TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

سوموار اور جمعرات کے روزوں کے مستحبّ ہونے کا بیان - سوموار اور جمعرات کے روزوں کے مستحبّ ہونے کا بیان - یوم عاشوراء - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 12 of یوم عاشوراء in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 12 of 35 · 4 Hadith
۔ (۳۹۶۹) عَنْ اُسَامَۃَ بْنِ زَیْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَصُوْمُ الْاَیَّامَیَسْرُدُ، حَتّٰییُقَالَ: لَا یُفْطِرُ، وَیُفْطِرُ الْاَیَّامَ حَتّٰی لَا یَکَادَ اَنْ یَصُوْمَ إِلَّا یَوْمَیْنِ مِنَ الْجُمُعَۃِ إِنْ کَانَا فِی صِیَامِہِ، وَإلِاَّ صَامَہُمَا، وَلَمْ یَکُنْیَصُوْمُ مِنْ شَہْرٍ مِنَ الشُّہُوْرِ مَا یَصُوْمُ مِنْ شَعْبَانَ، فَقُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! إِنَّکَ تَصُوْمُ لَا تَکَادُ اَنْ تُفْطِرَ وَتُفْطِرُ حَتّٰی لَاتکَادَ اََنْ تَصُوْمَ إِلَّا یَوْمَیْنِ ، إِنْ دَخَلَا فِی صِیَامِکَ وَإلاَّ صُمْتَہُمَا، قَالَ: ((اَیُّیَوْمَیْنِ؟)) قَالَ: قُلْتُ: یَوْمَ الإِثْنَیْنِ وَیَوْمَ الْخَمِیْسِ، قَالَ: ((ذَانِکَ یَوْمَانِ تُعْرَضُ فِیْہِمَا الْاَعْمَالُ عَلٰی رَبِّ الْعَالَمِیْنَ وَاُحِبُّ اَنْ یُعْرَضَ عَمَلِی وَاَنَا صَائِمٌ۔)) قَالَ: قُلْتُ: وَلَمْ اَرَکَ تَصُوْمُ مِنْ شَہْرٍ مِنْ الشُّہُوْرِ مَا تَصُوْمُ مِنْ شَعْبَانَ، قَالَ: ((ذَاکَ شَہْرٌ یَغْفُلُ النَّاسُ عَنْہُ بَیْنَ رَجَبٍ وَرَمَضَانَ، وَہُوَ شَہْرٌ یُرْفَعُ فِیْہِ الْاَعْمَالُ إِلٰی رَبِّ الْعَالَمِیْنَ فَاُحِبُّ اَنْ یُرْفَعَ عَمَلِی وَاَنَا صَائِمٌ۔)) (مسند احمد: ۲۲۰۹۶)
۔ سیدنا اسامہ بن زید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کثرت اور تسلسل کے ساتھ اس قدر روزے رکھتے کہ کہا جاتا کہ اب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کسی روزے کا ناغہ نہیں کریں گے، لیکن پھر جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ناغے شروع کرتے تو اس قدر کثرت سے کرتے کہ ایسے لگتا کہ اب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم روزہ نہیں رکھیں گے، ما سوائے ہفتہ کے دو دنوں کے کہ اگر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مسلسل روزوں میں ان کے روزے رکھ چکے ہوتے تو ٹھیک، وگرنہ افطاری والے دنوں میں ان کا روزہ رکھ لیتے تھے، اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم باقی مہینوں کی بہ نسبت شعبان کے زیادہ روزے رکھتے تھے۔ ایک دن میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! بسا اوقات آپ اس انداز میں لگاتار روزے شروع کر دیتے ہیں کہ لگتا ہے کہ اب آپ ناغہ نہیں کریں گے، لیکن پھر آپ یوں روزے ترک کرنا شروع کر تے ہیں کہ لگتا ہے کہ اب آپ روزہ نہیں رکھیں گے، ما سوائے دو دنوں کے کہ اگر وہ آپ کے روزے میں داخل ہو چکے ہوں تو ٹھیک، وگرنہ صرف ان کے روزہ رکھتے ہیں۔ آپ نے پوچھا: کونسے دو دن؟ میں نے کہا: سوموار اور جمعرات کے دن، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ان دنوں میں لوگوں کے اعمال جہاں کے پروردگار کے سامنے پیش کیے جاتے ہیں اور میں چاہتا ہوں کہ میرے اعمال اللہ تعالیٰ کے حضور اس حال میں پیش کیے جائیں کہ میں روزہ کی حالت میں ہوں۔ میں نے کہا: میں دیکھتا ہوں کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم باقی مہینوں کی بہ نسبت شعبان میں زیادہ روزے رکھتے ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ مہینہ، جو رجب اور رمضان کے درمیان آتا ہے، لوگ اس سے غافل ہیں، حالانکہ اس میں لوگوں کے اعمال ربّ العالمین کے حضور پیش کیے جاتے ہیں اور میں چاہتا ہوں کہ میرے اعمال اللہ کے سامنے اس حال میں پیش کیے جائیں کہ میں اس وقت روزے کی حالت میں ہوں۔
Takhreej
(۳۹۶۹) اسنادہ حسن۔ اخرجہ ابوداود بذکر یوم الاثنین والخمیس فقط: ۲۴۳۶(انظر: ۲۱۷۵۳)
3969
Sahih
۔ (۳۹۷۰) عَنْ مَوْلٰی اُسَامَۃَ بْنِ زَیْدٍ اَنَّہُ انْطَلَقَ مَعَ اُسَامَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ إِلٰی وَادِی الْقُرٰی،یَطْلُبُ مَالاً لَہُ وَکَانَ یَصُوْمُیَوْمَ الإِثْنَیْنِ وَیَوْمَ الْخَمِیْسِ، فَقَالَ لَہٗمَوْلَاہُ: لِمَتَصُوْمُیَوْمَ الإِثْنَیْنِ وَیَوْمَ الْخَمِیْسِ، وَاَنْتَ شَیْخٌ کَبِیْرٌ، قَدْ رَقَقْتَ؟ قَالَ: إِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یَصُوْمُیَوْمَ الإِثْنَیْنِ وَیَوْمَ الْخَمِیْسِ، فَسُئِلَ عَنْ ذَالِکَ فَقَالَ: ((إِنَّ اَعْمَالَ النَّاسِ تُعْرَضُ یَوْمَ الإِثْنَیْنِ وَیَوْمَ الْخَمِیْسِ ))۔ (مسند احمد: ۲۲۰۸۷)
۔ مولائے اسامہ سے روایت ہے کہ وہ سیدنا اسامہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ساتھ وادیٔ قریٰ کی طرف اپنے مال کی تلاش کے لیے جا رہے تھے، وہ سوموار اور جمعرات کے دن روزہ رکھا کرتے تھے۔ غلام نے ان سے کہا: آپ سوموار اور جمعرات کے روزے کیوں رکھتے ہیں، جبکہ اب آپ عمر رسیدہ اور کمزور ہو چکے ہیں۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ان دنوں میں روزہ رکھا کرتے تھے، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اس کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: سوموار اور جمعرات کو لوگوں کے اعمال اللہ تعالیٰ پر پیش کیے جاتے ہیں۔
Takhreej
(۳۹۷۰) تخر یـج: اسنادہ ضعیف لجھالۃ مولی قدامۃ، وجھالۃ مولی اسامۃ، لٰکن المرفوع منہ صحیح بطرقہ وشواہدہ۔ اخرجہ ابوداود: ۲۴۳۶(انظر: ۲۱۷۴۴)
3970
Zaeef
۔ (۳۹۷۱) عَنْ اَبِی ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ اَکْثَرَ مَا یَصُوْمُ الإِثْنَیْنِ وَالْخَمْیِسَ، قَالَ: فَقِیْلَ لَہُ، قَالَ: فَقَالَ: ((إِنَّ الْاَعْمَالَ تُعْرَضُ کُلَّ اثْنَیْنِ وَخَمِیْسٍ اَوْ کُلَّ یَوْمِ اثْنَیْنِ وَخَمِیْسٍ فَیَغْفِرُ اللّٰہُ لِکُلِّ مُسْلِمٍ اَوْ لِکُلِّ مُؤْمِنٍ إِلَّا الْمُتَہَاجِرَیْنِ، فَیَقُوْلُ: اَخِّرْہُمَا۔)) (مسند احمد: ۸۳۴۳)
۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سوموار اور جمعرات کو کثرت سے روزے رکھا کرتے تھے، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اس کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: انسانوں کے اعمال سوموار اور جمعرات کے دن اللہ تعالیٰ پر پیش کیے جاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ ہر مسلمان یا ہر مومن کو بخش دیتا ہے، ما سوائے ان دو آدمیوں کے کہ جن کے درمیان قطع تعلقی ہوتی ہے، ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ کہتا ہے: ان کے معاملے کو مؤخر کر دو۔
Takhreej
(۳۹۷۱) تخر یـج: اخرجہ مسلم: ۲۵۶۵(انظر: ۸۳۶۱)
Explanation
فوائد:… اللہ تعالیٰ کی کتنی کرم نوازی ہے کہ وہ بن مانگے بخش رہا ہے، لیکن جن لوگوں کو ان کی قبیح صفات کی وجہ سے نہیں بخشا جاتا، ان کو فکر کرنی چاہیے، جبکہ صورتحال یہ ہے کہ اس وقت قطع رحمی، دشمنی اور عداوت جیسے مذموم امور مسلمانوں میں عام ہو چکے ہیں۔
3971
Sahih
۔ (۳۹۷۲) عَنْ عاَئِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا اَنَّہَا سُئِلَتْ عَنْ صَوْمِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَتْ: کَانَ یَصُوْمُ شَعْبَانَ وَیَتَحَرَّی الإِثْنَیْنِ وَالْخَمِیْسَ۔ (مسند احمد: ۲۵۰۱۳)
۔ جب سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے روزوں کے بارے میں پوچھا گیا تو انھوں نے کہا: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ماہِ شعبان کے اور خصوصی اہتمام کے ساتھ سوموار اورجمعرات کے روزے رکھتے تھے۔
Takhreej
(۳۹۷۲) تخر یـج: حدیث صحیح۔ اخرجہ النسائی: ۴/ ۲۰۳، والترمذی: ۷۴۵، وابن ماجہ: ۱۶۴۹، ۱۷۳۹(انظر: ۲۴۵۰۸)
Explanation
فوائد:… سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ((تُعْرَضُ الْاَعْمَالُ یَوْمَ الْاِثْنَیْنِ وَالْخَمِیْسِ، فَمِنْ مُسْتَغْفِرٍ فَیَغْفَرُلَہٗ، وَمِنْ تَائِبٍ فَیُتَابُ عَلَیْہِ، وَیُرَدُّ اَھْلُ الضَّغَائِنِ بِضَغَائِنِھِمْ حَتّٰییَتُوْبُوْا۔)) ’’سوموار اور جمعرات کو اعمال پیش کیے جاتے ہیں، پس بخشش طلب کرنے والوں کو بخش دیا جاتا ہے اور توبہ کرنے والوں کی توبہ قبول کی جاتی ہے، البتہ کینہ والوں کو ان کے کینہ سمیت اس وقت تک ردّ کر دیا جاتا ہے، جب تک وہ توبہ نہیں کر لیتے۔‘‘ (طبرانی وقال المنذری: رواتہ ثقات) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ بندے کے نامۂ اعمال میں استغفار اور توبہ کا وجود بھی ہونا چاہیے، تاکہ اسے بخش دیا جائے۔ ان احادیث سے سوموار اور جمعرات کے روزوں کی فضیلت ثابت ہوتی ہے، حدیث نمبر (۳۸۸۶) کے مطابق آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سوموار کو روزہ رکھنے کی ایک وجہ یہ بھی بیان کی ہے: ’’ذَاکَ یَوْمٌ وُلِدْتُّ فِیْہِ، وَاُنْزِلَ عَلَیَّ فِیْہِ۔‘‘ ’’یہ ایسا دن ہے، جس میں میں پیدا ہوا اور اس میں مجھ پر قرآن مجید اتارا گیا۔‘‘
3972
Sahih

Chapters

35
01
یوم عاشوراء کی فضیلت اور فرضیت ِ رمضان سے قبل اس کے روزے کی تاکید کا بیان
16 Hadith
02
ماہِ رمضان کے روزوں کی فرضیت کے بعد یومِ عاشوراء کے روزے کے غیر مؤکّد ہو جانے کا بیان
15 Hadith
03
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ماہِ شعبان میں بکثرت روزے رکھنے اور اس مہینے میں روزوں کی فضیلت
