TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

بنو ہاشم اور ان کی بیویوں اور غلاموں کے لیے صدقہ کے حرام ہونے اور ہدیہ کے جائز ہونے کا بیان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ - بنو ہاشم اور ان کی بیویوں اور غلاموں کے لیے صدقہ کے حرام ہونے اور ہدیہ کے جائز ہونے کا بیان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ - زکوۃ کی ادائیگی کے متعلق ابواب - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 13 of زکوۃ کی ادائیگی کے متعلق ابواب in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 13 of 34 · 15 Hadith
۔ (۳۴۸۰) عَنْ اَبِی الْحَوْرَائِ قَالَ: قُلْتُ لِلْحَسَنِ بْنِ عَلیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما : مَا تَذْکُرُ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ؟ قَالَ: اَذْکُرُ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنِّی اَخَذْتُ تَمْرَۃً مِنْ تَمْرِ الصَّدَقَۃِ فَجَعَلْتُہَا فِی فِیَّ، قَالَ: فَنَزَعہَاَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ْ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِلُعَابِہَا، فَجَعَلَہَا فِی التَّمْرِ، فَقِیْلَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! مَا کَانَ عَلَیْکَ مِنْ ہٰذِہِ التَّمْرَۃِ لِہٰذَا الصَّبِیِّ؟ قَالَ: ((وَإِنَّا آلُ مُحَمَّدٍ لاَ تَحِلُّ لَنَا الصَّدَقَۃُ۔)) قَالَ: وَکَانَ یَقُوْلُ: ((دَعْ مَا یَرِیْبُکَ إِلٰی مَالَا یَرِیبُکَ، فَإِنَّ الصِّدْقَ طَمَاْنِیْنَۃٌ، وَإِنَِ الْکَذِبَ رِیْبَۃٌ۔)) قَالَ: وَکَانَ یُعَلِّمُنَا ہٰذَا الدُّعَائَ: ((اللّٰھُمَّ اھْدِنِی فِیْمَنْ ھَدَیْتَ، وَعَافِنِی فِیْمَنْ عَافَیْتَ وَتَوَلَّنِیْ فِیْمَنْ تَوَلَّیْتَ، وَبَارِکْ لِی فِیْمَا اَعْطَیْتَ، وَقِنِیْ شَرَّمَا قَضَیْتَ، إِنَّکَ تَقْضِیْ وَلَا یُقْضٰی عَلَیْکَ، إِنَّہُ لَایَذِلُّ مَنْ وَّالَیْتَ۔)) قَالَ شُعْبَۃُ وَاَظُنُّہُ قَدْ قَالَ ہٰذِہِ اَیْضًا: ((تَبَارَکْتَ رَبَّنَا وَتَعَالَیْتَ۔)) (مسند احمد: ۱۷۲۷)
۔ ابو حوراء کہتے ہیں: میں نے سیدناحسن بن علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہا: آپ کو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی کونسی کوئی خاص بات یاد ہے؟ انہوں نے کہا: مجھے یاد ہے کہ میں نے ایک دفعہ صدقہ کی کھجوروں میں سے ایک کھجور اٹھا کر منہ میں ڈالی تھی، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے وہ لعاب سمیت میرے منہ سے کھنیچ کر نکالیاور کھجور کے ڈھیر میں واپس ڈال دی۔ کسی نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس بچے کا ایککھجور لے لینا، اس سے آپ کو کیا ہوا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہم آلِ محمدہیں اور ہمارے لئے زکوۃ حلال نہیں ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یہ بھی فرماتے تھے: شک والی بات کو چھوڑ کر ایسی صورت کو اختیار کرو جو شک و شبہ سے پاک ہو، سچائی میں سکون ہے اورجھوٹ میں قلق اور اضطراب ہے، پھر سیدنا حسن ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہمیں اس دعا کی تعلیم بھی دیتے تھے: اَللّٰھُمَّ اھْدِنِیْ فِیْمَنْ ھَدَیْتَ، … تَبَارَکْتَ رَبَّنَا وَتَعَالَیْتَ۔ یعنی: اے اللہ! مجھے ہدایت دے کر ان لوگوں کے زمرہ میں شامل فرما جنہیں تو نے ہدایت دی اور مجھے عافیت دے کر ان لوگوں میں شامل فرماجنہیں تو نے عافیت بخشی اور مجھے اپنا دوست بنا کر ان لوگوں میں شامل فرما جنہیں تو نے اپنا دوست بنایا اور جو کچھ تو نے مجھے عطا کیا اس میں برکت ڈال دے اور جس شر کا تو نے فیصلہ کیا ہے مجھے اس سے محفوظ رکھ۔ بیشک تو ہی فیصلہ صادر کرتا ہے اور تیرے خلاف فیصلہ صادر نہیں کیا جاتا اور جس کا تو والی بنا وہ کبھی ذلیل و خوار نہیں ہو سکتا، اے ہمار ے ربّ! تو بڑی برکت والا اور بہت بلند و بالا ہے۔
Takhreej
(۳۴۸۰) تخر یـج: اسنادہ صحیح۔ اخرج الترمذی منہ لفظ: ((دع ما یریبک … وان الکذب ریبۃ))، وأخرجہ بتمامہ عبد الرزاق: ۴۹۸۴، والطبرانی: ۲۷۱۱ (انظر: ۱۷۲۷)
3480
Sahih
