TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

زکوۃ ادا کرنے میں جلدی کرنے، وقت سے پہلے ادا کردینے اور امام کا زکوۃ دینے والے کے حق میں دعا کرنے کا بیان - زکوۃ ادا کرنے میں جلدی کرنے، وقت سے پہلے ادا کردینے اور امام کا زکوۃ دینے والے کے حق میں دعا کرنے کا بیان - زکوۃ کی ادائیگی کے متعلق ابواب - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 1 of زکوۃ کی ادائیگی کے متعلق ابواب in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 1 of 34 · 7 Hadith
Whole book
Previous Chapter Next Chapter
۔ (۳۴۲۹) عَنْ عُقْبَۃَ بْنِ الْحَارِثِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: صَلَّیْتُ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الْعَصْرَ فَلَمَّا سَلَّمَ قَامَ سَرِیْعًا، فَدَخَلَ عَلَی بَعْضِ نِسَائِہِ، ثُمَّ خَرَجَ وَرَأٰی مَا فِی وُجُوْہِ الْقَوْمِ مِنْ تَعَاجُبِہِمْ لِسُرْعَتِہِ، قَالَ: ((ذَکَرْتُ وَأَنَا فِی الصَّلَاۃِ تِبْرًا عِنْدَنَا فَکَرِہْتُ أَنْ یُمْسِیَ أَوْ یَبِیْتَ عِنْدَنَا، فَأَمَرْتُ بِقَسْمِہِ۔)) (مسند احمد: ۱۹۶۴۶)
۔ سیدناعقبہ بن حارث ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ عصر کی نماز ادا کی، سلام کے بعد آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جلدی سے اٹھ کر اپنی ایک بیوی کے گھر تشریف لے گئے اور پھر واپس آ گئے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے محسوس کیا کہ لوگوں کو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی جلدی کی وجہ سے تعجب ہوا ہے،اس لیے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: دوران نماز مجھے یاد آیا کہ ہمارے ہاں سونے کی ایک ڈلی موجود ہے، مجھے یہ ناپسند لگا کہ شام ہو جائے یا رات گزر جائے اور یہ ہمارے پاس ہی ہو، اس لیے میں اسے تقسیم کرنے کا حکم دے کر آیا ہوں۔
Takhreej
(۳۴۲۹) تخر یـج: أخرجہ البخاری: ۸۵۱، ۱۴۳۰، ۱۲۲۱(انظر: ۱۹۴۲۶)
Explanation
فوائد:… اس حدیث سے معلوم ہوا کہ خیر کے امور سرانجام دینے میں جلدی کرنی چاہیے، اس طرح سے بندہ پہلی فرصت میں اپنی ذمہ داری سے خلاصی حاصل کر لیتا ہے، دوسروں کی ضرورت جلدی پوری ہو جاتی ہے اور خواہ مخواہ کے ٹال مٹول سے بھی انسان محفوظ رہ جاتا ہے اور آفات اور موانع کے درپے ہو جانے کا خطرہ بھی ٹل جاتا ہے۔
3429
Sahih
۔ (۳۴۳۰) عَنْ عَلِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌أَنَّ الْعَبَّاسَ بْنَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ سَأَلَ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی تَعْجِیْلِ صَدَقَتِہِ قَبْلَ أَنْ تَحِلَّ، فَرَخَّصَ لَہُ فِی ذٰلِکَ۔ (مسند احمد: ۸۲۲)
۔ سیدناعلی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ سیدنا عباس بن عبد المطلب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے پوچھا کہ کیا فرض ہونے سے پہلے زکوٰۃ ادا کی جا سکتی ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کو اس کی اجازت دے دی۔
Takhreej
(۳۴۳۰) اسنادہ حسن۔ أخرجہ ابوداود: ۱۶۲۴، وابن ماجہ: ۱۷۹۵، والترمذی: ۶۷۸(انظر: ۸۲۲)
Explanation
فوائد:… اس حدیث سے معلوم ہوا کہ زکوۃ وقت سے پہلے ادا کی جا سکتی ہے۔
3430
Sahih
