ: ھَذَا عَبْدُاللّٰہِ بْنُ عُمَرَ، فَجَلَسْتُ حَتَّی انْصَرَفَ فَقُلْتُ: أَبَا عَبْدِ الرَّحْمٰنِ مَا رَابَکَ مِنِّیْ؟ قَالَ: أَنْتَ ھُوَ؟ قُلْتُ: نَعْمَ، قَالَ: ذَاکَ الصَّلْبُ فِیْ الصَّلاَۃِ، کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَنْھٰی عَنْہُ۔ (مسند احمد: ۴۸۴۹)
زیاد بن صبیح حنفی کہتے ہیں: میں بیت اللہ کی طرف نماز پڑھ رہا تھا، جبکہ میری ایک جانب ایک بزرگ آدمی تھا، میں نے نماز کو لمبا کیا، اس لیے اپنا ہاتھ کوکھ پر رکھ لیا، لیکن اس شیخ نے اپنے ہاتھ سے میرے سینے پر بڑی لاپرواہی سے ضرب لگائی، میں نے اپنے دل میںکہا: اس کو میرے بارے میں کیا شک ہوا ہے، بہرحال میں جلدی جلدی نماز سے فارغ ہوا اور دیکھا کہ ایک لڑکا اُس کے پیچھے بیٹھا ہوا تھا، میں نے اسے پوچھا: یہ بزرگ کون ہے؟ اس نے کہا: یہ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ہیں، پس میں بیٹھا رہا، یہاں تک کہ وہ نماز سے فارغ ہو گئے، میں نے ان سے کہا: اے ابو عبد الرحمن! آپ کو میرے بارے میں کیا گمان ہوا ہے؟ انھوں نے کہا: تم وہی ہو؟ میں نے کہا: جی ہاں۔ انھوں نے کہا: نماز میں یہ تو سولی پر لٹکنا ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس سے منع کرتے تھے۔
Takhreej
(۱۹۳۶) تخریج: صحیح لغیرہ۔ أخرجہ ابوداود: ۹۰۳، والنسائی: ۲/ ۱۲۷ (انظر: ۴۸۴۹، ۵۸۳۶)
Explanation
فوائد:… سولی پر لٹکنے سے مراد کوکھ پر ہاتھ رکھنے ہیں، کیونکہ جس شخص کو سولی پر لٹکایا جاتا ہے، اس کے ہاتھ بھی لکڑی پر کھینچ دیئے جاتے ہیں۔
1936
Sahih
۔ (۱۹۳۷) عَنْ یَزِیْدَ بْنِ ھَارُوْنَ عَنْ ھِشَامٍ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِی ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: نُھِیَ عَنْ الْإِخْتِصَارِفِی الصَّلاَۃِ، قَالَ: قُلْنَا لِھِشَامٍ: مَا الإِْخْتِصَارُ؟ قَالَ: یَضَعُیَدَہُ عَلٰی خَصْرِہِ وَھُوَ یُصَلِّیْ، قَالَ یَزِیْدُ: قُلْنَا لِھِشَامٍ: ذَ کَرَہُ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ؟ قَالَ بِرَأْسِہِ: نَعَمْ ۔ (مسند احمد: ۷۸۸۴)
سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: نماز میں اختصار سے منع کیا گیا ہے۔ راوی نے کہا: ہم نے ہشام سے پوچھا: اختصار کیاہے؟ انہوں نے کہا: بندے کا کوکھ پر ہاتھ رکھ کر نماز پڑھنا۔ یزید نے کہا: ہم نے ہشام سے پوچھا کہ انہوں نے یہ بات نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے ذکر کی تھی؟ انہوں نے سر سے اشارہ کرتے ہوئے ہاں میں جواب دیا۔
Takhreej
(۱۹۳۷) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط الشیخین۔ أخرجہ البیھقی: ۲/ ۲۸۷ (انظر: ۷۸۹۷)
Explanation
فوائد:… قیام کی حالت میں سینے پر ہاتھ باندھنے کا تعین ہو چکا ہے، ان احادیث میں کوکھ پر ہاتھ رکھنے سے منع کیا گیا ہے۔
1937
Sahih

Chapters

14
01
نماز میں کلام کرنے کی ممانعت کا بیان
4 Hadith
02
نماز کو توڑ دینے والے امور کا بیان
8 Hadith
03
نماز میں بال باندھنے، کنکریوں سے کھیلنے اور پھونکنے کا بیان
10 Hadith
04
نمازمیں ہنسنے، اِدھر اُدھر متوجہ ہونے، انگلیوں کے پٹاخے نکالنے اور ان میں تشبیک ڈالنے کا بیان
8 Hadith
05
(نماز میں) نظر اٹھانے، ہاتھ سے اشارہ کرنے اور نماز پڑھنے کے لئے مخصوص جگہ کا اہتمام کرنے کا بیان
7 Hadith
06
پیشابیا پاخانہ کو روک کر، کھانے کی موجودگی میں اور اونگھ کے غلبہ کی صورت میں نماز پڑھنے کی کراہت کا بیان
6 Hadith
07
نماز میں گونگی بکل، سدل، اسبال، نقش و نگار والے کپڑوں اور عورتوں کی چادروں کی کراہت کا بیان
6 Hadith
08
نمازی کا امام کی طرف یا دائیں جانب کھنکارنے اور نماز میں کوکھوں پر ہاتھ رکھنے کی ممانعت کا بیان
5 Hadith
09
نماز میں سبحان اللہ کہنے ، تالی بجانے اور اشارہ کے جواز کا بیان (نماز میں سلام کا جواب دینے کی بحث)
10 Hadith
10
اللہ کے ڈر سے نماز میں رونے کے جائز ہونے کا بیان
2 Hadith
11
نماز میں دو سیاہ جانوروں(بچھو اور سانپ) کو قتل کرنے ، معمولی مقدار میں چلنے اور اس سلسلے میں کسی ضرورت کی وجہ سے اِدھر اُدھر متوجہ ہونے کے جواز کا بیان
7 Hadith
12
نماز میں بچہ اٹھانے کے جواز کا بیان
3 Hadith
13
دھاری دار کپڑے میں، صرف ایک کپڑے میں اور ایسے کپڑے میں جس کا کچھ حصہ نمازی پر اور کچھ حائضہ عورت پر ہو نماز کے جواز کا بیانْ
7 Hadith
14
تاریکی میں نمازی کے سامنے عورت کے سونے کے جواز کا بیان
5 Hadith
No chapter matched that.