۔ (۳۴۸۱) عَنْ رَبِیْعَۃَ بْنِ شَیْبَانَ اَنَّہُ قَالَ لِلْحَسَنِ بْنِ عَلِیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما : مَا تَذَکُرُ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ؟ قَالَ: اَدْخَلَنِی غُرْفَۃَ الصَّدَقَۃِ فَاَخَذْتُ مِنْہَا تَمْرَۃً فَاَلْقَیْتُہَا فِی فَمِی، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَلْقِہَا فَإِنَّہَا لاَ یَحِلُّ لِرَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَعَلٰی آلِہٖوَصَحْبِہِوَسَلَّمَوَلَالِاَحَدٍمِنْاَہْلِبَیْتِہِ۔)) (مسند احمد: ۱۷۲۴)
۔ ربیعہ بن شیبان کہتے ہیں: میں نے سیدنا حسن بن علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہا: کیا آپ کو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی کوئی خاص چیزیاد ہے؟ انہوں نے کہا: ایک دفعہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مجھے زکوۃ والے سٹور میں لے گئے، میں نے وہاں سے ایک کھجور اٹھا کر منہ میں ڈال لی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس کو پھینک دو، یہ اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور ان کے اہل بیت کے کسی فرد کے لئے حلال نہیں ہے۔
Takhreej
(۳۴۸۱) تخر یـج: اسنادہ صحیح۔ اخرجہ ابن ابی شیبۃ: ۳/ ۲۱۴، وابن خزیمۃ: ۲۳۴۹، والطحاوی: ۲/ ۷، وھو نفس الحدیث المتقدم (انظر: ۱۷۲۴)
3481
Sahih
۔ (۳۴۸۲) عَنْ اَبِی الْحَوْاَرئِ قَالَ: کُنَّا عِنْدَ حَسَنِ بْنِ عَلِیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما فَسُئِلَ: ماَ عَقَلْتَ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَوْ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: کُنْتُ اَمْشِی مَعَہُ فَمَرَّ عَلَی جَرِیْنٍ مِنْ تَمْرِ الصَّدَقَۃِ فَاَخَذْتُ تَمْرَۃً فَاَلْقَیْتُہَا فِی فَمِی فَاَخَذَہَا بِلُعَابِیْ، فَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ: وَمَا عَلَیْکَ لَوْتَرَکْتَہَا، قَالَ: ((إِنَّا آلُ مُحَمَّدٍ لَا تَحِلُّ لَنَا الصَّدَقَۃُ۔)) قَالَ: وَعَقَلْتُ مِنْہُ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسَ۔ (مسند احمد: ۱۷۲۵)
۔ ابو حوراء کہتے ہیں: ہم سیدنا حسن بن علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس موجود تھے، کسی نے ان سے دریافت کیا کہ کیا آپ کو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی کوئی خاص بات یاد ہے؟ انہوں نے کہا: میں ایک دفعہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ہمراہ جا رہا تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا گزر اس کھلیان سے ہوا، جہاں زکوۃ کی کھجوریں پڑی تھیں، میں نے ایککھجور لے کر اپنے منہ میں ڈال لی، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے لعاب سمیت اس کو نکال دیا۔ کسی نے کہا: اگر آپ یہ کھجور اس بچے کے پاس ہی رہنے دیتے تو اس سے آپ کو کیا ہو جاتا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہم آل محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے لیےیہ زکوۃ حلال نہیں ہے۔ پھر سیدنا حسن ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: نیز میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے پانچ نمازیں بھی سیکھی ہیں۔
Takhreej
(۳۴۸۲) اسنادہ صحیح۔ اخرجہ الطبرانی: ۲۷۱۴، وھو نفس الحدیثین المتقدمین (انظر: ۱۷۲۵)
3482
Sahih
۔ (۳۴۸۳) عَنْ اَبِی ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌کُنَّا عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰہِ وَہُوَ یَقْسِمُ تَمْرًا ِمْن تَمْرِ الصَّدَقَۃِ وَالْحََسَنُ بْنُ عَلِیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما فِی حِجْرِہٖ فَلَمَّا فَرَغَ حََمَلَہُ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلٰی عَاتِقِہ،ِ فَسَالَ لُعَابُہُ عَلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَرَفَعَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رَاْسَہُ فَإِذَا تَمْرَۃٌ فِی فِیْہِ، فَاَدْخَلَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَدَہُ فَاَنْتَزَعَہَا مِنْہُ، ثُمَّ قَالَ: ((اَمَا عَلِمْتَ اَنَّ الصَّدَقَۃَلاَ تَحِلُّ لِآلِ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ۔)) (مسند احمد: ۷۷۴۴)
