TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

داود علیہ السلام کے روزوں یعنی ایک دن روزہ رکھنے اور ایک دن نہ رکھنے کا بیان - داود علیہ السلام کے روزوں یعنی ایک دن روزہ رکھنے اور ایک دن نہ رکھنے کا بیان - یوم عاشوراء - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 13 of یوم عاشوراء in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 13 of 35 · 5 Hadith
۔ (۳۹۷۳) عَنْ صَدَقَۃَ الدِّمَشْقِیِّ قَالَ: جَائَ رَجُلٌ إِلٰی ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌یَسْاَلُہُ عَنِ الصِّیَامِ، فَقَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((إِنَّ مِنْ اَفْضَلِ الصِّیَامِ صِیَامَ اَخِی دَاوُدَ، کَانَ یَصُوْمُیَوْمًا وَیُفْطِرُیَوْمًا۔)) (مسند احمد: ۲۸۷۶)
۔ صدقہ دمشقی کہتے ہیں کہ ایک آدمی سیدنا عبدا للہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس آیا اور روزوں کے بارے میں سوال کیا۔انھوں نے کہا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فرمایا کہ : سب سے زیادہ فضیلت والے روزے میرے بھائی دائود علیہ السلام کے ہیں، وہ ایک دن روزہ رکھتے اور ایک دن ناغہ کرتے تھے۔
Takhreej
(۳۹۷۳) تخر یـج: اسنادہ ضعیف جدا، الفرج بن فضالۃ ضعیف، وابوھرم مجھول، وصدقۃ الدمشقی لایعرف (انظر: ۲۸۷۶)
3973
Zaeef
۔ (۳۹۷۴) عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَحَبُّ الصِّیَامِ إِلَی اللّٰہِ صِیَامُ دَاوُدَ وَاَحَبُّ الصَّلَاۃِ إِلَی اللّٰہِ صَلَاۃُ دَاوُدَ، کَانَ یَنَامُ نِصْفَہُ، وَیَقُوْمُ ثُلُثَہُ وَیَنَامُ سُدُسَہُ، وَکَانَیَصُوْمُیَوْمًا وَیُفْطِرُیَوْمًا۔ (مسند احمد: ۶۴۹۱)
۔ سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: داود علیہ السلام کے روزے اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ محبوب ہیں اور اسی طرح ان کی رات کی نماز اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ پسند ہے، وہ نصف رات سونے کے بعد ایک تہائی رات قیام کرتے اور پھر رات کا چھٹا حصہ سو جاتے، رہا مسئلہ روزوں کا تو وہ ایک دن روزہ رکھتے تھے اور ایک دن ناغہ کرتے تھے۔
Takhreej
(۳۹۷۴) تخر یـج: اخرجہ البخاری: ۱۱۳۱، ومسلم: ۱۱۵۹ (انظر: ۶۴۹۱)
Explanation
فوائد:… داود علیہ السلام ایک تہائی رات قیام کرتے تھے، اگر چھ گھنٹے کی رات ہو تو وہ تین گھنٹے سوتے تھے، دو گھنٹے قیام کرتے تھے اور پھر ایک گھنٹہ سو جاتے تھے۔
3974
Sahih
۔ (۳۹۷۵) عَنْ اَبِی سَلْمَۃَ بْنِ عَبْدِالرَّحْمٰنِ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرِو (بْنِ الْعَاصِ) ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَقَدْ اُخْبِرْتُ اَنَّکَ تَقُوْمُ اللَّیْلَ وَتَصُوْمُ النَّہَارَ؟)) قَالَ: قُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! نَعَمْ، قَالَ: ((فَصُمْ وَاَفْطِرْ وَصَلِّ وَنَمْ، فَإِنَّ لِجَسَدِکَ عَلَیْکَ حَقًّا، وَإِنَّ لِزَوْجِکَ عَلَیْکَ حَقًّا، وَإِنَّ لِزَوْْرِکَ عَلَیْکَ حَقًّا، وَإِنَّ بِحَسْبِکَ اَنْ تَصُوْمَ مِنْ کُلِّ شَہْرٍ ثَلَاثَۃَ اَیَّامٍ۔)) قَالَ: فَشَدَّدْتُّ فَشَدَّدَ عَلَیَّ، قَالَ: فَقُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! إِنِّی اَجِدُ قُوَّۃً، قَالَ: ((فَصُمْ مِنْ کُلِّ جُمُعَۃٍ ثَلَاثَۃَ اَیَّامٍ۔)) قَالَ: فَشَدَّدْتُ فَشَدَّدَ عَلَیَّ، قَالَ: فَقُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! إِنِّی اَجِدُ قُوَّۃً، قَالَ: ((صُمْ صَوْمَ نَبِیِّ اللّٰہِ دَاوُدَ وَلَا تَزِدْ عَلَیْہِ۔)) قَالَ: فَقُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! وَمَا کَانَ صِیَامُ دَاوُدَ (عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَامُ) قَالَ: ((کَانَ یَصُوْمُیَوْمًا وَیُفْطِرُیَوْمًا۔)) (مسند احمد: ۶۸۶۷)
