TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

یوم عاشوراء کی فضیلت اور فرضیت ِ رمضان سے قبل اس کے روزے کی تاکید کا بیان - یوم عاشوراء کی فضیلت اور فرضیت ِ رمضان سے قبل اس کے روزے کی تاکید کا بیان - یوم عاشوراء - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 1 of یوم عاشوراء in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 1 of 35 · 16 Hadith
Whole book
Previous Chapter Next Chapter
۔ (۳۹۰۲) عَنْ اَبِی قَتَادَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((صَوْمُ یَوْمِ عَرَفَۃَ کَفَّارَۃُ سَنَتَیْنِ، سَنَۃٍ مَاضِیَۃٍ وَسَنَۃٍ مُسْتَقْبِلَۃٍ، وَیَوْمُ عَاشُوْرَائَ کَفَّارَۃُ سَنَۃٍ)) (مسند احمد: ۲۲۹۵۸)
۔ سیدنا ابو قتادہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: عرفہ کے دن کا روزہ گزشتہ اور آئندہ دو سالوں کا کفارہ ہے اور عاشوراء کا روزہ گزشتہ ایک سال کا کفارہ ہے۔
Takhreej
(۳۹۰۲) تخر یـج: اخرجہ مسلم: ۱۱۶۲(انظر: ۲۲۵۸۸)
3902
Sahih
۔ (۳۹۰۳) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ): عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: قَالَ لَہُ رَجُلٌ: اَرَاَیْتَ صِیَامَ عَرَفَۃَ؟ قَالَ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَحْتَسِبُ عِنْدَ اللّٰہِ اَنْ یُکَفِّرَ السَّنَۃَ الْمَاضِیَۃَ وَالْبَاقِیَۃَ۔)) قَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اَرَاَیْتَ صَوْمَ عَاشُوْرَائَ؟ قَالَ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَحْتَسِبُ عِنْدَ اللّٰہِ اَنْ یُکَفِّرَ السَّنَۃَ۔)) (مسند احمد: ۲۲۹۹۷)
۔ (دوسری سند) ایک آدمی نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے کہا: عرفہ کے روزہ کے بارے میں آپ کاکیا خیال ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مجھے اللہ تعالیٰ سے امید ہے کہ وہ اس روزے کو گزشتہ اور آئندہ دو سالوں کے گناہوں کا کفارہ بنائے گا۔ اس نے پھر کہا: اے اللہ کے رسول! عاشوراء کے روزے کے متعلق آپ کا کیا خیال ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مجھے اللہ تعالیٰ سے امیدہے کہ وہ اس روزے کو گزشتہ ایک سال کا کفارہ بنائے گا۔
Takhreej
(۳۹۰۳) تخر یـج: انظر الحدیث بالطریق الاول
Explanation
فوائد:… یوم عاشورا سے مراد محرم کا دسواں دن ہے، ابتدائے اسلام میں یہ روزہ فرض تھا اور صرف ایک سال یعنی دو سن ہجری کی ابتداء میں اس کی فرضیت کا مسئلہ پیش آیا تھا، کیونکہ اسی سن کے رمضان میں روزے فرض ہو گئے تھے اور رمضان کے روزوں کی فرضیت کے بعد عاشورا کا روزہ مستحب قرار دیا گیا تھا، اس کی مزید وضاحت اگلی احادیث میں آرہی ہے۔ عرفہ کے دن سے مراد (۹) ذوالحجہ کا دن ہے، جس دن حجاج کرام عرفہ کے میدان میں جمع ہوتے ہیں۔
3903
Sahih
