TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ماہِ شعبان میں بکثرت روزے رکھنے اور اس مہینے میں روزوں کی فضیلت - نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ماہِ شعبان میں بکثرت روزے رکھنے اور اس مہینے میں روزوں کی فضیلت - یوم عاشوراء - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 3 of یوم عاشوراء in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 3 of 35 · 10 Hadith
۔ (۳۹۳۳) عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَعَلٰی آلِہِ وَصَحْبِہِ وَسَلَّم یَصُوْمُ حَتَّی نَقُوْلَ لَا یَفْطِرُ، وَیُفْطِرُ حَتّٰی نَقُوْلَ لَا یَصُوْمُ، وَمَا اسْتَکْمَلَ شَہْرًا قَطُّ إِلَّا رَمَضَانَ، وَمَا رَاَیْتُہُ فِی شَہْرٍ قَطُّ اَکْثَرَ صِیَامًا مِنْہُ فِی شَعْبَانَ۔ (مسند احمد: ۲۵۷۱۰)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: بعض اوقات رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس قدر کثرت سے روزے رکھنا شروع کر دیتے کہ ہم کہتے کہ اب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم روزہ نہیں چھوڑیں گے، لیکن پھر اس قدر طویل عرصہ تک روزہ چھوڑ دیتے کہ ہم سمجھتے کہ اب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نفلیروزے نہیں رکھیں گے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ماہِ رمضان کے علاوہ کسی دوسرے مہینے کے پورے روزے نہیں رکھے تھے اور میں نے نہیں دیکھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے شعبان کی بہ نسبت کسی دوسرے مہینے میں زیادہ روزے رکھے ہوں۔
Takhreej
(۳۹۳۳) تخر یـج: اخرجہ البخاری: ۱۹۶۹،ومسلم: ۱۱۵۶(انظر: ۲۵۱۹۵)
3933
Sahih
۔ (۳۹۳۴) (وَعَنْہَا مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ، بِنَحْوِہِ) وَزَادَتْ: کَانَ یَصُوْمُ شَعْبَانَ کَلَّہُ إِلَّا قَلِیْلًا بَلْ کَانَ یَصُوْمُ شَعْبَانَ کَلَّہُ ۔ (مسند احمد: ۲۵۶۱۴)
۔ (دوسری سند) اس میں یہ اضافہ ہے: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ماہِ شعبان میں شاذو نادر ہی کسی دن کا روزہ چھوڑتے تھے، بلکہ یوں کہہ دینا چاہیے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پورے ماہِ شعبان کے روزے رکھتے تھے۔
Takhreej
(۳۹۳۴) تخر یـج: انظر الحدیث بالطریق الاول
3934
Sahih
۔ (۳۹۳۵) وَعَنْہَا اَیْضًا قَالَتْ: مَا کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَصُوْمُ مِنْ شَہْرٍ مِنَ السَّنَۃِ اَکْثَرَ مِنْ صِیَامِہِ فِی شَعْبَانَ، کَانَ یَصُوْمُہُ کُلَّہُ۔ (مسند احمد: ۲۵۰۴۹)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سال کے کسی مہینہ میں شعبان سے زیادہ روزے نہیں رکھتے تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم گویا پورے شعبان کے روزے رکھتے تھے۔
Takhreej
(۳۹۳۵) تخر یـج: انظر الحدیث السابق
Explanation
فوائد:… ان روایات میں ’’کُلٌّ‘‘ اور اس کے معانی پر دلالت کرنے والے دوسرے الفاظ مجازی معنی میں استعمال ہوئے ہیں، ان سے مراد اکثر دنوں کے روزے رکھنا ہیں۔
3935
Sahih