۔ سیدناابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس موجود تھے، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صدقہ کی کھجوریں تقسیم فرما رہے تھے اور سیدنا حسن بن علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی گود میں تھے، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کام سے فارغ ہوئے تو سیدنا حسن ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو کندھے پر اٹھالیااوران کا لعاب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر بہنے لگا، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنا سر اٹھا کر دیکھا تو ان کے منہ میں ایک کھجور دیکھی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنا ہاتھ ان کے منہ میں داخل کرکے اس کو نکال دیا اور فرمایا: کیا تم نہیں جانتے کہ آل محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے لئے زکوٰۃ حلال نہیں۔
Takhreej
(۳۴۸۳) تخر یـج: اخرجہ البخاری: ۱۴۸۵، ومسلم: ۱۰۶۹(انظر: ۷۷۵۸)
3483
Sahih
۔ (۳۴۸۴) وَعَنْہُ اَیْضًا اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رَاَی الْحَسَنَ بْنَ عَلِیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما اَخَذَ تَمْرَۃً مِنْ تَمْرِ الصَّدَقَۃِ فَلَاکَہَا فِی فِیْہِ،فَقَالَ لَہُ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَعَلٰی آلِہٖوَصَحْبِہِوَسَلَّمَ: ((کِخْ،کِخْ،ثَلَاثًالَاتَحِلُّلَنَا الصَّدَقَۃُ۔)) (مسند احمد: ۱۰۱۷۶)
۔ سیدناابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا حسن بن علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو دیکھا کہ انھوں نے صدقہ کی کھجوروں میں سے ایک کھجور اٹھائی اور اس کو اپنے منہ میں چبایا توآپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان سے فرمایا: اوہ، اوہ، اوہ، ہمارے لئے صدقہ حلال نہیں۔
Takhreej
(۳۴۸۴) تخر یـج: انظر الحدیث السابق (انظر: ۱۰۱۷۳)
3484
Sahih
۔ (۳۴۸۵) عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ عَنْ اَبِیْہِ عَنْ جَدِّہٖ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ نَائِمًا فَوَجَدَ تَمْرَۃً تَحْتَ جَنْبِہِ فَاَخَذَہَا فَاَکَلَہَا، ثُمَّ جَعَلَ یَتَضَوَّرُ مِنْ آخِرِ اللَّیْلِ وَفَزِعَ لِذَلِکَ بَعْضُ اَزْوَاجِہِ، فَقَالَ: ((إِنِّی وَجَدْتُّ تَمْرَۃً تَحْتَ جَنْبِی فَاَکَلْتُہَا فَخشِیْتُ اَنْ تَکُوْنَ مِنْ تَمْرِ الصَّدَقَۃِ۔)) (مسند احمد: ۶۷۲۰)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سوئے ہوئے تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اپنے پہلو کے نیچے سے ایک کھجور ملی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے اٹھا کر کھا لیا، لیکن بعد ازاں رات کے آخری پہر کو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پریشانی کی وجہ سے الٹ پلٹ ہونے لگ گئے، اس وجہ سے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بعض بیویاں بھی گھبرا گئیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے (اس کی وجہ بیان کرتے ہوئے) فرمایا: مجھے اپنے پہلو کے نیچے سے ایک کھجور ملی اور میں نے اسے کھا لیا، اب مجھے اندیشہیہ ہے کہ ایسا نہ ہو کہ وہ صدقہ کی کھجور ہو۔
Takhreej
(۳۴۸۵) تخر یـج: اسنادہ حسن (انظر: ۶۷۲۰)
3485
Sahih
۔ (۳۴۸۶) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ بِنَحْوِہِ، وَفِیْہِ) فَاَکَلَہَا فَلَمْ یَنَمْ تِلْکَ اللَّیْلَۃَ،ِ فَقَالَ بَعْضُ نِسَائِہِ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اَرِقْتَ الْبَارِحَۃَ۔ قَالَ: ((إِنِّی وَجَدْتُّ تَحْتَ جَنْبِی تَمْرَۃً فَاَکَلْتُہَا وَکَانَ عِنْدَنَا تَمْرٌ مِنْ تَمْرِ الصَّدَقَۃِ فَخَشِیْتُ اَنْ تَکُوْنَ مِنْہُ۔)) (مسند احمد: ۶۸۲۰)
۔ (دوسری سند) اس میں ہے: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے وہ کھجور تو کھا لی، مگر ساری رات آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو نیند نہیں آئی،کسی اہلیہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا وجہ تھی کہ گزشتہ رات آپ پر بے خوابی طاری رہی؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مجھے اپنے پہلو کے نیچے سے ایک کھجور ملی تھی، میں نے وہ کھا لی، ہمارے ہاں صدقہ کی کھجوریں بھی پڑی تھیں، اب مجھے اندیشہیہ ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ کھجور ان صدقہ والی کھجوروں میں سے ہو۔
