صدقۂ فطر دینے کے وقت کا بیان - صدقۂ فطر دینے کے وقت کا بیان - زکوۃ کی ادائیگی کے متعلق ابواب - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation
Chapter 24 of زکوۃ کی ادائیگی کے متعلق ابواب in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حکم دیا کہ لوگوں کے عید کے لئے جانے سے پہلے پہلے صدقۂ فطر ادا کیا جائے۔
۔ (دوسری سند) سابق حدیث کی مانند ہی ہے، البتہ اس میں یہ صراحت ہے: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں کے عید گاہ کو جانے سے پہلے پہلے صدقۂ فطر ادا کرنے کا حکم دیا، ایک روایت میں ہے: نماز عید کے لئے جانے سے پہلے پہلے۔سیدنا عبد اللہ بن ثعلبہ رضی اللہ عنہ کی حدیث پہلے گزر چکی ہے، اس کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ نے عید الفطر سے دو روز قبل لوگوں کو خطبہ دیا اورفرمایا: تم ہر دو افراد کی طرف سے گندم کا ایک صاع صدقۂ فطر ادا کرو۔ نیز سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کی حدیث میں یہ بات بیان ہو چکی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رمضان کا صدقۂ فطر فرض کیا۔
Takhreej
(۳۵۷۲) تخر یـج: انظر الحدیث بالطریق الاول
Explanation
فوائد:… اِن احادیث سے واضح طور پر معلوم ہو رہا ہے کہ صدقۂ فطر کا وقت نمازِ عید کی طرف جانے پہلے کا ہے۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: فَرَضَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم زَکَاۃَ الْفِطْرِ طُھْرَۃً لِلصِّیَامِ لِلصَّائِمِ مِنَ اللَّغْوِ وَالرَّفَثِ وَطُعْمَۃً لِلْمَسَاکِیْنِ، مَنْ اَدَّاھَا قَبْلَ الصَّلَاۃِ فَھِیَ زَکَاۃٌ مَقْبُوْلَۃٌ، وَمَنْ اَدَّاھَا بَعْدَ الصَّلَاۃِ فَھِیَ صَدَقَۃٌ مِنَ الصَّدَقَاتِ۔… رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے روزے دار کے روزوں کو لغو باتوں اور فحش گوئیوں سے پاک کرنے کے لیے اور مساکین کو کھلانے کے لیے صدقۂـ فطر فرض کیا ہے، جو آدمی نمازِ عید سے پہلے اس کی ادائیگی کرے گا تو یہ مقبول زکاۃ ہو گی اور جو آدمی نماز کے بعد ادا کرے گا تووہ عام صدقات کی طرح صدقہ ہو گا۔ (ابوداود: ۱۶۰۹، ابن ماجہ: ۱۸۲۷) اگر حکومت کی طرف سے صدقۂ فطر وصول کرنے کے لیے عاملین کاتقرر کیا جائے، تو عید کے دن سے پہلے بھی ان کو یہ صدقہ جمع کروایا جا سکتا ہے، جیسا کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: وَکَّلَنِیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بِحِفْظِ زَکٰوۃِ رَمَضَانَ۔ … آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رمضان کی زکوۃیعنی صدقۂ فطر کی حفاظت کے لیے میرا تقرر کیا۔ (صحیح بخاری) اس حدیث کا مطلب یہ ہوا کہ لوگ پہلے یہ صدقہ جمع کروا دیتے تھے۔ اسی طرح جناب ِ نافع کہتے ہیں: وَکَانَ ابْنُ عُمَرَ رضی اللہ عنہما یُعْطِیْھَا الَّذِیْنَیَقْبَلُوْنَھَا، وَکَانُوْا یُعْطَوْنَ قَبْلَ الْفِطْرِ بِیَوْمٍ اَوْیَوْمَیْنِ۔ … سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما حکومت کی طرف سے قبول کرنے والوں کو صدقہ دیتے تھے اور ان کو اختتام رمضان سے ایک دو دن پہلے یہ صدقہ دیا جاتا تھا۔ (صحیح بخاری)