۔ (۳۹۰۴) عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: مَرَّ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِاُنَاسٍ مِنَ الْیَہُوْدِ قَدْ صَامُوْا یَوْمَ عَاشُوْرَائَ، فَقَالَ: ((مَا ہٰذَا مِنَ الصَّوْمِ؟)) قَالُوْا: ہٰذَا الْیَوْمُ الَّذِیْ نَجَّی اللّٰہُ مُوْسٰی وَبَنِیْ إِسْرَائِیْلَ مِنَ الْغَرَقِ وَغَرَّقَ فِیْہِ فِرْعَوْنَ،وَہٰذَا یَوْمٌ اِسْتَوَتْ فِیْہِ السَّفِیْنَۃُ عَلَی الْجُودِیِّ فَصَامَہُ نُوْحٌ وَمُوْسٰی شُکْرًا لِلّٰہِ تَعَالٰی، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَناَ اَحَقُّ بِمُوْسٰی وَاَحَقُّ بِصَوْمِ ہٰذَا الْیَوْمِ۔)) فَاَمَرَ اَصْحَابَہٗبِالصَّوْمِ۔ (مسند احمد: ۸۷۰۲)
۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا یہودی لوگوں کے پاس سے گزر ہوا، انہوں نے عاشوراء کے دن کا روزہ رکھا ہوا تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ کیسا روزہ ہے؟ انہوں نے کہا: یہ وہ دن ہے، جس میں اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام اور بنو اسرائیل کو غرق ہونے سے بچایا اور فرعون کو غرق کر دیا اور اسی دن کو نوح علیہ السلام کی کشتی جودی پر آ کر ٹھہری تھی، اس لیے نوح اور موسیٰm نے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہوئے روزہ رکھا تھا، یہ سن کر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں موسیٰ علیہ السلام اور اس دن کے روزے کا زیادہ حقدار ہوں۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے صحابہ کو یہ روزہ رکھنے کا حکم دے دیا۔
Takhreej
(۳۹۰۴) تخر یـج: اسنادہ ضعیف لضعف عبد الصمد بن حبیب وجھالۃ ابیہ (انظر: ۸۷۱۷)
3904
Zaeef
۔ (۳۹۰۵) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَدِمَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الْمَدِیْنَۃَ فَرَاَی الْیَہُوْدَیَصُوْمُوْنَیَوْمَ عَاشُوْرَائَ، فَقَالَ: ((مَا ھٰذَا الْیَوْمُ الَّذِیْ تَصُوْمُوْنَ؟)) قَالُوْا: ھٰذَا یَوْمٌ صَالِحٌ، ھٰذَا یَوْمٌ نَجَّی اللّٰہُ بَنِیْ إِسْرَائِیْلَ مِنْ عَدُوِّہِمْ، فَصَامَہُ مُوْسٰی علیہ السلام ۔ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَنَا اَحَقُّ بِمُوْسٰی مِنْکُمْ۔)) قَالَ: فَصَامَہُ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَ اَمَرَ بِصَوْمِہِ۔ (مسند احمد: ۲۸۳۱)
۔ سیدنا عبداللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے اور دیکھا کہ یہودی دس محرم کو روزہ رکھتے ہیں، آپ نے ان سے پوچھا: یہ دن کون سا ہے، جس کا تم روزہ رکھتے ہو؟ انہوں نے کہا: یہ بڑا مبارک دن ہے، اللہ تعالیٰ نے اس دن بنی اسرائیل کو ان کے دشمن سے نجات دلائی تھی اور موسیٰ علیہ السلام نے اس کا روزہ رکھا تھا۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں تمہاری بہ نسبت موسی علیہ السلام کا زیادہ حقدار ہوں۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے خود بھی روزہ رکھا اور اس کا حکم بھی صادر فرمایا۔
Takhreej
(۳۹۰۵) تخر یـج: اخرجہ البخاری: ۲۰۰۴، ومسلم: ۱۱۳۰ (انظر: ۲۸۳۱)
Explanation