10 Hadith
04
شعبان کے دوسرے نصف میں روزہ رکھنے کی ممانعت اور اس کی رخصت کا بیان
2 Hadith
05
ماہِ صبر یعنی (رمضان) اور باقی مہینوں میں ہر ماہ کے غیر متعین تین روزے رکھنے کا بیان
8 Hadith
06
ایامِ بِیض کے روزوں کا بیان
5 Hadith
07
ہر مہینے میں تین متعین دنوں میں روزے رکھنے کا بیان
4 Hadith
08
ہر ماہ کے ابتدائی تین دنوں میں روزے رکھنے کا بیان
1 Hadith
09
ماہِ شوال کے چھ روزوں کا بیان
3 Hadith
10
شوال، بدھ، جمعرات اور جمعہ کے روزوں کا بیان
2 Hadith
11
ہفتہ اور اتوار کے روزوں کا بیان
1 Hadith
12
سوموار اور جمعرات کے روزوں کے مستحبّ ہونے کا بیان
4 Hadith
13
داود علیہ السلام کے روزوں یعنی ایک دن روزہ رکھنے اور ایک دن نہ رکھنے کا بیان
5 Hadith
14
حاجیوں کے علاوہ دوسرے لوگوں کے لیے ذوالحجہ کے نو دنوں کے اور یومِ عرفہ کے روزوں کا بیان
3 Hadith
15
حجاج کرام کے لیے نو ذوالحجہ کے روزے کی کراہت کا بیان
10 Hadith
16
اعتکاف اور ماہِ رمضان کے آخری عشرے کی فضیلت کا بیان اعتکاف کی فضیلت اور اس کے زمان و مکان کا بیان
5 Hadith
17
جائے اعتکاف میں داخل ہونے کے وقت کا بیان، نیز جو شخص اس کا عادی ہو اور اس سے بوجہ عذر رہ جائے تو اس کی قضائی کے مستحب ہونے کا بیان
4 Hadith
18
معتکف کے لیے جائز اور ناجائز امور کا بیان
6 Hadith
19
استحاضہ والی خاتون سمیت عورتوں کے اعتکاف کے جواز کا بیان
3 Hadith
20
ماہِ رمضان کے آخری عشرے میں بھرپور کوشش کے ساتھ عبادت کرنے کا بیان
5 Hadith
21
شب ِ قدراور اس کی فضیلت کا بیان، نیز اس امر کا بیان کہ وہ ماہِ رمضان کی کونسی رات ہوتی ہے شب ِ قدر کی فضیلت اور اس رات کی خصوصی دعاء کا بیان
3 Hadith
22
رمضان کے آخری دس یا سات دنوں میں شب ِ قدر کے ہونے کا بیان
5 Hadith
23
شب ِ قدر کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں ہونے یا ماہِ رمضان کی آخری رات ہونے اور اس کی علامتوں کا بیان
3 Hadith
24
ماہِ رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں شب ِ قدر کے ہونے کا بیان
8 Hadith
25
رمضان کی اکیسویں رات کے شب ِ قدر ہونے کا بیان
1 Hadith
26
رمضان کی تئیسویں رات کے شب ِ قدر ہونے کا بیان
7 Hadith
27
رمضان کی چوبیسویں رات کے شب ِ قدر ہونے کا بیان
1 Hadith
28
رمضان کی ستائیسویں رات کے شب ِ قدر ہونے اور اس کی علامتوں کا بیان
9 Hadith
29
حج اور عمرہ کی فضیلت کا بیان
13 Hadith
30
حج کی فرضیت کا بیان
5 Hadith
31
خواتین پر حج کے فرض ہونے اور ان سے متعلقہ بعض مسائل کا بیان
4 Hadith
32
عمر رسیدہ اور مستقل بیمار پر حج کے فرض ہونے کا بیان، بشرطیکہ ان کی طرف سے نیابت ممکن ہو اور میت کی طرف سے حج کے جواز کا بیان، جبکہ اس پر واجب ہو
6 Hadith
33
نابالغ بچے اور غلام کے حج کا صحیح ہونا، جبکہ یہ ان پر واجب نہیں ہوتا
3 Hadith
34
زادِ راہ اور سواری کی دستیابی کے ساتھ ساتھ راستے کا پرامن ہونا اور عورت کے ساتھ محرم کا ہونا حج کی استطاعت میں سے ہے
11 Hadith
35
صاحب استطاعت ہونے کے باوجود حج نہ کرنے والے کے حق میں وعید کا بیان
1 Hadith
No chapter matched that.