صدقۂ فطر کو نمازِ عید سے مؤخر نہیں کرنا چاہیے، بہرحال اہل علم کا اس حقیقت پر اتفاق ہے کہ تأخیر ہو جانے کی صورت میں اس کا وجوب ساقط نہیں ہو گا، بلکہ ادائیگی تک اس کی صورت قرضے والے رہے گی۔ بعض لوگوں کو دیکھا گیا ہے کہ وہ ابتدائے رمضان سے ہی بھکاری قسم کے یا حقیقی مسکین لوگوں کو بطورِ صدقۂ فطر پانچ دس دس روپے دینا شروع کر دیتے ہیں،یہ انتہائی غیر مناسب بات ہے، جس کی بنیاد بخل اور کنجوسی ہے، لوگوں کو چاہیے کہ وہ دورانِ رمضان نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرح کثرت سے صدقہ کیا کریں اور عید والے دن نمازِ عید سے پہلے فطرانہ ادا کیا کریں۔ فطرانہ کی رقم کے لیے معاشرے کے فقراء و مساکین کو ہی ترجیح دینی چاہیے۔
۔ سیدنا جریر بن عبد اللہ بجلی سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہم ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھے، ابھی دن شروع ہو رہا تھا،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاں کچھ ایسے لوگ آئے جن کے پائوں میں جوتے اور جسم پر پورا لباس نہیں تھا، انھوں نے کمبل یا چوغے لپیٹے ہوئے تھے اور تلواریں کندھوں سے لٹکائی ہوئی تھیں، ان میں سے اکثر بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ سارے افراد قبیلہ مضر سے تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی تنگ دستی کییہ صورتحال دیکھی توآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا چہرہ متغیر ہو گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گھر تشریف لے گئے، پھر جب باہر آئے تو سیدنابلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ اذان اور اقامت کہیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز پڑھائی اور اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خطبہ ارشاد فرمایا اور اس میں یہ آیتیں تلاوت کیں: {یَااَیُّہَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّکُمُ الَّذِی خَلَقَکُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَۃٍ إِنَّ اللّٰہَ کَانَ عَلَیْکُمْ رَقِیْبًا وَخَلَقَ مِنْھَا زَوْجَھَا وَبَثَّ مِنْھُمَا رِجَالًا کَثِیْرًا وَّنِسَائً وَّ اتَّقُوْا اللّٰہَ الَّذِیْ تَسَائَ لُوْنَ بِہٖوَالْاَرْحَامَاِنَّاللّٰہَکَانَعَلَیْکُمْ رَقِیْبًا۔} یعنی: لوگو! اپنے پروردگار سے ڈرو، جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا اور اسی سے اس کی بیوی کو پیدا کر کے ان دونوں سے بہت سے مرد اور عورتیں پھیلا دیں، اس اللہ سے ڈرو جس کے نام پر ایک دوسرے سے مانگتے ہو اور رشتے ناطے توڑنے سے بھی بچو، بے شک اللہ تعالیٰ تم پر نگہبان ہے۔ سورۂ حشر والییہ آیت تلاوت کی: {یَا اَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اتَّقُوْا اللّٰہَ وَلْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَا قَدَّمَتْ لِغَدٍ وَّاتَّقُوْا اللّٰہَ اِنَّ اللّٰہَ خَبِیْرٌ بِمَا تَعْمَلُوْنَ۔} یعنی: اے ایمان والو! اللہ سے ڈرتے رہو اور ہر فرد دیکھے کہ اس نے کل (قیامت) کے دن کے لئے کیا کچھ آگے بھیجا ہے اور اللہ سے ڈرتے رہو، جو تم عمل کرتے ہو، اللہ تعالیٰ اس سے پوری طرح باخبر ہے۔ یہ خطاب سن کر کوئی دینار لے کر آیا، کوئی درہم، کوئی کپڑا، کوئی گندم کا صاع اور کوئی کھجور کا صاع لے کر آیا اور کسی نے کھجور کا ایک ٹکڑا پیش کیا۔ اتنے میں ایک انصاری ایک تھیلی اٹھا کر لایا،( وہ اس قدر وزنی تھی کہ) قریب تھا کہ اس کا ہاتھ عاجز آ جائے گا، بلکہ وہ عاجز آ گیا،یہ منظر دیکھ کر لوگوں نے پے در پے صدقات پیش کرنا شروع کر دیئے،یہاں تک کہ خوراک اور لباس کے دو ڈھیر لگ گئے، اور میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا چہرہ چمک رہا تھا اور وہ سنہری رنگ کا لگ رہا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے اسلام میں کوئی اچھا طریقہ جاری کیا تو اسے اپنے اس عمل کا اجر بھی ملے گا اور اس کے بعد جتنے بھی لوگ اس پر عمل کریں گے، ان سب کے برابر بھی اجر ملے گا اور ان لوگوں کے اجر میں کوئی کمی نہیں آئے گی اور جو کوئی اسلام میں برا طریقہ جاری کرے گا،اسے اپنے عمل کا اور اس کے بعد جتنے بھی لوگ اس پر عمل کریں گے، ان سب کے برابر گناہ ہو گا اور ان کے گناہ میں کوئی کمی بھی واقع نہیںہو گی۔
۔ سیدنا بریدہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب بھی کوئی آدمی صدقہ کرتاہے تو وہ ستر شیطانوں کے جبڑے توڑتا ہے۔
Takhreej
(۳۵۷۴) تخر یـج: قال الالبانی: صحیح، انظر الصحیحۃ: ۱۲۶۸۔ اخرجہ ابن خزیمۃ: ۲۴۵۷، والحاکم: ۱/ ۴۱۷، والبیھقی: ۴/ ۱۸۷(انظر: ۲۲۹۶۲)
Explanation
فوائد:… معلوم ہوا کہ شیطان کی کوشش یہ ہوتی ہے کہ مسلمان کو کنجوسی اور بخیلی جیسی گھٹیا صفات میں جکڑ دیا جائے، یہی وجہ ہے کہ صدقہ و خیرات کرنے سے اس کو بہت زیادہ تکلیف ہوتی ہے، ہمیں چاہئے کہ ہم اپنے ربّ کے حکم کی پیروی کر تے ہوئے اور اسے خوش کرتے ہوئے اور اپنے ابدی دشمن شیطان کو ستاتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کیا کریں۔ اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ مسلم معاشرے میں صدقہ و خیرات کی بہت زیادہ اہمیت ہے اور یہ بڑی اصلاح کا سبب ہے، اس سے جہاں صدقہ کرنے والا خود پاکیز ہ ہوتا ہے اور اپنے مال میں برکت حاصل کرتا ہے، وہاں صدقہ وصول کرنے والا بھی اپنے حالات کو سنوار لیتا ہے۔ کاش کہ ہمارے ہاں بھی صدقہ و خیرات کا یہ نظام منظم بن جاتا اور سرمایہ دار اس چیز کو اپنے لیے اعزاز کا باعث سمجھ لیتے۔
۔ سیدناعدی بن حاتم طائی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے ہر ایک کے ساتھ اس کا ربّ گفتگو کرے گا، اس حال میں کہ اس کے اور اس کے درمیان کوئی ترجمان نہ ہو گا، پس جب وہ بندہ اپنی دائیں جانب دیکھے گا تو اسے وہی کچھ نظر آئے گا، جو اس نے آگے بھیجا ہو گا، پھر جب وہ اپنی بائیں جانب دیکھے گا تو اسے اُدھر بھی وہی کچھ نظر آئے گا، جو وہ آگے بھیج چکا ہو گا، جب وہ اپنے سامنے دیکھے گا تو اُدھر اس کے سامنے آگ ہو گی۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے جس آدمی میں اپنے چہرے کو آگ سے بچانے کیلئے جو استطاعت ہے، وہ استعمال کر دے، اگرچہ وہ کھجور کا ایک ٹکڑا صدقہ کرنے کی صورت میں ہو۔
