TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

پانچ رکعت نمازِ وترکا بیان - پانچ رکعت نمازِ وترکا بیان - رات کی نماز اور وتر کے ابواب - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 4 of رات کی نماز اور وتر کے ابواب in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 4 of 5 · 16 Hadith
۔ (۲۲۰۹) عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یُصَلِّیْ مِنَ اللَّیْلِ ثَلَاثَ عَشْرَۃَ رَکْعَۃًیُوْتِرُ بَخَمْسٍ وَلَا یَجْلِسُ إِلاَّ فِی الْخَامِسَۃِ فَیُسَلِّمُ۔ (مسند احمد: ۲۴۷۴۳)
سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رات کوتیرہ رکعت نماز پڑھتے تھے، ان میں پانچ رکعت نمازِ وتر ہوتی تھی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم (یہ پانچ رکعتیں اکٹھی ادا کرتے) اور پانچویں کے بعد تشہد کے لیے بیٹھتے اور پھر سلام پھیرتے۔
Takhreej
(۲۲۰۹) تخریج: أخرجہ البخاری: ۱۱۷۰، ومسلم: ۷۳۷، وروایۃ البخاری دون ذکر صلاۃ الوتر (انظر: ۲۴۲۳۹، ۲۵۴۴۷)
2209
Sahih
۔ (۲۲۱۰) (وَعَنْہَا مِنْ طَرِیقٍ ثَانٍ) قَالَتْ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُصَلِّیْ مِنَ اللَّیْلِ ثَلَاثَ عَشْرَۃَ رَکْعَۃً بِرَکْعَتَیْۃِ بَعْدَ الْفَجْرِ قَبْلَ الصُّبْحِ، إِحْدٰی عَشْرَۃَ رَکْعَۃً مِنَ اللَّیْلِ، سِتٌّ مِنْہَا مَثْنٰی مَثْنٰی وَیُوْتِرُبِخَمْسٍ لَایَقْعُدُ فِیْہِنَّ۔ (مسند احمد: ۲۶۸۹۰)
۔ (دوسری سند) وہ کہتی ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رات کو تیرہ رکعات نماز پڑھتے تھے، ان میں وہ دو سنتیں بھی شامل ہوتیں، جو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم طلوعِ فجر کے بعد اور نمازِ فجر سے پہلے پڑھتے تھے، اس طرح رات کی کل گیارہ رکعتیں رہ گئیں، ان میں سے چھ رکعتیں تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم دو دو کر کے ادا کرتے اور پانچ وتر اس طرح ادا کرتے کہ (درمیانے تشہد کے لیے) بیٹھتے نہیں تھے۔
Takhreej
(۲۲۱۰) تخریج: حدیث صحیح- أخرجہ ابوداود: ۱۳۵۹، وانظر الحدیث بالطریق الاول (انظر: ۲۶۳۵۸)
2210
Sahih
۔ (۲۲۱۱) عَنْ أُمِّ سَلَمَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُوْتِرُ بِسَبْعٍ وَبِخَمْسٍ لَایَفْصِلُ بَیْنَہُنَّ بِسَلَامٍ وَلَا بِکَلَامٍ۔ (مسند احمد: ۲۷۰۱۹)
سیدہ ام سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سات اور پانچ وتر پڑھتے تھے اوران میں سلام یا کلام کے ساتھ فاصلہ نہیں کرتے تھے۔
Takhreej
(۲۲۱۱) تخریج: اسنادہ ضعیف لانقطاعہ، مِقسم لم یسمع من ام سلمۃ- أخرجہ النسائی: ۳/ ۲۳۹ (انظر: ۲۶۴۸۶)
Explanation
فوائد:… ان احادیث سے ثابت ہوا کہ پانچ رکعت وتر ادا کرنا مسنون عمل ہے، جبکہ ان رکعات کو ایک سلام کے ساتھ اور درمیانے تشہد کے بغیر ادا کیا جائے گا۔
2211
Zaeef
۔ (۲۲۱۲) عَنْ أَبِیْ أُمَامَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُوْتِرُ بِتِسْعٍ حَتّٰی إِذَا بَدُنَ وَکَثُرَ لَحْمُہُ أَوْتَرَ بِسَبِعٍ وَصَلّٰی رَکْعَتَیْنِ وَھُوَ جَالِسٌ فَقَرأَ بِـ{إِذَا زُلْزِلَتْ} وَ{قُلْ یَا أَیُّہَا الْکَافِرُونَ}۔ (مسند احمد: ۲۲۶۶۹)
