TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

عشا کی سننِ رواتب کا بیان - عشا کی سننِ رواتب کا بیان - نفل نماز کے ابواب - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 9 of نفل نماز کے ابواب in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 9 of 13 · 5 Hadith
۔ (۲۰۸۶) عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ الزُّبَیْرِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِذَا صَلَّی الْعِشَائَ رَکَعَ أَرْبَعَ رَکَعَاتٍ وَأَوْتَرَ بِسَجْدَۃٍ ثُمَّ نَامَ حَتّٰییُصَلِّیَ بَعْدُ صَلَاتَہُ بِاللَّیْلِ۔ (مسند احمد: ۱۶۲۰۸)
سیدناعبد اللہ بن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب عشاء کی نماز پڑھ لیتے تو چار رکعتیں ادا کرتے اور ایک رکعت وتر بھی پڑھ لیتے اور پھر سوجاتے، بعد میں رات کو اپنی نماز ادا کرتے۔
Takhreej
(۲۰۸۶) تخریج: ضعیف منقطع، نافع بن ثابت من رجال ((التعجیل)) لم یدرک جدہ عبد اللہ۔ أخرجہ البزار: ۷۳۲، والطبرانی فی الکبیر : ۲۵۰ (انظر: ۱۶۱۰۹)
2086
Zaeef
۔ (۲۰۸۷) عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّہُ صَلّٰی مَعَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رَکْعَتَیْنِ بَعْدَ الْعِشَائِ فِیْ بَیْتِہِ۔ (مسند احمد: ۵۲۹۶)
سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ عشاء کے بعد آپ کے گھر میں دو رکعتیں پڑھیں۔
Takhreej
(۲۰۸۷) تخریج: أخرجہ مطولا و مختصرا البخاری: ۹۳۷، ۱۱۶۵، ۱۱۸۰، ومسلم:۸۸۲، وابوداود: ۱۱۲۸، والترمذی: ۴۲۵، ۴۳۲، والنسائی: ۳/ ۱۱۳ (انظر: ۴۵۰۶، ۵۲۹۶)
2087
Sahih
۔ (۲۰۸۸) عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: وَکَانَ یُصَلِّیْ بِہِمُ الْعِشَائَ ثُمَّ یَدْخُلُ بَیْتِیْ فَیُصَلِّیْ رَکْعَتَیْنِ، وَکَانَ یُصَلِّیْ مِنَ اللَّیْلِ تِسْعَ رَکْعَاتٍ فِیْہِنَّ الْوِتْرُ۔ (مسند احمد: ۲۴۵۲۰)
سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لوگوں کو عشاء کی نماز پڑھا کر میرے گھر تشریف لاتے اور دو رکعتیں پڑھتے اور رات کو نمازِ وتر سمیت (۹) رکعتیں ادا کرتے تھے۔
Takhreej
(۲۰۸۸) تخریج: أخرجہ بتمامہ ومختصرا مسلم: ۷۳۰ (انظر: ۲۴۰۱۹)
2088
Sahih
۔ (۲۰۸۹) عَنْ شُرَیْحِ بْنِ ھَانِیئٍ قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنْ صَلَاۃِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَتْ: لَمْ تَکُنْ صَلَاۃٌ أَحْرٰی أَنْ یُؤَخِّرَھَا إِذَا کَانَ عَلٰی حَدِیْثٍ مِنْ صَلَاۃِ الْعِشَائِ الْآخِرَۃِ وَمَا صَلاَّھَا قَطُّ فَدَخَلَ عَلَیَّ إِلاَّ صَلّٰی بَعْدَھَا أَرْبَعًا أَوْسِتًّا وَمَا رَأَیْتُہُیَتَّقِی عَلَی الْأَرْضِ بِشَیْئٍ قَطُّ إِلاَّ أَنِّیْ أَذْکُرُ أَنَّ یَوْمَ مَطَرٍ اَلْقَیْنَا تَحْتَہُ بَتًّا فَکَاَنِّیْ أَنْظُرُ إِلٰی خَرْقٍ فِیْہِیَنْبُعُ مِنْہُ الْمَائُ۔ (مسند احمد: ۲۴۸۰۹)