۔ (۳۵۷۶) (دوسری سند) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے جو کوئی آگ سے بچنے کی طاقت رکھتا ہے تو وہ صدقہ کرے، خواہ وہ کھجور کے ایک حصے کی صورت میں ہی کیوں نہ ہو اور جسے وہ بھی نہ ملے تو اچھی بات کے ذریعے (جہنم سے بچنے کی کوشش کرے)۔
Takhreej
(۳۵۷۶) تخریج:انظر الحدیث بالطریق الاول
Explanation
فوائد:… اچھی بات سے مراد یہ ہے کہ لوگوں سے خندہ پیشانی اور حسن اخلاق سے پیش آنا چاہیے اور اس معاملے میں معرفت اور عدم معرفت کی بنا پر فرق نہیں کرنا چاہیے۔
۔ سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن ہر شخص اپنے اپنے صدقہ کے سایہ میں ہو گا۔ یزید بن ابی حبیب کہتے ہیں: ابو خیر مرثد ہر روز کسی نہ کسی چیز کا صدقہ کیا کرتے تھے، خواہ وہ ایک کیکیا ایک پیازیا اس قسم کی کوئی چیز ہوتی۔
Takhreej
(۳۵۷۷) اسنادہ صحیح۔ اخرجہ ابن خزیمۃ: ۲۴۳۱، وابن حبان: ۳۳۱۰، والحاکم: ۱/ ۴۱۶(انظر: ۱۷۳۳۳)
۔ (دوسری سند) یزید کہتا ہے: مرثد بن عبد اللہ جب بھی مسجد کی طرف آتے تو صدقہ کرنے کے لیے ان کے پاس کوئی نہ کوئی چیز ہوتی تھی۔ ایک دن جب وہ آئے تو ان کے پاس ایک پیاز تھا، میں نے کہا: ابو الخیر! آپ اس کو کیا کریں گے؟ یہ تو آپ کے کپڑوں کو بدبودار کر دے گا۔ انہوں نے کہا: بھتیجے! اللہ کی قسم! آج میرے گھر میں صدقہ کرنے کے لئے اس کے سوا کوئی چیز نہیں تھی۔ مجھے ایک صحابی نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن مومن پر اس کا صدقہ سایہ فگن ہو گا۔
Takhreej
(۳۵۷۸) تخر یـج: انظر الحدیث بالطریق الاول
Explanation
فوائد:… جس طرح ہر انسان کی ضروریات اور اہل و عیال کے تقاضے ہوتے ہیں، اسی طرح صدقہ و خیرات ہماری زندگی کی ایک ضرورت اور تقاضا ہے، لیکنیہ ایک مسلّمہ حقیقت ہے کہ لوگوں نے اپنے بال بچوں میں خوش رہنے اور بیوی بچوں کی ہر قسم کی خواہش پورے کرنے کو ہی مقصد ِ حیات سمجھ لیا، ہمارے ہاں سعادت اور خوش بختییہی علامت ہے، بے سہارا اور فقروفاقہ سے دوچار لوگوں کا پرسانِ حال کوئی نہیں ہے ۔
۔ سیدناابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے ابن آدم! اگر تو ضرورت سے زائد چیز اللہ کی راہ میں خرچ کر دے گا تو یہ تیرے لئے بہتر ہو گا اور اگر اسے بچا کر رکھے گا تو یہ تیرے لیے برا ہو گا، البتہ بقدر حاجت بچا کر رکھنے پر تجھے ملامت نہیں کیا جائے گا، اور خرچ کرتے وقت ان افراد سے ابتدا کر، جو تیری کفالت میں ہیں، اور اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے (یعنی دینے والا ہاتھ لینے والے ہاتھ سے) بہتر ہے۔
۔ سیدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آسمان کے دروازوں میں سے ایک دروازے پر ایک فرشتہ یوں آواز دیتا ہے: کون آج قرض دے گا، تاکہ اسے کل (قیامت والے دن) بدلہ دیا جا سکے،اور ایک دوسرے دروازے پر ایک فرشتہ یوں کہتا ہے: اے اللہ! خرچ کرنے والے کو بہترین متبادل عطا فرما اور بخیل کے مال کو ہلاک کر دے۔
Takhreej
(۳۵۸۲) تخر یـج: اخرجہ مسلم: ۱۰۱۰(انظر: ۸۰۵۴)
Explanation
