TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 2108 - ان دو سنتوں کو اول وقت میں جلدی جلدی ادا کرنے اور ان کے بعد لیٹنے کا بیان - نفل نماز کے ابواب - Musnad Ahmad in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 5 of 7 in this chapter
ان دو سنتوں کو اول وقت میں جلدی جلدی ادا کرنے اور ان کے بعد لیٹنے کا بیان
۔ (۲۱۰۸) عَنْ عُرْوَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِذَا رَکَعَ رَکْعَتَیِ الْفَجْرِ اِضْطَجَعَ عَلٰی شِقِّہِ الْأَیْمَنِ۔ (مسند احمد: ۲۶۶۹۹)
سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب فجر کی دو رکعتیں پڑھتے تو اپنی دائیں جانب پر لیٹ جاتے۔
2108
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Conclusion
تخریج
(۲۱۰۸) تخریج: أخرجہ البخاری: ۱۱۶۰، ومسلم: ۷۳۶ (انظر: ۲۶۱۶۹)

Related Chapters

221
1
Chapter: What Has Been Related About Lying On One's Side After The Two Rak'ah Of Fajr
باب: فجر کی دونوں سنتوں کے بعد لیٹنے کا بیان
Jam e Tirmazi
2
ظہر کے وقت اور اس کو جلدی ادا کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
3
زکوۃ ادا کرنے میں جلدی کرنے، وقت سے پہلے ادا کردینے اور امام کا زکوۃ دینے والے کے حق میں دعا کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
4
(6) CHAPTER. Takbir (Allah is the Most Great) and offering the Fajr prayer early when it is still dark and offering As-Salat (the prayers) while attacking the enemy and in battles.
حملہ کرنے سے پہلے صبح کی نماز اندھیرے میں جلدی پڑھ لینا اسی طرح لڑائی میں ( طلوع فجر کے بعد فوراً ادا کر لینا )
Sahih Bukhari
5
(12) CHAPTER. Whoever offered Nawafil (optional - non-obligatory) prayers, not after the compulsory Salat (prayer) but before it.
فرض نمازوں کے بعد اور اول کی سنتوں کے علاوہ اور دوسرے نفل سفر میں پڑھنا
Sahih Bukhari
6
Chapter: The virtue of the regular sunnah prayers before and after the obligatory prayers, and their numbers
فرائض سے پہلے اور بعد میں ادا کی جانے والی سنتوں کی فضیلت اور تعداد
Sahih Muslim
7
Chapter: Virtue Of Performing Salat at the Beginning Of Its Prescribed Time
باب: اول وقت میں نماز پڑھنے کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
8
Chapter: [What Has Been Related] About Salat Before the Friday Prayer And After
باب: جمعہ سے پہلے اور اس کے بعد کی سنتوں کا بیان
Jam e Tirmazi
9
بَاب تَعْجِيل الصَّلَوَات
اول وقت نماز پڑھنے کا بیان
Mishkat
10
بَاب التَّنْظِيف والتبكير
نظافت اور اول وقت آنے کا بیان
Mishkat
11
نمازِ مغرب کو جلدی ادا کر لینے اور اس کو عشاء کا نام دینے کی کراہت کا بیان
Musnad Ahmad
12
اول وقت میں اذان کہنے اور صرف فجر میں وقت سے پہلے اذان کہنے کا بیان
Musnad Ahmad
13
فصل اول:ظہر وعصر اور مغرب و عشاء کو تقدیم و تاخیر کے ساتھ جمع کر کے ادا کرنا
Musnad Ahmad
14
فصل اول: سفر میں ان کی ادائیگی کے بارے میں روایات
Musnad Ahmad
15
میت کی تجہیز و تکفین اور قرضہ ادا کرنے میں جلدی کرنا
Musnad Ahmad
16
نوح علیہ السلام کی اولاد اور وفات کے وقت ان کی اپنی اولاد کو کی گئی وصیت کا بیان
Musnad Ahmad
17
بیعت ِ عقبہ اولی کے ایک سال بعد انصاریوں کے ستر مردوں اور دو عورتوں کا نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آنا اور بیعت ِ عقبہ ثانیہ کرنا
Musnad Ahmad
18
باب ششم: واقعہ نہروان اور وہاں پر خوارج کا قتل نیز خوارج کی مذمت اور ان کو قتل کرنے کے بارے میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ارشادات کا بیان اس باب میں کئی فصلیں ہیں فصل اول: خوارج کی بنیاد کا بیان
Musnad Ahmad
19
یزید بن معاویہ کی موت کے بعد سیدنا عبد اللہ بن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی خلافت اور اس میں رونما ہونے والے واقعات کا بیان باب اول: سیدنا عبداللہ بن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی بیعت کا بیان
Musnad Ahmad
20
(21) CHAPTER. The time of the lsha prayer. If the people get together (pray earlier), and if they come late (delay it).
