TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

ان دو سنتوں کو اول وقت میں جلدی جلدی ادا کرنے اور ان کے بعد لیٹنے کا بیان - ان دو سنتوں کو اول وقت میں جلدی جلدی ادا کرنے اور ان کے بعد لیٹنے کا بیان - نفل نماز کے ابواب - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 12 of نفل نماز کے ابواب in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 12 of 13 · 7 Hadith
۔ (۲۱۰۴) عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یُصَلِّیْ الرَّکْعَتَیْنِ قَبْلَ صَلَاۃِ الْفَجْرِ، کَأَنَّ الْأَذَانَ فِیْ أُذُنِیْہِ۔ (مسند احمد: ۶۰۹۰)
سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نمازِ فجر سے پہلے والی دو رکعتیں (اتنی جلدی سے) ادا کر لیتے کہ یوں لگتا کہ اذان ابھی تک آپ کے کانوں میں ہے۔
Takhreej
(۲۱۰۴) تخریج: أخرجہ مطولا البخاری: ۹۹۵، ومسلم: ۷۴۹ (انظر: ۵۶۰۹)
2104
Sahih
۔ (۲۱۰۵) عَنْ عَلِیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُصَلِّیْ رَکْعَتَیِ الْفَجْرِ عِنْدَ الإِْ قَامَۃِ۔ (مسند احمد: ۵۶۹)
سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نماز فجر کی دوسنتیں اقامت کے وقت پڑھتے تھے۔
Takhreej
(۲۱۰۵) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف الحارث بن عبد اللہ الاعور۔ أخرجہ ابن ماجہ: ۱۱۴۷، والبزار: ۸۵۶، وعبد الرزاق: ۴۷۷۲ (انظر: ۵۶۹، ۶۵۹)
2105
Zaeef
۔ (۲۱۰۶) عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یُصَلِّی الرَّکْعَتَیْنِ بَیْنَ الْأَذَانِ وَالإِْ قَامَۃِ مِنْ صَلَاۃِ الصُّبْحِ۔ (مسند احمد: ۲۵۰۲۲)
سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نماز فجر کی اذان اور اقامت کے درمیان دو رکعتیں پڑھتے تھے۔
Takhreej
(۲۱۰۶) تخریج: أخرجہ البخاری: ۶۱۹، ومسلم: ۷۲۴ (انظر: ۲۴۵۱۷، ۲۴۲۶۲)
Explanation
فوائد:… معلوم ہوا کہ اذان فجر کے فوراً بعد اور تخفیف کے ساتھ فجر کی سنتیں ادا کر لینی چاہئیں، بہرحال یہ سنتیں اذان اور اقامت کے درمیان کسی وقت بھی پڑھی جا سکتی ہیں۔
2106
Sahih
۔ (۲۱۰۷) عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِذَا صَلّٰی أَحَدُکُمُ الرَّکْعَتَیْنِ قَبْلَ صَلَاۃِ الصُّبْحِ فَلْیَضْطَجِعْ عَلٰی جَنْبِہِ الْأَیْمَنِ)) (مسند احمد: ۹۳۵۷)
سیدناابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی نماز فجر سے پہلے والی دو رکعتیں پڑھے تو وہ اپنے دائیں پہلو پر لیٹ جائے۔
Takhreej
(۲۱۰۷) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط الشیخین۔ أخرجہ ابوداود: ۱۲۶۱، والترمذی: ۴۲۰، وابن ماجہ: ۱۱۹۹، والنسائی: ۱۴۵۶ (انظر: ۹۳۶۸)
2107
Sahih
۔ (۲۱۰۸) عَنْ عُرْوَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِذَا رَکَعَ رَکْعَتَیِ الْفَجْرِ اِضْطَجَعَ عَلٰی شِقِّہِ الْأَیْمَنِ۔ (مسند احمد: ۲۶۶۹۹)
سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب فجر کی دو رکعتیں پڑھتے تو اپنی دائیں جانب پر لیٹ جاتے۔
Takhreej
(۲۱۰۸) تخریج: أخرجہ البخاری: ۱۱۶۰، ومسلم: ۷۳۶ (انظر: ۲۶۱۶۹)
2108
Sahih
۔ (۲۱۰۹) (وَعَنْہَا مِنْ طَرِیقٍ ثَانٍ) أَنَّ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ إِذَا صَلّٰی رُبَّمَا اضْطَجَعَ۔ (مسند احمد: ۲۶۶۹۹)
