TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 2060 - ظہر کی سننِ رواتب اور ان کی فضیلت کا بیان - نفل نماز کے ابواب - Musnad Ahmad in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 5 of 5 in this chapter
ظہر کی سننِ رواتب اور ان کی فضیلت کا بیان
۔ (۲۰۶۰) عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لَایَدَعُ أَرْبَعًا قَبْلَ الظُّھْرِ وَرَکْعَتَیْنِ قَبْلَ الْفَجْرِ عَلٰی حَالٍ۔ (مسند احمد: ۲۴۸۴۴)
سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کسی حالت میں بھی ظہر سے پہلے چار اور فجر سے پہلے دو رکعتیں نہیں چھوڑتے تھے۔
2060
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Conclusion
تخریج
(۲۰۶۰) تخریج: أخرجہ البخاری: ۱۱۸۲ (انظر: ۲۴۳۴۰)

Related Chapters

761
1
عصر کی سنن رواتب اور ان کی فضیلت کا بیان
Musnad Ahmad
2
ان لوگوں کی دلیل کا بیان جو سننِ رواتب کے فوت جانے کی صورت میں ان کی قضاء نہ دینے کے قائل ہیں
Musnad Ahmad
3
مغرب کی سننِ رواتب کا بیان
Musnad Ahmad
4
عشا کی سننِ رواتب کا بیان
Musnad Ahmad
5
قرآن مجید سننے کی فضیلت اور اس وقت رونے کا بیان
Musnad Ahmad
6
(32) CHAPTER. The superiority of offering the Zuhr prayer early.
ظہر کی نماز کے لیے سویرے جانے کی فضیلت کا بیان
Sahih Bukhari
7
قرآن مجید بغور سننے ‘سننے کے لیے حافظ قرآن سے پڑھنے کی فرمائش اور قراءت کے دوران رونے اور اس پرغور و فکر کرنے کی فضیلت
Sahih Muslim
8
Chapter: The Virtue Of Gathering To Read Quran And To Remember Allah
قرآن کی تلاوت اور اللہ کے ذکر کو سننے سنانے کے لیے اکٹھے ہونے کی فضیلت
Sahih Muslim
9
(2)Chapter: What Has Been Related About The Virtue Of Purification
باب: طہارت کی فضیلت کا بیان​
Jam e Tirmazi
10
17)Chapter: What Has Been Related That It Is Disliked To Urinate In The Washing Area
صحيح، ابن ماجة (3301) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 20
Jam e Tirmazi
11
Chapter: What Has Been Related About Hastening Zuhr
باب: ظہر جلدی پڑھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
12
Chapter: What Has Been Related About Delaying Zuhr In Severe Heat
باب: سخت گرمی میں ظہر دیر سے پڑھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
13
Chapter: Virtue Of Performing Salat at the Beginning Of Its Prescribed Time
باب: اول وقت میں نماز پڑھنے کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
14
Chapter: : What Has Been Related About Salatul-Wusta [And It Has Been Said That It Is Zuhr]
باب: صلاۃ وسطیٰ ہی صلاۃ عصر ہے، ایک قول یہ بھی ہے کہ وہ صلاۃ ظہر ہے
Jam e Tirmazi
15
Chapter: What Has Been Related About The Virtues Of The Adhan
باب: اذان کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
16
Chapter: [What Has Been Related] About The Virtue Of The Five Prayers
باب: پنج وقتہ نمازوں کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
17
Chapter: What Has Been Related About the Virtue Of Salat In Congregation
باب: باجماعت نماز کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
18
Chapter: : What Has Been Related About The Virtue Of Isha And Fajr In Congregation
باب: عشاء اور فجر جماعت سے پڑھنے کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
19
Chapter: : What Has Been Related About The Virtue Of The First Row
باب: پہلی صف کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
20
Chapter: [What Has Been Related] About the Virtue Of the First Takbir
باب: تکبیر اولیٰ کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
21
Chapter: What Has Been Related About The Virtue Of At-Tamin
باب: آمین کہنے کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
22
Chapter: What Has Been Related About The Recitation For Zuhr And Asr
باب: ظہر اور عصر میں پڑھی جانے والی سورتوں کا بیان
Jam e Tirmazi
23
Chapter: What Has Been Related About The Virtue Of Building A Masjid
باب: مسجد بنانے کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
24
Chapter: What Has Been Related About The Salat Performed In Masjid Quba
باب: مسجد قباء میں نماز کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
25
Chapter: What Has Been Related About Walking To The Masjid
باب: مسجد کی طرف چل کر جانے کی فضیلت
Jam e Tirmazi
26
Chapter: What Has Been Related About The Virtues Of Sitting In The Masjid And Waiting For The Salat