نماز عشاء کا وقت جب لوگ ( جلدی ) جمع ہو جائیں یا جمع ہونے میں دیر کر دیں
Sahih Bukhari
21
(86) CHAPTER. To raise one's hands after finishing the second Raka (on standing for the third Raka).
( چار رکعت نماز میں ) قعدہ اولٰی سے اٹھنے کے بعد رفع یدین کرنا
Sahih Bukhari
22
(26) CHAPTER. To talk after offering two Raka (Sunna of the Fajr prayer).
فجر کی سنتوں کے بعد باتیں کرنا
Sahih Bukhari
23
Chapter: It is recommended to pray Zuhr at the beginning of its time when there is no intense heat
گرمی میں شدت نہ ہو تو ظہر کو اول وقت میں جلد ی پڑھنا مستحب ہے
Sahih Muslim
24
Chapter: The beginning of the time for Maghrib when the sun sets
اس باب کا بیان کہ مغرب کا اول وقت سورج کے غروب ہونے پر ہے
Sahih Muslim
25
Chapter: It is recommended to pray Subh early, at the beginning of its time, when it is still dark; and the length of recitation therein
صبح کی نماز جلد ، اس کے اول وقت میں ، جو رات کی آخری تاریکی کا وقت ہے ، پڑھنا مستحب ہے ، نیز اس میں قراءت کی مقدارکا بیان
Sahih Muslim
26
Chapter: It is recommended to pray Subh when it is still dark on the day of sacrifice in Al-Muzdalifah, and to do it very early after ascertaining that dawn has broken
قربانی کے دن مزدلفہ میں صبح کی نماز خوب اندھیرے میں پڑھنا اور طلوع فجر کا یقین ہونے کے بعد اس (کی جلدی )میں مبالغہ کرنا مستحب ہے
Sahih Muslim
27
Chapter: The Prohibition Of Taking Back One's Charity After It Has Been Accepted, Except In The Case Of What A Father Gives To A Son Or Grandson
قبضے میں دینے کے بعد صدقہ واپس لینا حرام ہے‘سوائے اس کے جو اپنی اولاد کو دے ‘وہ (اولاد)خواہ نیچے (مثلاً:بوتا وغیرہ )ہو
Sahih Muslim
28
CHAPTER: Lying Down On One’s Side After It.
باب: فجر کی سنت کے بعد لیٹنے کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
29
CHAPTER: The Prayer After ’Isha.
باب: عشاء کے بعد کی سنتوں کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
30
جمعہ کے بعد کی سنتوں کا بیان
Sunnan Ibn e Maja
31
وتر کے بعد اور فجر کی دو رکعت سنت کے بعد لیٹنے کا بیان
Sunnan Ibn e Maja
32
ظہر کے اول وقت کا بیان۔
Sunnan Nisai
33
عصر کے اول وقت کا بیان۔
Sunnan Nisai
34
مغرب کے اول وقت کا بیان۔
Sunnan Nisai
35
عشاء کے اول وقت کا بیان۔
Sunnan Nisai
36
فجر کے اول وقت کا بیان۔
Sunnan Nisai
37
نماز کے لیے اول وقت میں جانے کا بیان۔
Sunnan Nisai
38
Chapter: What Has Been Related About Hastening Zuhr
باب: ظہر جلدی پڑھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
39
Chapter: : What Has Been Related About Hastening Asr Prayer
باب: عصر جلدی پڑھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
40
Chapter: [What Has Been Related] About the Virtue Of the First Takbir
باب: تکبیر اولیٰ کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
41
Chapter: What Has Been Related About The Virtue Of The Two Rak'ah (Before) Fajr
باب: فجر کی دونوں سنتوں کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
42
Chapter: What Has Been Related About Hastening To Break The Fast
باب: افطار میں جلدی کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
43
Chapter: What Has Been Related About Hastening The Funeral
باب: جنازہ میں جلدی کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
44
Chapter: What Has Been Related About Gifts And Equality Between Children
باب: عطیہ دینے اور اولاد کے درمیان برابری کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
45
Chapter: What Has Been Related About Parent's Rights
باب: اولاد پر ماں باپ کے حقوق کا بیان
Jam e Tirmazi
46
Chapter: What Has Been Related About The Love Of A Parent For His Child
باب: اولاد کی محبت کا بیان
Jam e Tirmazi
47
باب: ایک ٹانگ دوسری ٹانگ پر رکھ کر چت لیٹنے کا بیان
Jam e Tirmazi
48
باب: ایک ٹانگ کو دوسری پر رکھ کر چٹ لیٹنے کی کراہت کا بیان
Jam e Tirmazi
49
بَاب السّنَن وفضائلها
سنتوں اور ان کی فضیلت کا بیان
Mishkat
50
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے دن کے نفل اور فرضوں کی سنتوں کا جامع بیان
Musnad Ahmad
No related chapter matched that.

