TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 2091 - فجر کی دو رکعتوں، ان کی فضیلت اور تاکید کا بیان - نفل نماز کے ابواب - Musnad Ahmad in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 1 of 6 in this chapter
فجر کی دو رکعتوں، ان کی فضیلت اور تاکید کا بیان
۔ (۲۰۹۱) عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی الرَّکْعَتَیْنِ قَبْلَ صَلَاۃِ الْفَجْرِ قَالَ: ((ھُمَا أَحَبُّ إِلَیَّ مِنَ الدُّنْیَا جَمِیْعًا۔)) (مسند احمد: ۲۴۷۴۵)
سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ،نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے فجر سے پہلے دو رکعتوں کے بارے میں روایت کرتی ہیں کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کے بارے میں فرمایا: یہ دورکعتیں مجھے ساری دنیا سے زیادہ محبوب ہیں۔
2091
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Conclusion
تخریج
(۲۰۹۱) تخریج: أخرجہ مسلم: ۷۲۵ (انظر: ۲۴۲۴۱)

Related Chapters

786
1
Chapter: : What Has Been Related About The Virtue Of Isha And Fajr In Congregation
باب: عشاء اور فجر جماعت سے پڑھنے کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
2
Chapter: What Has Been Related About The Virtue Of The Two Rak'ah (Before) Fajr
باب: فجر کی دونوں سنتوں کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
3
Chapter: What Has Been Related About Talking After The Two Rak'ah (Before) Fajr
باب: فجر کی دونوں رکعتوں کے بعد گفتگو کے جائز ہونے کا بیان
Jam e Tirmazi
4
نمازِ فجر اور نمازِ عصر کی فضیلت کا بیان
Musnad Ahmad
5
فجر اور عشا کی نمازوں کی فضیلت کا بیان
Musnad Ahmad
6
نمازِ فجر سے طلوع آفتاب تک (جائے نماز پر) بیٹھے رہنے کی فضیلت
Musnad Ahmad
7
فجر سے پہلے والی دو رکعتوں کی تخفیف اور ان میں قراء ت کا بیان
Musnad Ahmad
8
وتر کی فضیلت، تاکید اور حکم کا بیان
Musnad Ahmad
9
یوم عاشوراء کی فضیلت اور فرضیت ِ رمضان سے قبل اس کے روزے کی تاکید کا بیان
Musnad Ahmad
10
(26) CHAPTER. Superiority of the Fajr (early morning) prayer.
نماز فجر کی فضیلت کے بیان میں
Sahih Bukhari
11
(31) CHAPTER. Superiority of the Fajr (early morning) prayer in congregation.
فجر کی نماز باجماعت پڑھنے کی فضیلت کے بارے میں
Sahih Bukhari
12
Chapter: The virtue of sahur, which is recommended. It is recommended to delay it and to hasten the breaking of the fast
سحری کھانے کی فضیلت ‘اس کے استحباب کی تاکید اور اس میں تاخیر اورافطاری میں جلدی کرنا مستحب ہے
Sahih Muslim
13
Chapter: Performing The 'Isha' And Fajr Prayers In Congregation
عشاء اور فجر باجماعت پڑھنے کی فضیلت
Sunnan Ibn e Maja
14
فجر کی دونوں رکعتوں میں قرات کا بیان۔
Sunnan Nisai
15
فجر کی دونوں رکعتوں میں «قل يا أيها الكافرون» اور «قل هو الله أحد» پڑھنے کا بیان۔
Sunnan Nisai
16
فجر سے پہلے کی دونوں رکعتوں کی محافظت کا بیان۔
Sunnan Nisai
17
(2)Chapter: What Has Been Related About The Virtue Of Purification
باب: طہارت کی فضیلت کا بیان​
Jam e Tirmazi
18
Chapter: What Has Been Related About Praying Fajr In The Dark
باب: فجر غلس (اندھیرے) میں پڑھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
19
Chapter: What Has Been Related About Al-Isfar In Fajr
باب: فجر اجالا ہو جانے پر پڑھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
20
Chapter: Virtue Of Performing Salat at the Beginning Of Its Prescribed Time
باب: اول وقت میں نماز پڑھنے کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
21
Chapter: : What Has Been Related About Prayer After Asr And After Fajr Is Disliked
باب: عصر اور فجر کے بعد نماز پڑھنے کی کراہت کا بیان
Jam e Tirmazi
22
Chapter: What Has Been Related About AI-Tathwib In The Adhan
باب: فجر میں تثویب کا بیان
Jam e Tirmazi
23
Chapter: What Has Been Related About The Virtues Of The Adhan
باب: اذان کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
24
Chapter: [What Has Been Related] About The Virtue Of The Five Prayers
باب: پنج وقتہ نمازوں کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
25
Chapter: What Has Been Related About the Virtue Of Salat In Congregation
باب: باجماعت نماز کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
26
Chapter: : What Has Been Related About The Virtue Of The First Row
باب: پہلی صف کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
27
Chapter: [What Has Been Related] About the Virtue Of the First Takbir
باب: تکبیر اولیٰ کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
28
Chapter: What Has Been Related About The Virtue Of At-Tamin
باب: آمین کہنے کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
29
Chapter: What Has Been Related About The Recitation For The Subh [(Fajr) Prayer]
باب: نماز فجر میں پڑھی جانے والی سورتوں کا بیان
Jam e Tirmazi
30
Chapter: What Has Been Related About The Virtue Of Building A Masjid
باب: مسجد بنانے کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
31
Chapter: What Has Been Related About The Salat Performed In Masjid Quba
باب: مسجد قباء میں نماز کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
32
Chapter: What Has Been Related About Walking To The Masjid
باب: مسجد کی طرف چل کر جانے کی فضیلت
Jam e Tirmazi
33
Chapter: What Has Been Related About The Virtues Of Sitting In The Masjid And Waiting For The Salat
باب: مسجد میں بیٹھنے اور نماز کے انتظار کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
34
Chapter: What Has Been Related About the Length Of The Sitting After The First Two Rak'ah
باب: پہلی دونوں رکعتوں میں قعدہ (تشہد کے لیے بیٹھنے) کی مقدار کا بیان
Jam e Tirmazi
35
Chapter: What Has Been Related About Performing Many Bowings and Prostrations [And Its Virtues]
باب: رکوع اور سجدہ کثرت سے کرنے کی فضیلت
Jam e Tirmazi
36
Chapter: What Has Been Related About The Qunut In The Fajr Prayer
باب: نماز فجر میں قنوت پڑھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
37
Chapter: What Has Been Related About The Brevity Of The Two Rak'ah Of Fajr And What The Prophet (S) Would Recite In Them
باب: فجر کی دونوں رکعتیں ہلکی پڑھنے اور ان سورتوں کا بیان
Jam e Tirmazi
38
Chapter: What Has Been Related About 'There Is No Salat After Fajr Begins Except For Two Rak'ah'
باب: طلوع فجر کے بعد سوائے فجر کی دو رکعت سنت کے کوئی نماز نہیں
Jam e Tirmazi
39
Chapter: What Has Been Related About Lying On One's Side After The Two Rak'ah Of Fajr
باب: فجر کی دونوں سنتوں کے بعد لیٹنے کا بیان
Jam e Tirmazi
40
Chapter: What Has Been Related About One Who Misses The Two Rak'ah Before Fajr Praying Them After The Subh Prayer
باب: فجر سے پہلے کی دونوں سنتیں چھوٹ جائیں تو انہیں نماز فجر کے بعد پڑھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
41
Chapter: What Has Been Related About Waiting To Perform Them After The Sun Has Risen
باب: سورج نکلنے کے بعد فجر کی سنت پڑھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
42
Chapter: What Has Been Related About The Virtue Of Six Voluntary Rak'ah After Al-Maghrib
باب: مغرب کے بعد نفل نماز اور چھ رکعت پڑھنے کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
43
Chapter: What Has Been Related About The Virtue Of Salat During The Night
باب: قیام اللیل (تہجد) کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
44
Chapter: What Has Been Related About The Virtue Of Voluntary Salat In The House
باب: نفل نماز گھر میں پڑھنے کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
45
Chapter: What Has Been Related About The Virtue Of Al-Witr
باب: نماز وتر کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
46
Chapter: What Has Been Related About The Virtues Of Sending Salat Upon The Prophet
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم پر صلاۃ (درود) بھیجنے کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
47
Chapter: [What Has Been Related] About The Virtue Of The Day Of Jumu'ah
باب: جمعہ کے دن کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
48
Chapter: [What Has Been Related] About The Virtue Of Ghusl On Friday
باب: جمعہ کے دن غسل کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
49
Chapter: What Has Been Related About What IS Recited In the Subh Prayer On Friday
باب: جمعہ کے دن فجر میں کون سی سورت پڑھے؟
Jam e Tirmazi
50
Chapter: What Has Been Mentioned About What Is Recommended When Sitting After The Subh Prayer Until The Sun Has Risen
باب: نماز فجر کے بعد سورج نکلنے تک مسجد میں بیٹھنا مستحب ہے
Jam e Tirmazi
No related chapter matched that.

