TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

جو شخص پہلے تشہد کے لیے بیٹھنا بھول جائے اور سیدھا کھڑا ہوجائے تو بیٹھنے کے لیے واپس نہ لوٹے - جو شخص پہلے تشہد کے لیے بیٹھنا بھول جائے اور سیدھا کھڑا ہوجائے تو بیٹھنے کے لیے واپس نہ لوٹے - سجدہ سہو کے ابواب - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 4 of سجدہ سہو کے ابواب in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 4 of 6 · 5 Hadith
۔ (۱۹۹۷) عَنْ عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ الْأَعْرَجِ أَنَّ ابْنَ بُحَیْنَۃَ أَخْبَرَہُ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَامَ فِی الثِّنْتَیْنِ مِنَ الظُّہْرِ، نَسِیَ الْجُلُوْسَ حَتّٰی إِذَا فَرَغَ مِنْ صَلَاتِہِ إِلٰی أَنْ یُسَلِّمَ، سَجَدَ سَجْدَتَیْنِ ثُمَّ خَتَمَ بِالتَّسْلِیْمِ (وَفِی رِوَایَۃٍ:) فَلَمَّا صَلَّی الْأُخْرَیَیْنِ انْتَظَرَ النَّاسُ تَسْلِیْمَہُ فَکَبَّرَ فََسَجَدَ ثُمَّ کَبَّرَ فَسَجَدَ ثُمَّ سَلَّمَ۔ (مسند احمد: ۲۳۳۰۷)
سیدنا ابن بحینہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ظہر کی دو رکعتوں کے بعد کھڑے ہوگئے اور بیٹھنا بھول گئے تھے، پھر جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نماز مکمل کر کے سلام پھیرنے لگے تو دو سجدے کئے اور پھر سلام پھیر کر نماز ختم کی۔ایک روایت میں ہے: جب آپ نے آخری دو رکعتیں پڑھ لیں تو لوگ آپ کے سلا م پھیرنے کے انتظار میں تھے تو آپ نے تکبیر کہہ کر سجدہ کیا، پھر تکبیر کہی اور دوسرا سجدہ کیا اور پھر سلام پھیر دیا۔
Takhreej
(۱۹۹۷) تخریج: أخرجہ البخاری: ۱۲۲۵، ومسلم: ۵۷۰ (انظر: ۲۲۹۱۹، ۲۲۹۳۰)
1997
Sahih
۔ (۱۹۹۸) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیقٍ ثَانٍ) عَنِ ابْنِ بُحَیْنَۃَ أَیْضًا صَلّٰی بِنَا رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صَلَاۃً نَظُنُّ أَنَّہَا الْعَصْرُ فَقَامَ فِی الثَّانِیَۃِ لَمْ یَجْلِسْ، فَلَمَّا کَانَ قَبْلَ أَنْ یُسَلِّمَ سَجَدَ سَجْدَتَیْنِ (زَادَفِی رِوَایَۃٍ:) وَسَجَدَ ھُمَا النَّاسُ مَعَہُ مَکَانَ مَانَسِیَ مِنَ الْجُلُوسِ ۔ (مسند احمد: ۲۳۳۰۸)
۔ (دوسری سند)سیدناابن بحینہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں ایک نماز پڑھائی، ہمارا خیال ہے کہ وہ عصر تھی، ہوا یوں کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم دوسری رکعت کے بعد بیٹھنے کی بجائے کھڑے ہو گئے، جب سلام پھیرنے کے قریب تھے تودو سجدے کئے اور لوگوں نے بھی سجدے کیے،یہ (سجدے) بیٹھنا بھول جانے کی وجہ سے کیے تھے۔
Takhreej
(۱۹۹۸) تخریج: أخرج بنحوہ البخاری: ۸۲۹، ۱۲۳۰، ۶۶۷۰، ومسلم: ۵۷۰ (انظر: ۲۲۹۲۰، ۲۲۹۳۱)
1998
Sahih
۔ (۱۹۹۹) عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ یُوْسُفَ مَوْلٰی عُثْمَانَ عَنْ أَبِیْہِیُوْسُفَ عَنْ مُعَاوِیَۃَ بْنِ أَبِیْ سُفْیَانَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّہُ صَلّٰی اَمَامَھُمْ، فَقَامَ فِی الصَّلَاۃِ وَعَلَیْہِ جُلُوسٌ فَسَبَّحَ النَّاسُ فَتَمَّ عَلٰی قِیَامِہِ، ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَیْنِ وَھُوَ جَالِسٌ بَعْدَ أَنْ أَتَمَّ الصَّلَاۃَ، ثُمَّ قَعَدَ عَلٰی الْمِنْبَرِ، فَقَالَ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((مَنْ نَسِیَ مِنْ صَلَاتِہِ شَیْئًا فَلْیَسْجُدْ مِثْلَ ھَاتَیْنِ السَّجْدَتِیْنَ)) (مسند احمد: ۱۷۰۴۱)