Related Hadith

875
Musnad Ahmad
2110
۔ (۲۱۱۰) عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عَمْرِو (بْنِ الْعَاصِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ) أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ إِذَا رَکَعَ رَکْعَتَیِ الْفَجْرِ اِضْطَجَعَ عَلٰی شِقِّہِ الْأَیْمَنِ۔ (مسند احمد: ۶۶۱۹)
سیدناعبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب فجر کی دو رکعتیں پڑھتے تو اپنے دائیں پہلو پر لیٹ جاتے۔
Musnad Ahmad
1184
۔ (۱۱۸۴)۔عَنْ أَبِیْ زِیَادٍ عُبَیْدِاللّٰہِ بْنِ زِیَادٍ الْکِنْدِیِّ عَنْ بِلَالٍ أَنَّہُ حَدَّثَہُ أَنَّہُ أَتَی النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُؤْذِنُہُ بِصَلَاۃِ الْغَدَاۃِ، فَشَغَلَتْ عَائِشَۃُ بِلَالًا بِأَمْرٍ سَأَلَتْہُ عَنْہُ حَتّٰی أَفْضَحَہُ الصُّبْحُ وَأَصْبَحَ جِدًّا، قَالَ: فَقَامَ بِلَالٌ فَآذَنَہُ بِالصَّلَاۃِ وَتَابَعَ بَیْنَ آذَانِہِ فَلَمْ یَخْرُجْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم، فَلَمَّا خَرَجَ فَصَلّٰی بالنَّاسِ أَخْبَرَہُ أَنَّ عَائِشَۃَ شَغَلَتْہُ بِأَمْرٍ سَأَلَتْہُ حَتّٰی أَصْبَحَ جِدًّا ثُمَّ اِنَّہُ أَبْطَأَ عَلَیْہِ بِالْخُرُوْجِ، فَقَالَ: ((اِنِّیْ رَکَعْتُ رَکْعَتَیِ الْفَجْرِ)) قَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اِنَّکَ قَدْ أَصْبَحْتَ جِدًّا، قَالَ: ((لَوْ أَصْبَحْتُ أَکْثَرَ مِمَّا أَصْبَحْتُ لَرَکَعْتُہُمَا وَأَحْسَنْتُہُمَا وَأَجْمَلْتُہُمَا۔)) (مسند أحمد: ۲۴۴۰۷)
سیدنا بلال ؓ بیان کرتے ہیں کہ وہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی نمازِ فجر کی اطلاع دینے کے لیے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس گئے، لیکن سیدہ عائشہ ؓ نے اُن کو اس طرح مصروف کر دیا کہ ان سے کسی چیز کے بارے میں سوال کیا، یہاں تک کہ صبح کی سفیدی ظاہر ہونے لگی اور واضح طور پر صبح ہو گئی، پس سیدنا بلال ؓکھڑے ہوئے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو نماز کی خبر دی اور بار بار اطلاع کرتے رہے، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ باہر نہ نکلے، پھر جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ تشریف لائے اور لوگوں کو نماز پڑھائی تو سیدنا بلال ؓ نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو بتایا کہ سیدہ عائشہ ؓ نے اُن سے ایک چیز کے بارے میں سوال کیا اور اس طرح انُ کو مصروف کر دیا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے مزید تاخیر کر دی، آپ نے فرمایا: میں فجر کی دو رکعتیں پڑھنے لگ گیا تھا۔ انھوں نے کہا: آپ نے تو واضح طور پر صبح کر دی تھی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اگر اس سے زیادہ صبح ہو جاتی تو میں نے ان دو رکعتوں کو تو پڑھنا تھا اور اِن کو حسین و جمیل بنا کر ادا کرنا تھا۔
Musnad Ahmad
2101