فوائد:… رسالت، دینی بھائی چارے اور ظاہری قرابت کے اعتبار سے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، موسیٰ علیہ السلام کے زیادہ قریب تھے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اس مسئلے میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہودیوں کی مخالفت کیوں نہیں کی؟ اس کا بہترین جواب یہی ہے کہ اس مسئلے میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو مخالفت کرنے کا حکم نہیں دیا گیا تھا، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنی حیات ِ مبارکہ کے آخری سال میں اس خواہش کا اظہار کر دیا تھا کہ اگر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم زندہ رہے تو (۹) ذوالحجہ کو روزہ رکھیں گے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ربیع الاول کے مہینے میں مدینہ منورہ پہنچے تھے، پھر جب محرم کا مہینہ آیا تو یہ صورتحال پیدا ہوئی۔
3905
Sahih
۔ (۳۹۰۶) عَنْ ثُوَیْرٍ قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَاللّٰہِ بْنَ الزُّبَیْرِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما وَھُوَ عَلَی الْمِنْبَرِ یَقُوْلُ: ھٰذَا یَوْمُ عَاشُوْرَائَ فَصُوْمُوْہُ فَإِنَّ رَسُوْلَ اللِّٰہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَمَرَ بِصَوْمِہِ۔ (مسند احمد: ۱۶۲۳۱)
۔ ثویر کہتے ہیں: میں نے سیدنا عبداللہ بن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو منبر پر یہ کہتے ہوئے سنا تھا: یہیومِ عاشوراء ہے، تم اس دن کا روزہ رکھو، کیونکہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کا روزہ رکھنے کا حکم دیا ہے۔
Takhreej
(۳۹۰۶) تخر یـج: اسنادہ ضعیف جدا لضعف ثویر بن ابی فاختہ۔ اخرجہ البزار: ۱۰۵۰، والطحاوی فی ’’شرح معانی الآثار‘‘: ۲/ ۷۶، والطبرانی فی ’’الکبیر‘‘: ۲۹۳ (انظر: ۱۶۲۳۰)
3906
Zaeef
۔ (۳۹۰۷) عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَنَّہُ قَالَ: اَمَرَنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ بِیَوْمِ عَاشُوْرَائَ اَنْ نَصُوْمَہُ، وَقَالَ: ہُوَ یَوْمٌ کَانَتِ الْیَہُوْدُ تَصُوْمُہُ۔ (مسند احمد: ۱۴۷۱۸)
۔ سیدنا جابر بن عبداللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں دس محرم کو روزہ رکھنے کا حکم دیا، اس دن کو یہودی روزہ رکھا کرتے تھے۔
Takhreej
(۳۹۰۷) تخر یـج: صحیح لغیرہ۔ اخرجہ الطبرانی فی ’’الاوسط‘‘: ۲۵۰۱ (انظر: ۱۴۶۶۳)
3907
Sahih
۔ (۳۹۰۸) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: اَرْسَلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِلٰی اَہْلِ قَرْیَۃٍ عَلٰی رَاْسِ اَرْبَعَۃِ فَرَاسِخَ، اَوْ قَالَ: فَرْسَخَیْنِیَوْمَ عَاشُوْرَائَ، فَاَمَرَ مَنْ اَکَلَ اَنْ لَایَاْکُلَ بَقِیَّۃَیَوْمِہِ، وَمَنْ لَمْ یَاْکُلْ اَنْ یُتِمَّ صَوْمَہُ۔ (مسند احمد: ۲۰۵۸)
۔ سیدنا عبدا للہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دس محرم کو چار چار یا دو دو فرسخ تک بستیوں میں پیغام بھیجا کہ جس آدمی نے کچھ کھا لیا ہو وہ بقیہ دن میں کچھ نہ کھائے اور جس نے تاحال کچھ نہیں کھایا وہ اپنا روزہ پورا کرے۔
Takhreej
(۳۹۰۸) تخر یـج: حسن لغیرہ۔ اخرجہ الطبرانی: ۱۱۸۰۴(انظر: ۲۰۵۸)
Explanation
فوائد:… اس سے پتہ چلتا ہے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرضیت ِ رمضان سے قبل یوم عاشوراء کے روزے کا خاصا اہتمام کیا تھا، ایک فرسخ تقریبا سات آٹھ کلومیٹر کا ہوتا ہے۔
3908
Sahih