۔ (۳۹۳۶) وَعَنْہَا ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَعَلٰی آلِہِ وَصَحْبِہِ وَسَلَّم یَصُوْمُ حَتّٰی نَقُوْلَ مَا یُرِیْدُ اَنْ یُفْطِرَ ، وَیُفْطِرُحَتّٰی نَقُوْلَ مَا یُرِیْدُ اَنْ یَصُوْمَ، وَکَانَ یَقْرَئُ کُلَّ لَیْلَۃٍ بَنِیإِسْرَائِیْلَ وَالزُّمَرَ۔ (مسند احمد: ۲۵۴۲۰)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کا بیان ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بعض اوقات تو اس قدرکثرت سے روزے رکھتے کہ ہم کہنے لگتے کہ اب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم روزے نہ چھوڑیں گے، لیکن پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اتنے لمبے عرصے کے لیے روزے چھوڑ دیتے کہ ہمیں یہ خیال آنے لگتا کہ اب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم روزے نہیں رکھیں گے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہر رات کو سورۂ بنی اسرائیل اور سورۂ زمر کی تلاوت کیا کرتے تھے۔
Takhreej
(۳۹۳۶) حدیث صحیح۔ اخرجہ الترمذی: ۲۹۲۰، ۳۴۰۵، والنسائی: ۴/ ۱۹۹(انظر: ۲۴۹۰۸)
3936
Sahih
۔ (۳۹۳۷) عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ اَبِی قَیْسٍ اَنَّہُ سَمِعَ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا تَقُوْلُ: کَانَ اَحَبَّ الشُّہُوْرِ إِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنْ یَّصُوْمَہُ شَعْبَانُ، ثُمَّ یَصِلُہُ بِرَمَضَانَ۔ (مسند احمد: ۲۶۰۶۴)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو نفلی روزے رکھنے کے لیے سب سے زیادہ پسندیدہ شعبان کا مہینہ تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس ماہ میں روزے رکھ کر اسے ماہِ رمضان کے ساتھ ملا دیتے۔
Takhreej
(۳۹۳۷) تخر یـج: اسنادہ صحیح۔ اخرجہ ابوداود: ۲۴۳۱، والنسائی: ۴/ ۱۹۹(انظر: ۲۵۵۴۸)
3937
Sahih
۔ (۳۹۳۸) عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سُئِلَتْ عَنْ صَوْمِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، قَالَتْ: کَانَ یَصُوْمُ شَعْبَانَ وَیَتَحَرَّی الإِثْنَیْنِ وَالْخَمِیْسَ۔ (مسند احمد: ۲۵۰۱۳)
۔ خالد بن معدان کہتے ہیں کہ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے نفلی روزوں کے متعلق پوچھا کیا گیا، انہوں نے کہا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ماہِ شعبان میں روزے رکھتے تھے اور سوموار اور جمعرات کے دنوں کے روزے کا خصوصی اہتمام کرتے تھے۔
Takhreej
(۳۹۳۸) تخر یـج: حدیث صحیح۔ اخرجہ الترمذی: ۷۴۵، والنسائی: ۴/ ۲۰۳(انظر: ۲۴۵۰۸)
3938
Sahih
۔ (۳۹۳۹) عَنْ اُمِّ سَلَمَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یَصُوْمُ شَعْبَانَ وَرَمَضَانَ۔ (مسند احمد: ۲۷۰۵۲)
۔ سیدہ ام سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم شعبان اور رمضان کے مہینوں میں روزے رکھا کرتے تھے۔
Takhreej
(۳۹۳۹) تخر یـج: حدیث صحیح۔ اخرجہ ابن ماجہ: ۱۶۴۸، والنسائی: ۴/۲۰۰(انظر: ۲۶۵۱۷)
3939
Sahih
۔ (۳۹۴۰) وَعَنْہَا اَیْضًا ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: مَا رَاَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صَامَ شَہْرَیْنِ مُتَتَابِعَیْنِ إِلَّا اَنَّہُ کَانَ یَصِلُ شَعْبَانَ بِرَمَضَانَ۔ (مسند احمد: ۲۷۰۹۷)
۔ سیدہ ام سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے یہ بھی روایت ہے، وہ کہتی ہیں: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو کبھی نہیں دیکھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دو ماہ کے لگاتار روزے رکھے ہوں، ماسوائے اس صورت کے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم شعبان کو رمضان کے ساتھ ملا دیتے تھے۔
Takhreej