باب: مسجد میں بیٹھنے اور نماز کے انتظار کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
27
Chapter: What Has Been Related About Performing Many Bowings and Prostrations [And Its Virtues]
باب: رکوع اور سجدہ کثرت سے کرنے کی فضیلت
Jam e Tirmazi
28
Chapter: What Has Been Related About A Man Who Says The Taslim After Two Rakah During The Zuhr Or Asr Prayers
باب: غلطی سے ظہر یا عصر کی دو ہی رکعت میں سلام پھیر دینے والے کا حکم
Jam e Tirmazi
29
Chapter: What Has Been Related About The Virtue Of The Two Rak'ah (Before) Fajr
باب: فجر کی دونوں سنتوں کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
30
Chapter: What Has Been Related About The Four Rak'ah Before Az-Zuhr
باب: ظہر سے پہلے چار رکعت سنت پڑھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
31
Chapter: What Has Been Related About The Two Rak'ah After Az-Zuhr
باب: ظہر کے بعد دو رکعت سنت پڑھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
32
Chapter: What Has Been Related About The Virtue Of Six Voluntary Rak'ah After Al-Maghrib
باب: مغرب کے بعد نفل نماز اور چھ رکعت پڑھنے کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
33
Chapter: What Has Been Related About The Virtue Of Salat During The Night
باب: قیام اللیل (تہجد) کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
34
Chapter: What Has Been Related About The Virtue Of Voluntary Salat In The House
باب: نفل نماز گھر میں پڑھنے کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
35
Chapter: What Has Been Related About The Virtue Of Al-Witr
باب: نماز وتر کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
36
Chapter: What Has Been Related About The Virtues Of Sending Salat Upon The Prophet
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم پر صلاۃ (درود) بھیجنے کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
37
Chapter: [What Has Been Related] About The Virtue Of The Day Of Jumu'ah
باب: جمعہ کے دن کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
38
Chapter: [What Has Been Related] About The Virtue Of Ghusl On Friday
باب: جمعہ کے دن غسل کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
39
Chapter: What Has Been Related About The One Who Works In Collecting Sadaqah In Truth
باب: صحیح ڈھنگ سے صدقہ وصول کرنے والے کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
40
Chapter: What Has Been Related About The Virtue Of Charity
باب: صدقہ کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
41
Chapter: What Has Been Related About The Virtue Of The Month Of Ramadan
باب: ماہ رمضان کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
42
Chapter: What Has Been Related About The Virtue Of Sahar
باب: سحری کھانے کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
43
Chapter: What Has Been Related About The Virtue OF Fasting On The Day of Arafah
باب: عرفہ کے دن کے روزے کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
44
Chapter: What Has Been Related About The Virtues Of Fasting
باب: روزے کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
45
Chapter: What Has Been Related About The Virtue For The Fasting Person When Others Are Eating In His Presence
باب: روزہ دار کی فضیلت کا بیان جب اس کے پاس کھایا جائے
Jam e Tirmazi
46
Chapter: What Has Been Revealed About One Who Provides The Food For A Fasting Person To Break His Fast
باب: روزہ دار کو افطار کرانے کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
47
Chapter: Encouragement To Perform The Night Prayer During Ramadan And The Virtues That Accompany It
باب: قیام رمضان (تراویح پڑھنے) کی ترغیب اور اس کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
48
Chapter: What Has Been Related About The Virtue Of The Talbiyah And the Nahr (Sacrifice)
باب: تلبیہ اور نحر (قربانی) کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
49
Chapter: What Has Been Related About The Virtues Of Tawaf
باب: طواف کعبہ کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
50
Chapter: What Has Been Related About The Virtues Of The Black Stone, Its Corner, And The Maqam
باب: حجر اسود، رکن یمانی، اور مقام ابراہیم کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
No related chapter matched that.

