TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

جائے اعتکاف میں داخل ہونے کے وقت کا بیان، نیز جو شخص اس کا عادی ہو اور اس سے بوجہ عذر رہ جائے تو اس کی قضائی کے مستحب ہونے کا بیان - جائے اعتکاف میں داخل ہونے کے وقت کا بیان، نیز جو شخص اس کا عادی ہو اور اس سے بوجہ عذر رہ جائے تو اس کی قضائی کے مستحب ہونے کا بیان - یوم عاشوراء - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 17 of یوم عاشوراء in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 17 of 35 · 4 Hadith
۔ (۳۹۹۶) عَنْ عَمْرَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِذَا اَرَادَ اَنْ یَعْتَکِفَ صَلَّی الصُّبْحَ ثُمَّ دَخَلَ فِی الْمَکَانِ الَّذِیْیُرِیْدُ اَنْ یَعْتَکِفَ فِیْہِ، فَاَرَدَا اَنْ یَعْتََکِفَ الْعَشْرَ الْاَوَاخِرَ مِنْ رَمَضَانَ فَاَمَرَ فَضُرِبَ لَہُ خِبَائٌ، وَاَمَرَتْ عَائِشَۃُ فَضُرِبَ لَہَا خِبَائٌ، وَاَمَرَتْ حَفْصَۃُ فَضُرِبَ لَہَا خِبَائٌ، فَلَمَّا رَاَتْ زَیْنَبُ خِبَائَہُمَا اَمَرَتْ فَضُرِبَ لَہَاخِبَائٌ، فَلَمَّا رَاٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ذَالِکَ قَالَ: ((آلْبِرَّ تُرِدْنَ؟)) فَلَمْ یَعْتَکِفْ فِی رَمَضَانَ وَاعْتَکَفَ عَشْرًا مِنْ شَوَّالٍ۔ (مسند احمد: ۲۶۴۲۲)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب اعتکاف کا ارادہ کرتے تو نمازِ فجر پڑھنے کے بعد جائے اعتکاف میں داخل ہوتے ، ایک دفعہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے رمضان کے آخری عشرہ میں اعتکاف کا ارادہ کیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے حکم پر ایک خیمہ نصب کر دیا گیا، سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے بھی حکم دیا تو ان کے لیے بھی خیمہ لگا دیا گیا،پھر سیدہ حفصہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے حکم دیا تو ان کے لیے بھی خیمہ نصب کر دیا گیا، جب سیدہ زینب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے ان کے خیمے دیکھے تو انہوں نے بھی اپنے لیے خیمہ لگانے کا حکم دیا، پس ان کے لیے بھی خیمہ لگا دیا گیا، جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ حال دیکھا تو فرمایا: کیا تم نیکی کا ارادہ رکھتی ہو؟ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس رمضان میں اعتکاف نہ کیا اور (اس کی قضائی دیتے ہوئے) شوال میں دس دن کا اعتکاف کیا۔
Takhreej
(۳۹۹۶) تخر یـج: اخرجہ البخاری: ۲۰۴۵، ومسلم: ۱۱۷۳(انظر: ۲۵۸۹۷)
Explanation
فوائد:… آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کویہ خطرہ محسوس ہوا کہ امہات المؤمنین کے اعتکاف کی بنیاد فخر اور مقابلہ بازی ہے، اس وجہ سے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سرے سے اعتکاف ہی ترک کر دیا۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ کسی مصلحت کے لیے افضل کام کو بھی چھوڑا جا سکتا ہے اور یہ بھی معلوم ہوا کہ اعتکاف شروع کردینے سے یا اس کی نیت کر لینے سے واجب نہیں ہو جاتا۔ آخری عشرے کا آغازبیسویں روزے کی شام کو ہو جاتا ہے، یہی وجہ ہے کہ اعتکاف کرنے والے یہ روزہ افطار کرنے سے پہلے یعنی اکیسویںرات شروع ہونے سے پہلے مسجد میں پہنچ جاتے ہیں، لیکن اس حدیث کے ابتدائی حصے سے ثابت ہوتا ہے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نمازِ فجر پڑھ کر جائے اعتکاف میں داخل ہوتے تھے، اس اشکال کے درج ذیل مختلف جوابات دیئے گئے ہیں: (۱)آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پوری اکیسویں رات کو اپنے خیمے سے باہر مسجد میں قیام کرتے رہے، پھر نمازِ فجر پڑھ کر خیمے میں داخل ہوئے، یہی رائے درست معلوم ہوتی ہے۔ (۲)اعتکاف کا آغاز ہی نمازِ فجر سے ہوتا ہے، یہ امام اوزاعی اور امام ثوری وغیرہ کا خیال ہے۔