۔ سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھ سے فرمایا: مجھے یہ اطلاع ملی ہے کہ تم ساری رات قیام کرتے ہو اور ہر روز روزہ رکھتے ہو۔ میں نے کہا: جی ہاں، اے اللہ کے رسول! آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: روزہ رکھا کروا ور ناغہ بھی کیا کرو اوررات کو قیام بھی کیا کر اور سویا بھی کر، کیونکہ تیرے جسم کا تجھ پر حق ہے، تیری اہلیہ کا بھی تجھ پر حق ہے اور تیرے مہمان کا تجھ پر حق ہے، مہینہ میں تین روزے رکھ لیا کر،اتنے ہی تیرے لیے کافی ہیں۔ لیکن ہوا یوں کہ میں نے سختی کی،اس لیے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بھی مجھ پر سختی فرمائی۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرے اندر اس سے زیادہ کی طاقت ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو پھر تو ہر ہفتہ میں تین دن روزے رکھ لیا کر۔ لیکن میں نے سختی کی اس لیے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بھی مجھ پر سختی کی اور میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرے اندر اس سے زیادہ روزے رکھنے کی قوت ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو پھر تو اللہ کے نبی دائود علیہ السلام کی طرح روزے رکھ لیا کر اور ان پر اضافہ نہ کر۔ میں نے کہا:اے اللہ کے رسول! دائود علیہ السلام کیسے روزے رکھتے تھے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ ایک دن روزہ رکھتے اور ایک دن ناغہ کرتے تھے۔
Takhreej
(۳۹۷۵) تخر یـج: اخرجہ البخاری: ۱۹۷۵، ۵۱۹۹، ومسلم: ۱۱۵۹ (انظر: ۶۸۶۷)
3975
Sahih
۔ (۳۹۷۶) عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عَمْرِو (بْنِ الْعَاصِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌) قَالَ: اَتَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! مُرْنِی بِصِیَامٍ، قَالَ: ((صُمْ یَوْمًا وَلَکَ اَجْرُ تِسْعَۃٍ۔)) قَالَ: قُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! إِنِّی اَجِدُ قُوَّۃً فَزِدْنِی، قَالَ: ((صُمْ یَوْمَیْنِ وَلَکَ اَجْرُ ثَمَانِیَۃِ اَیَّامٍ۔)) قَالَ: قُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! إِنِّی اَجِدُ قُوَّۃً فَزِدْنِی، قَالَ: ((فَصُمْ ثَلَاثَۃَ اَیَّامٍ وَلَکَ اَجْرُ سَبْعَۃِ اَیَّامٍ۔)) قَالَ: فَمَا زَالَیَحُطُّ لِیْ، حَتَّی قَالَ: ((إِنَّ اَفْضَلَ الصَّوْمِ صَوْمُ أَخِی دَاوُدَ اَوْ نَبِیِّ اللّٰہِ دَاوُدَ شَکَّ الْجُرَیْرِیُّ، صُمْ یَوْمًا وَاَفْطِرْ یَوْمًا۔)) فَقَالَ عَبْدُ اللّٰہِ لَمَّا ضَعُفَ: لَیْتَنِیْ کُنْتُ قَنَعْتُ بِمَا اَمَرَنِی بِہِ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند احمد: ۶۸۷۷)
۔ سیدناعبداللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے روزوں کے متعلق حکم دیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ایک دن روزہ رکھ لیا کرو، تمہیں مزید نو دنوں کا اجر بھی مل جائے گا، (کیونکہ ہر نیکی کا اجر دس گنا ملتا ہے) ۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں اس سے زیادہ طاقت رکھتا ہوں، اس لیے آپ مجھے زیادہ روزے رکھنے کی اجازت دیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا : دو دن روزہ رکھ لیا کرو، تمہیں مزید آٹھ دنوں کا ثواب مل جائے گا۔ لیکن میں نے پھر کہا: اے اللہ کے رسول! مجھ میں اس سے زیادہ کی قوت ہے، لہٰذا آپ مجھے مزید روزوں کی اجازت دیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تین دن روزے رکھ لیا کرو، تمہیں مزید سات دنوں کے روزوں کا ثواب مل جائے گا۔ لیکن میری بار بار گزارش سے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مزید عمل کی مزید گنجائش پیدا کرتے گئے (اور اجر میں کمی کرتے گئے)، یہاں تک کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: سب سے افضل روزے میرے بھائی دائود علیہ السلام کے ہیں، اور وہ اس طرح کہ تم ایک دن روزہ رکھ لیا کرو اور ایک دن ناغہ کر لیا کرو۔ جب سیدنا عبداللہ بوڑھے ہو گئے تو کہا کرتے تھے: کاش کہ میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پہلے حکم پر اکتفا کر لیا ہوتا۔