۔ (دوسری سند)اس میں ہے: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب یہ نماز پڑھتے تو بسا اوقات لیٹ جاتے۔
Takhreej
(۲۱۰۹) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
2109
Sahih
۔ (۲۱۱۰) عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عَمْرِو (بْنِ الْعَاصِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ) أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ إِذَا رَکَعَ رَکْعَتَیِ الْفَجْرِ اِضْطَجَعَ عَلٰی شِقِّہِ الْأَیْمَنِ۔ (مسند احمد: ۶۶۱۹)
سیدناعبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب فجر کی دو رکعتیں پڑھتے تو اپنے دائیں پہلو پر لیٹ جاتے۔
Takhreej
(۲۱۱۰) تخریج: حدیث صحیح لغیرہ، وھذا اسناد ضعیف لضعف عبد اللہ بن لھیعۃ۔ أخرجہ الطبرانی: ۲/ ۲۱۸ (انظر: ۶۶۱۹)
Explanation
فوائد:… ان احادیث سے معلوم ہوا کہ فجر کی دوسنتوں کے بعد دائیں پہلو پر لیٹنا چاہیے ، ان کی مزید کوئی تأویل نہیں کی جا سکتی، لیکن نمازیوں کی اکثریتیا تمام نمازی اس سنت پر عمل کرنے سے غافل ہیں۔ ایک اہم مسئلہ یہ ہے کہ اگر کوئی نمازی نمازِ فجر سے پہلے دو سنتیں ادا نہ کر سکے تو اسے یہ اختیار ہے کہ وہ فرض نماز کے بعد یہ سنتیں پڑھ لے یا طلوع آفتاب کے بعد، دلائل درج ذیل ہیں: حضرت ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ((مَنْ لَمْ یُصَلِّ رَکْعَتَیِ الْفَجْرِ، فَلْیُصَلِّھِمَا بَعْدَ مَا تَطَلُعَ الشَّمْسُ۔)) جو فجر کی دو سنتیں نہ پڑھ سکا، وہ طلوعِ آفتاب کے بعد ادا کر لے۔ (ترمذی:۴۲۳، صحیحہ: ۲۳۶۱) سیدنا قیس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ نماز فجر ادا کی، (میں نے فرض نماز سے فارغ ہو کر پہلے والی دو سنتیں ادا کرنا شروع کر دیں) جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے دیکھا تو فرمایا: ((مَھْلًا یَا قَیْسُ! أَصَلَاتَانِ مَعًا؟)) یعنی قیس! ٹھہر جاؤ، کیا دو (فرض) نمازیں ایک وقت میں؟ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں فجر کی دوسنتیں (نماز سے پہلے) ادا نہ کر سکا(لہٰذا اب پڑھی ہیں) تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ((فَلَا اَذِنْ)) … تو پھر کوئی حرج نہیں۔ (ابوداود: ۱۲۶۷، ترمذی: ۴۲۲) صحابی رسول کہتے ہیں کہ جب میں مسجد میں آیا تو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نمازِ فجر پڑھا رہے تھے، میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ نماز پڑھی، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سلام پھیرا تو میں فجر کی دو سنتیں ادا کرنے لگا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھ سے کہا: ((مَا ھَاتَانِ الرَّکْعَتَانِ؟)) یعنی یہ دو رکعتیں کونسی نماز ہے؟ میں نے کہا: یہ دو سنتیں ہیں جو میں فجر سے پہلے نہ پڑھ سکا، یہ سن کر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خاموش ہو گئے اور کچھ نہ کہا۔ (دارقطنی: ۱۴۲۴، بیہقی: ۲/۴۸۳، ابن حبان: ۶۲۴، مستدرک حاکم: ۱/۲۷۴) معلوم ہوا کہ جب مؤذن نمازِ فجر کیلیے اقامت کہنا شروع کردے، اور کسی نمازی کی سنتیں رہتی ہوں تو وہ سب سے پہلے فرضی نماز باجماعت ادا کرے گا اور نماز کے بعد یا طلوع آفتاب کے بعد دو سنتیں ادا کر لے گا۔
2110
Sahih