Takhreej
(۳۴۸۶) تخر یـج: انظر الحدیث بالطریق الاول (انظر: ۶۸۲۰)
Explanation
فوائد:… آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو جو شبہ ہوا تھا، یہ محض شبہ نہیں تھا، بلکہ اس کے مختلف قرائن ہوں گے، ممکن ہے کہ اس دن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے گھر میں صدقے کی کھجوریں لائی گئی ہوں، تاکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ان کو تقسیم کر دیں، اس وجہ سے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو شبہ ہو گیا ہو، بہرحال ایسی صورتحال میں شبہ میں پڑ جانے کی گنجائش موجود ہے۔ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو عالم الغیب سمجھنے والوں کو اس جگہ غور کرنا چاہیے، اگر آپ غیب جانتے تھے اور کھجور واقعۃ صدقے کی تھی تو یہ کھائی کیوں اور اگر صدقے کی نہیں تھی تو ساری رات بے خوابی اور بے قراری میں کیوں گزاری؟ (عبداللہ رفیق)
3486
Sahih
۔ (۳۴۸۷) عَنْ اَبِی ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: کَانَ النَّبِیُّ إِذَا اُتِیَ بِطَعَامٍ مِنْ غَیْرِ اَہْلِہِ سَاَلَ عَنْہُ، فَإِنْ قِیْلَ ہَدِیَّۃٌ اَکَلَ وَإِنْ قِیْلَ صَدَقَۃٌ قَالَ: ((کُلُوْا۔)) وَلَمْ یَاْکُلْ۔ (مسند احمد: ۸۰۰۱)
۔ سیدناابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا معمول یہ تھا کہ جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا کھانا گھر والوں کے علاوہ کہیں اور سے لایا جاتا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس کے بارے میں دریافت کرتے تھے، اگر وہ تحفہ ہوتا تو کھا لیتے اور اگر وہ صدقہ ہوتا تو فرماتے: تم کھا لو۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خود نہیں کھاتے تھے۔
Takhreej
(۳۴۸۷) تخر یـج: اخرجہ البخاری: ۲۵۷۶، ومسلم: ۱۰۷۷ (انظر: ۸۰۱۴)
3487
Sahih
۔ (۳۴۸۸) عَنْ بَہْزِ بْنِ حَکِیْمٍ عَنْ اَبِیْہِ عَنْ جَدِّہِ، ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَحْوُہُ۔ (مسند احمد: ۲۰۳۱۳)
۔ سیدنا معاویہ بن حیدہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بھی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اسی قسم کی روایت بیان کی ہے۔
Takhreej
(۳۴۸۸) تخریج:صحیح لغیرہ۔ أخرجہ الترمذی: ۶۵۶ (۲۰۰۵۴)
3488
Sahih
۔ (۳۴۸۹) عَنْ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ بْنِ رَبِیْعَۃَ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌اَنَّہُ اجْتَمَعَ رَبِیْعَۃُ بْنُ الْحَارِثِ وَعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما فَقَالَا: وَاللّٰہِ! لَوْ بَعَثْنَا ہٰذَیْنِ الْغُلَامِیْنِ، فَقَالَا لِیْ وَلِلْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ إِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَاَمَّرَھُمَا عَلٰی ھٰذِہِ الصَّدَقَاتِ فَاَدَّیَا مَا یُؤَدِّی النَّاسُ وَاَصَابَا مَا یُصِیْبُ النَّاسُ مِنَ الْمَنْفَعَۃِ، فَبَیْنَاہُمَا فِی ذٰلِکَ جَائَ عَلَیُّ بْنُ اَبِی طَالِبٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ فَقَالَ: مَا ذَا تُرِیْدَانِ؟ فَاَخْبَرَاہُ بِالَّذِی اَرَادَا، قَالَ: فَلَا تَفْعَلَا فَوَاللّٰہِ! مَا ہُوَ بِفَاعِلٍ، فَقَالَا: لَمْ تَصْنَعُ ھٰذََا؟ فَمَا ہٰذَا مِنْکَ إِلَّا نَفَاسَۃً عَلَیْنَا لَقَدْ صَحِبْتَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَنِلْتَ صِہْرَہُ فَمَا نَفِسْنَا ذٰلِکَ عَلَیْکَ، قاَلَ: فَقَالَ: اَنَا اَبُوْ حَسَنٍ، اَرْسِلُوْہُمَا ثُمَّ اضْطَجَعَ قَالَ: صَلَّی الظُّہْرَ (یَعْنِی النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) سَبَقْنَاہُ إِلَی الْحُجْرَۃِ فَقُمْنَا عِنْدَہَا حَتَّی مَرَّبِنَا فَاَخَذَ بِاَیْدِیْنَا، ثُمَّ قَالَ: اَخْرِجَا مَا تُصَرِّرَانِ، وَدَخَلَ فَدَخَلْنَا مَعَہُ وَہُوَ حِیْنَئِذٍ فِیْ بَیْتِ زَیْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ، قَالَ: فَکَلَّمْنَاہُ، فَقُلْنَا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! جِئْنَاکَ لِتُؤَمِّرَنَا عَلٰی ھٰذِہِ الصَّدَقَاتِ فَنُصِیْبَ مَا یُصِیْبُ النَّاسُ مِنَ الْمَنْفَعَۃِ وَنُؤَدِّیَ إِلَیْکَ مَا یُؤَدِّی النَّاسُ، قَالَ: فَسَکَتَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَرَفَعَ رَاْسَہُ إلَی سَقْفِ الْبَیْتِ حَتّٰی اَرَدْنَا اَنْ نُکَلِّمَہُ، فَاَشَارَتْ إِلَیْنَا زَیْنَبُ مِنْ وَرَائِ حِجَابِہَا، کَاَنَّہَا تَنْہَانَا عَنْ کَلَامِہِ، وَاَقْبَلَ فَقَالَ: ((الَا إِنَّ الصَّدَقَۃَ لاَ تَنْبَغِی لِمُحَمَّدٍ وَلَا لِآلِ محُمَدَّ،ٍ إِنَّمَا ہِیَ اَوْسَاخُ النَّاسِ، اُدْعُوْا لِیْ مَحْمِیَۃَ بْنَ جَزْئٍ۔)) وَکَانَ عَلَی الْعُشْرِ، وَاَبَا سُفْیَانَ ابْنَ الْحَارِثِ فَاَتَیَا فَقَالَ لِمَحْمِیَۃَ: ((اَصْدِقْ عَنْہُمَا مِنَ الْخُمُسِ۔)) (مسند احمد: ۱۷۶۶۰)
۔ سیدناعبد المطلب بن ربیعہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: سیدنا ربیعہ بن حارث ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور سیدنا عباس بن عبد المطلب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ جمع ہوئے اور انہوں نے میرے اور سیدنا فضل بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے متعلق مشورہ کیا اور کہا: اللہ کی قسم! اگر ہم ان دونوں کو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں بھیج دیں تاکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ان دونوں کو صدقات کی وصولی پر مامور فرمائیں، اس طرح یہ دونوں لوگوں سے زکوٰۃ و صدقات وصول کرکے لائیں اور دوسروں کی طرح مالی منفعت یعنی اجرت حاصل کر سکیں،یہ بہتر چیز ہے، ابھی تک وہ دونوں یہ مشورہ ہی کر رہے تھے کہ سیدنا علی بن ابی طالب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ تشریف لے آئے اور انہوں نے پوچھا: تمہارے کیا ارادے ہیں؟ جب ان دونوں نے ان کو اپنے ارادے سے آگاہ کیا تو سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: تم ایسا نہ کرو، اللہ کی قسم ہے! رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ایسا نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا: آپ ایسے کیوں کر رہے ہیں؟ آپ یہ بات محض حسد کی بنا پر کر رہے ہیں، دیکھیںکہ آپ، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی صحبت میں رہتے ہیں اور آپ، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے داماد بھی ہیں، لیکن ہم نے تو کبھی بھی آپ پر حسد نہیں کیا۔ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میں بھی آخر ابو حسن ہوں، تم ان دونوں کو بھیج کر دیکھ لو، یہ کہہ کر وہ لیٹ گئے۔ عبد المطلب کہتے ہیں: جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ظہر کی نماز پڑھ لی تو ہم آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے قبل ہی حجرہ کے پاس جا کر کھڑے ہو گئے۔ جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہمارے پاس سے گزرے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمارے ہاتھ تھام لئے اور فرمایا: تم کیا کہنا چاہتے ہو؟ تمہارے دلوں میں جو کچھ ہے اس کا اظہار کر دو، اس کے ساتھ ہی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اندر تشریف لے گئے، ہم بھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ اندر چلے گئے۔ اس وقت آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سیدہ زینب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ہاں مقیم تھے،ہم نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے بات کی اور عرض کیا: اللہ کے رسول۱ ہم آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں حاضرہوئے ہیں تاکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہمیں زکوٰۃ و صدقات کی وصولی پر مامور فر ما دیں، اس طرح ہم بھی دوسروں کی طرح مالی منفعت حاصل کر سکیں گے، ہم بھی دوسروں کی طرح وصولیاں کرکے لا کر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دیں گے۔