Takhreej
(۳۹۷۶) تخر یـج: حدیث صحیح بغیر ھذہ السیاقۃ، وھو حدیث ذکرہ الامام احمد فی عدۃ اماکن، أخرج بعض لفظہ البخاری و مسلم، وانظر لتفصیلہ الرقم: ۶۴۷۷ (انظر: ۶۸۷۷)
3976
Sahih
۔ (۳۹۷۷) (وَمِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ): عَنْ اَبِی سَلَمَۃَ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرٍو بِنَحْوِہِ وَفِیْہِ: قَالَ: فَکَانَ عَبْدُ اللّٰہِ یَصُوْمُ ذَالِکَ الصِّیَامَ حَتّٰی اَدْرَکَہُ السِّنُّ وَالضَّعْفُ، کَانَ یَقُوْلُ: لَاَنْ اَکُوْنَ قََبِلْتُ رُخْصَۃَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَحَبُّ إِلَیَّ مِنْ اَہْلِی وَمَالِی۔ (مسند احمد: ۶۸۷۸)
۔ (دوسری سند) سیدناعبداللہ بن عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، …سابقہ حدیث کی طرح ہی بیان کیا…،مزید اس میں ہے: سیدنا عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اسی طرح روزے رکھتے رہے، یہاں تک کہ وہ عمر رسیدہ اور کمزور ہو گئے، اس وقت وہ کہا کرتے تھے: اگر میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی دی ہو ئی رخصت کو قبول کر لیتا تو یہ مجھے میرے اہل وعیال اور مال و دولت سے زیادہ پسند ہوتا۔
Takhreej
(۳۹۷۷) تخر یـج: حدیث صحیح۔ اخرجہ (انظر: )
Explanation
فوائد:… دوسری سندوالی پوری حدیثیہ ہے: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ،، سیدنا عبد اللہ بن عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌کے گھر تشریف لے گئے اور ان سے پوچھا: ’’مجھے تمہارے بارے میں یہ ا طلاع ملی ہے کہ تم رات کو قیام کرتے ہو اور دن کو روزہ رکھتے ہو۔‘‘ انھوں نے کہا: جی ہاں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ’’تمہارے لیےیہی عمل کافی ہے کہ تم ایک ماہ میں تین روزے رکھ لیا کرو، چونکہ ایک نیکی کا ثواب دس گنا ملتا ہے، اس لیے گویا کہ یہ سارے زمانے کے روزے ہو جائیں گے۔‘‘ انھوں نے کہا: لیکن میں نے اپنے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر سختی کی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بھی مجھ پر سختی کی، میں نے کہا: میرے اندر مزید طاقت ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ’’تو پھر تجھے ہر ہفتہ سے تین روزے کفایت کریں گے۔‘‘ لیکن میں نے مزید سختی کی اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بھی مجھ پر سختی کی، میں نے کہا: مجھ میں اس سے زیادہ عمل کی طاقت موجود ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ کے ہاں سب سے بہترین روزے داود علیہ السلام کے روزے ہیں،یعنی نصف زمانہ کے روزے۔‘‘ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ’’تیرے نفس کا تجھ پر حق ہے اور تیرے اہل کا تجھ پر حق ہے۔‘‘ بہرحال سیدنا عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌یہی روزے رکھتے رہے، لیکن جب وہ عمرہ رسیدہ اور کمزور ہو گئے تو وہ کہا کرتے تھے: اگر میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی رخصت قبول کر لی ہوتی تو یہ مجھے میرے اہل و مال سے بہتر تھی۔ یہ وجہ زیادہ اچھی لگتی ہے کہ ایک ایک ناغے سے روزہ رکھنے سے روزوں کی کثرت بھی ہوگی اور یہ کثرت عین مطلوب ہے اور زیادہ مشقت اور کمزوری بھی نہیں ہوگی کیونکہ روزوں کے درمیان ناغہ کر لینے سے روزہ رکھنے سے لاحق ہونے والی کمزوری ساتھ ساتھ دور ہوتی جائے گی اور دیگر حقوق بھی متاثر نہیں ہوں گے۔ (عبداللہ رفیق)