۔ (۳۹۰۹) عَنْ سَلَمَۃَ بْنِ الْاَکْوَعِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم امَرَ رَجُلاً مِنْ اَسْلَمَ اَنْ یُؤَذِّنَ فِی النَّاسِیَوْمَ عَاشُوْرَائَ: ((مَنْ کَانَ صَائِمًا فَلْیُتِمَّ صَوْمَہُ، وَمَنْ کَانَ اَکَلَ فَلَایَاْکُلْ شَیْئًا وَلْیُتِمَّ صَوْمَہُ۔)) (مسند احمد: ۱۶۶۲۱)
۔ سیدنا سلمہ بن اکوع ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے عاشوراء کے دن بنو اسلم قبیلے کے ایک آدمی کو حکم دیا کہ وہ لوگوں میں یہ اعلان کرے: جس نے آج روزہ رکھا ہوا ہے، وہ اسے پورا کرے اور جو کچھ کھا پی چکا ہے، وہ بھی اب کچھ نہ کھائے پئے اور اس طرح روزہ مکمل کرے۔
Takhreej
(۳۹۰۹) تخر یـج: اخرجہ البخاری: ۱۹۲۴، ۲۰۰۷، ومسلم: ۱۱۳۵(انظر: ۱۶۵۰۷)
3909
Sahih
۔ (۳۹۱۰) عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ صَیْفِیِّ نِ الْاَنْصَارِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: خَرَجَ عَلَیْنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِییَوْمِ عَاشُوْرَائَ ،فَقَالَ: ((اَصُمْتُمْ یَوْمَکُمْ ھٰذَا؟)) فَقَالَ: بَعْضُہُمْ: نَعَمْ، وَقَالَ: بَعْضُہُمْ: لاَ، قَالَ: ((فَاَتِمُّوْا بَقِیَّۃَیَوْمِکُمْ ھٰذَا۔)) وَاَمَرَہُمْ اَنْ یُؤْذِنُوْا اَہْلَ الْعَرُوْضِ اَنْ یُتِمُّوایَوْمَہُمْ ذَالِکَ۔ (مسند احمد: ۱۹۶۸۰)
۔ سیدنا محمد بن صیفی انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یومِ عاشوراء کو ہمارے ہاں تشریف لائے اور پوچھا: کیا تم لوگوں نے آج روزہ رکھا ہے؟ بعض نے کہا: جی ہاں، اور بعض نے کہا: جی نہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بہرحال بقیہ دن کا روزہ پورا کرو۔ نیز آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کو حکم دیا کہ وہ اہلِ عَروض کو بھی اطلاع کر دیں کہ وہ بھی اس دن کا روزہ مکمل کریں۔
Takhreej
(۳۹۱۰) تخر یـج: اسنادہ صحیح۔ اخرجہ ابن ماجہ: ۱۷۳۵، والنسائی: ۴/ ۱۹۲(انظر: ۱۹۴۵۱)
Explanation
فوائد:… ’’عَروض‘‘ کے تعین کے بارے میں دو اقوال ہیں: (۱) اس کا اطلاق مکہ مکرمہ، مدینہ منورہ اور ان کے پڑوس والے شہروں پر ہوتا ہے اور (۲) مکہ مکرمہ، مدینہ منورہ اور یمن کو عَروض کہتے ہیں۔
3910
Sahih
۔ (۳۹۱۱) عَنْ ہِنْدِ بْنِ اَسْمَائَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: بَعَثَنِیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِلٰی قَوْمِی مِنْ اَسْلَمَ، فَقَالَ: ((مُرْ قَوْمَکَ فَلْیَصُوْمُوا ھٰذَا الْیَوْمَیَوْمَ عَاشُوْرَائَ، فَمَنْ وَجَدْتَّہُ مِنْہُمْ قَدْ اَکَلَ فِی اَوَّلِ یَوْمِہِ فَلْیَصُمْ آخِرَہُ۔)) (مسند احمد: ۱۶۰۵۸)
۔ سیدنا ہند بن اسمائ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے میرے قبیلہ بنو اسلم کی طرف بھیجا اور فرمایا: اپنی قوم کو حکم دو کہ وہ آج یومِ عاشوراء کا روزہ رکھیں، اگر ان میں سے کوئی آدمی کھا پی چکا ہو تو وہ بھی دن کے آخرییعنی بقیہ حصے کا روزہ رکھے۔
Takhreej
(۳۹۱۱) تخر یـج: حدیث صحیح۔ اخرجہ الطبرانی فی ’’الکبیر‘‘: ۲۲/ ۵۴۵(انظر: ۱۵۹۶۲)
3911
Sahih
