۔ (۳۶۳۴) عَنْ اَبِی ہُرَیْرَۃَ رضی اللہ عنہ اَنَّ النَّبِیَّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قَالَ: ((إِذَا مَاتَ الإِنْسَانُ، اِنْقَطَعَ عَنْہُ عَمَلُہُ إِلَّا مِنْ ثَلَاثَۃٍ، إِلاَّ مِنْ صَدَقَۃٍ جَارِیَۃٍ اَوْ عِلْمٍ یُنْتَفَعُ بِہِ، اَوْ وَلَدٍ صَالِحٍ یَدْعُوْ لَہُ۔)) (مسند احمد: ۸۸۳۱)
۔ سیدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب انسان فوت ہو جاتا ہے تو اس کے سارے اعمال کا سلسلہ منقطع ہو جاتا ہے، البتہ تین عمل باقی رہتے ہیں: (۱) صدقہ جاریہ، (۲) ایسا علم، جس سے نفع اٹھایا جاتا ہے اور (۳) نیک اولاد، جو اس کے لیے دعا کرے۔
Takhreej
(۳۶۳۴) تخر یـج: اخرجہ مسلم: ۱۶۳۱(انظر: ۸۸۴۴)
Explanation
فوائد:… دوسرے لوگوں کی دعائیں بھی فائدہ بخش ہوتی ہیں، نیک اولاد کو خصوصیت کے ساتھ ذکر کرنے کی دو وجوہات ہیں، ایکیہ کہ اولاد زیادہ رغبت کے ساتھ دعا کرتی ہے اور دوسرے یہ کہ اولاد کو ایسا کرنے پر آمادہ کیا جا رہا ہے، کیونکہ انھوں نے ہی زیادہ عرصہ تک اپنے والدین کو یاد رکھنا ہے۔
3634
Sahih