۔ (۳۴۳۱) عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: بَعَثَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عُمَرَ عَلَی الصَّدَقَۃِ فَقِیْلَ: مَنَعَ ابْنُ جََمِیْلٍ وَخَالِدُ بْنُ الْوَلِیْدِ وَالْعَبَّاسُ عَمُّ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَا نَقَمَ ابْنُ جَمِیْلٍ إلاَّ أَنَّہُ کَانَ فَقِیْرًا فَأَغْنَاہُ اللّٰہُ، وَأَمَّا خَالِدٌ فَإِنَّکُمْ تَظْلِمُوْنَ خَالِدًا فَقَدِ احْتَبَسَ أَدْرَاعَہُ فِی سَبِیْلِ اللّٰہِ وَأَمَّا الْعَبَّاسُ فَہُوَ عَلَیَّ وَمِثْلُہَا۔)) ثُمَّ قَالَ: ((أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ عَمَّ الرَّجُلِ صِنْوُا أَبِیْہِ۔)) (مسند احمد: ۸۲۶۷)
۔ سیدناابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدناعمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو زکوۃ کی وصولی کے لئے بھیجا، انہوں نے واپس آ کر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ بتلایا کہ سیدنا ابن جمیل، سیدنا خالد بن ولید اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے چچا سیدناعباس نے زکوٰۃ ادا نہیں کی، (یہ سن کر) رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ابن جمیل نے تو انکار نہیں کیا مگر اس وجہ سے کہ وہ پہلے تنگ دست تھا، پھر اللہ تعالیٰ نے اسے خوشحال کر دیا ہے، البتہ تم خالد بن ولید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ پر زیادتی کرتے ہو، اس نے تواپنی زرہیں اور (سارا جنگی سامان) اللہ تعالیٰ کی راہ میں وقف کر دیا ہے، اور رہا مسئلہ عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تو ان کے حصے کی زکوۃ، بلکہ ایک گنا مزید مجھ پر ہے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا تم نہیں جانتے کہ انسان کا چچا اس کے والد کی مانند ہوتا ہے۔
Takhreej
(۳۴۳۱) تخر یـج: أخرجہ البخاری: ۱۴۶۸، ومسلم: ۹۸۳(انظر: ۸۲۸۴)
Explanation
فوائد:… اس حدیث ِ مبارکہ میں سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌نے تین افراد کے بارے میں یہ شکایت کی کہ انھوں نے زکوۃ ادا نہیں کی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کے بارے میں جو جوابات دیئے، ان سے معلوم ہوتا ہے کہ سیدنا ابن جمیل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ نے نعمت کی قدر نہیں کی اور احسان کے مقابلے میں انھوں نے اچھا کردار پیش نہیں کیا۔ لیکن اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے صرف سیدنا ابن جمیل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌کی مذمت کرنے پر اکتفا کیوں کیا اور عملاً ان سے زکوۃ وصول کیوں نہیں کی، حالانکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا تھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو لوگوں کے ساتھ اس وقت تک قتال کرنے کا حکم دیا گیا ہے کہ جب تک ایسا نہ ہو کہ وہ اللہ تعالیٰ کے معبودِ برحق ہونے اور محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے رسول ہونے کی گواہی دیں، نماز قائم کریں اور زکوۃ ادا کریں۔ یہ بھی ممکن ہے کہ وہ اپنے متعلقہ یہ بات سن کر خود باز آ گئے ہوں۔ واللہ اعلم بالصواب۔ رہا مسئلہ سیدنا عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌کا تو ان کے بارے میں راجح قول کے مطابق دو تاویلوں کا امکان ہے: (۱) آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے خود ذمہ داری قبول کر لی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا مقصود یہ تھا کہ یہ بات تو ٹھیک ہے کہ انھوں نے زکوۃ ادا نہیں کی، لیکن اب میں اس کی ضمانت دیتا ہوں، کیونکہ وہ میرے چچا ہیں اور چچا باپ کی طرح ہی ہوتا ہے۔ (۲) آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کسی ضرورت کی وجہ سے سیدناعباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌سے وقت سے پہلے دو سالوں کی زکوۃ لے لی تھی، لیکن اس تاویل پر دلالت کرنے والی جتنی احادیث ہیں، ان میں سے ہر ایک میں کوئی نہ کوئی ضعف پایا جاتا ہے، اگر تمام سندوں کے مجموعہ کو دیکھا جائے تو دوسری تاویل قوی معلوم ہوتی ہے۔ تفصیل کے لیے فتح الباری: ۳ /۴۲۶کا مطالعہ کرنا چاہیے۔ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ کی شکایت کے مطابق سیدنا خالد بن ولید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌کا زکوۃ ادا نہ کرنا، اس کی بھی دو تاویلیں ہو سکتی ہیں: (۱) سیدنا خالد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ نے اپنی زکوۃ کی قیمت سے جہاد کیلئے اسلحہ اور دوسرے آلاتِ حرب خرید لیے تھے، جہاد بھی مصارف ِ زکوۃ میں سے ہے، اور اس ضمن میں انھوں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اجازت لی ہو گی کہ وہ زکوۃ کے معاملے میں اپنا حساب کتاب خود کر لیا کریں گے۔ (۲) سرے سے سیدنا خالد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ نے اپنا مال و متاع اللہ کے راستے میں وقف کر رکھا تھا، لیکن زکوۃ لینے والوں کو اس چیز کا علم نہیں تھا۔ واللہ اعلم بالصواب۔
3431
Sahih
۔ (۳۴۳۲) عَنْ عَلِیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌لِلنَّاسِ: مَا تَرَوْنَ فِی فَضْلٍ فَضَلَ عِنْدَنَا ِمْن ہَذَا الْمَالِ، فَقَالَ النَّاسُ: یَا أَمِیْرَ الْمُؤْمِنِیْنَ! قَدْ شَغَلْنَاکَ عَنْ أَہْلِکَ وَضَیْعَتِکَ وَتِجَارَتِکَ فَہُوَ لَکَ۔ فَقَالَ لِیْ: مَا تَقُوْلُ أَنْتَ، فَقُلْتُ: قَدْ أَشَارُوْا عَلَیْکَ۔ فَقَالَ لِی: قُلْ، فَقُلْتُ: لِمَ تَجْعَلُ یَقِیْنَکَ ظَنَّا، فَقَالَ: لَتَخْرُجَنَّ مِمَّا قُلْتَ، فَقُلْتُ: اَجَلْ وَاللّٰہِ ! لَأَخْرُجَنَّ مِنْہُ أَتذَکْرُ ُحِیْنَ بَعَثَکَ نَبِیُّاللّٰہُ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سَاعِیًا فَأَتَیْتَ الْعَبَّاسَ بْنَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَمَنَعَکَ صَدَقَتَہُ فَکَانَ بَیْنَکُمَا شَیْئٌ، فَقُلْتَ لِیْ: اِنْطَلِقْ مَعِی إِلی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَوَجَدْنَا ہُ خَاثِرًا، فَرَجَعْنَا، ثُمَّ غَدَوْنَا عَلَیْہِ فَوَجَدْنَاہُ طَیِّبَ النَّفْسِ فَأَخْبَرْتَہُ بِالَّذِی صَنَعَ، فَقَالَ لَکَ: ((أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ عَمَّ الرَّجُلِ صِنْوُ أَبِیْہِ۔)) وَذَکَرْنَا لَہُ الَّذِی رَأَیْنَاہُ مِنْ خُثُوْرِہِ فِی الْیَوْمِ الْأَوَّلِ وَالَّذِی رَأَیْنَا مِنْ طِیْبِ نَفْسِہِ فیِ الْیَوْمِ الثَّانِی، فَقَالَ إِنَّکُمَا أَتَیْتُمَانِی فِیْ الْیَوْمِ الْأَوَّل َ، وَقَدْ بَقِیَ عِنْدِی مِنَ الصَّدَقۃَ ِدِیْنَارَانِ، فَکَانَ الَّذِی رَأَیْتُمَا مِنْ خُثُوْرِی لَہُ، وَأَتَیْتُمَانِی الْیَوْمَ وَقَدْ وَجَّہْتُہُمَا غَدًا، فَذَالِکَ الَّذِی رأََیْتُمَامِنْ طِیبِ نَفْسِی، فَقَالَ عُمَرُ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌صَدَقْتَ وَاللّٰہِ، لاََشْکُرَنَّ لَکَ الْأُوْلٰی وَالْآخِرَۃَ۔ (مسند احمد: ۷۲۵)
