TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

فجر سے پہلے والی دو رکعتوں کی تخفیف اور ان میں قراء ت کا بیان - فجر سے پہلے والی دو رکعتوں کی تخفیف اور ان میں قراء ت کا بیان - نفل نماز کے ابواب - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 11 of نفل نماز کے ابواب in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 11 of 13 · 7 Hadith
۔ (۲۰۹۷) عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنْ حَفْصَۃَ ابْنَۃِ عُمَرَ زَوْجِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَرَضِیَ عَنْہَا قَالَتْ: کَانَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُصَلِّی رَکْعَتَیِ الْفَجْرِ قَبْلَ الصُّبْحِ فِی بَیْتِییُخَفِّفُہُمَا جِدًّا، قَالَ نَافِعٌ: وَکَانَ عَبْدُاللّٰہِ یُخَفِّفُھُمَا کَذَالِکَ۔ (مسند احمد: ۲۶۹۷۰)
زوجۂ رسول سیدہ حفصہ بنت عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نماز فجر سے پہلے والی دو رکعتیں میرے گھر میں پڑھا کرتے اور ان کو بڑی تخفیف کے ساتھ ادا کرتے تھے۔
Takhreej
(۲۰۹۷) تخریج: أخرجہ البخاری: ۱۱۷۳، ۱۱۸۱، ومسلم: ۷۲۳ (انظر: ۲۶۴۲۳، ۲۶۴۳۸)۔
2097
Sahih
۔ (۲۰۹۸) عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: کَانَ الْمُؤَذِّنُ إِذَا سَکَتَ مِنْ صَلَاۃِ الصُّبْحِ صَلّٰی رَکْعَتَیْنِ خَفِیْفَتَیْنِ تَعْنِیْ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند احمد: ۲۵۳۷۲)
سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی ہیں کہ جب مؤذن فجر کی اذان سے خاموش نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہلکی پھلکی دو رکعتیں پڑھتے تھے۔
Takhreej
(۲۰۹۸) تخریج: أخرجہ البخاری: ۶۳۱۰ (انظر: ۲۴۰۵۷)
2098
Sahih
۔ (۲۰۹۹) وَعَنْہَا أَیْضًا قَالَتْ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُصَلِّیْ الرَّکْعَتَیْنِ قَبْلَ الْغَدَاۃِ فَیُخَفِّفُہُمَا، حَتّٰی إِنِّیْ لَأَشُکُّ أَقَرَأَ فِیْھِمَا بِفَاتِحَۃِ الْکِتَابِ أَمْ لَا۔ (مسند احمد: ۲۶۰۴۵)
سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے یہ بھی مروی ہے، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نماز فجر سے پہلے دو رکعتیں پڑھتے تھے اور ان میں اتنی تخفیف کرتے کہ مجھے یہ شک ہونے لگتا کہ آیا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سورۂ فاتحہ بھی پڑھی ہے یا نہیں۔
Takhreej
(۲۰۹۹) تخریج: أخرجہ البخاری: ۱۱۷۱، ومسلم: ۷۲۴ (انظر: ۲۴۱۲۵)
2099
Sahih
۔ (۲۱۰۰) وَعَنْہَا ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: کَانَ قِیَامُ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی الرَّکْعَتَیْنِ قَبْلَ صَلَاۃِ الْفَجْرِ قَدْرَ مَا یَقْرَأُ فَاتِحَۃَ الْکِتَابِ۔ (مسند احمد: ۲۶۳۴۴)
سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے ہی مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا نماز فجر کی سنتوں میں قیام سورۂ فاتحہ پڑھنے کے برابر ہوتا تھا۔
Takhreej
(۲۱۰۰) تخریج: اسنادہ ضعیف لانقطاعہ، محمد بن سیرین لم یسمع من عائشۃ۔ أخرجہ ابن ابی شیبۃ: ۲/ ۲۴۳، واسحاق بن راھویہ: ۱۳۴۲ (انظر: ۲۵۸۲۴)
2100
Zaeef