۔ (۳۹۱۲) عَنْ یَحْیَی بْنِ ہِنْدٍ، عَنْ اَسْمَائَ بْنِ حَارِثَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بَعَثَہُ، فَقَالَ: ((مُرْ قَوْمَکَ بِصِیَامِ ہٰذَا الْیَوْمِ۔)) قَالَ: اَرَاَیْتَ إِنْ وَجَدْتُّہُمْ قَدْ طَعِمُوا، قَالَ: ((فَلْیُتِمُّوا آخِرَ یَوْمِہِمْ)) (مسند احمد:۱۶۰۵۹)
۔ سیدنا اسماء بن حارثہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے حکم دیتے ہوئے فرمایا: اپنی قوم کو آج کے دن کا روزہ رکھنے کا حکم دو۔ انھوںنے کہا: اگر وہ کھانا کھا چکے ہوں تو پھر آپ کی رائے کیا ہو گی؟آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: پھر بھی وہ دن کے آخرییعنی بقیہ حصے کا روزہ رکھ لیں۔
Takhreej
(۳۹۱۲) تخر یـج: صحیح لغیرہ۔ اخرجہ الطبرانی فی ’’الکبیر‘‘: ۸۶۹، والبزار: ۱۰۴۸، وابن حبان: ۳۶۱۸، والحاکم: ۳/ ۵۹۲ (انظر: ۱۵۹۶۳)
3912
Sahih
۔ (۳۹۱۳) (وَمِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ):عَنْ اَسْمَائَ بْنِ حَارِثَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بَعَثَہُ، فَقَالَ: ((مُرْ قَوْمَکَ فَلْیَصُوْمُوْا ہٰذَا الَیْوَمَ۔)) قَالَ: اَرَاَیْتَ إِنْ وَجَدْتُّہُمْ قَدْ طَعِمُوْا؟ قَالَ: ((فَلْیُتِمُّوْا بَقِیَّۃَیَوْمِہِمْ۔)) (مسند احمد: ۱۶۸۳۶)
۔ (دوسری سند) سیدنا اسماء بن حارثہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے بھیجا اور فرمایا: اپنی قوم کو حکم دو کہ وہ آج کے دن کا روزہ رکھیں۔ انھوں نے کہا: اگر وہ کھانا کھا چکے ہوں تو آپ کیا فرمائیں گے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو پھر وہ بقیہ دن کا روزہ رکھ لیں۔
Takhreej
(۳۹۱۳) تخر یـج: انظر الحدیث بالطریق الاول
Explanation
فوائد:… ممکن ہے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا اسما بن حارثہ کو ان کے بیٹے سیدنا ہند کے ساتھ ان کی قوم کی طرف بھیجا ہو اور ہر ایک نے صرف اپنا اپنا تذکرہ کر دیا ہو۔ پہلے ایک حدیث میں یہ ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہند بن اسماء کو اعلان کرنے کے لیے بھیجا تھا اور اس حدیث میں یہ ہے کہ آپ نے ہند کے باپ اسماء کو بھیجا تھا۔ فوائد میں اس ظاہری تعارض کی توجیہ پیش کی گئی ہے۔ (عبداللہ رفیق)
3913
Sahih
۔ (۳۹۱۴) عَنْ بَعْجَۃَ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ اَنَّ اَبَاہُ اَخْبَرَہُ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ لَہُمْ یَوْمًا: ((ھٰذَا یَوْمُ عَاشُوْرَائَ فَصُوْمُوا۔)) فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ بَنِی عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! إِنِّی تَرَکْتُ قَوْمِی مِنْہُمْ صَائِمٌ، وَمِنْہُمْ مُفْطِرٌ، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِذْہَبْ إِلَیْہِمْ فَمَنْ کَانَ مِنْہُمْ مُفْطِرًا فَلْیُتِمَّ صَوْمَہُ۔)) (مسند احمد: ۲۸۱۹۸)
۔ بعجہ کے باپ سیدنا عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک دن ان سے فرمایا: آج یومِ عاشوراء ہے، اس دن کا روزہ رکھو۔ بنو عمرو بن عوف کے ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں اپنی قوم کو اس حال میں چھوڑ کر آیا ہوں کہ ان میں سے کسی نے روزہ رکھا ہوا ہے اور کسی نے نہیں رکھا ہوا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ان کی طرف جاؤ اور ان کو کہو کہ جس نے روزہ نہیں رکھا ہوا وہ بقیہ دن کا روزہ رکھ لے۔