۔ سیدناعلی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا بیان ہے کہ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے لوگوں سے کہا: (صدقہ کا) جو مال ہمارے پاس بچ گیا ہے، اس کے بارے میں تمہاری کیا رائے ہے؟ لوگوں نے کہا: اے امیر المومنین! ہم نے آپ کو آپ کے اہل و عیال، کاروبار اور تجارت سے مصروف کر دیا ہے، اس لیےیہ مال آپ اپنے پاس رکھ لیں۔ سیدناعمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے مجھ (علی) سے پوچھا: آپ کا کیا خیال ہے؟ میں نے کہا: لوگ آپ کو ایک چیز کا اشارہ کر چکے ہیں۔ لیکن انہوں نے کہا: آپ بھی کچھ کہو۔ میں نے کہا: آپ اپنے یقین کو گمان میں کیوں تبدیل کرتے ہیں؟انہوں نے کہا: تمہیں کھل کر بات کرنا ہو گی۔ میں نے کہا: ٹھیک ہے، وضاحت سے عرض کرتا ہوں، کیا آپ کو یاد ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے آپ کو زکوٰۃ کی وصولی کے لئے بھیجا تھا، جب آپ سیدنا عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس گئے تو انہوں نے آپ کو زکوٰۃ دینے سے انکار کر دیا تھا اورآپ کے اور ان کے درمیان چپقلش بھی ہو گئی تھی۔ آپ نے مجھ سے کہا تھا: میرے ساتھ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تک چلو۔ پس ہم گئے لیکن جب ہم نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو پریشان حال دیکھا تو ہم واپس لوٹ گئے،جب ہم دوسرے دن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس گئے تو آپ کو ہم نے مطمئن اور خوش گوارپایا۔ آپ نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو سیدناعباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی بات بتلائی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا : چچا والد کی ہی مانند ہوتا ہے۔ پھر ہم نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے پہلے دن کی پریشانی اور دوسرے دن کی خوشگواری کا ذکر کیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا تھا: جب تم کل میرے پاس آئے تھے تو اس وقت میرے پاس صدقہ کے دو دینار بچے ہوئے تھے، میں ان کی وجہ سے پریشان تھا، جبکہ آج صبح ہی میں ان کو تقسیم کر چکا تھا، اس لیے تمہاری آمد پر خوش گوار اور مطمئن لگ رہا ہوں۔ یہ سن کر سیدناعمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! آپ نے بالکل درست کہا، میں اول و آخر آپ کا شکر گزار ہوں۔
Takhreej
(۳۴۳۲) تخر یـج: اسنادہ ضعیف لانقطاعہ، ابو البختری لم یدرک علیا۔ أخرجہ الترمذی: ۳۷۶۰(انظر: ۷۲۵)
Explanation
فوائد:… سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌کا نظریہیہ تھا کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو تو اس وقت تک انشراحِ صدر نہیں ہوا تھا، جب تک آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس دو دینار باقی تھے، اس لیے سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ کو بھییہی زیب دیتا تھا کہ وہ اس معاملے میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی اقتدا کریں۔ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌نے سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌سے کہا: ’’میں اول و آخر آپ کا شکر گزار ہوں۔‘‘ اس قول میں ’’اول‘‘ سے مراد یہ ہے کہ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ نے لوگوں کی طرح یہ نہیں کہا کہ بقیہ مال سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ہی اپنے پاس رکھ لیں اور ’’آخر‘‘ سے مراد یہ ہے کہ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌نے ایک دلیل بیان کرنے کے بعد سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌کو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی دو دیناروں والی بات یاد کرا دی۔ اس حدیث ِ مبارکہ سے مسئول لوگوں کو اپنی ذمہ داری کا اندازہ لگا لینا چاہیے، چہ جائیکہ وہ ایسی امانتوں کو ذاتی جائیداد کی طرح ہڑپ کر جائیں۔
3432
Zaeef