شریح بن ہانی کہتے ہیں: میں نے سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی نماز کے بارے میں سوال کیا، انہوں نے کہا: جب آپ گفتگو میں مصروف ہوتے تو عشاء کی نماز سے زیادہ مناسب کوئی ایسی نماز نہ ہوتی کہ جسے آپ مؤخر کریں، پھر جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یہ نماز پڑھ کر میرے پاس آتے تو اس کے بعد چار یا چھ رکعتیں ادا کرتے اور میں نے آپ کو نہیں دیکھا کہ آپ کوئی چیز بچھا کر زمین سے بچتے ہوں، ہاں یہ مجھے یاد آ رہا ہے کہ ایک بارش والے دن ہم نے آپ کے نیچے ایک چٹائی ڈالی تھی،لیکن گویا کہ میں اب بھی دیکھ رہی ہوں کہ اس کی پھٹی ہوئی جگہ سے پانی پھوٹ رہا تھا۔
Takhreej
(۲۰۸۹) تخریج: اسنادہ ضعیف لجھالۃ مقاتل بن بشیر العجلی۔ أخرجہ ابوداود: ۱۳۰۳ (انظر: ۲۴۳۰۵)
2089
Zaeef
۔ (۲۰۹۰) (وَمِنْ طَرِیقٍ ثَانٍ) حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ حَدَّثَنِیْ أَبِیْ ثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ قَالَ أَنَا مَالِکٌ فَذَکَرَ مِثْلَہُ، قَالَ بَتًّا یَعْنِیْ النَّطْعَ فَصَلّٰی عَلَیْہِ، فَلَقَدْ رَأَیْتُ فَذَکَرَ مَعْنَاہُ۔ (مسند احمد: ۲۴۸۱۰)
۔ (دوسری سند)اسی طرح کی حدیث ہے، اس میں زائد چیزیہ ہے کہ بَتًّا کا معنی النَّطْع بیان کیا ہے، اس سے مراد چمڑے کی چٹائی ہے، جو نماز کے لیے اور کھانا کھانے کے لیے بچھائی جاتی تھی۔
Takhreej
(۲۰۹۰) تخریج: اسنادہ ضعیف وانظر الحدیث بالطریق الاول (انظر: ۲۴۳۰۶)
Explanation
فوائد:… بعض لوگوں کا خیال ہے کہ عصر کی طرح عشاء سے پہلے بھی چار رکعت سنتیں غیر مؤکدہ ہیں، لیکن ان کییہ بات بلا دلیل ہے، البتہ عام دلائل سے عشاء سے پہلے دو رکعتیں ثابت ہوتی ہیں، جیسےیہ حدیث ِ مبارکہ ہے: ((مَامِنْ صَلَاۃٍ مَفْرُوْضَۃٍ إِلَّا وَبَیْنَیَدَیْھَا رَکْعَتَانِ۔)) (صحیح ابن حبان: ۶۱۵، صحیحۃ: ۲۳۲) نہیں ہے کوئی فرضی نماز، مگر اس سے پہلے (کم از کم) دو رکعت (نفلی نماز) ہے۔ اس طرح سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ عشاء سے پہلے کم از کم دو رکعتیں ادا کرنی چاہئیں، ہاں اگر وقت ہو تو دوسری عام روایات کی روشنی میں نفلی نماز پڑھی جا سکتی ہے، جس کی کوئی حد معین نہیں ہے۔ رہا مسئلہ عشاء کی نماز کے بعد کی سنتوں کا تو وہ رکعتیں ہی ثابت ہیں۔ ذہن نشین کر لینا چاہیے کہ دوسری نمازوں کی طرح نماز عشاء کی کل چھ رکعتیں ہے، چار فرض اور دو سنتیں، نماز وتر رات کی نماز ہے، یہ عشاء کی نماز کا حصہ نہیں ہے۔ عمومی دلائل سے عشاء اور مغرب پہلے بھی دو رکعت نماز ثابت ہوتی ہے، لیکن ان کو ان نمازوں کی مستقل رکعتوں میں شمار نہیں کیا جا سکتا۔
2090
Zaeef