فوائد:… اس میں کوئی شک و شبہ نہیں ہے کہ امیری اور غریبی نسل در نسل چلنے والی چیزیں نہیں ہے، آج جو لوگ بڑے سرمایہ دار ہیں، ان کے بڑے کوئی سونے کا چمچ لے کر پیدا نہیں ہوئے تھے، اسی طرح آج جو لوگ فقیر اور محتاج بن گئے ہیں، ان کے ماضی قریب کا فقر اور غربت سے کوئی تعلق نظر نہیں آتا۔ دراصل بات یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ اپنے بندوںکو نعمتوں سے نوازتا ہے اور بندے آہستہ آہستہ اپنی اوقات کو بھول کر راہِ اعتدال سے ہٹنا شروع ہو جاتے ہیں اور قارون کی طرح اپنی دولت کو اپنی ذات، ہنر اور برادری کا کمال اور اعزاز سمجھنے لگتے ہیں تو آسمان والا یا تو کچھ عرصے کے لیے ان کو ڈھیل دینا شروع کر دیتا ہے یا پھر ان کو اس نعمت سے محروم کرنے کی کاروائی شروع کر دیتا ہے، قرآن مجید کے درج ذیل اقتباس پر غور فرمائیں:
ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {فَاَمَّا الْاِنْسَانُ اِذَا مَا ابْتَلَاہُ رَبُّہٗفَاَکْرَمَہٗوَنَعَّمَہٗفَیَقُوْلُ رَبِّیْ اَکْرَمَنِ۔ وَاَمَّا اِذَا مَا ابْتَلَاہَ فَقَدَرَ عَلَیْہِ رِزْقَہٗفَیَقُوْلُ رَبِّیْ اَھَانَنِ۔ کَلَّا بَلْ لَّا تُکْرِمُوْنَ الْیَتِیْمَ۔ وَلَا تَحٰٓضُّوْنَ عَلٰی طَعَامِ الْمِسْکِیْنِ۔ وَتَاْکُلُوْنَ التُّرَاثَ اَکْلًا لَّمًّا۔ وَتُحِبُّوْنَ الْمَالَ حُبًّا جَمًّا۔} ’’انسان (کا یہ حال ہے کہ) جب اسے اس کا رب آزماتا ہے اور عزت و نعمت دیتا ہے تو وہ کہنے لگتا ہے کہ میرے رب نے مجھے عزت دار بنایا۔ اور جب وہ اس کو اس طرح آزماتا ہے کہ اس کی روزی تنگ کر دیتا ہے تو وہ کہنے لگتا ہے کہ میرے ربّ نے مجھے ذلیل کر دیا ہے۔ ایسا ہر گز نہیں ہے، بلکہ بات یہ ہے کہ تم ہی لوگ یتیموں کی عزت نہیں کرتے۔ اور مسکینوں کے کھلانے کی ایک دوسرے کو ترغیب نہیں دیتے اور (مردوں کی) میراث سمیٹ سمیٹ کر کھاتے ہو۔ اور مال کو جی بھر کر عزیز رکھتے ہو۔‘‘ (سورۂ فجر: ۱۵ تا ف۲۰)
ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے دولت کا رخ پھر جانے کے چار اسباب بیان کیے ہیں: (۱) یتیموں کی عزت نہ کرنا، (۲) مسکینوں کو کھانا کھلانے پر ترغیب نہ دلانا، (۳) رشتہ داروں کی میراث سمیٹ لینا اور (۴) مال سے بہت محبت کرنا۔
جب کسی سرمایہ دار میں یہ خباثتیں آ جاتی ہیں تو دولت کا رخ تبدیل ہو جاتا ہے اور وہ دیکھتا ہے کہ یا تو چند سالوں کے بعد حالات بالکل تبدیل ہو جاتے ہیں، نہیں تو اس کے کیے کا بھگتان اس کی اولاد کو بھگتنا پڑتا ہے۔ ہمارے معاشرے کے کئی افراد اس وقت میری نگاہوں کے سامنے گھوم رہے ہیں، اللہ تعالیٰ نے دس بارہ بارہ سالوں کے اندر ایسے ایسے پلٹے دیئے کہ ان بیچاروں کو بھی سمجھ نہ آئی کہ ان کے ساتھ کیا پالیسی اختیار کی جا رہی ہے، کسی کو اس کی عیاشی نے، کسی کو اس کے بخل نے، کسی کو غریبوں کو حقارت کی نگاہ سے دیکھنے نے، کسیکو دولت ہی کو ذلت و عزت کا معیار سمجھنے نے، کسی کو سودی نظام نے، کسی کو غریبوں کے سنجیدہ مسائل پر بے حسی کا ثبوت دینے نے، کسی کو مجبوروں کو دیکھ کر تیوڑی چڑھانے نے، … علی ہذا القیاس۔ یہ ایسے اسباب ہیں کہ جن کی وجہ سے اللہ تعالیٰ دولت کا رخ تبدیل کر دیتے ہیں۔ میں یہی التماس کروں گا: سرمایہ دارو! دولت ڈھلتی چھاؤں ہے، کبھی بھی اپنی اوقات کو نہ بھولنے پاؤ، تمہارے خزانوں کا اصل مالک اللہ تعالیٰ ہے، اسی کے نظام کو اپنے مزاجوں اور گھروں میں رواج دو، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی طرح اللہ تعالیٰ کے ہاں ’’غنی‘‘ کا لقب پاؤ گے، وگرنہ فرشتوں کی بددعاؤں کا مصداق بن جاؤ گے، جیسا کہ مذکورہ بالا حدیث سے پتہ چل رہا ہے۔