Related Hadith

72
Musnad Ahmad
2053
۔ (۲۰۵۳) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیقٍ ثَانٍ) قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَۃَ عَنْ صَلَاۃِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، قَالَتْ: کَانَ یُصَلِّیْ أَرْبَعًا قَبْلَ الظُّھْرِ وَثِنْتَیْنِ بَعْدَھَا، وَثِنْتَیْنِ قَبْلَ الْعَصْرِ، وَثِنْتَیْنِ بَعْدَ الْمَغْرِبِ، وَثِنْتَیْنِ بَعْدَ الْعِشَائِ، ثُمَّ یُصَلِّیْ مِنَ اللَّیْلِ تِسْعًا۔ قُلْتُ أَقَائِمًا أَوْ قَاعِدًا؟ قَالَتْ: یُصَلِّیْ لَیْلاً طَوِیْلاً قَائِمًا وَلَیْلاً طَوِیْلاً قَاعِدًا۔ قُلْتُ کَیْفَیَصْنَعُ إِذَا کَانَ قَائِمًا وَکَیْفَیَصْنَعُ إِذَا کَانَ قَاعِدًا؟ قَالَتْ: إِذَا قَرَأَ قَائِمًا رَکَعَ قَائِمًا، وَإِذَا قَرَأَ قَاعِدًا رَکَعَ قَاعِدًا، وَرَکْعَتَیْنِ قَبْلَ صَلَاۃِ الصُّبْحِ۔ (مسند احمد: ۲۶۳۳۹)
وہ کہتے ہیں: میں نے سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی نماز کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ظہر سے پہلے چار،اس کے بعد دو، عصر سے پہلے دو، مغرب کے بعد دو اور عشاء کے بعد دو رکعتیں پڑھا کرتے تھے، اوررات کو نو رکعت نماز ادا کرتے تھے۔میں نے کہا: کھڑے ہو کر پڑھتےیا بیٹھ کر؟ انہوں نے کہا: کافی دیر کھڑے ہوکر اور کافی دیر بیٹھ کر نماز پڑھتے تھے، میں نے کہا: جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کھڑے ہوکر اور جب بیٹھ کر پڑھتے تو کیسے کرتے؟ انہوں نے کہا: جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کھڑے ہوکر قراء ت کرتے تو رکوع بھی کھڑے ہوکر کرتے اور جب بیٹھ کر قراء ت کرتے تو رکوع بھی بیٹھ کر کرتے اور نمازِ فجر سے پہلے دو رکعتیں پڑھتے تھے۔
Musnad Ahmad
2052
۔ (۲۰۵۲) عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ شَقِیْقٍ قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا عَنْ صَلَاۃِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنَ التَّطَوُّعِ فَقَالَتْ: کَانَ یُصَلِّیْ قَبْلَ الظُّہْرِ أَرْبَعًا فِیْ بَیْتِی ثُمَّ یَخْرُجُ فَیُصَلِّیْ بِالنَّاسِ ثُمَّ یَرْجِعُ إِلَی بَیْتِیْ فَیُصَلِّیْ رَکْعَتَیْنِ، وَکَانَ یُصَلِّیْ بِالنَّاسِ الْمَغْرِبَ ثُمَّ یَرْجِعُ إِلَی بَیْتِہِ فَیُصَلِّیْ رَکْعَتَیْنِ، وَکَانَ یُصَلِّیْ بِہِمُ الْعِشَائَ ثُمَّ یَدْخُلُ بَیْتِیْ فَیُصَلِّیْ رَکْعَتَیْنِ، وَکَانَ یُصَلِّیْ مِنَ اللَّیْلِ تِسْعَ رَکَعَاتٍ فِیْہْنَّ الْوِتْرُ، وَکَانَ یُصَلِّی لَیْلاً طَوِیْلاً قَائِمًا وَلَیْلاً طَوِیْلاً جَالِسًا، فَإِذَا قَرَأَ وَھُوَ قَائِمٌ رَکَعَ وَسَجَدَ وَھُوَ قَائِمٌ وَإِذَا قَرَأَ وَھُوَ قَاعِدٌ رَکَعَ وَسَجَدَ وَھُوَ قَاعِدٌ وَکَانَ إِذَا طَلَعَ الْفَجْرُ صَلّٰی رَکْعَتَیْنِ ثُمَّ یَخْرُجُ فَیُصَلِّیْ بِالنَّاسِ صَلَاۃَ الْفَجْرِ۔ (مسند احمد: ۲۴۵۲۰)