Related Hadith

305
Musnad Ahmad
2102
۔ (۲۱۰۲) عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ شَقِیْقٍ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یَقُوْلُ: ((نِعْمَ السُّوْرَتَانَ ھُمَا یُقْرَأُ بِہِمَا فِی الرَّکْعَتَیْنِ قَبْلَ الْفَجْرِ، {قُلْ یَا أَیُّھَا الْکَافِرُونَ} وَ {قُلْ ھُوَ اللّٰہُ أَحَدٌ}۔ (مسند احمد: ۲۶۵۵۰)
سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ سورتیں بہترین ہیں، جن کی نمازِ فجر سے پہلے والی سنتوں میں تلاوت کی جاتی ہیں،یعنی سورۂ کافرون اور سورۂ اخلاص۔
Musnad Ahmad
2074
۔ (۲۰۷۴) عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ أَبِیْ مُوْسٰی قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَۃَ زَوْجَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنِ الرَّکْعَتَیْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ، فَقَالَتْ: إِنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بَعَثَ رَجُلاً عَلَی الصَّدَقَۃِ قَالَتْ فَجَائَ تْہُ عِنْدَ الظُّھْرِ فَصَلّٰی رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الظُّہْرَ وَشُغِلَ فِی قِسْمَتِہِ حَتّٰی صَلَّی الْعَصْرَ ثُمَّ صَلاَّھَا۔ (مسند احمد: ۲۵۴۵۸)
عبد اللہ بن ابی موسیٰ کہتے ہیں: میں نے سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے عصر کے بعد کی دو رکعتوں کے بارے میں سوال کیا، انہوں نے کہاکہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک آدمی کو صدقہ وصول کرکے لیے بھیجا تھا، وہ آپ کے پاس ظہر کے وقت واپس آیا، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ظہر کی نماز پڑھی اور تقسیم میں مصروف ہوگئے، حتیٰ کہ آپ نے عصر کی نماز پڑھی، پھر وہ دو رکعتیں ادا کیں۔
Musnad Ahmad
2096
۔ (۲۰۹۶) عَنْ سَلَمَۃَ بْنِ نُبَیْطٍ قَالَ کَانَ أَبِی وَجَدِّیْ وَعَمِّیْ مَعَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: أَخْبَرَنِیْ أَبِیْ قَالَ: رَأَیْتُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَخْطُبُ عَشِیِّۃَ عَرَفَۃَ عَلٰی جَمَلٍ أَحْمَرَ، قَالَ سَلَمَۃُ: أَوْصَانِیْ أَبِیْ بِصَلَاۃِ السَّحَرِ، قُلْتُ: یَا أَبَتِ! إِنِّیْ لَا أُطِیْقُھَا، قَالَ: فَانْظُرِ الرَّکْعَتَیْنِ قَبْلَ الْفَجْرِ فَلَا تَدَعَنَّہُمَا، وَلَا تَشْخَصْ فِی الْفِتْنَۃِ۔ (مسند احمد: ۱۸۹۳۰)
سلمہ بن نبیط کہتے ہیں: میرے باپ، دادا اور چچا نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ تھے، میرے باپ نے کہا: میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو عرفہ کے دن پچھلے پہر سرخ اونٹ پر سوار خطبہ دیتے ہوئے دیکھا۔ پھر میرے باپ نے مجھے تہجد کی نماز پڑھنے کا حکم دیا، لیکن میں نے کہا: اباجان! مجھ میں اتنیطاقت نہیں ہے، یہ سن کر انھوں نے کہا: تو پھر فجر سے پہلے دو رکعتوں کا خیال رکھنا اوران کو ہرگز ترک نہ کرنااور فتنہ میں اپنے آپ کو ظاہر نہ کرنا۔
Musnad Ahmad
8804
۔ (۸۸۰۴)۔ حَدَّثَنَا أَ بُو الْیَمَانِ أَ خْبَرَنَا شُعَیْبٌ عَنْ الزُّہْرِیِّ قَالَ أَ خْبَرَنِی عُبَیْدُ اللّٰہِ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ أَبِی ثَوْرٍ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ لَمْ أَ زَلْ حَرِیصًا عَلٰی أَنْ أَسْأَ لَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ عَنْ الْمَرْأَ تَیْنِ مِنْ أَزْوَاجِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اللَّتَیْنِ قَالَ اللّٰہُ تَعَالٰی: {إِنْ تَتُوبَا إِلَی اللّٰہِ فَقَدْ صَغَتْ قُلُوبُکُمَا} حَتّٰی حَجَّ وَحَجَجْتُ مَعَہُ وَعَدَلَ وَعَدَلْتُ مَعَہُ بِإِدَاوَۃٍ فَتَبَرَّزَ ثُمَّ جَائَ فَسَکَبْتُ عَلٰییَدَیْہِ مِنْہَا فَتَوَضَّأَ فَقُلْتُ لَہُ: یَا أَ مِیرَ الْمُؤْمِنِینَ! مَنِ الْمَرْأَ تَانِ مِنْ أَزْوَاجِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اللَّتَانِ قَالَ اللّٰہُ تَعَالٰی: {إِنْ تَتُوبَا إِلَی اللّٰہِ فَقَدْ صَغَتْ قُلُوبُکُمَا} قَالَ: وَاعَجَبًا لَکَ یَا ابْنَ عَبَّاسٍ! ہُمَا عَائِشَۃُ وَحَفْصَۃُ، ثُمَّ اسْتَقْبَلَ عُمَرُ الْحَدِیثَیَسُوقُہُ قَالَ کُنْتُ أَ نَا وَجَارٌ لِی مِنْ الْأَ نْصَارِ فِی بَنِی أُمَیَّۃَ بْنِ زَیْدٍ وَہُمْ مِنْ عَوَالِی الْمَدِینَۃِ وَکُنَّا نَتَنَاوَبُ النُّزُولَ عَلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَیَنْزِلُیَوْمًا وَأَ نْزِلُ یَوْمًا فَإِذَا نَزَلْتُ جِئْتُہُ بِمَا حَدَثَ مِنْ خَبَرِ ذٰلِکَ الْیَوْمِ مِنْ الْوَحْیِ أَ وْ غَیْرِہِوَإِذَا نَزَلَ فَعَلَ مِثْلَ ذٰلِکَ وَکُنَّا مَعْشَرَ قُرَیْشٍ نَغْلِبُ النِّسَائَ فَلَمَّا قَدِمْنَا عَلَی الْأَ نْصَارِ إِذَا قَوْمٌ تَغْلِبُہُمْ نِسَاؤُہُمْ فَطَفِقَ نِسَاؤُنَا یَأْخُذْنَ مِنْ أَ دَبِ نِسَائِ الْأَ نْصَارِ فَصَخِبْتُ عَلَی امْرَأَ تِی فَرَاجَعَتْنِی فَأَ نْکَرْتُ أَ نْ تُرَاجِعَنِی قَالَتْ وَلِمَ تُنْکِرُ أَ نْ أُرَاجِعَکَ فَوَاللّٰہِ إِنَّ أَ زْوَاجَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لَیُرَاجِعْنَہُ وَإِنَّ إِحْدَاہُنَّ لَتَہْجُرُہُ الْیَوْمَ حَتَّی اللَّیْلِ فَأَ فْزَعَنِی ذٰلِکَ وَقُلْتُ لَہَا قَدْ خَابَ مَنْ فَعَلَ ذٰلِکِ مِنْہُنَّ ثُمَّ جَمَعْتُ عَلَیَّ ثِیَابِی فَنَزَلْتُ فَدَخَلْتُ عَلٰی حَفْصَۃَ فَقُلْتُ لَہَا: أَیْ حَفْصَۃُ! أَ تُغَاضِبُ إِحْدَاکُنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الْیَوْمَ حَتَّی اللَّیْلِ قَالَتْ نَعَمْ فَقُلْتُ قَدْ خِبْتِ وَخَسِرْتِ أَ فَتَأْمَنِینَ أَنْ یَغْضَبَ اللّٰہُ لِغَضَبِ رَسُولِہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَتَہْلِکِی لَا تَسْتَکْثِرِی النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَلَا تُرَاجِعِیہِ فِی شَیْئٍ وَلَا تَہْجُرِیہِ وَسَلِینِی مَا بَدَا لَکِ وَلَا یَغُرَّنَّکِ أَ نْ کَانَتْ جَارَتُکِ أَ وْضَأَ مِنْکِ وَأَ حَبَّ إِلَی النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، یُرِیدُ عَائِشَۃَ قَالَ عُمَرُ: وَکُنَّا قَدْ تَحَدَّثْنَا أَ نَّ غَسَّانَ تُنْعِلُ الْخَیْلَ لِغَزْوِنَا فَنَزَلَ صَاحِبِی الْأَ نْصَارِیُّیَوْمَ نَوْبَتِہِ فَرَجَعَ إِلَیْنَا عِشَائً فَضَرَبَ بَابِی ضَرْبًا شَدِیدًا وَقَالَ أَ ثَمَّ ہُوَ فَفَزِعْتُ فَخَرَجْتُ إِلَیْہِ فَقَالَ: قَدْ حَدَثَ الْیَوْمَ أَ مْرٌ عَظِیمٌ، قُلْتُ: مَا ہُوَ؟ أَ جَائَ غَسَّانُ؟ قَالَ: لَا بَلْ أَ عْظَمُ مِنْ ذٰلِکَ وَأَہْوَلُ، طَلَّقَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نِسَائَہُ وَقَالَ عُبَیْدُ بْنُ حُنَیْنٍ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنْ عُمَرَ فَقَالَ اعْتَزَلَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَزْوَاجَہُ فَقُلْتُ خَابَتْ حَفْصَۃُ وَخَسِرَتْ قَدْ کُنْتُ أَ ظُنُّ ہٰذَا یُوشِکُ أَ نْ یَکُونَ فَجَمَعْتُ عَلَیَّ ثِیَابِی فَصَلَّیْتُ صَلَاۃَ الْفَجْرِ مَعَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَدَخَلَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَشْرُبَۃً لَہُ فَاعْتَزَلَ فِیہَا وَدَخَلْتُ عَلٰی حَفْصَۃَ فَإِذَا ہِیَ تَبْکِی فَقُلْتُ: مَا یُبْکِیکِ أَ لَمْ أَ کُنْ حَذَّرْتُکِ ہٰذَا؟ أَ طَلَّقَکُنَّ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ؟ قَالَتْ: لَا أَدْرِی، ہَا ہُوَ ذَا مُعْتَزِلٌ فِی الْمَشْرُبَۃِ فَخَرَجْتُ فَجِئْتُ إِلَی الْمِنْبَرِ فَإِذَا حَوْلَہُ رَہْطٌ یَبْکِی بَعْضُہُمْ فَجَلَسْتُ مَعَہُمْ قَلِیلًا ثُمَّ غَلَبَنِی مَا أَ جِدُ فَجِئْتُ الْمَشْرُبَۃَ الَّتِی فِیہَا النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقُلْتُ لِغُلَامٍ لَہُ أَ سْوَدَ: اسْتَأْذِنْ لِعُمَرَ فَدَخَلَ الْغُلَامُ فَکَلَّمَ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ثُمَّ رَجَعَ فَقَالَ کَلَّمْتُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَذَکَرْتُکَ لَہُ فَصَمَتَ فَانْصَرَفْتُ حَتّٰی جَلَسْتُ مَعَ الرَّہْطِ الَّذِینَ عِنْدَ الْمِنْبَرِ ثُمَّ غَلَبَنِی مَا أَ جِدُ فَجِئْتُ فَقُلْتُ لِلْغُلَامِ اسْتَأْذِنْ لِعُمَرَ فَدَخَلَ ثُمَّ رَجَعَ فَقَالَ قَدْ ذَکَرْتُکَ لَہُ فَصَمَتَ فَرَجَعْتُ فَجَلَسْتُ مَعَ الرَّہْطِ الَّذِینَ عِنْدَ الْمِنْبَرِ ثُمَّ غَلَبَنِی مَا أَ جِدُ فَجِئْتُ الْغُلَامَ فَقُلْتُ اسْتَأْذِنْ لِعُمَرَ فَدَخَلَ ثُمَّ رَجَعَ إِلَیَّ فَقَالَ قَدْ ذَکَرْتُکَ لَہُ فَصَمَتَ فَلَمَّا وَلَّیْتُ مُنْصَرِفًا قَالَ إِذَا الْغُلَامُ یَدْعُونِی فَقَالَ قَدْ أَ ذِنَ لَکَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَدَخَلْتُ عَلٰی رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَإِذَا ہُوَ مُضْطَجِعٌ عَلٰی رِمَالِ حَصِیرٍ لَیْسَ بَیْنَہُ وَبَیْنَہُ فِرَاشٌ قَدْ أَ ثَّرَ الرِّمَالُ بِجَنْبِہِ مُتَّکِئًا عَلَی وِسَادَۃٍ مِنْ أَ دَمٍ حَشْوُہَا لِیفٌ فَسَلَّمْتُ عَلَیْہِ ثُمَّ قُلْتُ وَأَ نَا قَائِمٌ یَا رَسُولَ اللّٰہِ أَ طَلَّقْتَ نِسَائَکَ فَرَفَعَ إِلَیَّ بَصَرَہُ فَقَالَ لَا فَقُلْتُ اللّٰہُ أَ کْبَرُ ثُمَّ قُلْتُ وَأَ نَا قَائِمٌ أَ سْتَأْنِسُ یَا رَسُولَ اللّٰہِ لَوْ رَأَ یْتَنِی وَکُنَّا مَعْشَرَ قُرَیْشٍ نَغْلِبُ النِّسَائَ فَلَمَّا قَدِمْنَا الْمَدِینَۃَ إِذَا قَوْمٌ تَغْلِبُہُمْ نِسَاؤُہُمْ فَتَبَسَّمَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ثُمَّ قُلْتُ یَا رَسُولَ اللّٰہِ لَوْ رَأَ یْتَنِی وَدَخَلْتُ عَلٰی حَفْصَۃَ فَقُلْتُ لَہَا لَا یَغُرَّنَّکِ أَ نْ کَانَتْ جَارَتُکِ أَ وْضَأَ مِنْکِ وَأَ حَبَّ إِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُرِیدُ عَائِشَۃَ فَتَبَسَّمَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تَبَسُّمَۃً أُخْرٰی فَجَلَسْتُ حِینَ رَأَ یْتُہُ تَبَسَّمَ فَرَفَعْتُ بَصَرِی فِی بَیْتِہِ فَوَاللّٰہِ مَا رَأَ یْتُ فِی بَیْتِہِ شَیْئًایَرُدُّ الْبَصَرَ غَیْرَ اُہْبَۃٍ ثَلَاثَۃٍ فَقُلْتُ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! ادْعُ اللّٰہَ فَلْیُوَسِّعْ عَلٰی أُمَّتِکَ فَإِنَّ فَارِسَ وَالرُّومَ قَدْ وُسِّعَ عَلَیْہِمْ وَأُعْطُوا الدُّنْیَا وَہُمْ لَا یَعْبُدُونَ اللّٰہَ فَجَلَسَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَکَانَ مُتَّکِئًا فَقَالَ: ((أَوَفِی ہٰذَا أَ نْتَ یَا ابْنَ الْخَطَّابِ! إِنَّ أُولَئِکَ قَوْمٌ عُجِّلُوا طَیِّبَاتِہِمْ فِی الْحَیَاۃِ الدُّنْیَا۔)) فَقُلْتُ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! اسْتَغْفِرْ لِی فَاعْتَزَلَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نِسَائَہُ مِنْ أَ جْلِ ذٰلِکَ الْحَدِیثِ حِینَ أَ فْشَتْہُ حَفْصَۃُ إِلٰی عَائِشَۃَ تِسْعًا وَعِشْرِینَ لَیْلَۃً وَکَانَ قَالَ مَا أَ نَا بِدَاخِلٍ عَلَیْہِنَّ شَہْرًا مِنْ شِدَّۃِ مَوْجِدَتِہِ عَلَیْہِنَّ حِینَ عَاتَبَہُ اللّٰہُ فَلَمَّا مَضَتْ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ لَیْلَۃً دَخَلَ عَلٰی عَائِشَۃَ فَبَدَأَ بِہَا فَقَالَتْ لَہُ عَائِشَۃُیَا رَسُولَ اللّٰہِ إِنَّکَ کُنْتَ قَدْ أَقْسَمْتَ أَنْ لَا تَدْخُلَ عَلَیْنَا شَہْرًا وَإِنَّمَا أَ صْبَحْتَ مِنْ تِسْعٍ وَعِشْرِینَ لَیْلَۃً أَ عُدُّہَا عَدًّا فَقَالَ الشَّہْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ لَیْلَۃً فَکَانَ ذٰلِکَ الشَّہْرُ تِسْعًا وَعِشْرِینَ لَیْلَۃً قَالَتْ عَائِشَۃُ: ثُمَّ أَ نْزَلَ اللّٰہُ تَعَالٰی آیَۃَ التَّخَیُّرِ فَبَدَأَ بِی أَوَّلَ امْرَأَ ۃٍ مِنْ نِسَائِہِ فَاخْتَرْتُہُ ثُمَّ خَیَّرَ نِسَائَہُ کُلَّہُنَّ فَقُلْنَ مِثْلَ مَا قَالَتْ عَائِشَۃُ۔ (مسند احمد: ۲۲۲)
۔ سیدنا عبداللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کہتے ہیں: مجھے ہمیشہیہ خواہش رہی کہ میں سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے پوچھوں کہ وہ کون سی دو عورتیں ہیں کہ جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: {إِنْ تَتُوبَا إِلَی اللّٰہِ فَقَدْ صَغَتْ قُلُوبُکُمَا}… اگر تم دونوں اللہ کی طرف توبہ کرو (تو بہتر ہے) کیونکہیقینا تمھارے دل (حق سے) ہٹ گئے ہیں۔ ایک مرتبہ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے حج کیا اور میں نے بھی ان کے ساتھ حج کیا، (قضاء حاجت کے لئے) وہ راہ سے ہٹے، میں بھی ان کے ساتھ لوٹا لے کر مڑگیا، جب وہ قضائے حاجت سے فارغ ہو کر واپس آئے تو میں نے ان کے ہاتھوں پر لوٹے سے پانی ڈالا، انہوں نے وضو کیا، اب میں نے کہا: اے امیرالمومنین! نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی وہ دو بیویاں کون کون سی ہیں، جن کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: {إِنْ تَتُوبَا إِلَی اللّٰہِ فَقَدْ صَغَتْ قُلُوبُکُمَا}… اگر تم دونوں اللہ کی طرف توبہ کرو (تو بہتر ہے) کیونکہیقینا تمھارے دل (حق سے) ہٹ گئے ہیں۔ انھوں نے کہا: اے ابن عباس! مجھے تم پر بڑا تعجب آرہا ہے، سنو، وہ دونوں عائشہ اور حفصہ ہیں، پھر سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بقیہ حدیث بیان کی کہ میں اور ایک میرا انصاری پڑوسی (محلہ) بنی امیہ میں رہتے تھے، جو مدینہ کے اونچے علاقہ میں واقع تھا، ہم دونوں باری باری سے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا کرتے تھے، جس دن میں جاتا، اپنے ساتھی کو اس دن کی وحی وغیرہ کی تمام خبریں آکر بتا دیتا اورجب وہ جاتا تو وہ بھی ایسا ہی کرتا، بات یہ ہے کہ ہم قریشی لوگ عورتوں پر غالب تھے، لیکن جب مدینہ آئے تو کیا دیکھتے ہیں کہ انصاری عورتیں مردوں پر غالب ہیں، ہماری عورتیں بھی انصاری خواتین کی باتیں سیکھنے لگیں، ایک دن میںاپنی بیوی پر چیخا، اس نے آگے سے جواب دے دیا، اس کا پلٹ کر جواب دینا مجھے ناگوار گزرا، لیکن اس نے کہا: میرا جواب کیوں برا لگتا ہے؟ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بیویاں بھی آپ کو جواب دیتی ہیں اور کوئی کسی دن رات تک آپ کو چھوڑ بھی دیتی ہے، میں اس بات سے گھبرایا اور میں نے کہا: جس نے یہ کیا اس کا ستیاناس ہو، پھر میں تیار ہو کر چلا اور حفصہ کے پاس جا کر پوچھا؛ اے حفصہ! کیا تم میں سے کوئی رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو رات تک خفا رکھتی ہے؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، میں نے کہا: وہ تو نامراد اور خسارہ میں ہے، کیا تمہیں اس بات کا خوف نہیں ہے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے غصہ سے اللہ کو غصہ آجائے اور اس طرح وہ عورت ہلاک ہوجائے، اب تم آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے زیادہ مانگا کرو نہ آپ کو کچھ جواب دیا کرو اور نہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے باتیں کرنی چھوڑا کرو، اگر تمہیں ضرورت ہو تو مجھ سے مانگ لیا کرو اور تجھے یہ چیز دھوکے میں نہ ڈالے کہ تیری پڑوسن تم سے زیادہ خوبصورت اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی پسندیدہ ہے، سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی مراد سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا تھیں، پھر سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: ہم یہ بات سنتے رہتے تھے کہ غسان (شام کا بادشاہ) ہم سے لڑنے کے لئے گھوڑوں کے نعل لگوا رہا ہے، ایک مرتبہ میرا انصاری دوست اپنی باری کے دن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں حاضر رہا اور شام کو واپس آیا تو میرا دروازہ زور سے کھٹکھٹایااور پوچھا: عمر ہیں؟ میں گھبرا کر ان کے پاس پہنچا تو وہ کہنے لگا: آج ایک بڑا حادثہ رونما ہوا ہے، میں نے کہا: وہ کیا؟ کیا غسانی لشکر تو نہیں آگیا؟ اس نے کہا: یہ بات نہیں، اس سے بھی بڑی بات واقع ہوئی ہے، ایک ہولناک واقعہ ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنی بیویوں کو طلاق دے دی ہے، میں نے کہا: بس حفصہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا تو نامراد اور خسارے میں ہوگئی، میرا خیال تھا کہ عنقریب ایسے ہوگا، میں نے کپڑے پہنے اور صبح کی نماز آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ادا کی، (نماز سے فارغ ہو کر) آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنے ایک بالائی کمرے میں چلے گئے اور اس کے گوشے میں جا کر بیٹھ گئے اور میں حفصہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے پاس چلا گیا،کیا دیکھتا ہوں کہ حفصہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا تو رو رہی ہیں، میں نے پوچھا: کس بات سے رو رہی ہو؟ کیا میں نے تمہیں ڈرایا نہیں تھا؟ کیا تم کو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے طلاق دے دی ہے؟ اس نے جواب دیا: مجھے معلوم نہیں ہے، آپ اس بالاخانے میں تشریف فرما ہیں پھر میں نکل کر منبر کے پاس آیا تو کیا دیکھتا ہوں کہ اس کے چاروں طرف لوگ بیٹھے ہیں اور بعض رو رہے ہیں، میں تھوڑی دیر ان کے پاس بیٹھارہا، پھر میرا دل نہ رہ سکا اور میں اسی بالائی کوٹھڑی کے پاس، جس میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم موجودتھے، آیا اور آپ کے حبشی غلام سے کہا: میرے لئے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اجازت لو، غلام نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے جا کر عرض کیا اور واپس آکر کہا کہ میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے عرض کیا اور تمہارا ذکر کیا، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم چپ ہو رہے، میں واپس آکر پھر ان لوگوں ساتھ بیٹھ گیا، جو منبر کے پاس تھے پھر دل نے بے قرار کیا اور میں نے غلام سے جا کر کہا: میرے لئے اجازت مانگو، وہ جا کر پھر لوٹا اور کہا: میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے تمہارا ذکر کیا ہے، مگر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خاموش رہے، پھر میں ان لوگوں کے پاس جا کر بیٹھ گیا، پھر میرا دل بے قرار ہوا اور میں نے جا کر غلام سے کہا: میرے لئے ایک مرتبہ پھر جا کر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اجازت مانگو، غلام اندر گیا اور واپس آکر مجھے کہا: میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے تمہارا ذکر کیا ہے، مگر آپ خاموش ہو رہے ہیں، پھر پلٹنے ہی لگا تھا کہ اچانک غلام نے کہا:آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تم کو اجازت دے دی، جب میں اندر گیا تو کیا دیکھتا ہوں کہ سرکار دوعالم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم چھال بھرا تکیہ رکھے کھردری چٹائی پر لیٹے ہوئے ہیں، جس سے آپ کے جسد اطہر پر نشان پڑ گئے ہیں، میں نے جا کر کھڑے ہی کھڑے کہا: السلام علیکم، اے اللہ کے رسول! کیا آپ نے اپنی بیویوں کو طلاق دے دی ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے میری طرف آنکھ اٹھا کر فرمایا: نہیں، میں نے متعجب ہو کر کہا: اللہ اکبر، پھر میں نے کھڑے ہی کھڑے دل بہلانے کے واسطے عرض کیا: کاش آپ میری طرف متوجہ ہوں، ہم قریشی لوگ عورتوں پر غالب تھے، لیکن جب مدینہ آئے تو یہاں ایسی قوم کو دیکھا کہ ان کی عورتیں مردوں پر غالب ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مسکرائے، پھر میں نیعرض کیا: اے اللہ کے رسول! اگر آپ میرا حال سنیں تو میںکچھ کہنا چاہتا ہوں، میں نے حفصہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے پاس جا کر اس سے کہا: تجھے یہ بات دھوکے میں نہ ڈالے کہ تیری پڑوسن یعنی عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا تجھ سے زیادہ خوبصورت اور رسول اللہ کی محبوب بیوی ہے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم دوبارہ مسکرانے لگے، میں سرکار دوعالم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو ہنستے دیکھ کر بیٹھ گیا، آپ کے مکان کے اندر ہر طرف نگاہ اٹھا کر میں نے دیکھا، بس اللہ کی قسم! وہاں تین کھالوں کے علاوہ مجھے اور کوئی چیز نظر نہ آئی، میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول: آپ اللہ سے دعا کیجئے کہ وہ آپ کی امت پر کشادگی کرے، فارس اورروم پر تو ہر چیز کی فراوانی کی گئی ہے اور ان کے پاس بے حد دنیاوی سامان ہے، جبکہ وہ اللہ کی عبادت بھی نہیں کرتے۔ پہلے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ٹیک لگائے بیٹھے تھے، یہ سن کر سیدھے ہو کر بیٹھ گئے اور فرمایا: اے ابن خطاب! کیا تم ابھی تک اس خیال کے بندے ہو؟ ان لوگوں کی اچھائیوں کا بدلہ ان کو اسی دنیا میں ملتا ہے؟ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ میرے لئے بخشش کی دعا فرمائیے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کسی بات کی وجہ سے جو کہ سیدہ حفصہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا پر ظاہر کردی تھی، اپنی بیویوں سے انتیس دن تک الگ ہوگئے تھے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے غصے سے فرمایا: میں ایک ماہ تک تمہارے پاس نہیں آؤں گا۔ جب انتیس دن گذرگئے، تو آپ پہلے سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے پاس گئے، سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک ماہ تک ہمارے پاس نہ آنے کی قسم کھائی تھی، ابھی تک تو انتیس دن ہوئے ہیں، میں مسلسل گن رہی ہوں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مہینہ انتیس دن کا بھی ہوتا ہے۔ چنانچہ وہ مہینہ انتیس کا ہی ہوا، سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے کہا: پھر اللہ نے آیت ِ تخییر نازل فرمائی، سب بیویوں سے پہلے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھ سے پوچھا، میں نے آپ کو اختیار کیا اور پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سب بیویوں کو اختیار دیا، ان سب نے میری طرح کا جواب دیا۔