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: عائشہ! آگ سے بچ (اس کے لیے اسباب پیدا کر)، اگر چہ وہ کھجور کا ایک حصہ دینے کی صورت میں ہی ہو، یہ سیر آدمی کی طرح ہی بھوکے آدمی کو فائدہ دیتا ہے۔
Takhreej
(۳۵۸۳) صحیح، وھذا اسناد منقطع، المطلب بن عبد اللہ لم یدرک عائشۃ، لکن قولہ ((استتری من النار، ولو بشق تمرۃ)) صحیح بسند آخر، وقولہ: ((فانھا تسد من الجائع مسدھا من الشبعان)) لہ شاھد من حدیث ابی بکر الصدیق عند ابییعلی: ۸۵، والبزار فی ’’البحر الزخار‘‘: ۱/ ۱۹۵(انظر: ۲۴۵۰۱)
۔ سیدناعبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے ہر آدمی اپنے چہرے کو آگے سے بچائے، اگرچہ وہ کھجور کا ایک حصہ صدقہ کرنے کی صورت میں ہو۔
۔ سیدنا حارثہ بن وہب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: صدقہ کرو، کیونکہ قریب ہے کہ ایک آدمی صدقہ لے کر چلے اور جسے وہ دینا چاہے، وہ آگے سے کہے: اگر تو کل لے آتا تو میں قبول کر لیتا، اب تو مجھے اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے، پس اسے ایسا آدمی نہیں ملے گا، جو اس کے صدقے کو قبول کرے۔
فوائد:… اگر کوئی آدمی مالدار ہے اور اس کے ارد گرد مستحق لوگ موجود ہے، تو وہ اس چیز کو اللہ تعالیٰ کی نعمت سمجھ کر صدقہ و خیرات سے محروم نہ رہے، کیونکہ قریب ہے کہ اس کو مستحقین کی فہرست میں شامل کر دیا جائے، یا اس کے قرب وجوار والے سارے ہی اپنے اپنے پاؤں پر کھڑے ہو جائیں۔
۔ سیدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ مدینہ منورہ کے ایک کھجوروں کے باغ میں چل رہا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ابوہریرہ! زیادہ مال والے ہلاک ہو گئے، ما سوائے ان لوگوں کے جو مال کو اِدھر خرچ کرتے ہیں، اُدھر دیتے ہیں اور اس طرف لٹاتے ہیں،پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنیہتھیلی سے دائیں، بائیں اور سامنے کی طرف اشارہ کیا، لیکن ایسے لوگ تھوڑے ہیں۔
۔ سیدناعبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کون ہے جسے اپنے مال کی بہ نسبت اپنے وارث کا مال زیادہ پیارا ہو؟ صحابہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم میں سے ہر ایک کواس کے وارث کی بہ نسبت اپنا مال زیادہ محبوب ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھریاد رکھو کہ تم میں سے ہر ایک کو اپنے مال کی بہ نسبت اپنے وارث کا مال زیادہ پیارا ہے، تمہارا مال تو صرف وہ ہے، جسے تم خرچ کرکے آگے بھیج دیا اور جو پیچھے چھوڑا، وہ تمہارے وارث کا مال ہے۔
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں کہ انھوں نے ایک بکری ذبح کی (اور اس کا گوشت تقسیم کر دیا)، پھر میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بتلاتے ہوئے کہا: اے اللہ کے رسول! اس بکری کا صرف ایک کندھے کا گوشت باقی بچا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: حقیقت میں وہ ساری بچ گئی ہے، ما سوائے اس کندھے کے (جو گھر میں پڑا ہوا ہے)۔