یہ سن کر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خاموش ہو گئے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنا سر مبارک کمرے کی چھت کی طرف اٹھایا، ہم نے کچھ کہنے کا ارادہ تو کیا لیکن سیدہ زینب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے پردے کے پیچھے سے اشارہ کرکے ہمیں بولنے سے روک دیا،کچھ دیر کے بعد آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: خبردار! محمد اور آل محمد کے لئے صدقہ حلال نہیں ہے، یہ تو لوگوں کی میل کچیل ہوتی ہے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: محمیہ بن جز کو بلا ئو۔ جو کہ عشر پر مامور تھے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے محمیہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے فرمایا: خُمُس (پانچواں حصے) میں سے ان دونوں کے مہر ادا کردو۔
Takhreej
(۳۴۸۹) تخر یـج: اخرجہ مسلم: ۱۰۷۲(انظر: ۱۷۵۱۹)
3489
Sahih
۔ (۳۴۹۰) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) اَنَّہُ ہُوَ وَالْفَضْلُ اَتَیَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لِیُزَوِّجَھُمَا وَیَسْتَعْمِلَھُمَا عَلَی الصَّدَقَۃَ فَیُصِْیَبانِ مِنْ ذَلِکَ فَقَالَ لَھُمَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِنَّ ھٰذََہِ الصَّدَقَۃَ إِنَّمَا ھِیَ اَوْساَخ ُالنَّاسِ وَإِنَّھَا لَا تَحِلُّ لِمُحَمَّدٍ وَلَا لِآلِ مُحَمَّدٍ، ثُمَّ إِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ لِمَحْمِیَۃَ الزُّبَیْدِیِّ: ((زَوِّجِ الْفَضْلَ۔)) وَقَالَ لِنَوْفَلِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِالْمُطَّلِبِ: ((زَوِّجِ عَبْدَ الْمُطَّلِبِ بْنَ رَبِیْعَۃَ وَقَالَ لِمَحْمِیَۃَ بْنِ جَزْئٍ الزُّبَیْدِیِّ وَکَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَسْتَعْمِلُہُ عَلَی الْاَخْمَاسِ فَاَمَرَہُ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُصْدِقُ عَنْہُمَا ِمَن الْخُمُسْ شَیْئًا، لَمْ یُسَمِّہٖ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ الْحَارِثِ۔ (مسند احمد: ۱۷۶۵۹)
۔ (دوسری سند) سیدنا عبد المطلب بن ربیعہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور سیدنا فضل بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ دونوں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تاکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ان کی شادیاں کرا دیں اور انہیں صدقات کی وصولی پر مامور کر دیں تاکہ وہ اس طرح کچھ مالی منفعت حاصل کر سکیں، لیکن رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان سے فرمایا: یہ صدقات تو لوگوں کی میل کچیل ہوتے ہیں اور یہ محمد اور آلِ محمد لئے حلال نہیں ہیں۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا محمیہ زبیدی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے فرمایا: فضل کی شادی کرا دو۔ اور سیدنانوفل بن حارث بن عبد المطلب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے فرمایا: تم عبد المطلب بن ربیعہ کی شادی کرا دو، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے محمیہزبیدی کو خُمُس کی وصولی پر مامور کرتے تھے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان سے فرمایا: تم ان دونوں کا مہر خُمُس میں سے ادا کر دو۔ عبد اللہ بن حارث نے اس کی مقدار کا تعین نہیں کیا۔
Takhreej
(۳۴۹۰) تخر یـج: انظر الحدیث بالطریق الاول (انظر: ۱۷۵۱۸)
3490
Sahih
۔ (۳۴۹۱) عَنْ عَطَائِ بْنِ السَّائِبِ قاَلَ: اتَیْتُ اُمَّ کُلْثُوْمٍ اِبْنَۃَ عَلِیٍّ بِشَیْئٍ مِنَ الصَّدَقَۃِ فَرَدَّتْہَا وَقَالَتْ: حَدَّثَنِی مَوْلًی لِلنَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُقَالُ لَہُ مِہْرَانُ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((إِنَّا آلُ مُحَمَّدٍ لَا تَحِلُّ لَنَا الصَّدَقَۃُ وَمَوْلَی الْقَوْمِ مِنْہُمْ۔)) (مسند احمد: ۱۵۷۹۹)
۔ عطاء بن سائب کہتے ہیں: میں سیدہ ام کلثوم بنت علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کی خدمت میں صدقہ کی ایک چیز لے کر حاضر ہوا، لیکن انہوں نے وہ چیز واپس کر دی اور کہا: مولائے نبی سیدنامہران نے مجھے بیان کیا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا ہے: ہم آلِ محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہیں، ہمارے لیے صدقہ حلال نہیں ہے، نیز قوم کا غلام ان ہی میں شمار ہوتا ہے۔