Takhreej
(۳۹۱۴) اسنادہ صحیح۔ اخرجہ البزار: ۱۰۴۹، والطبرانی فی ’’الاوسط‘‘: ۵۶۷۹(انظر: ۲۷۶۴۶)
3914
Sahih
۔ (۳۹۱۵) عَنْ مَزِیْدَۃَ بْنِ جَابِرٍ قَالَ: قَالَتْ اُمِّیْ: کُنْتُ فِی مَسْجِدِ الْکُوفَۃِ فِی خِلَافَۃِ عُثْمَانَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ وَعَلَیْنَا اَبُوْ مَوْسَی الاَشْعَرِی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: فَسَمِعْتُہُ یَقُوْلُ: إِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَمَرَ بِصَوْمِ یَوْمِ عَاشُوْرَائَ، فَصُوْمُوْا۔ (مسند احمد: ۱۹۹۵۹)
۔ مزیدہ بن جابر کہتے ہیں: میری والدہ نے بیان کیا ہے کہ وہ سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی خلافت میں کوفہ کی مسجد میں تھیں، سیدنا ابو موسیٰ اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ وہاں کے حاکم تھے، انھوں نے ایک دن کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یومِ عاشوراء کو روزہ رکھنے کا حکم دیا تھا، اس لیے تم اس دن کا روزہ رکھو۔
Takhreej
(۳۹۱۵) تخر یـج: حدیث صحیح۔ اخرجہ الطبرانی فی ’’الاوسط‘‘: ۲۶۴۲، والطحاوی فی ’’شرح معانی الآثار‘‘: ۲/ ۷۶ (انظر: ۱۹۷۲۱)
3915
Sahih
۔ (۳۹۱۶) عَنْ عَلِیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَنَّ رَسُوْل اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یَصُوْمُیَوْمَ عَاشُوْرَائَ،وَ یَاْمُرُ بِہِ۔ (مسند احمد: ۱۰۶۹)
۔ سیدناعلی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یومِ عاشوراء کا خود بھی روزہ رکھا کرتے تھے اور اس کا حکم بھی دیا کرتے تھے۔
Takhreej
(۳۹۱۶) تخر یـج: حسن لغیرہ۔ اخرجہ البزار: ۶۰۲(انظر: ۱۰۶۹)
3916
Sahih
۔ (۳۹۱۷) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ حَدَّثَنِیْ اَبِی حَدَّثَنَا سُفْیَانُ قَالَ: اَخْبَرَنِی عُبَیْدُ اللّٰہِ بْنُ اَبِییَزِیْدَ مُنْذُ سَبْعِیْنَ سَنَۃً، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌یَقُوْلُ: مَا عَلِمْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صَامَ یَوْمًایَتَحَرّٰی فَضْلَہُ عَلَی الْاَیَّامِ غَیْرَیَوْمِ عَاشُوْرَائَ وَقَالَ سُفْیَانُ مَرَّۃً اُخْرٰی: إِلَّا ھٰذَا الْیَوْمَیَعْنِی عَاشُوْرَائَ، وَہٰذَا الشَّہْرَ شَہْرَ رَمَضَانَ۔ (مسند احمد: ۱۹۳۸)
۔ سیدنا عبدا للہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں نہیں جانتا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دوسرے دنوں کی بہ نسبت کسی مخصوص دن کی فضیلت کو تلاش کرتے ہوئے روزہ رکھا ہو، ما سوائے یومِ عاشوراء کے اور ماہِ رمضان کے۔
Takhreej
(۳۹۱۷) تخر یـج: اخرجہ البخاری: ۲۰۰۶، ومسلم: ۱۱۳۲(انظر: ۱۹۳۸)
3917
Sahih

Chapters

35
01
یوم عاشوراء کی فضیلت اور فرضیت ِ رمضان سے قبل اس کے روزے کی تاکید کا بیان
16 Hadith
02
ماہِ رمضان کے روزوں کی فرضیت کے بعد یومِ عاشوراء کے روزے کے غیر مؤکّد ہو جانے کا بیان
15 Hadith
03