Musnad Ahmad
1225
۔ (۱۲۲۵)۔عَنْ عِمْرَانَ بْنَ حُصَیْنٍؓ قَالَ: سَرَیْنَا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَلَمَّا کَانَ مِنْ آخِرِ اللَّیْلِ عَرَّسْنَا فَلَمْ نَسْتَیْقِظْ حَتّٰی أَیْقَظَنَا حَرُّ الشَّمْسِ، فَجَعَلَ الرَّجُلُ مِنَّا یَقُوْمُ دَہِشًا اِلَی طَہُوْرِہِ، قَالَ: فَأَمَرَہُمُ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنْ یَسْکُنُوْا، ثُمَّ ارْتَحَلْنَا فَسِرْنَا حَتّٰی اِذَا ارْتَفَعَتِ الشَّمْسُ تَوَضَّأَ ثُمَّ أَمَرَ بِلَالًا فَأَذَّنَ، ثُمَّ صَلَّی الرَّکْعَتَیْنِ قَبْلَ الْفَجْرِ، ثُمَّ أَقَامَ الصَّلَاۃَ فَصَلَّیْنَا، فَقَالُوْا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! أَلَا نُعِیْدُہَا فِیْ وَقْتِہَا مِنَ الْغَدِ؟ فَقَالَ: ((أَیَنْہَاکُمْ رَبُّکُمْ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی عَنِ الرِّبَا وَیَقْبَلُہُ مِنْکُمْ؟)) (مسند أحمد: ۲۰۲۰۶)
سیدنا عمران بن حصینؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے ساتھ چلتے رہے، رات کے آخر میں ہم نے پڑاؤ ڈالا، پس ہم بیدار نہ ہو سکے، یہاں تک کہ سورج کی گرمی نے ہم کو جگایا، ہم میں سے ہر آدمی دہشت زدہ ہو کر وضو کے لیے کھڑا ہونے لگا، پس نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے ان کو حکم دیا کہ وہ سکون میں آجائیں، پھر ہم وہاں سے کوچ کر گئے اور چلتے رہے، یہاں تک کہ سورج بلند ہو گیا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے وضو کیا اور سیدنا بلال کو حکم دیا، پس انھوں نے اذان دی، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فجر سے پہلے والی دو رکعتیں ادا کیں، پھر نماز کو کھڑا کیا، پس ہم نے نماز پڑھی۔ صحابہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا ہم نے کل اس نماز کو اس کے وقت پر بھی لوٹا نا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: کیا یہ ہو سکتا ہے کہ تمہارا ربّ تم کو سود سے منع کرے اور خود تم سے قبول کر لے۔
Musnad Ahmad
1226
۔ (۱۲۲۶)۔ عَنْ أَبِیْ قَتَادَۃَؓ أَنَّہُ کَانَ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْ سَفَرٍ وَقَدْ أَدْرَکَہُمْ مِنَ التَّعْبِ مَا أَدْرَکَہُمْ مِنَ السَّیْرِ فِیْ اللَّیْلِ، قَالَ: فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((لَوْ عَرَّسْنَا۔)) فَمَالٰ اِلٰی شَجَرَۃٍ فَنَزَلَ، فَقَالَ: ((اُنْظُرْ ھَلْ تَرٰی أَحَدًا؟)) قُلْتُ: ھٰذَا رَاکِبٌ ہٰذَانِ رَاکِبَانِ حَتّٰی بَلَغَ سَبْعَۃً، فَقَالَ: ((اِحْفَظُوْا عَلَیْنَا صَلَاتَنَا۔)) فَنِمْنَا فَمَا أَیْقَظَنَا اِلَّا حَرُّ الشَّمْسِ فَانْتَہَبْنَا، فَرَکِبَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَسَارَ وَسِرْنَا ہُنَیْہَۃً ثُمَّ نَزَلَ فَقَالَ: ((أَمَعَکُمْ مَائٌ؟)) قَالَ: قُلْتُ: نَعَمْ، مَعِیَ مِیْضَأَۃٌ فِیْھَا شَیْئٌ مِنْ مَائٍ، قَالَ: ((اِئْتِ بِہَا۔)) فَقَالَ: ((مَسُّوْا مِنْہَا مَسُّوْا مِنْہَا۔)) فَتَوَضَّأَ الْقَوْمُ وَبَقِیَتْ جَرْعَۃٌ فَقَالَ: ((ازْدَہِرْ بِہَا یَا أَبَا قَتَادَۃَ، فَاِنَّہُ سَیَکُوْنُ لَہَا نَبَأٌ۔)) ثُمَّ أَذَّنَ بِلَالٌ وَصَلَّوُا الرَّکْعَتَیْنِ قَبْلَ الْفَجْرِ ثُمَّ صَلَّوُا الْفَجْرَ ثُمَّ رَکِبَ وَرَکِبْنَا، فَقَالَ بَعَضُہُمْ لِبَعْضٍ: فَرَّطْنَا فِیْ صَلَاتِنَا، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((مَا تَقُوْلُوْنَ؟ اِنْ کَانَ أَمْرَ دُنْیَاکُمْ فَشَأْنُکُمْ وَاِنْ کَانَ أَمْرَ دِیْنِکُمْ فَاِلَیَّ۔)) قُلْنَا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! فَرَّطْنَا فِیْ صَلَاتِنَا، فَقَالَ: ((لَاتَفْرِیْطَ فِی النَّوْمِ، اِنَّمَا التَّفْرِیْطُ فِی الْیَقْظَۃِ، فَاِذَا کَانَ ذٰلِکَ فَصَلُّوْہَا وَمِنَ الْغَدِ وَقْتَہَا۔)) (مسند أحمد: ۲۲۹۱۳)
سیدنا ابو قتادہ ؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم ایک سفر میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے ساتھ تھے، رات کو چلنے کی وجہ سے تھکاوٹ نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو پا لیا، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اگر ہم پڑاؤ ڈال لیں۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ ایک درخت کی طرف مڑے اور وہاں اتر گئے اور فرمایا: دیکھو، کوئی نظر آ رہا ہے؟ میں نے کہا: یہ ایک سوار ہے، یہ دو سوار ہیں، یہاں تک کہ یہ تعداد سات افراد تک پہنچ گئی، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: ہم پر ہماری نماز کی حفاظت کرنا۔ پس ہم سو گئے اور ہمیں سورج کی گرمی نے جگایا اور ہم ڈر گئے، پس رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سوار ہوئے اور تھوڑی دیر کے لیے چلے اور ہم بھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے ساتھ چلے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ اترے اور فرمایا: کیا تمہارے پاس پانی ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں، میرے پاس ایک برتن ہے، اس میں کچھ پانی ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اس کو لے آؤں۔ پھر فرمایا: اس سے چھوؤ، اس سے چھوؤ۔ لوگوں نے اس سے وضو کیا اور ایک گھونٹ باقی بچا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: ابو قتادہ! اس پانی کی حفاظت کرو، عنقریب اس کے لیے بڑی خبر ہو گی۔ پھر سیدنا بلال ؓ نے اذان ، فجر سے پہلے دو سنتیں ادا کیں، پھر نمازِ فجر ادا کی اور پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ بھی سوار ہو گئے اور ہم بھی سوار ہو گئے، ہم میں سے بعض بعض سے کہنے لگے: ہم نے نماز میں کمی کی ہے، لیکن رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: تم کیا کہہ رہے ہو؟ اگر کوئی دنیوی معاملہ ہے تو خود کر لو اور اگر دین کا معاملہ ہے تو میری طرف لے آؤ۔ ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم نے نماز میںکمی کی ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: نیند کی وجہ سے کوئی کمی واقع نہیں ہوتی، کمی تو جاگنے کی صورت میں ہوتی ہے، پس اگر ایسے ہو جائے تو اِس نماز کو پڑھ لیا کرو اور اگلے دن وقت پر ادا کیا کرو۔
Musnad Ahmad
1233
۔ (۱۲۳۳)۔عَنْ یَزِیْدَ بْنِ صُلَیْحٍ عَنْ ذِیْ مِخْمَرٍ وَکَانَ رَجُلًا مِنَ الْحَبْشَۃِ یَخْدُمُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: کُنَّا مَعَہُ فِیْ سَفَرٍ فَأَسْرَعَ السَّیْرَ حِیْنَ اِنْصَرَفَ وَکَانَ یَفْعَلُ ذٰلِکَ لِقِلَّۃِ الزَّادِ، فَقَالَ لَہُ قَائِلٌ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! قَدْ اِنْقَطَعَ النَّاسُ وَرَائَ کَ، فَحَبَسَ وَحَبَسَ النَّاسُ مَعَہُ حَتّٰی تَکَافَلُوْا اِلَیْہِ،فَقَالَ لَہُمْ: ((ھَلْ لَکُمْ أَنْ نَہْجَعَ ہَجْعَۃً؟)) أَوْ قَالَ لَہُ قَائِلٌ، فَنَزَلَ وَنَزَلُوْا، فَقَالَ: ((مَنْ یَکْلَؤُنَا اللَّیْلَۃَ؟)) فَقُلْتُ: أَنَا جَعَلَنِیَ اللّٰہُ فِدَاکَ، فَأَعْطَانِیْ خِطَامَ نَاقَتِہِ فَقَالَ: ((ہَاکَ لَا تَکُوْنَنَّ لُکَعَ۔)) قَالَ: فَأَخَذْتُ بِخِطَامِ نَاقَۃِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَبِخِطَامِ نَاقَتِیْ، فَتَنَحَّیْتُ غَیْرَ بَعِیْدٍ فَخَلَّیْتُ سَبِیْلَہَا یَرْعَیَانِ، فَاِنِّیْ کَذَاکَ أَنْظُرُ اِلَیْہِمَا حَتّٰی أَخَذَنِی النَّوْمُ فَلَمْ أَشْعُرْ بِشَیْئٍ حَتّٰی وَجَدْتُّ حَرّ َالشَّمْسِ عَلٰی وَجْہِیْ، فَاسْتَیْقَظْتُ فَنَظَرْتُ یَمِیْنًا وَشِمَالًا فَاِذَا أَنَا بِالرَّاحِلَتَیْنِ مِنِّیْ غَیْرُ بَعِیْدٍ، فَأَخَذْتُ بِخِطَامِ نَاقَۃِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَبِخِطَامِ نَاقَتِیْ، فَأَتَیْتُ أَدْنَی الْقَوْمِ فَأَیْقَظْتُہُ، فَقُلْتُ لَہُ: أَصَلَّیْتُمْ؟ قَالَ: لَا، فَأَیْقَظَ النَّاسُ بَعْضُہُمْ بَعْضًا حَتّٰی اسْتَیْقَظَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((یَا بِلَالُ! ھَلْ لِیْ فِیْ الْمِیْضَأَۃِ؟)) یَعْنِی الْاِدَاوَۃَ، قَالَ: نَعَمْ، جَعَلَنِیَ اللّٰہُ فِدَاکَ، فَأَتَاہُ بِوَضُوْئٍ فَتَوَضَّأَ وُضُوْئً ا لَمْ یَلُتَّ مِنْہُ التُّرَابَ فَأَمَرَ بِلَالًا فَأَذَّنَ، ثُمَّ قَامَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَصَلَّی الرَّکْعَتَیْنِ قَبْلَ الصُّبْحِ وَھُوَ غَیْرُ عَجِلٍ ثُمَّ أَمَرَہُ فَأَقَامَ الصَّلَاۃَ فَصَلّٰی وَھُوَ غَیْرُ عَجِلٍ، فقَالَ لَہُ قَائِلٌ: یَا نَبِیَّ اللّٰہِ! أَفْرَطْنَا، قَالَ: ((لَا، قَبَضَ اللّٰہُ أَرْوَاحَنَا وَقَدْ رَدَّہَا اِلَیْنَا وَقَدْ صَلَّیْنَا۔)) (مسند أحمد: ۱۶۹۴۹)
سیدنا ذو مخمرؓ، جو حبشی آدمی تھے اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی خدمت کرتے تھے، سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے ساتھ ایک سفر میں تھے، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ واپس ہوئے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ جلدی چلے اور آپ زادِ راہ کے کم ہونے کی وجہ سے ایسا کیا کرتے تھے، کسی آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! لوگ آپ سے پیچھے رہ گئے ہیں، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ رک گئے اور لوگ بھی آپ کے ساتھ رک گئے، یہاں تک سارے لوگ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس مکمل ہو گئے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے ان سے فرمایا: کیا تم کو یہ ضرورت ہے کہ ہم تھوڑا سا سو لیں؟ یا کسی آدمی نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو ایسا کرنے کی رائے دی، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ اتر پڑے اور لوگ بھی اتر پڑے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: آج رات کون ہماری حفاظت کرے گا۔ میں (ذو مخمر) نے کہا: میں کروں گا، اللہ مجھے آپ پر قربان کرے۔ پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے مجھے اپنی اونٹنی کی لگام تھما دی اور فرمایا: یہ پکڑ اور چھوٹو نہ بن جانا۔ پس میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی اونٹنی اور اپنی اونٹنی کی لگامیں پکڑیں اور تھوڑا سا دور ہو کر بیٹھ گیا اور ان کو چرنے کے لیے چھوڑ دیا، میں ان کو دیکھ رہا تھا کہ مجھ پر نیند غالب آ گئی اور مجھے کوئی شعور نہ رہا، یہاں تک کہ میں نے اپنے چہرے پر سورج کی گرمی محسوس کی، پس میں بیدار ہوا اور دائیں بائیں دیکھا، سواریاں تو میرے قریب ہی تھیں، پس میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی اونٹنی اور اپنی اونٹنی کی لگامیں پکڑیں اور قریبی آدمی کے پاس گیا اور اس کو جگا کر پوچھا: کیا تم لوگوں نے نماز پڑھ لی ہے؟ اس نے کہا: جی نہیں، پھر لوگ ایک دوسرے کو جگانے لگ گئے، یہاں تک کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ بھی بیدار ہو گئے اور فرمایا: بلال! کیا میرے لیے برتن میںپانی ہے؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، اللہ مجھے آپ پر قربان کرے، پس وہ وضو کا پانی لے کر آئے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے ایسا وضو کیا کہ نیچے والی مٹی بھی مکمل طور پر گیلی نہ ہو سکی، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے سیدنا بلالؓ کو حکم دیا، پس انھوں نے اذان کہی، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کھڑے ہوئے اور فجر سے پہلے دو سنتیں ادا کیں، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ جلدی نہیں کر رہے تھے، پھر ان کو حکم دیا اور انھوں نے اقامت کہی، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے نماز پڑھائی، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ جلدبازی سے کام نہیں لے رہے تھے، کسی نے کہا: اے اللہ کے نبی! ہم نے زیادتی کی ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: نہیں، اللہ تعالیٰ نے ہماری روحوں کو روکے رکھا اور جب اس نے لوٹایا تو ہم نے نماز پڑھ لی۔
Musnad Ahmad
1625
۔ (۱۶۲۵) عَنْ أَبِیْ الْعَالِیَۃِ قَالَ: اِجْتَمَعَ ثَـلَاثُونَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالُوْا أَمَّا مَا یَجْہَرُ فِیْہِ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِالْقِرَائَ ۃِ فَقَدْ عَلِمْنَاہُ، وَمَا لَایَجْھَرُ فِیْہِ فَلاَ نَقِیْسُ بِمَا یَجْہَرُ بِہِ ، قَالَ: فَاجْتَمَعُوا فَمَا اخْتَلَفَ مِنْہُمْ اثْنَانِ أَنَّ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یَقْرأُ فِیْ صَلَاۃِ الظُّہْرِ قَدْرَ ثَلاَثِیْنَ آیَۃً فِی الرَّکْعَتَیْنِ الْأُوْلَیَیْنِفِی کُلِّ رَکْعَۃٍ، وَفِی الرَّکْعَتَیْنِ الْأُخْرَیَیْنِ قَدْرَ النِّصْفِ مِنْ ذَلِکَ، وَیَقْرَأُ فِی الْعَصْرِ فِی الْأُوْلَیَیْنِ بِقَدْرِ النِّصْفِ مِنْ قِرَائَ تِہِ فِی الرَّ کْعَتَیْنِ الْأُ وَلَیَیْنِ مِنَ الظُّہْرِ، وَفِی الْأُخْرَیَیْنِ قَدْرَ النِّصْفِ مِنْ ذَلِکَ۔ (مسند احمد: ۲۳۴۸۵)
ابو العالیہ کہتے ہیں: تیس صحابہ جمع ہوئے اور انھوں نے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم (جن نمازوں) میں بلند آواز سے قراء ت کرتے تھے، اس کو تو ہم جانتے ہیں، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم (جن نمازوں میں) جہری قراء ت نہیں کرتے تھے، اب ان کو جہر والی نمازوں پر قیاس تو نہیں کرتے۔ پھر وہ اس امر پر متفق ہو گئے اور ان میں کوئی دو بھی اختلاف کرنے والے نہیں تھے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نماز ظہرکی پہلی دو رکعتوں میں تیس تیس آیتوں کے بقدر اور دوسری دو رکعتوںمیں اس سے نصف کے بقدر تلاوت کرتے تھے، اور عصر کی پہلی دو رکعتوں میں ظہر کی پہلی دو رکعتوںکے نصف کے برابر اور اس کی آخری دو رکعتوں میں اس سے بھی نصف کے بقدر تلاوت کرتے تھے۔
Musnad Ahmad
1670
۔ (۱۶۷۰) عَنْ أَبِیْ سَلَمَۃَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ قَالَ: کَانَ أَبُوْ ھُرَیْرَۃَیُصَلِّیْ بِنَا فَیُکَبِّرُ حِیْنَیَقُوْمُ وَحِیْنَیَرْکَعُ، وَاِذَا اَرَادَ اَنْ یَّسْجُدَ بَعْدَ مَا یَرْفَعُ مِنَ الرُّکُوْعِ وَإِذَ أَرَادَ أَنْ یَسْجُدَ بَعْدَ مَایَرْ فَعُ مِنَ السُّجُودِ وَإِذَا جَلَسَ،وَإِذَا أَ رَادَ أَنْ یَرْفَعَ فِی الرَّکْعَتَیْنِ کَبَّرَ، وَیُکِبِّرُ مِثْلَ ذٰلِکَ فِی الرَّکْعَتَیْنِ الْأُخْرَیَیْنِ، فَإِذَا سَلَّمَ قَالَ: وَالَّذِی نَفْسِیْ بِیَدِہِ إِنِّیْ لَأَقْرَبُکُمْ شَبَہًا بِرَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَعْنِی صَلاَتَہُ، مَازَالَتْ ھٰذِہِ صَلَاتُہٗحَتّٰی فَارَقَ الدُّنْیَا۔ (مسند احمد: ۷۶۴۴)
ابو سلمہ بن عبد الرحمن کہتے ہیں: سیدناابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ہمیں نماز پڑھاتے تھے، جب وہ کھڑے ہوتے، جب رکوع کرتے، جب رکوع سے اٹھنے کے بعد سجدہ کرنے کا ارادہ کرتے، جب سجدے سے سر اٹھانے کے بعد دوبارہ سجدہ کرتے ، جب بیٹھتے اور جب دو رکعتوں کے بعد کھڑے ہوتے تو اللہ اکبر کہتے، دوسری دو رکعتوں میں بھی اسی طرح تکبیریں کہتے، جب سلام پھیرتے تو کہتے: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! بلاشبہ میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ نماز میں تم سب کی بہ نسبت زیادہ مشابہت رکھنے والا ہوں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی نماز کییہی کیفیت رہی، حتی کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم دنیا سے جدا ہو گئے۔