3977
Sahih

Chapters

35
01
یوم عاشوراء کی فضیلت اور فرضیت ِ رمضان سے قبل اس کے روزے کی تاکید کا بیان
16 Hadith
02
ماہِ رمضان کے روزوں کی فرضیت کے بعد یومِ عاشوراء کے روزے کے غیر مؤکّد ہو جانے کا بیان
15 Hadith
03
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ماہِ شعبان میں بکثرت روزے رکھنے اور اس مہینے میں روزوں کی فضیلت
10 Hadith
04
شعبان کے دوسرے نصف میں روزہ رکھنے کی ممانعت اور اس کی رخصت کا بیان
2 Hadith
05
ماہِ صبر یعنی (رمضان) اور باقی مہینوں میں ہر ماہ کے غیر متعین تین روزے رکھنے کا بیان
8 Hadith
06
ایامِ بِیض کے روزوں کا بیان
5 Hadith
07
ہر مہینے میں تین متعین دنوں میں روزے رکھنے کا بیان
4 Hadith
08
ہر ماہ کے ابتدائی تین دنوں میں روزے رکھنے کا بیان
1 Hadith
09
ماہِ شوال کے چھ روزوں کا بیان
3 Hadith
10
شوال، بدھ، جمعرات اور جمعہ کے روزوں کا بیان
2 Hadith
11
ہفتہ اور اتوار کے روزوں کا بیان
1 Hadith
12
سوموار اور جمعرات کے روزوں کے مستحبّ ہونے کا بیان
4 Hadith
13
داود علیہ السلام کے روزوں یعنی ایک دن روزہ رکھنے اور ایک دن نہ رکھنے کا بیان
5 Hadith
14
حاجیوں کے علاوہ دوسرے لوگوں کے لیے ذوالحجہ کے نو دنوں کے اور یومِ عرفہ کے روزوں کا بیان
3 Hadith
15
حجاج کرام کے لیے نو ذوالحجہ کے روزے کی کراہت کا بیان
10 Hadith
16
اعتکاف اور ماہِ رمضان کے آخری عشرے کی فضیلت کا بیان اعتکاف کی فضیلت اور اس کے زمان و مکان کا بیان
5 Hadith
17
جائے اعتکاف میں داخل ہونے کے وقت کا بیان، نیز جو شخص اس کا عادی ہو اور اس سے بوجہ عذر رہ جائے تو اس کی قضائی کے مستحب ہونے کا بیان
4 Hadith
18
معتکف کے لیے جائز اور ناجائز امور کا بیان
6 Hadith
19
استحاضہ والی خاتون سمیت عورتوں کے اعتکاف کے جواز کا بیان
3 Hadith
20
ماہِ رمضان کے آخری عشرے میں بھرپور کوشش کے ساتھ عبادت کرنے کا بیان
5 Hadith
21
شب ِ قدراور اس کی فضیلت کا بیان، نیز اس امر کا بیان کہ وہ ماہِ رمضان کی کونسی رات ہوتی ہے شب ِ قدر کی فضیلت اور اس رات کی خصوصی دعاء کا بیان
3 Hadith
22
رمضان کے آخری دس یا سات دنوں میں شب ِ قدر کے ہونے کا بیان
5 Hadith
23
شب ِ قدر کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں ہونے یا ماہِ رمضان کی آخری رات ہونے اور اس کی علامتوں کا بیان
3 Hadith
24
ماہِ رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں شب ِ قدر کے ہونے کا بیان
8 Hadith
25
رمضان کی اکیسویں رات کے شب ِ قدر ہونے کا بیان
1 Hadith
26
رمضان کی تئیسویں رات کے شب ِ قدر ہونے کا بیان
7 Hadith
27
رمضان کی چوبیسویں رات کے شب ِ قدر ہونے کا بیان
1 Hadith
28
رمضان کی ستائیسویں رات کے شب ِ قدر ہونے اور اس کی علامتوں کا بیان
9 Hadith
29
حج اور عمرہ کی فضیلت کا بیان
13 Hadith
30
حج کی فرضیت کا بیان
5 Hadith
31
خواتین پر حج کے فرض ہونے اور ان سے متعلقہ بعض مسائل کا بیان
4 Hadith
32
عمر رسیدہ اور مستقل بیمار پر حج کے فرض ہونے کا بیان، بشرطیکہ ان کی طرف سے نیابت ممکن ہو اور میت کی طرف سے حج کے جواز کا بیان، جبکہ اس پر واجب ہو
6 Hadith
33
نابالغ بچے اور غلام کے حج کا صحیح ہونا، جبکہ یہ ان پر واجب نہیں ہوتا
3 Hadith
34
زادِ راہ اور سواری کی دستیابی کے ساتھ ساتھ راستے کا پرامن ہونا اور عورت کے ساتھ محرم کا ہونا حج کی استطاعت میں سے ہے
11 Hadith
35
صاحب استطاعت ہونے کے باوجود حج نہ کرنے والے کے حق میں وعید کا بیان
1 Hadith
No chapter matched that.