3996
Sahih
۔ (۳۹۹۷) عَنْ اُبَیِّ بْنِ کَعْبِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یَعْتَکِفُ فِی الْعَشْرِ الْاَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ فَسَافَرَ سَنَۃً فَلَمْ یَعْتَکِفْ، فَلَمَّا کَانَ الْعَامُ الْمُقْبِلُ اِعْتَکَفَ عِشْرِیْنَیَوْمًا۔ (مسند احمد: ۲۱۶۰۰)
۔ سیدنا ابی بن کعب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ماہِ رمضان کے آخری عشرے کا اعتکاف کیا کرتے تھے، لیکن ایک سال آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو ایک سفر کرنا پڑ گیا، جس کی وجہ سے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اعتکاف نہ کر سکے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اگلے سال کو بیس دن کا اعتکاف کیا تھا۔
Takhreej
(۳۹۹۷) اسنادہ صحیح علی شرط مسلم۔ اخرجہ ابوداود: ۲۴۶۳، وابن ماجہ: ۱۷۷۰(انظر: ۲۱۲۷۷)
3997
Sahih
۔ (۳۹۹۸) عَنْ اَنَسِ (بْنِ مَالِکٍ) ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کَانَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِذَا کَانَ مُقِیْمًا اِعتْکَفَ َالْعَشْرَ الْاَوَاخِرَ مِنْ رَمَضَانَ وَإِذَا سَافَرَ اِعْتَکَفَ مِنَ الْعَامِ الْمُقْبِلِ عِشْرِیْنَ۔ (مسند احمد: ۱۲۰۴۰)
۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مقیم ہوتے تو ماہِ رمضان کے آخری عشرے کا اعتکاف کرتے، لیکن اگر اس دوران سفر پر چلے جاتے تو اگلے سال بیس دن کا اعتکاف کرتے۔
Takhreej
(۳۹۹۸) تخر یـج: اسنادہ صحیح علی شرط الشیخین۔ اخرجہ الترمذی: ۸۰۳(انظر: ۱۲۰۱۷)
Explanation
فوائد:… معلوم ہوا کہ اگر کسی عذر کی وجہ سے اعتکاف رہ جائے تو اگلے رمضان میںیا اس سے پہلے کسی اور مہینے میں اس کی قضائی دی جا سکتی ہے۔
3998
Sahih
۔ (۳۹۹۹) عَنْ اَبِی ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَعْتَکِفُ الْعَشْرَ الْاَوَاخِرَ مِنْ رَمَضَانَ وَالْعَشْرَ الْاَوْسَطَ، فَمَاتَ حِیْنَ مَاتَ یَعْتَکِفُ عِشْرِیْنَیَوْمًا۔ (مسند احمد: ۹۲۰۱)
۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ماہِ رمضان کے آخری اور درمیانی دو عشروں کا اعتکاف کرتے تھے، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا انتقال ہوا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بیس دنوں کا اعتکاف کرتے تھے۔
Takhreej
(۳۹۹۹) تخر یـج: اخرجہ البخاری: ۲۰۴۴، ۴۹۹۸(انظر: ۹۲۱۲)
Explanation
فوائد:… اس حدیث ِ مبارکہ میں مذکورہ بیس دنوں کے اعتکاف کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں: (۱)آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے عمر کے آخری حصے میں زیادہ خیر و بھلائی جمع کرنے کے لیے اعتکاف کی مقدار میں اضافہ کیا۔ (۲)ممکن ہے کہ اس باب کی دوسرییا تیسری حدیث کے مطابق دی گئی قضائی ان ہی دنوں پیش آئی ہو۔ (۳) ہر رمضان میں جبرائیل علیہ السلام ، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ قرآن مجید کا ایک دفعہ دور کیا کرتے تھے، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی وفات والے سال میں یہ دور دو دفعہ کیا تھا، ممکن ہے کہ اس وجہ سے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بیس روز کا اعتکاف کیا ہو۔ جو معنی بھی کیا جائے، یہ مسئلہ اپنی جگہ پر تسلیم شدہ ہے کہ اعتکاف کی قضائی دینا بھی درست ہے اور دس دنوں سے زیادہ اعتکاف کرنا بھی درست ہے۔