عبد اللہ بن شقیق کہتے ہیں: میں نے سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی نفل نماز کے بارے میں پوچھا،انہوں نے کہا: آپ ظہر سے پہلے میرے گھر میں چار رکعتیں پڑھ کر نکلتے تھے، پھر لوگوں کو نماز پڑھا کر میرے گھر واپس آتے اور دو رکعتیں ادا کرتے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لوگوں کو مغرب کی نماز پڑھا کر گھر میں واپس آتے اور دو رکعت نماز پڑھتے،پھر آپ عشاء کی نماز پڑھاکر میرے گھر میں داخل ہوتے اور دو رکعتیں پڑھتے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رات کو وتر سمیت نو رکعت نماز پڑھتے تھے، اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رات کو کافی وقت کھڑے ہو کر اور کافی وقت بیٹھ کر نماز پڑھتے اور جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کھڑے ہو کر قراء ت کر رہے ہوتے تو رکوع اور سجدہ بھی کھڑے ہوکر ہی ادا کرتے تھے اور جب قراء ت بیٹھ کر کرتے تو رکوع اور سجدہ بھی بیٹھ کر ہی اداکرتے اور جب فجر طلوع ہو جاتی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم دو رکعت نماز ادا کر کے چلے جاتے اور جا کر لوگوں کو نماز پڑھاتے۔
Musnad Ahmad
2054
۔ (۲۰۵۴) عَنْ قَابُوْسٍ عَنْ أَبِیْہِ قَالَ: أَرْسَلَ أَبِیْ اِمْرَأَۃً إِلٰی عَائِشَۃَیَسْأَلُھَا أَیُّ الصَّلَاۃِ کَانَتْ أَحَبَّ إِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنْ یُوَاظِبَ عَلَیْہَا؟ قَالَتْ: کَانَ یُصَلِّیْ قَبْلَ الظُّہْرِ أَرْبَعًا یُطِیْلُ فِیْہِنَّ الْقِیَامَ وَیُحْسِنُ فِیْہِنَّ الرُّکُوْعَ وَالسُّجُوْدَ، فَأَمَّا مَالَمْ یَکُنْیَدَعُ صَحِیْحًا وَلَا مَرِیْضًا وَلَا غَائِبًا وَلَا شَاھِدًا، فَرَکْعَتَیْنِ قَبْلَ الْفَجْرِ۔ (مسند احمد: ۲۴۶۶۵)
قابوس کے باپ نے ایک عورت کو سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کی طرف بھیجا کہ وہ ان سے یہ پوچھ کر آئے کہ کون سی نماز رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو سب سے زیادہ محبوب تھی کہ آپ اس پر ہمیشگی کرتے تھے؟ انہوں نے کہا: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ظہر سے پہلے چار رکعتیں پڑھتے اور ان میں لمبا قیام کرتے اور اچھے انداز میں رکوع و سجود ادا کرتے، رہا مسئلہ اس نماز کا کہ جسے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تندرستی کی حالت میں، بیماری کی حالت میں، اور سفر میں اور حضر میں نہ چھوڑتے ہوں، وہ فجر سے پہلے والی دو رکعتیں ہیں۔
Musnad Ahmad
974
۔ (۹۷۴)۔عَنْ عِمْرَانَ بْنِ طَلْحَۃَ عَنْ أُمِّہِ حَمْنَۃَ بِنْتِ جَحْشٍؓ قَالَتْ: کُنْتُ أُسْتَحَاضُ حَیْضَۃً شَدِیْدَۃً کَثِیْرَۃً، فَجِئْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَسْتَفْتِیْہِ وَأُخْبِرُہُ فَوَجَدْتُہُ فِیْ بَیْتِ أُخْتِیْ زَیْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ، قَالَتْ: فَقُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اِنَّ لِیْ اِلَیْکَ حَاجَۃً، فَقَالَ: ((مَاہِیَ؟)) فَقُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اِنِّیْ اُسْتَحَاضُ حَیْضَۃً کَثِیْرَۃً شَدِیْدَۃً فَمَا تَرٰی فِیْہَا؟ قَدْ مَنَعَتْنِیَ الصَّلوٰۃَ وَالصِّیَامَ، قَالَ: ((أَنْعَتُ لَکِ الْکُرْسُفَ فَاِنَّہُ یُذْہِبُ الدَّمَ)) قَالَتْ: ہُوَ أَکْثَرُ مِنْ ذٰلِکَ، قَالَ: ((فَتَلَجَّمِیْ)) قَالَتْ: اِنَّمَا أَثُجُّ ثَجًا؟ فَقَالَ لَہَا: ((سَآمُرُکِ بِأَمَرَیْنِ، أَیُّہُمَا فَعَلْتِ فَقَدْ أَجْزَأَ عَنْکِ مِنَ الْآخَرِ، فَاِنْ قَوِیْتِ عَلَیْہِمَا فَأَنْتِ أَعْلَمُ۔)) فقَالَ لَہَا: ((اِنَّمَا ہٰذِہِ رَکَضَۃٌ مِنْ رَکَضَاتِ الشَّیْطَانِِ، فَتَحَیَّضِیْ سِتَّۃَ أَیَّامٍ اِلٰی سَبْعَۃٍ فِیْ عِلْمِ اللّٰہِ ثُمَّ اغْتَسِلِیْ حَتّٰی اِذَا رَأَیْتِ أَنَّکِ قَدْ طَہُرْتِ وَاسْتَیْقَنْتِ وَاسْتَنْقَأْتِ فَصَلِّیْ أَرْبَعًا وَعِشْرِیْنَ لَیْلَۃً أَوْ ثَلَاثًا وَعِشْرِیْنَ لَیْلَۃً وَأَیَّامَہَا وَصُوْمِیْ فَاِنَّ ذٰلِکِ یُجْزِئُکِ وَکَذٰلِکِ فَافْعَلِیْ فِیْ کُلِّ شَہْرٍ کَمَا تَحِیْضُ النِّسَائُ وَکَمَا یَطْہُرْنَ بِمِیْقَاتِ حَیْضِہِنِّ وَطُہْرِہِنَّ، وَاِنْ قَوِیْتِ عَلٰی أَنْ تُؤَخِّرِی الظُّہْرَ وَتُعَجِّلِیْ الْعَصْرَ فَتَغْتَسِلِیْنَ ثُمَّ تُصَلِّیْنَ الظُّہْرَ وَالْعَصْرَ جَمِیْعًا ثُمَّ تُؤَخِّرِیْنَ الْمَغْرِبَ وَتُعَجِّلِیْنَ الْعِشَائَ ثُمَّ تَغْتَسِلِیْنَ وَتجْمَعِیْنَ بَیْنَ الصَّلَاتَیْنِ فَافْعَلِیْ، وَتَغْتَسِلِیْنَ مَعَ الْفَجْرِ وَتُصَلِّیْنَ، وَکذٰلِکِ فَافْعَلِیْ وَصَلِّیْ وَصُوْمِیْ اِنْ قَدَرْتِ عَلَی ذٰلِکَ)) وَقَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((وَہٰذَا أَعْجَبُ الْأَمْرَیْنِ اِلَیَّ)) (مسند أحمد: ۲۸۰۲۲)
سیدہ حمنہ بنت جحش ؓ سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: مجھے بڑی کثرت اور شدت سے استحاضہ کا کون آتا تھا، پس میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے فتوی پوچھنے اور آپ کو اپنا مسئلہ بتانے کے لیے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس گئی اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو اپنی بہن سیدہ زینب بن جحشؓ کے گھر پایا، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے آپ سے کوئی کام ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: وہ کیا ہے؟ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے بڑی کثرت اور شدت سے استحاضہ کا خون آتا ہے، اس کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے، اس نے تو مجھے نماز اور روزے سے روک دیا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: میں تجھے روئی کی تجویز دیتا ہوں، وہ خون کو ختم کر دے گی۔ میں نے کہا: وہ خون تو اس سے زیادہ ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: تو پھر لنگوٹ کس لے۔ اس نے کہا: میں تو بہت خون بہا رہی ہوں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: میں تجھے دو حکم دیتا ہوں، تو ان میں سے جو بھی کرے گی، وہ تجھے کفایت کرے گا، پس اگر تجھے اِن دونوں کو کرنے کی طاقت ہو تو تو خود بہتر جانتی ہے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: یہ شیطان کی ٹھوکروںمیں سے ایک ٹھوکر ہے، پس تو چھ سے سات دن اپنے آپ کو حائضہ شمار کر جو بھی اللہ کے علم کے مطابق ہو، پھر اس طرح غسل کر کہ تجھے نظر آنے لگے کہ واقعی تو پاک اور صاف ہو گئی ہے اور تجھے اس چیز کا یقین ہو گیا ہے، پھر تو تئیس یا چوبیس دن نماز پڑھ اور روزے رکھ، پس یہ عمل تجھے کفایت کرے گا، پس تو ہر ماہ کو اسی طرح کر، جیسا کہ خواتین کو ان کے حیض اور طہر کے وقت میں حیض آتا ہے اور پھر وہ پاک ہو جاتی ہیں اور اگر تجھ میں اتنی قدرت ہے کہ تو ظہر کو مؤخر کر کے اور عصر کو معجل کر کے ان کیلئے غسل کر ے اور اِن دونوں کو اکٹھا کرکے ادا کرے، مغر ب کو مؤخر کر کے اور عشاء کو معجل کر کے ان کیلئے غسل کرے اور اِن دونوں کو اکٹھا کر کے ادا کرے اور فجر کے لیے علیحدہ غسل کر کے اس کو ادا کر لے، تو تو اسی طرح کر اور نماز پڑھ اور روزے رکھ۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اِن دو حکموں میں سے یہ عمل مجھے زیادہ پسند ہے۔
Musnad Ahmad
1862
۔ (۱۸۶۲) عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِیْ عَائِشَۃَ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ أَنَّہُ حَدَّثَہُمْ أَنَّ أَبَاذَرٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! ذَھَبَ أَصْحَابُ الدُّثُوْرِ بِالْأُجُوْرِ یُصَلُّوْنَ کَمَا نُصَلِّیْ وَیَصُوْمُوْنَ کَمَا نَصُوْمُ وَلَھُمْ فُضُوْلُ أَمْوَالِھِمْ یَتَصَدَّقُوْنَ بِہَا، وَلَیْسَ لَنَا مَانَتَصَدَّقُ بِہٖ۔فَقَالَرَسُوْلُاللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أَفَلَا أَدُلُّکَ عَلٰی کَلِمَاتٍ إِذَا عَمِلْتَ بِہِنَّ أَدْرَکْتَ مَنْ سَبَقَکَ وَلاَ یَلْحَقُکَ إِلاَّ مَنَ أَخَذَ بِمِثْلِ عَمَلِکَ؟)) قُلْتُ: بَلٰییَارَسُوْلَ اللّٰہِ! قَالَ: ((تُکَبِّرُ دُبُرَ کُلِّ صَلاَۃٍ ثَلاَثًا وَّثَلاَثِیْنَ، وَتُسَبِّحُ ثَلاَثًا وَثَلاَثِیْنَ، وَتَحْمَدُ ثَلاَثًا وَثَلاَثِیْنَ، وَتَخْتِمُہَا بِلاَ إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ وَحْدَہُ لاَ شَرِیْکَ لَہُ ، لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ۔ (وَفِیْ لَفْظٍ:) تُسَبِّحُ اللّٰہَ خَلْفَ کُلِّ صَلاَۃِ ثَلاَثًا وَّثَلاَثِیْنَ، وَتَحْمَدُ ثَلاَثًا وَّثَلاَثِیْنَ، وَتُکَبِّرُ أَرْبَعًا وَ ثَلاَثَِیْنَ۔ (مسند احمد: ۷۲۴۲)
سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابوذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! صاحب ِ مال لوگ تو سارا اجر لے گئے ہیں، (وہ اس طرح کہ) وہ نماز پڑھتے ہیں، ہم بھی نماز پڑھتے ہیںاور وہ روزہ رکھتے ہیں، ہم بھی روزہ رکھتے ہیں، لیکن ان کے پاس زائد مال ہیں جن کا وہ صدقہ کرتے ہیں اور ہمارے پاساتنا مال نہیںہے کہ ہم بھی صدقہ کر سکیں؟ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا میں ایسے کلمات کی طرف تیری رہنمائی نہ کر دوں کہ جب تو ان پر عمل کرے گا تو تو سبقت لے جانے والوں کو پا لے گا اور تیرے (مقام) کو کوئی بھی نہیں پا سکے گا، مگر وہ جو تیرے عمل کی طرح کا عمل کرے گا؟ میں نے کہا: کیوں نہیں: اے اللہ کے رسول! آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو نے ہر نماز کے بعد تینتیس مرتبہ اللہ اکبر، تینتیس مرتبہ سبحان اللہ اور تینتیس مرتبہ الحمد للہ کہنا ہے اور اس دعا کے ساتھ اس کو ختم کرنا ہے: لاَ إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ وَحْدَہُ لاَ شَرِیْکَ لَہُ ، لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ۔ ایک روایت میں ہے: تو نے ہر نماز کے بعد تینتیس مرتبہ سبحان اللہ، تینتیس مرتبہ الحمد للہ اور چونتیس مرتبہ اللہ اکبر کہنا ہے۔