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ماہِ شعبان میں بکثرت روزے رکھنے اور اس مہینے میں روزوں کی فضیلت
10 Hadith
04
شعبان کے دوسرے نصف میں روزہ رکھنے کی ممانعت اور اس کی رخصت کا بیان
2 Hadith
05
ماہِ صبر یعنی (رمضان) اور باقی مہینوں میں ہر ماہ کے غیر متعین تین روزے رکھنے کا بیان
8 Hadith
06
ایامِ بِیض کے روزوں کا بیان
5 Hadith
07
ہر مہینے میں تین متعین دنوں میں روزے رکھنے کا بیان
4 Hadith
08
ہر ماہ کے ابتدائی تین دنوں میں روزے رکھنے کا بیان
1 Hadith
09
ماہِ شوال کے چھ روزوں کا بیان
3 Hadith
10
شوال، بدھ، جمعرات اور جمعہ کے روزوں کا بیان
2 Hadith
11
ہفتہ اور اتوار کے روزوں کا بیان
1 Hadith
12
سوموار اور جمعرات کے روزوں کے مستحبّ ہونے کا بیان
4 Hadith
13
داود علیہ السلام کے روزوں یعنی ایک دن روزہ رکھنے اور ایک دن نہ رکھنے کا بیان
5 Hadith
14
حاجیوں کے علاوہ دوسرے لوگوں کے لیے ذوالحجہ کے نو دنوں کے اور یومِ عرفہ کے روزوں کا بیان
3 Hadith
15
حجاج کرام کے لیے نو ذوالحجہ کے روزے کی کراہت کا بیان
10 Hadith
16
اعتکاف اور ماہِ رمضان کے آخری عشرے کی فضیلت کا بیان اعتکاف کی فضیلت اور اس کے زمان و مکان کا بیان
5 Hadith
17
جائے اعتکاف میں داخل ہونے کے وقت کا بیان، نیز جو شخص اس کا عادی ہو اور اس سے بوجہ عذر رہ جائے تو اس کی قضائی کے مستحب ہونے کا بیان
4 Hadith
18
معتکف کے لیے جائز اور ناجائز امور کا بیان
6 Hadith
19
استحاضہ والی خاتون سمیت عورتوں کے اعتکاف کے جواز کا بیان
3 Hadith
20
ماہِ رمضان کے آخری عشرے میں بھرپور کوشش کے ساتھ عبادت کرنے کا بیان
5 Hadith
21
شب ِ قدراور اس کی فضیلت کا بیان، نیز اس امر کا بیان کہ وہ ماہِ رمضان کی کونسی رات ہوتی ہے شب ِ قدر کی فضیلت اور اس رات کی خصوصی دعاء کا بیان
3 Hadith
22
رمضان کے آخری دس یا سات دنوں میں شب ِ قدر کے ہونے کا بیان
5 Hadith
23
شب ِ قدر کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں ہونے یا ماہِ رمضان کی آخری رات ہونے اور اس کی علامتوں کا بیان
3 Hadith
24
ماہِ رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں شب ِ قدر کے ہونے کا بیان
8 Hadith
25
رمضان کی اکیسویں رات کے شب ِ قدر ہونے کا بیان
1 Hadith
26
رمضان کی تئیسویں رات کے شب ِ قدر ہونے کا بیان
7 Hadith
27
رمضان کی چوبیسویں رات کے شب ِ قدر ہونے کا بیان
1 Hadith
28
رمضان کی ستائیسویں رات کے شب ِ قدر ہونے اور اس کی علامتوں کا بیان
9 Hadith
29
حج اور عمرہ کی فضیلت کا بیان
13 Hadith
30
حج کی فرضیت کا بیان
5 Hadith
31
خواتین پر حج کے فرض ہونے اور ان سے متعلقہ بعض مسائل کا بیان
4 Hadith
32
عمر رسیدہ اور مستقل بیمار پر حج کے فرض ہونے کا بیان، بشرطیکہ ان کی طرف سے نیابت ممکن ہو اور میت کی طرف سے حج کے جواز کا بیان، جبکہ اس پر واجب ہو
6 Hadith
33
نابالغ بچے اور غلام کے حج کا صحیح ہونا، جبکہ یہ ان پر واجب نہیں ہوتا
3 Hadith
34
زادِ راہ اور سواری کی دستیابی کے ساتھ ساتھ راستے کا پرامن ہونا اور عورت کے ساتھ محرم کا ہونا حج کی استطاعت میں سے ہے
11 Hadith
35
صاحب استطاعت ہونے کے باوجود حج نہ کرنے والے کے حق میں وعید کا بیان
1 Hadith
No chapter matched that.