۔ (۳۴۳۳) عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ الّٰلِہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((وَالَّذِیْ نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِیَدِہِ لَوْ أَنْ أُحُدًا عِنْدِی ذَہَبًا َلأَحْبَبْتُ أَنْ لاَ یَأْتِیَ عَلَیَّ ثَلَاثُ لَیَالٍ وَعِنْدِی مِنْہُ دِیْنَارٌ، أَجِدُ مَنْ یَقْبَلُہُ مِنِّی،لَیْسَ شَیْئًا أَرْصُدُہُ فِی دِیْنٍ عَلَیَّ۔)) (مسند احمد: ۸۱۸۰)
۔ سیدناابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم، جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے!اگر میرے پاس احد پہاڑ کے برابر سونا ہو اور مجھ سے قبول کرنے والے مستحق لوگ بھی دستیاب ہوں تو میں چاہوں گا کہ تین راتوں سے پہلے پہلے وہ سارا خرچ کر دوں اور میرے پاس اس میں سے ایک دینار بھی باقی نہ رہے، ما سوائے اس کے کہ میں جس کو اپنا قرضہ اتارنے کے لئے بچا رکھوں۔
Takhreej
(۳۴۳۳) تخر یـج: أخرجہ البخاری: ۷۲۲۸(انظر: ۸۱۹۵)
Explanation
فوائد:… اس میں خیر و بھلائی کے امور میں پہلی فرصت میں خرچ کرنے کی ترغیب دلائی گئی ہے۔
3433
Sahih
۔ (۳۴۳۴) عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّۃَ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ أَبِی أَوْفٰی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما وَکَانَ مِنْ أَصْحَابِ الشَّجَرَۃِ قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِذَا أُتِیَ بِصَدَقَۃٍ قَالَ: ((اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلَیْہِمْ۔)) وَإِنَّ أَبِیْ أَتَاہُ بِصَدَقَۃِ فَقَالَ: ((اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی آلِ أَبِی أَوْفٰی۔)) (مسند احمد: ۱۹۳۴۶)
۔ سیدنا عبد اللہ بن ابی اوفی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، جو درخت والے (یعنی بیعت ِ رضوان کرنے والے) صحابہ کرام میں سے تھے، سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: جب کوئی آدمی رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں صدقہ لے کر آتا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس کے حق میںیوں دعا فرماتے: اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلَیْہِمْ۔ (اے اللہ! تو ان پر رحم فرما۔) میرے والد بھی صدقہ لے کر آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے انہیںیوں دعا دی: اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی آل أَبِی أَوْفَی۔ (اے اللہ! تو ابو اوفی کی آل پر رحم فرما۔)
Takhreej
(۳۴۳۴) تخر یـج:أخرجہ البخاری: ۱۴۹۷، ۴۱۶۶، ومسلم: ۱۰۷۸ (انظر: ۱۹۱۳۳)
3434
Sahih
۔ (۳۴۳۵) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ أَوْفٰییَقُوْلُ: کاَن َالرَّجُلُ إِذَا أَتَی النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وعَلَی آلِہِ وَصَحْبِہِ وَسَلَّمَ بِصَدَقَۃِ مَالِہٖصَلَّی عَلَیْہِ فَأَتَیْتُہُ بِصَدَقَۃِ مَالِ أَبِی فَقَالَ: ((اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی آلِ أَبِی أَوْفٰی۔)) (مسند احمد: ۱۹۳۲۱)
۔ (دوسری سند) وہکہتے ہیں: میں نے سیدناعبد اللہ بن ابی اوفی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا: جب کوئی آدمی اپنے مال کی زکوٰۃ لے کر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں آتا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس کے حق میں رحمت کی دعا کرتے، ایک دن میں بھی اپنے والد کے مال کی زکوٰۃ لے کر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یوں دعا دی: اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی آلِ أَبِی أَوْفَی۔ (یا اللہ! تو ابو اوفی کی آل پر رحم فرما۔)