Takhreej
(۳۴۹۱) صحیح بالشواھد۔ اخرجہ ابن ابی شیبۃ: ۳/ ۳۱۵، وعبد الرزاق: ۶۹۴۲ (انظر: ۱۵۷۰۸)
3491
Sahih
۔ (۳۴۹۲) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ بِنَحْوِہِ وَفِیْہِ:) اَنَّہَا قَالَتْ: اَخْبَرَنِی مِہْرَانُ اَنَّہٗمَرَّعَلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ لَہٗ: ((یَا مَیْمُوْنُ اَوْ یَا مِہْرَانُ! اِنَّا اَھْلَ بَیْتٍ نُہِیْنَا عَنِ الصَّدَقۃَ،ِ وَإِنَّ مَوَالِیَنَا مِنْ اَنْفُسِنَا وَلَا نَاْکُلُ الصَّدَقَۃَ۔)) (مسند احمد: ۱۶۵۱۲)
۔ (دوسری سند) انھوں نے مجھے کہا: مجھے مہران نے بیان کیا کہ وہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس سے گزرا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے بلاتے ہوئے کہا: میمون! یا مہران! ہم ایسے اہل بیت ہیں کہ ہم کو صدقات سے روکا گیا ہے۔ ہمارے غلام بھی ہم میں سے ہیںاور ہم صدقہ نہیں کھاتے۔
Takhreej
(۳۴۹۲) تخر یـج: انظر الحدیث بالطریق الاول
3492
Sahih
۔ (۳۴۹۳) عَنْ اَبِیْ رَافِعٍ (مَوْلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌) قَالَ: مَرَّ عَلَیَّ الْاَرْقَمُ الزُّہْرِیُّ، اَوِ ابْنُ اَبِی الاَرْقَمِ وَاَسْتُعْمِلَ عَلَی الصَّدَقَاتِ قَالَ: فَاسْتَتْبَعَنِی (وَفِی رِوَایَۃٍ: قَالَ: اِصْحَبْنِی کَیْمَا تُصِیْبَ مِنْہَا) قَالَ: فَاَتَیْتُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَسَاَلْتُہُ عَنْ ذٰلِکَ، فَقَالَ: ((یَا اَبَا رَافِعٍ! إِنَّ الصَّدَقَۃَ حَرَامٌ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَعَلٰی آلِ مُحَمَّدٍ، وَإِنَّ مَوْلَی الْقَوْمِ مِنْ اَنْفُسِہِمْ۔)) (مسند احمد: ۲۴۳۶۴)
۔ مولائے رسول سیدنا ابو رافع ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں:ارقم زہرییا ابن ابی ارقم کا میرے پاس سے گزر ہوا، وہ صدقات کی وصولی پر مامور تھے۔ انہوں نے مجھے بھی ساتھ لے لیا ایک اور روایت میں ہے۔ وہ مجھے بھی ساتھ لے گئے تاکہ میں بھی اس میں سے کچھ حاصل کر سکوں۔ میں نے واپس آ کر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اس کی بابت دریافت کیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور آل محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے لئے صدقہ حرام ہے اور قوم کا غلام انہی میں شمار ہوتا ہے۔
Takhreej
(۳۴۹۳) تخر یـج: حدیث صحیح۔ اخرجہ ابوداود: ۱۶۵۰، والترمذی: ۶۵۷(انظر: ۲۳۸۶۳)
3493
Sahih
۔ (۳۴۹۴) عَنْ سَلْمَانَ الْفَارِسِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: اَتَیْتُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِطَعَامٍ وَاَنَا مَمْلُوْکٌ فَقُلْتُ: ھٰذِہِ صَدَقَۃٌ، فَاَمَرَ اَصْحَابَہُ فَاَکَلُوْا وَلَمْ یَاْکُلْ، ثُمَّ اَتَیْتُہُ بِطَعَامٍ فَقُلْتُ: ھٰذِہِ ہَدِیَّۃٌ، اَہْدَیْتُہَا لَکَ اَکرْمَکَ َاللّٰہُ بِہَا فَإِنِّی رَاَیْتُکَ لَا تَاْکُلُ الصَّدَقَۃَ فَاَمَرَ اَصْحَابَہُ فَاَکَلُوْا وَاَکَلَ مَعَہُمْ۔ (مسند احمد: ۲۴۱۲۳)
۔ سیدناسلمان فارسی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں غلام تھا، ایک دن میںکھانا لے کر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس حاضر ہوااور کہا: یہ صدقہ ہے، (یہ سن کر) آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے صحابہ کو (کھانے کا) حکم دیا، پس انہوں نے کھا لیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے خود نہ کھایا۔ پھر ایک دن میں کھانا لے کر حاضر ہوا اور کہا: اللہ تعالیٰ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو عزت دے، یہ ہدیہ ہے، جو میں آپ کیلئے لے کر آیا ہوں، کیونکہ میں نے دیکھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صدقہ نہیں کھاتے۔ پاس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے صحابہ کو حکم دیا، پس انہوں نے بھی کھایا اورآپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بھی ان کے ساتھ کھایا۔
Takhreej