۔ (۲۱۰۱) عَنِ ابْنِ سِیْرِیْنَ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یَقْرَأُ فِیْ رَکْعَتَیِ الْفَجْرِ بِـ{قُلْ یَاأَیُّہَا الْکَافِرُوْنَ} وَ{قُلْ ھُوَ اللّٰہُ أَحْدٌ} (وَفِیْ رِوَایَۃٍ:) وَکَانَ یُسِرُّ بِہِمَا۔ (مسند احمد: ۲۶۰۲۵)
سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فجر کی دو سنتوں میں آہستہ آواز کے ساتھ سورۂ کافروں اور سورۂ اخلاص کی تلاوت کرتے تھے۔
Musnad Ahmad
1195
۔ (۱۱۹۴)۔عَنْ عَائِشَۃَ ؓ قَالَتْ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((مَنْ أَدْرَکَ سَجْدَۃً مِنَ الْعَصْرِ قَبْلَ أَنْ تَغْرُبَ الشَّمْسُ وَمِنَ الْفَجْرِ قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ فَقَدْ أَدْرَکَہَا)) (مسند أحمد: ۲۴۹۹۴)
سیدہ عائشہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جس نے غروبِ آفتاب سے پہلے نماز عصر کی ایک رکعت اور طلوع آفتاب سے پہلے نمازِ فجر کی ایک رکعت پالی، اس نے اِن دونوں نمازوں کو پا لیا۔
Musnad Ahmad
2052
۔ (۲۰۵۲) عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ شَقِیْقٍ قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا عَنْ صَلَاۃِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنَ التَّطَوُّعِ فَقَالَتْ: کَانَ یُصَلِّیْ قَبْلَ الظُّہْرِ أَرْبَعًا فِیْ بَیْتِی ثُمَّ یَخْرُجُ فَیُصَلِّیْ بِالنَّاسِ ثُمَّ یَرْجِعُ إِلَی بَیْتِیْ فَیُصَلِّیْ رَکْعَتَیْنِ، وَکَانَ یُصَلِّیْ بِالنَّاسِ الْمَغْرِبَ ثُمَّ یَرْجِعُ إِلَی بَیْتِہِ فَیُصَلِّیْ رَکْعَتَیْنِ، وَکَانَ یُصَلِّیْ بِہِمُ الْعِشَائَ ثُمَّ یَدْخُلُ بَیْتِیْ فَیُصَلِّیْ رَکْعَتَیْنِ، وَکَانَ یُصَلِّیْ مِنَ اللَّیْلِ تِسْعَ رَکَعَاتٍ فِیْہْنَّ الْوِتْرُ، وَکَانَ یُصَلِّی لَیْلاً طَوِیْلاً قَائِمًا وَلَیْلاً طَوِیْلاً جَالِسًا، فَإِذَا قَرَأَ وَھُوَ قَائِمٌ رَکَعَ وَسَجَدَ وَھُوَ قَائِمٌ وَإِذَا قَرَأَ وَھُوَ قَاعِدٌ رَکَعَ وَسَجَدَ وَھُوَ قَاعِدٌ وَکَانَ إِذَا طَلَعَ الْفَجْرُ صَلّٰی رَکْعَتَیْنِ ثُمَّ یَخْرُجُ فَیُصَلِّیْ بِالنَّاسِ صَلَاۃَ الْفَجْرِ۔ (مسند احمد: ۲۴۵۲۰)
عبد اللہ بن شقیق کہتے ہیں: میں نے سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی نفل نماز کے بارے میں پوچھا،انہوں نے کہا: آپ ظہر سے پہلے میرے گھر میں چار رکعتیں پڑھ کر نکلتے تھے، پھر لوگوں کو نماز پڑھا کر میرے گھر واپس آتے اور دو رکعتیں ادا کرتے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لوگوں کو مغرب کی نماز پڑھا کر گھر میں واپس آتے اور دو رکعت نماز پڑھتے،پھر آپ عشاء کی نماز پڑھاکر میرے گھر میں داخل ہوتے اور دو رکعتیں پڑھتے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رات کو وتر سمیت نو رکعت نماز پڑھتے تھے، اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رات کو کافی وقت کھڑے ہو کر اور کافی وقت بیٹھ کر نماز پڑھتے اور جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کھڑے ہو کر قراء ت کر رہے ہوتے تو رکوع اور سجدہ بھی کھڑے ہوکر ہی ادا کرتے تھے اور جب قراء ت بیٹھ کر کرتے تو رکوع اور سجدہ بھی بیٹھ کر ہی اداکرتے اور جب فجر طلوع ہو جاتی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم دو رکعت نماز ادا کر کے چلے جاتے اور جا کر لوگوں کو نماز پڑھاتے۔