فوائد:… یہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا تصور تھا کہ بندے کا حقیقی خزانہ وہ ہے، جسے وہ اللہ تعالیٰ کی ذات کے لیے مستحق افراد میں تقسیم کر دے۔ سبحان اللہ! جو گوشت لوگوں میں تقسیم کر دیا، وہ اللہ تعالیٰ کے بینک میں جمع ہو گیا، جس میں اتنا اضافہ کر دیا جاتا ہے کہ ایک کھجور، پہاڑ کی مانند بن جاتی ہے۔
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے صدقہ کے معاملے میں کوئی سوال کیا اور تھوڑی سی چیز کا ذکر کیا، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: دے دو اور کنجوسی نہ کر، وگرنہ تجھ سے کنجوسی کر لی جائے گی۔
فوائد:… یہ مصیبت ہمارے دور میں بھی بدرجۂ اتم پائی جا رہی ہے کہ لوگوں نے صدقہ و خیرات کی انتہائی معمولی مقدار کو اپنے لیے کافی و شافی سمجھ لیا ہے، اگر کوئی آدمی کسی فقیر کو سو پچاس دے دیتا ہے، وہ کئی دنوں تک اس کو بھولنے نہیں پاتا۔ قارئین کرام! کوئی مانے یا نہ مانے، ابھی تک عملی طور پر ہم یہ عقیدہ اور نظریہ قائم نہ کر سکے کہ سخاوت کی وجہ سے خزانوں میں اضافہ ہوتا ہے اور کئی نسلیں اس کی برکت سے مستفید ہوتی رہتی ہیں۔ میں اللہ تعالیٰ کو شاہد بنا کر کہتا ہوں کہ جون ۲۰۱۲ءمیں ایک آدمی سے میری ملاقات ہوئی، چند برس پہلے اس کے پاس پانچ کروڑ روپیہ اور بہترین کاروبار موجود تھا، لیکن۲۵ جون کو ایک ہزار روپے کی بھیک مانگ کر اسے دیا گیا، تاکہ وہ اپنی ضرورت پوری کر سکے، جبکہ اس کا دعوییہ ہے کہ اس کو کوئی سمجھ آئی کہ اس کی اتنی بھاری رقم کہاں دفن ہو گئی۔ بات یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے کنجوسی ہونے لگ جائے تو بندہ کرتا تو کچھ اور ہے، لیکن ہوتا کچھ اور ہے، آدمی اپنے لیے خود گڑھے کھودنے لگ جاتا ہے۔ العیاذ باللہ
۔ سیدناابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک شخص کو دیکھا کہ وہ لوگوں کی ایک طرف اپنی سواری کو گھما رہا تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس کسی کے پاس زائد سواری ہو تو وہ ایسے آدمی کو دے دے جس کے پاس سواری نہیں اور جس کے پاس زائد زادِ راہ ہو تو وہ ایسے آدمی کو دے دے جس کے پاس زاد نہیں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ فرمان سن کر ہمیں یہ خیال آنے لگا کہ ضرورت سے زائد چیز میں ہم میں سے کسی کا کوئی حق نہیں ہے۔
Takhreej
(۳۵۹۰) تخر یـج: اخرجہ مسلم: ۱۷۲۸(انظر: ۱۱۲۹۳)
Explanation
فوائد:… لیکن کیا مجھے اپنے ضمیروں سے یہ سوال کرنے کا حق حاصل ہے کہ کیا ہم نے کسی محتاج کو تلاش کر کے اور اس پر ترس کھا کر اسے بھی سائیکل، موٹر سائیکل، رکشہ یا موٹر کار کا مستحق سمجھا ہو؟! یا اس کے گھر میں بھی راشن پہنچانے کو اپنے لیے باعث ِ اعزاز سمجھا ہو؟! ہر گز نہیں، ممکن ہے کہ ہمارا نظریہ ہییہ ہو کہ اس قسم کا محتاج تو ہمارے معاشرے پایا ہی نہیں جاتا، جبکہ یہ بھی عین ممکن ہے کہ رزق کی تنگیوں نے لوگوں کے سکون کو اس طرح تباہ کیا ہو کہ وہ مستقل طور پر کسی نہ کسی بیماری میں مبتلا ہو گئے ہوں۔