(۳۹۴۰) تخر یـج: اسنادہ صحیح۔ اخرجہ الترمذی: ۷۳۶، والنسائی: ۴/ ۱۵۰(انظر: ۲۶۵۶۲)
3940
Sahih
۔ (۳۹۴۱) عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَصُوْمُ فَلَا یُفْطِرُ حَتّٰی نَقُوْلَ: مَا فِی نَفْسِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنْ یُفْطِرَ الْعَامَ، ثُمَّ یُفْطِرُ فَلَا یَصُوْمُ حَتّٰی نَقُوْلَ: مَا فِی نَفْسِہِ اَنْ یَصُوْمَ الْعَامَ، وَکَانَ اَحَبُّ الصَّوْمِ إِلَیْہِ فِی شَعْبَانَ۔ (مسند احمد: ۱۳۴۳۶)
۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ بسا اوقات رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بغیر ناغہ کیے اس انداز میں نفلی روزے رکھنا شروع کر دیتے، کہ ہم کہنے لگتے کہ اس سال تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا ارادہ کوئی روزہ ترک نہ کرنے کا ہے، لیکن پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم (اس تسلسل کے ساتھ) روزے چھوڑنا شروع کر دیتے کہ ہم کہنے لگتے کہ اس سال آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کوئی روزہ نہیں رکھنا۔ ماہِ شعبان کے روزے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو سب سے زیادہ پسند تھے۔
Takhreej
(۳۹۴۱) تخر یـج: اسنادہ ضعیف، عثمان بن رشید ضعّفہ یحیی بن معین۔ اخرجہ الطبرانی فی ’’الاوسط‘‘: ۴۷۶۳ (انظر: ۱۳۴۰۳)
3941
Zaeef
۔ (۳۹۴۲) عَنْ اُسَامَۃَ بْنِ زَیْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: قُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! لَمْ اَرَکَ تَصُوْمُ مِنْ شَہْرِ مِنَ الشُّہُوْرِ مَا تَصُوْمُ مِنْ شَعْبَانَ؟ قَالَ: ((ذَالِکَ شَہْرٌ یَغْفُلُ النَّاسُ عَنْہُ، بَیْنَ رَجَبٍ وَرَمَضَانَ ،وَہُوَ شَہْرٌ یُرْفَعُ فِیْہِ الْاَعْمَالُ إِلٰی رَبِّ الْعَالَمِیْنَ، فَاُحِبُّ اَنْ یُرْفَعُ عَمَلِیْ وَاَنَا صَائِمٌ)) (مسند احمد: ۲۲۰۹۶)
۔ سیدنا اسامہ بن زید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے دیکھا ہے کہ آپ ماہِ شعبان میں باقی مہینوں کی بہ نسبت زیادہ روزے رکھتے ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ مہینہ، جو رجب اور رمضان کے وسط میں ہے، اس سے لوگ غافل ہیں،یہ ایسا مہینہ ہے کہ اس میں لوگوں کے اعمال رب العالمین کی طرف اٹھائے جاتے ہیںاور میں چاہتا ہوں کہ میرے اعمال اس حال میں اوپر جائیں کہ میں روزہ سے ہوں۔
Takhreej
(۳۹۴۲) تخر یـج: اسنادہ حسن۔ اخرجہ النسائی: ۴/ ۲۰۱(انظر: ۲۱۷۵۳)
Explanation
فوائد:… اس حدیث ِ مبارکہ میں شعبان میں روزے رکھنے کی وجہ بیان کی گئی ہے۔ اس باب کی احادیث سے پتہ چلا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رمضان المبارک کے بعد سب سے زیادہ روزے شعبان میں رکھا کرتے تھے، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے شعبان کے دوسرے نصف میں روزے رکھنے سے منع بھی کیا ہے، جیسا کہ اگلے باب کی احادیث سے معلوم ہو گا۔ جمع تطبیق کے لیے حدیث نمبر (۳۶۹۲)دیکھیں۔ ایک اشکال اور اس کا جواب: اللہ تعالیٰ کے حضور اعمال کے پیش ہونے کے بارے میں تین قسم کی احادیث مروی ہیں: (۱)ہر روز، (۲) ہر سوموار اور جمعرات کو اور (۳) شعبان میں۔ یہ تینوں احادیث برحق ہیں، ہر روز کا اورپھر تین تین دنوں کاعلیحدہ علیحدہ ریکارڈ پیش کیا جاتا ہے، پھر سال کے بعد سال کا حساب و کتاب پیش کیا جاتا ہے، جبکہ اس نظام کی حکمتوںکا علم صرف اللہ تعالیٰ کو ہے۔
3942
Sahih

Chapters

35
01