۔ (۲۱۰۱) عَنِ ابْنِ سِیْرِیْنَ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یَقْرَأُ فِیْ رَکْعَتَیِ الْفَجْرِ بِـ{قُلْ یَاأَیُّہَا الْکَافِرُوْنَ} وَ{قُلْ ھُوَ اللّٰہُ أَحْدٌ} (وَفِیْ رِوَایَۃٍ:) وَکَانَ یُسِرُّ بِہِمَا۔ (مسند احمد: ۲۶۰۲۵)
سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فجر کی دو سنتوں میں آہستہ آواز کے ساتھ سورۂ کافروں اور سورۂ اخلاص کی تلاوت کرتے تھے۔
Takhreej
(۲۱۰۱) تخریج: منقطع، محمد بن سیرین لم یسمع من عائشۃ۔ أخرجہ ابن ابی شیبۃ: ۲/ ۲۴۲، واسحاق بن راھویہ: ۱۳۳۹، والطحاوی فی شرح معانی الآثار : ۱/ ۲۹۷ (انظر: ۲۵۵۱۰)
2101
Zaeef
۔ (۲۱۰۲) عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ شَقِیْقٍ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یَقُوْلُ: ((نِعْمَ السُّوْرَتَانَ ھُمَا یُقْرَأُ بِہِمَا فِی الرَّکْعَتَیْنِ قَبْلَ الْفَجْرِ، {قُلْ یَا أَیُّھَا الْکَافِرُونَ} وَ {قُلْ ھُوَ اللّٰہُ أَحَدٌ}۔ (مسند احمد: ۲۶۵۵۰)
سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ سورتیں بہترین ہیں، جن کی نمازِ فجر سے پہلے والی سنتوں میں تلاوت کی جاتی ہیں،یعنی سورۂ کافرون اور سورۂ اخلاص۔
Takhreej
(۲۱۰۲) تخریج: حدیث صحیح۔ أخرجہ ابن ماجہ: ۱۱۵۰ (انظر: ۲۶۰۲۲)
2102
Sahih
۔ (۲۱۰۳) عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: رَمَقْتُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقْرَأُ فِی الرَّکْعَتَیْنِ قَبْلَ الْفَجْرِ {قُلْ یَاأَیُّہَا الْکَافِرُوْنَ} وَ{قُلْ ھُوَ اللّٰہُ أَحَدٌ}۔ (مسند احمد: ۵۷۴۲)
سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں نے غور سے دیکھا کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نماز فجر سے پہلے والی دو رکعتوں میںسورۂ کافرون اور سورۂ اخلاص کی تلاوت کرتے تھے۔
Takhreej
(۲۱۰۳) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط الشیخین۔ أخرجہ الترمذی: ۴۱۷، وابن ماجہ: ۱۱۴۹، والنسائی: ۲/ ۱۷۰ (انظر: ۴۷۶۳، ۵۶۹۱، ۵۷۴۲)
Explanation
فوائد:… اس حدیث کی ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں: سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میں نے ایک ماہ تک غور سے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دیکھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فجر سے پہلے والی دو سنتوں میں سورۂ کافرون اور سورۂ اخلاص کی تلاوت کرتے تھے۔ (مسند احمد: ۵۶۹۱) فوائد:… ہمارے ہاں خواص و عوام کییہ فطرت بن چکی ہے کہ وہ ہر نماز کی ہر رکعت میں سورۂ فاتحہ کے بعد بغیر سوچے سمجھے سورۂ اخلاص کی تلاوت شروع کر دیتے ہیں۔ ذہن نشین کر لیں کہ جب تک آدمی احادیث کے مطابق نماز میں مختلف سورتوں کی تلاوت یا اذکار کی پابندی نہیںکرتا، شاید وہ دورانِ نماز خشوع و خضوع سے بھی محروم رہتا ہو، کاش اسے اس چیز کا احساس ہو جائے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جن مختصر سورتوں کی تعیین کے ساتھ بعض نمازوں کی بعض رکعتوں میں تلاوت کی ، ہمیں بھی ان کا اہتمام کرنا چاہیے، ویسے بھی جب تک سورۂ فاتحہ کے بعد تلاوت کے سلسلے میں تنوع پیدا نہ کیا جائے، اس وقت تک نمازی نماز کے حقیقی لطف سے محروم رہتا ہے۔
2103
Sahih