Takhreej
(۳۴۳۵) تخر یـج: انظر الحدیث بالطریق الاول
Explanation
فوائد:… معلوم ہوا کہ جب کوئی آدمی صدقہ اور زکوٰۃ وغیرہ ادا کرے تو وصول کرنے والے کو اس کے حق میں رحمت و برکت کی دعا کرنی چاہئے، اس سے اس کی حوصلہ افزائی ہو جاتی ہے۔
3435
Sahih

Chapters

34
01
زکوۃ ادا کرنے میں جلدی کرنے، وقت سے پہلے ادا کردینے اور امام کا زکوۃ دینے والے کے حق میں دعا کرنے کا بیان
7 Hadith
02
اس امر کا بیان کہ انسان کسی کو مستحق سمجھ کرصدقہ ادا کر دے، لیکن بعد میں پتہ چلے کہ وہ صدقہ کا مستحق نہ تھا
3 Hadith
03
مالک کے ساتھ نرمی کرنے اور زکوۃ وصول کرنے والے نمائندے کا خود اس کی طرف چلے جانے اور اس پر زیادتی نہ کرنے کا بیان
3 Hadith
04
زکوۃ وصول کنندہ کو راضی کرنا
3 Hadith
05
حقیر قسم کی چیز کا قصد کرنے اور اس کا صدقہ کرنے کی کراہت اور عمدہ چیز کا صدقہ کرنے کی فضلیت کی بیان
6 Hadith
06
حکمران کا کسی مصلحت کی بنا پر بعض لوگوں کو دینا اور بعض کو محروم کر دینا
3 Hadith
07
فقیر اور مسکین کا بیان
7 Hadith
08
عاملینِ زکوۃ
7 Hadith
09
ان لوگوںکا بیان، جن کو تالیف ِ قلبی کے لیے زکوۃ دی جاتی ہے
3 Hadith
10
غلاموں کی آزادی پر زکوۃ صرف کرنا
2 Hadith
11
قرض داروں کو زکوۃ دینا
5 Hadith
12
اللہ کی راہ میں اور مسافروں کو صدقہ دینے اور مصارفِ زکوٰۃ کی تمام اصناف کو صدقہ دینے کا بیان
3 Hadith
13
بنو ہاشم اور ان کی بیویوں اور غلاموں کے لیے صدقہ کے حرام ہونے اور ہدیہ کے جائز ہونے کا بیان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌
15 Hadith
14
صدقہ میں خیانت کرنے اور ایسا کرنے والے کے لئے وعید کا بیان
20 Hadith
15
اوپر والے ہاتھ اور نیچے والے ہاتھ کا بیان
8 Hadith
16
بھیک مانگنے پر اکتفا کرتے ہوئے کمائی کو ترک کر دینے اور ایسا کرنے والے کی مذمت کا بیان
11 Hadith
17
سوال کرنے سے بچنے اور اس کی فضیلت کا بیان
3 Hadith
18
سوال نہ کرنے پر بیعت کرنا
3 Hadith
19
اگر بن مانگے کچھ مل جانے تو اسے قبول کر لینے اور اگر مانگنے کے بغیر کوئی چارۂ کار نہ ہو تو نیک لوگوں سے سوال کر لینے کا بیان
5 Hadith
20
سائل کے ساتھ حسن سلوک کرنے، اس کے بارے میں حسنِ ظن رکھنے اور خواہ وہ گھوڑے پر آئے، اس کو کچھ نہ کچھ دینے کا بیان
6 Hadith
21
اللہ تعالیٰ کے نام پر یا اللہ تعالیٰ کا واسطہ دے کر سوال کرنے کا بیان
8 Hadith
22
صدقہ فطر کی مشروعیت اور حکم کا اور جن لوگوں پر یہ فرض ہے، ان کا بیان
6 Hadith
23
گندم کے نصف صاع کی روایت بیان کرنے والے
6 Hadith
24
صدقۂ فطر دینے کے وقت کا بیان
20 Hadith
25
سب سے زیادہ فضیلت والے صدقے کا بیان
5 Hadith
26
عاریۃً دی ہوئی چیزکا بیان
3 Hadith
27
اللہ کی راہ میں صدقہ کرنے کی فضیلت کا بیان
12 Hadith
28
جسم کے صدقہ کا بیان
8 Hadith
29
اس آدمی کا بیان جسے دو کپڑے بطورِ صدقہ دیئے گئے، لیکن اس نے ان میں سے ایک کپڑا صدقہ کی نیت سے ڈال دیا
1 Hadith
30
شوہر اور رشتہ داروں پر صدقہ کرنے اور ان کو دوسروں پر مقدم کرنے اور مستحق لوگوں کے مراتب کا بیان
6 Hadith
31
نیک لوگوں کو صدقہ دینے کے مستحبّ ہونے اور بے عمل لوگوں کو دینے کے مکروہ ہونے کا بیان
2 Hadith
32
بیوی کا اپنے شوہر کی اجازت کے بغیر اس کے گھر سے صدقہ کرنے کا بیان
3 Hadith
33
مخفی طور پر صدقہ کرنے کی فضیلت
3 Hadith
34
صدقہ جاریہ کا بیان
5 Hadith
No chapter matched that.