3999
Sahih

Chapters

35
01
یوم عاشوراء کی فضیلت اور فرضیت ِ رمضان سے قبل اس کے روزے کی تاکید کا بیان
16 Hadith
02
ماہِ رمضان کے روزوں کی فرضیت کے بعد یومِ عاشوراء کے روزے کے غیر مؤکّد ہو جانے کا بیان
15 Hadith
03
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ماہِ شعبان میں بکثرت روزے رکھنے اور اس مہینے میں روزوں کی فضیلت
10 Hadith
04
شعبان کے دوسرے نصف میں روزہ رکھنے کی ممانعت اور اس کی رخصت کا بیان
2 Hadith
05
ماہِ صبر یعنی (رمضان) اور باقی مہینوں میں ہر ماہ کے غیر متعین تین روزے رکھنے کا بیان
8 Hadith
06
ایامِ بِیض کے روزوں کا بیان
5 Hadith
07
ہر مہینے میں تین متعین دنوں میں روزے رکھنے کا بیان
4 Hadith
08
ہر ماہ کے ابتدائی تین دنوں میں روزے رکھنے کا بیان
1 Hadith
09
ماہِ شوال کے چھ روزوں کا بیان
3 Hadith
10
شوال، بدھ، جمعرات اور جمعہ کے روزوں کا بیان
2 Hadith
11
ہفتہ اور اتوار کے روزوں کا بیان
1 Hadith
12
سوموار اور جمعرات کے روزوں کے مستحبّ ہونے کا بیان
4 Hadith
13
داود علیہ السلام کے روزوں یعنی ایک دن روزہ رکھنے اور ایک دن نہ رکھنے کا بیان
5 Hadith
14
حاجیوں کے علاوہ دوسرے لوگوں کے لیے ذوالحجہ کے نو دنوں کے اور یومِ عرفہ کے روزوں کا بیان
3 Hadith
15
حجاج کرام کے لیے نو ذوالحجہ کے روزے کی کراہت کا بیان
10 Hadith
16
اعتکاف اور ماہِ رمضان کے آخری عشرے کی فضیلت کا بیان اعتکاف کی فضیلت اور اس کے زمان و مکان کا بیان
5 Hadith
17
جائے اعتکاف میں داخل ہونے کے وقت کا بیان، نیز جو شخص اس کا عادی ہو اور اس سے بوجہ عذر رہ جائے تو اس کی قضائی کے مستحب ہونے کا بیان
4 Hadith
18
معتکف کے لیے جائز اور ناجائز امور کا بیان
6 Hadith
19
استحاضہ والی خاتون سمیت عورتوں کے اعتکاف کے جواز کا بیان
3 Hadith
20
ماہِ رمضان کے آخری عشرے میں بھرپور کوشش کے ساتھ عبادت کرنے کا بیان
5 Hadith
21
شب ِ قدراور اس کی فضیلت کا بیان، نیز اس امر کا بیان کہ وہ ماہِ رمضان کی کونسی رات ہوتی ہے شب ِ قدر کی فضیلت اور اس رات کی خصوصی دعاء کا بیان
3 Hadith
22
رمضان کے آخری دس یا سات دنوں میں شب ِ قدر کے ہونے کا بیان
5 Hadith
23
شب ِ قدر کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں ہونے یا ماہِ رمضان کی آخری رات ہونے اور اس کی علامتوں کا بیان
3 Hadith
24
ماہِ رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں شب ِ قدر کے ہونے کا بیان
8 Hadith
25
رمضان کی اکیسویں رات کے شب ِ قدر ہونے کا بیان
1 Hadith
26
رمضان کی تئیسویں رات کے شب ِ قدر ہونے کا بیان
7 Hadith
27
رمضان کی چوبیسویں رات کے شب ِ قدر ہونے کا بیان
1 Hadith
28
رمضان کی ستائیسویں رات کے شب ِ قدر ہونے اور اس کی علامتوں کا بیان
9 Hadith
29
حج اور عمرہ کی فضیلت کا بیان
13 Hadith
30
حج کی فرضیت کا بیان
5 Hadith
31
خواتین پر حج کے فرض ہونے اور ان سے متعلقہ بعض مسائل کا بیان
4 Hadith
32
عمر رسیدہ اور مستقل بیمار پر حج کے فرض ہونے کا بیان، بشرطیکہ ان کی طرف سے نیابت ممکن ہو اور میت کی طرف سے حج کے جواز کا بیان، جبکہ اس پر واجب ہو
6 Hadith
33
نابالغ بچے اور غلام کے حج کا صحیح ہونا، جبکہ یہ ان پر واجب نہیں ہوتا
3 Hadith
34
زادِ راہ اور سواری کی دستیابی کے ساتھ ساتھ راستے کا پرامن ہونا اور عورت کے ساتھ محرم کا ہونا حج کی استطاعت میں سے ہے
11 Hadith
35
صاحب استطاعت ہونے کے باوجود حج نہ کرنے والے کے حق میں وعید کا بیان
1 Hadith
No chapter matched that.