Musnad Ahmad
2045
۔ (۲۰۴۵) عَنْ أَبِیْ إِسْحَاقَ عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَۃَ قَالَ: سَأَلْنَا عَلِیًّا ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنْ تَطَوُّعِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِالنَّہَارِ، فَقَالَ: إِنَّکُمْ لَا تُطِیْقُوْنَہُ، قَالَ: قُلْنَا: أَخْبِرْنَا بِہِ، نَأْخُذُ مِنْہُ مَا أَطَقْنَا، قَالَ: کَانَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِذَا صَلَّی الْفَجْرَ أَمْھَلَ حَتّٰی إِذَا کَانَتِ الشَّمْسُ مِنْ ھٰہُنَا یَعْنِی مِنْ قِبَلِ الْمَشْرِقِ مِقْدَارَ ھَا مِنْ صَلَاۃِ الْعَصْرِ مِنْ ھٰہُنَا یَعْنِی مِنْ قِبَلِ الْمَغْرِبِ، قَامَ فَصَلَّی رَکْعَتَیْنِ، ثُمَّ یُمْہِلُ حَتّٰی إِذَا کَانَتِ الشَّمْسُ مِنْ ھٰہُنَا یَعْنِی مِنْ قِبَلِ الْمَشْرِقِ مِقْدَارَھَا مِنْ صَلَاۃِ الظُّہْرِ مِنْ ھٰہُنَا یَعْنِیْ مِنْ قِبَلِ الْمَغْرِبِ، قَامَ فَصَلّٰی أَرْبَعًا وَأَرْبَعًا قَبْلَ الظُّہْرِ إِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ وَرَکْعَتَیْنِ بَعْدَھَا، وَأَرْبَعًا قَبْلَ الْعَصْرِ یَفْصِلُ بَیْنَ کُلِّ رَکْعَتَیْنِ بِالتَّسْلِیْمِ عَلَی الْمَلَائِکَۃِ الْمُقَرَّبِیْنَ وَالنَّبِیِّیْنَ وَمَنْ تَبِعَہُمْ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَالْمُسْلِمِیْنَ، قَالَ: قَالَ عَلَیٌّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌: تِلْکَ سِتَّ عَشْرَۃَ رَکْعَۃً تَطَوُّعُ النَّبِیِّ ّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِالنَّہَارِ وَقَلَّ مَنْ یُدَاوِمُ عَلَیْہَا۔ (مسند احمد: ۶۵۰)
عاصم بن ضمرۃ کہتے ہیں: ہم نے سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے دن کے وقت کی نفلی نماز کے بارے میں پوچھا، انہوں نے کہا: تم تو اس کی ادائیگی کی طاقت ہی نہیں رکھتے۔ ہم نے کہا: آپ ہمیں بتا تو دیں، جتنی طاقت ہم میں ہوئی، ہم اس کے مطابق عمل کریں گے، انہوں نے کہا: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب فجر کی نماز پڑھ لیتے تو ٹھہر جاتے حتیٰ کہ جب سورج مشرق کی سمت میں اتنا بلند ہو جاتا جتنا کہ عصر کی نماز کے وقت مغرب کی طرف ہوتا ہے، اس وقت آپ اٹھ کر دو رکعتیں پڑھتے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ٹھہر جاتے، حتیٰ کہ جب سورج مشرق کی سمت میں وہاں آ جاتا، جہاں ظہر کے وقت مغرب میں ہوتا ہے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم چار رکعت ادا کرتے، پھر چار رکعتیں ظہر سے پہلے پڑھتے، جکہ سورج ڈھل چکا ہوتا تھا، ظہر کے بعد دو رکعتیں اورعصر سے پہلے چار رکعت ادا کرتے تھے اور ہر دو رکعتوں کے درمیان مقرب فرشتوں، نبیوں اور ان کی پیروی کرنے والے مومنوں اور مسلمانوں کے لیے سلامتی کی دعا کرنے کے ساتھ فرق کرتے (یعنی سلام پھیرتے)۔ پھر سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: یہ سولہ رکعات نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی دن کے وقت نفل نماز ہے اور ایسے لوگ کم ہی ہیں، جو ان پر ہمیشگی کرتے ہیں۔
Musnad Ahmad
2051
۔ (۲۰۵۱) عَنْ الْمُغِیْرَۃِ بْنِ سَلْمَانَ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌یَقُوْلُ: کَانَتْ صَلَاۃُ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الَّتِیْ لَایَدَعُ رَکْعَتَیْنِ قَبْلَ الظُّہْرِ وَرَکْعَتَیْنِ بَعْدَھَا وَرَکْعَتَیْنِ بَعْدَ الْمَغْرِبِ وَرَکْعَتَیْنِ بَعْدَ الْعِشَائِ وَرَکْعَتَیْنِ قَبْلَ الصُّبْحِ۔ (مسند احمد: ۵۱۲۷)
سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: ظہر سے پہلے دو، اس کے بعد دو، مغرب کے بعد دو، عشاء کے بعد دو اور فجر سے پہلے دو رکعتیں،یہ ایسی نماز تھی کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جس کو ترک نہیں کرتے تھے۔
Musnad Ahmad
2089
۔ (۲۰۸۹) عَنْ شُرَیْحِ بْنِ ھَانِیئٍ قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنْ صَلَاۃِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَتْ: لَمْ تَکُنْ صَلَاۃٌ أَحْرٰی أَنْ یُؤَخِّرَھَا إِذَا کَانَ عَلٰی حَدِیْثٍ مِنْ صَلَاۃِ الْعِشَائِ الْآخِرَۃِ وَمَا صَلاَّھَا قَطُّ فَدَخَلَ عَلَیَّ إِلاَّ صَلّٰی بَعْدَھَا أَرْبَعًا أَوْسِتًّا وَمَا رَأَیْتُہُیَتَّقِی عَلَی الْأَرْضِ بِشَیْئٍ قَطُّ إِلاَّ أَنِّیْ أَذْکُرُ أَنَّ یَوْمَ مَطَرٍ اَلْقَیْنَا تَحْتَہُ بَتًّا فَکَاَنِّیْ أَنْظُرُ إِلٰی خَرْقٍ فِیْہِیَنْبُعُ مِنْہُ الْمَائُ۔ (مسند احمد: ۲۴۸۰۹)
شریح بن ہانی کہتے ہیں: میں نے سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی نماز کے بارے میں سوال کیا، انہوں نے کہا: جب آپ گفتگو میں مصروف ہوتے تو عشاء کی نماز سے زیادہ مناسب کوئی ایسی نماز نہ ہوتی کہ جسے آپ مؤخر کریں، پھر جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یہ نماز پڑھ کر میرے پاس آتے تو اس کے بعد چار یا چھ رکعتیں ادا کرتے اور میں نے آپ کو نہیں دیکھا کہ آپ کوئی چیز بچھا کر زمین سے بچتے ہوں، ہاں یہ مجھے یاد آ رہا ہے کہ ایک بارش والے دن ہم نے آپ کے نیچے ایک چٹائی ڈالی تھی،لیکن گویا کہ میں اب بھی دیکھ رہی ہوں کہ اس کی پھٹی ہوئی جگہ سے پانی پھوٹ رہا تھا۔
Musnad Ahmad
2213
۔ (۲۲۱۳) عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُوْتِرُ بِتِسْعِ رَکَعَاتٍ وَرَکْعَتََیْنِ وَھُوَ جَالِسٌ فَلَمَّا ضَعُفَ أَوْتَرَ بِسَبْعِ وَرَکْعَتَیْنِ وَھُوَ جَالِسٌ۔ (مسند احمد: ۲۵۸۶۰)
سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نو رکعت وتر ادا کرتے اور دو رکعتیں بیٹھ کر پڑھتے تھے، جب آپ ضعیف ہوگئے تو سات وتر پڑھتے اور دو رکعتیں بیٹھ کر پڑھتے تھے۔