Musnad Ahmad
2054
۔ (۲۰۵۴) عَنْ قَابُوْسٍ عَنْ أَبِیْہِ قَالَ: أَرْسَلَ أَبِیْ اِمْرَأَۃً إِلٰی عَائِشَۃَیَسْأَلُھَا أَیُّ الصَّلَاۃِ کَانَتْ أَحَبَّ إِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنْ یُوَاظِبَ عَلَیْہَا؟ قَالَتْ: کَانَ یُصَلِّیْ قَبْلَ الظُّہْرِ أَرْبَعًا یُطِیْلُ فِیْہِنَّ الْقِیَامَ وَیُحْسِنُ فِیْہِنَّ الرُّکُوْعَ وَالسُّجُوْدَ، فَأَمَّا مَالَمْ یَکُنْیَدَعُ صَحِیْحًا وَلَا مَرِیْضًا وَلَا غَائِبًا وَلَا شَاھِدًا، فَرَکْعَتَیْنِ قَبْلَ الْفَجْرِ۔ (مسند احمد: ۲۴۶۶۵)
قابوس کے باپ نے ایک عورت کو سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کی طرف بھیجا کہ وہ ان سے یہ پوچھ کر آئے کہ کون سی نماز رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو سب سے زیادہ محبوب تھی کہ آپ اس پر ہمیشگی کرتے تھے؟ انہوں نے کہا: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ظہر سے پہلے چار رکعتیں پڑھتے اور ان میں لمبا قیام کرتے اور اچھے انداز میں رکوع و سجود ادا کرتے، رہا مسئلہ اس نماز کا کہ جسے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تندرستی کی حالت میں، بیماری کی حالت میں، اور سفر میں اور حضر میں نہ چھوڑتے ہوں، وہ فجر سے پہلے والی دو رکعتیں ہیں۔
Musnad Ahmad
2060
۔ (۲۰۶۰) عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لَایَدَعُ أَرْبَعًا قَبْلَ الظُّھْرِ وَرَکْعَتَیْنِ قَبْلَ الْفَجْرِ عَلٰی حَالٍ۔ (مسند احمد: ۲۴۸۴۴)
سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کسی حالت میں بھی ظہر سے پہلے چار اور فجر سے پہلے دو رکعتیں نہیں چھوڑتے تھے۔
Musnad Ahmad
2068
۔ (۲۰۶۸) عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: صَلَاتَانِ لَمْ یَتْرُکْھُمَا النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سِرًّا وَ لَا عَلَانِیَۃً رَکْعَتَیْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ وَ رَکْعَتَیْنِ قَبْلَ الْفَجْرِ۔ (مسند احمد: ۲۵۷۷۶)
سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں : دو نمازیں ایسی ہیں کہ جنہیں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے خفیہ طور پرچھوڑا نہ ظاہری طور پر ، یعنی عصر کے بعد دو رکعتیں اور فجر سے پہلے دو رکعتیں۔
Musnad Ahmad
2091
۔ (۲۰۹۱) عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی الرَّکْعَتَیْنِ قَبْلَ صَلَاۃِ الْفَجْرِ قَالَ: ((ھُمَا أَحَبُّ إِلَیَّ مِنَ الدُّنْیَا جَمِیْعًا۔)) (مسند احمد: ۲۴۷۴۵)
سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ،نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے فجر سے پہلے دو رکعتوں کے بارے میں روایت کرتی ہیں کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کے بارے میں فرمایا: یہ دورکعتیں مجھے ساری دنیا سے زیادہ محبوب ہیں۔