یوسف سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: سیدنا معاویہ بن ابی سفیان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ان کے آگے یعنی ان کا امام بن کر نماز ادا کی،ایک مقام پر آپ بیٹھنے کے بجائے کھڑے ہو گئے، لوگوں نے سبحان اللہ تو کہا لیکن وہ کھڑے ہو گئے اور نماز جاری رکھی، پھر سہو کے دو سجدے کیے، جب کہ وہ نماز مکمل کرنے کے بعد بیٹھے ہوئے تھے، پھر منبر پر بیٹھ گئے اور کہا: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: جو شخص نماز سے کوئی چیز بھول جائے تو وہ اس طرح دو سجدے کر لیا کرے۔
Takhreej
(۱۹۹۹) تخریج: صحیح لغیرہ۔ أخرجہ النسائی: ۳/ ۳۳ (انظر: ۱۶۹۱۷)
1999
Sahih
۔ (۲۰۰۰) عَنْ زِیَادِ بْنِ عِلَاقَۃَ قَالَ: صَلّٰی بِنَا الْمُغِیْرَۃُ بْنُ شُعبَۃَ فَلَمَّا صَلّٰی رَکْعَتَیْنِ قَامَ وَلَمْ یَجْلِسْ فَسَبَّحَ بِہِ مَنْ خَلْفَہُ، فَأَشَارَ إِلَیْہِمْ أَنْ قُوْمُوْا، فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ صَلَاتِہِ سَلَّم ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَیْنِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ ھٰکَذَا صَنَعَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند احمد: ۱۸۳۴۶)
زیادبن علاقہ نے کہا: سیدنا مغیرہ بن شعبہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ہمیں نماز پڑھائی،وہ دو رکعتیں ادا کرنے کے بعد بیٹھنے کی بجائے کھڑے ہو گئے، جب لوگوں نے سبحان اللہ کہاتو انہوں نے ان کی طرف اشارہ کیا کہ وہ بھی کھڑے ہوجائیں، جب اپنی نماز سے فارغ ہونے لگے تو انھوں نے سلام پھیرا، پھر دوسجدے کیے اور پھر سلام پھیرا، اس کے بعدکہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایسے ہی کیا تھا۔
Takhreej
(۲۰۰۰) تخریج: حدیث صحیح بطرقہ۔ أخرجہ ابوداود: ۱۰۳۶، ۱۰۳۷، والترمذی: ۳۶۵، وابن ماجہ: ۱۲۰۸ (انظر: ۱۸۱۶۳، ۱۸۲۲۳)
2000
Sahih
۔ (۲۰۰۱) عَنِ الْمُغِیْرَۃِ بْنِ شُعْبَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ أَمَّنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی الظُّہْرِ أَوِ الْعَصْرِ فَقَامَ، فَقُلْنَا: سُبْحَانَ اللّٰہِ، فَقَالَ: سُبْحَانَ اللّٰہِ، وَأَشَارَبِیَدِہِیَعْنِیْ قُوْمُوْا، فَقُمْنَا، فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ صَلَاتِہِ سَجَدَ سَجْدَتَیْنِ، ثُمَّ قَالَ: ((إِذَا ذَکَرَ أَحَدُکُمْ قَبْلَ أَنْ یَسْتَتِمَّ قَائِمًا فَلْیَجْلِسْ وَإِذَا اسْتَتَمَّ قَائِمًا فَلَا یَجْلِسْ۔)) (مسند احمد: ۱۸۴۰۹)
سیدنا مغیرہ بن شعبہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ظہر یا عصر میں ہماری امامت کرائی اور آپ (درمیانے تشہد کو چھوڑ کر) تیسری رکعت کے لیے کھڑے ہو گئے، جب ہم نے سبحان اللہ کہا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں متنبہ کرنے کے لیے سبحان اللہ کہا اور ہمیں کھڑے ہونے کا اشارہ کیا، پس ہم بھی کھڑے ہو گئے، جب آپ اپنی نماز سے فارغ ہونے لگے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دو سجدے کئے اورفرمایا: جب کسی کو مکمل سیدھا کھڑا ہونے سے پہلے یاد آجائے تو وہ بیٹھ جائے اور جب وہ مکمل سیدھا کھڑا ہوجائے توپھر نہ بیٹھے۔
Takhreej
(۲۰۰۱) تخریج: حدیث صحیح بطرقہ۔ انظر الحدیث السابق: ۸۹۷(انظر: ۱۸۲۲۲)
Explanation
فوائد:… ان احادیث سے معلوم ہوا کہ اگر تینیا چار رکعتی نماز میں درمیانہ تشہد رہ جائے تو سلام سے پہلے یا سلام کے بعد سہو کے دو سجدوں کے ذریعے اس کمی کی تلافی کی جائے گا، جب سلام کے بعد سجدے کیے جائیں گے تو اِن سجدوں کے بعد پھر سلام پھیرا جائے گا، نیز آخریحدیث اس امر پر بھی دلالت کرتی ہے کہ جب کوئی درمیانہ تشہد چھوڑ کر بھول کر کھڑا ہو رہا ہو اور سیدھا کھڑے ہونے سے پہلے بھول جانے کا احساس ہو جائے تو وہ بیٹھ جائے، لیکن اگر سیدھا کھڑا ہو جائے تو درمیانے تشہد کے لیے واپس نہ لوٹے اور اپنی نماز کو جاری رکھے، لیکن اس کمی کو پورا کرنے کے لیے سلام سے پہلے یا سلام کے بعد سہو کے دو سجدے کر لے۔
2001
Sahih