(۳۴۹۴) حدیث صحیح۔ اخرجہ الطحاوی فی ’’شرح معانی الآثار‘‘: ۲/ ۸، والطبرانی: ۶۰۶۶(انظر: ۲۳۷۲۲)
Explanation
فوائد:… راجح قول کے مطابق آلِ محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے مراد بنو عبد المطلب اور بنو ہاشم ہیں، اور بنو ہاشم سے مراد سیدنا علی، سیدنا عباس، سیدنا عقیل اور سیدنا حارث بن عبد المطلب کی اولاد ہے۔ مذکورہ بالا بعض احادیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ ان کے غلاموں کا بھییہی حکم ہے۔ شیخ البانی ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ ‌ لکھتے ہیں: اس حدیث سے پتہ چلا کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے اہل بیت کے غلاموں کے لیے بھی صدقہ حلال نہیں ہے، حنفی مذہب میں بھییہی قول معروف ہے، البتہ ابن ملک کا قول اس کے مخالف ہے، لیکن علامہ ملا علی قاری نے (مرقاۃ المفاتیح: ۲/ ۴۴۸۔ ۴۴۹) میں اس پر ردّ کیاہے، اس کامطالعہ کر لینا چاہیے۔ (صحیحہ: ۱۶۱۳) آج بھی جن لوگوں کا نسب ان مذکورہ بالا ہستیوں سے ملتا ہے، ان کو اس معاملے انتہائی محتاط رہنا چاہیے۔
3494
Sahih

Chapters

34
01
زکوۃ ادا کرنے میں جلدی کرنے، وقت سے پہلے ادا کردینے اور امام کا زکوۃ دینے والے کے حق میں دعا کرنے کا بیان
7 Hadith
02
اس امر کا بیان کہ انسان کسی کو مستحق سمجھ کرصدقہ ادا کر دے، لیکن بعد میں پتہ چلے کہ وہ صدقہ کا مستحق نہ تھا
3 Hadith
03
مالک کے ساتھ نرمی کرنے اور زکوۃ وصول کرنے والے نمائندے کا خود اس کی طرف چلے جانے اور اس پر زیادتی نہ کرنے کا بیان
3 Hadith
04
زکوۃ وصول کنندہ کو راضی کرنا
3 Hadith
05
حقیر قسم کی چیز کا قصد کرنے اور اس کا صدقہ کرنے کی کراہت اور عمدہ چیز کا صدقہ کرنے کی فضلیت کی بیان
6 Hadith
06
حکمران کا کسی مصلحت کی بنا پر بعض لوگوں کو دینا اور بعض کو محروم کر دینا
3 Hadith
07
فقیر اور مسکین کا بیان
7 Hadith
08
عاملینِ زکوۃ
7 Hadith
09
ان لوگوںکا بیان، جن کو تالیف ِ قلبی کے لیے زکوۃ دی جاتی ہے
3 Hadith
10
غلاموں کی آزادی پر زکوۃ صرف کرنا
2 Hadith
11
قرض داروں کو زکوۃ دینا
5 Hadith
12
اللہ کی راہ میں اور مسافروں کو صدقہ دینے اور مصارفِ زکوٰۃ کی تمام اصناف کو صدقہ دینے کا بیان
3 Hadith
13
بنو ہاشم اور ان کی بیویوں اور غلاموں کے لیے صدقہ کے حرام ہونے اور ہدیہ کے جائز ہونے کا بیان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌
15 Hadith
14
صدقہ میں خیانت کرنے اور ایسا کرنے والے کے لئے وعید کا بیان
20 Hadith
15
اوپر والے ہاتھ اور نیچے والے ہاتھ کا بیان
8 Hadith
16
بھیک مانگنے پر اکتفا کرتے ہوئے کمائی کو ترک کر دینے اور ایسا کرنے والے کی مذمت کا بیان
11 Hadith
17
سوال کرنے سے بچنے اور اس کی فضیلت کا بیان
3 Hadith
18
سوال نہ کرنے پر بیعت کرنا
3 Hadith
19
اگر بن مانگے کچھ مل جانے تو اسے قبول کر لینے اور اگر مانگنے کے بغیر کوئی چارۂ کار نہ ہو تو نیک لوگوں سے سوال کر لینے کا بیان
5 Hadith
20
سائل کے ساتھ حسن سلوک کرنے، اس کے بارے میں حسنِ ظن رکھنے اور خواہ وہ گھوڑے پر آئے، اس کو کچھ نہ کچھ دینے کا بیان
6 Hadith
21
اللہ تعالیٰ کے نام پر یا اللہ تعالیٰ کا واسطہ دے کر سوال کرنے کا بیان
8 Hadith
22
صدقہ فطر کی مشروعیت اور حکم کا اور جن لوگوں پر یہ فرض ہے، ان کا بیان
6 Hadith
23
گندم کے نصف صاع کی روایت بیان کرنے والے
6 Hadith
24
صدقۂ فطر دینے کے وقت کا بیان
20 Hadith
25
سب سے زیادہ فضیلت والے صدقے کا بیان
5 Hadith
26
عاریۃً دی ہوئی چیزکا بیان
3 Hadith
27
اللہ کی راہ میں صدقہ کرنے کی فضیلت کا بیان
12 Hadith
28
جسم کے صدقہ کا بیان
8 Hadith
29
اس آدمی کا بیان جسے دو کپڑے بطورِ صدقہ دیئے گئے، لیکن اس نے ان میں سے ایک کپڑا صدقہ کی نیت سے ڈال دیا
1 Hadith
30
شوہر اور رشتہ داروں پر صدقہ کرنے اور ان کو دوسروں پر مقدم کرنے اور مستحق لوگوں کے مراتب کا بیان
6 Hadith
31
نیک لوگوں کو صدقہ دینے کے مستحبّ ہونے اور بے عمل لوگوں کو دینے کے مکروہ ہونے کا بیان
2 Hadith
32
بیوی کا اپنے شوہر کی اجازت کے بغیر اس کے گھر سے صدقہ کرنے کا بیان
3 Hadith
33
مخفی طور پر صدقہ کرنے کی فضیلت
3 Hadith
34
صدقہ جاریہ کا بیان
5 Hadith
No chapter matched that.