یوم عاشوراء کی فضیلت اور فرضیت ِ رمضان سے قبل اس کے روزے کی تاکید کا بیان
16 Hadith
02
ماہِ رمضان کے روزوں کی فرضیت کے بعد یومِ عاشوراء کے روزے کے غیر مؤکّد ہو جانے کا بیان
15 Hadith
03
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ماہِ شعبان میں بکثرت روزے رکھنے اور اس مہینے میں روزوں کی فضیلت
10 Hadith
04
شعبان کے دوسرے نصف میں روزہ رکھنے کی ممانعت اور اس کی رخصت کا بیان
2 Hadith
05
ماہِ صبر یعنی (رمضان) اور باقی مہینوں میں ہر ماہ کے غیر متعین تین روزے رکھنے کا بیان
8 Hadith
06
ایامِ بِیض کے روزوں کا بیان
5 Hadith
07
ہر مہینے میں تین متعین دنوں میں روزے رکھنے کا بیان
4 Hadith
08
ہر ماہ کے ابتدائی تین دنوں میں روزے رکھنے کا بیان
1 Hadith
09
ماہِ شوال کے چھ روزوں کا بیان
3 Hadith
10
شوال، بدھ، جمعرات اور جمعہ کے روزوں کا بیان
2 Hadith
11
ہفتہ اور اتوار کے روزوں کا بیان
1 Hadith
12
سوموار اور جمعرات کے روزوں کے مستحبّ ہونے کا بیان
4 Hadith
13
داود علیہ السلام کے روزوں یعنی ایک دن روزہ رکھنے اور ایک دن نہ رکھنے کا بیان
5 Hadith
14
حاجیوں کے علاوہ دوسرے لوگوں کے لیے ذوالحجہ کے نو دنوں کے اور یومِ عرفہ کے روزوں کا بیان
3 Hadith
15
حجاج کرام کے لیے نو ذوالحجہ کے روزے کی کراہت کا بیان
10 Hadith
16
اعتکاف اور ماہِ رمضان کے آخری عشرے کی فضیلت کا بیان اعتکاف کی فضیلت اور اس کے زمان و مکان کا بیان
5 Hadith
17
جائے اعتکاف میں داخل ہونے کے وقت کا بیان، نیز جو شخص اس کا عادی ہو اور اس سے بوجہ عذر رہ جائے تو اس کی قضائی کے مستحب ہونے کا بیان
4 Hadith
18
معتکف کے لیے جائز اور ناجائز امور کا بیان
6 Hadith
19
استحاضہ والی خاتون سمیت عورتوں کے اعتکاف کے جواز کا بیان
3 Hadith
20
ماہِ رمضان کے آخری عشرے میں بھرپور کوشش کے ساتھ عبادت کرنے کا بیان
5 Hadith
21
شب ِ قدراور اس کی فضیلت کا بیان، نیز اس امر کا بیان کہ وہ ماہِ رمضان کی کونسی رات ہوتی ہے شب ِ قدر کی فضیلت اور اس رات کی خصوصی دعاء کا بیان
3 Hadith
22
رمضان کے آخری دس یا سات دنوں میں شب ِ قدر کے ہونے کا بیان
5 Hadith
23
شب ِ قدر کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں ہونے یا ماہِ رمضان کی آخری رات ہونے اور اس کی علامتوں کا بیان
3 Hadith
24
ماہِ رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں شب ِ قدر کے ہونے کا بیان
8 Hadith
25
رمضان کی اکیسویں رات کے شب ِ قدر ہونے کا بیان
1 Hadith
26
رمضان کی تئیسویں رات کے شب ِ قدر ہونے کا بیان
7 Hadith
27
رمضان کی چوبیسویں رات کے شب ِ قدر ہونے کا بیان
1 Hadith
28
رمضان کی ستائیسویں رات کے شب ِ قدر ہونے اور اس کی علامتوں کا بیان
9 Hadith
29
حج اور عمرہ کی فضیلت کا بیان
13 Hadith
30
حج کی فرضیت کا بیان
5 Hadith
31
خواتین پر حج کے فرض ہونے اور ان سے متعلقہ بعض مسائل کا بیان
4 Hadith
32
عمر رسیدہ اور مستقل بیمار پر حج کے فرض ہونے کا بیان، بشرطیکہ ان کی طرف سے نیابت ممکن ہو اور میت کی طرف سے حج کے جواز کا بیان، جبکہ اس پر واجب ہو
6 Hadith
33
نابالغ بچے اور غلام کے حج کا صحیح ہونا، جبکہ یہ ان پر واجب نہیں ہوتا
3 Hadith
34
زادِ راہ اور سواری کی دستیابی کے ساتھ ساتھ راستے کا پرامن ہونا اور عورت کے ساتھ محرم کا ہونا حج کی استطاعت میں سے ہے
11 Hadith
35
صاحب استطاعت ہونے کے باوجود حج نہ کرنے والے کے حق میں وعید کا بیان
1 Hadith
No chapter matched that.