سیدناابو امامہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نو(۹) وتر پڑھا کرتے تھے، لیکن جب آپ موٹے ہوگئے اور آپ کا گوشت زیادہ ہوگیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سات وتر پڑھتے تھے اور (وتروں کے بعد) بیٹھ کر دو رکعتیں ادا کرتے، ان میں سورۂ زلزال اور سورۂ کافرون کی تلاوت کرتے۔
Takhreej
(۲۲۱۲) تخریج: صحیح لغیرہ، دون تعیین قراء ۃ النبی ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فی الرکعتین بعد الوتر۔ أخرجہ الطحاوی فی شرح معانی الآثار : ۱/ ۲۹۰، والبیھقی: ۳/ ۳۳، والطبرانی فی الکبیر : ۸۰۶۴ (انظر: ۲۲۳۱۳)
2212
Sahih
۔ (۲۲۱۳) عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُوْتِرُ بِتِسْعِ رَکَعَاتٍ وَرَکْعَتََیْنِ وَھُوَ جَالِسٌ فَلَمَّا ضَعُفَ أَوْتَرَ بِسَبْعِ وَرَکْعَتَیْنِ وَھُوَ جَالِسٌ۔ (مسند احمد: ۲۵۸۶۰)
سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نو رکعت وتر ادا کرتے اور دو رکعتیں بیٹھ کر پڑھتے تھے، جب آپ ضعیف ہوگئے تو سات وتر پڑھتے اور دو رکعتیں بیٹھ کر پڑھتے تھے۔
Takhreej
(۲۲۱۳) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط الشیخین۔ أخرجہ ابوداود: ۱۳۴۳، والنسائی: ۳/ ۲۴۲ (انظر: ۲۴۲۶۹، ۲۵۳۴۶)
2213
Sahih
۔ (۲۲۱۴) وَعَنْہَا أَیْضًا عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّہُ کَانَ یُصَلِّیْ تِسْعَ رَکَعَاتٍ، لَا یَقْعُدُ فِیْہِنَّ إِلاَّ عَنْدَ الثَّامِنَۃِ، فَیَحْمَدُ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ وَیَذْکُرُہُ وَیَدْعُوْ، ثُمَّ یَنْہَضُ وَلَا یُسَلِّمُ، ثُمَّ یَصَلِّی التَّاسِعَۃَ فَیَقْعُدُیَحْمَدُ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ وَیَذْ کُرُہُ وَیَدْعُوْ، ثُمَّ یُسَلِّمُ تَسْلِیْمًایُسْمِعُنَا، ثُمَّ یُصَلِّی رَکْعَتَیْنِ وَھُوَ قَاعِدٌ۔ (مسند احمد: ۲۵۸۶۱)
سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے ہی روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نو رکعت نماز پڑھتے،اور ان میں آٹھویں رکعت کے بعد بیٹھ کر اللہ تعالیٰ کی تعریف بیان کرتے، اس کا ذکر کرتے اور دعا کرتے، پھر کھڑے ہو جاتے اور سلام نہ پھیرتے، اس طرح نوویں رکعت ادا کرتے اور پھر بیٹھ جاتے اور اللہ تعالیٰکی تعریف ، اس کا ذکر اور اس سے دعا کرتے اور پھر اس طرح سلام پھیرتے کہ ہم سن رہے ہوتے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بیٹھ کر دو رکعتیں ادا کرتے تھے۔
Takhreej
(۲۲۱۴) تخریج: أخرجہ مسلم: ۷۴۶ (انظر: ۲۵۳۴۷)
2214
Sahih
۔ (۲۲۱۵) عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ أَبِیْ قَیْسٍ قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَۃَ بِکَمْ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُوْتِرُ؟ قَالَتْ: بِأَرْبَعٍ وَثَلَاثٍ وَسِتٍّ وَثَلَاثٍ، وَثَمَانٍ وَثَلَاثٍ، وَعَشْرَۃٍ وَثَلَاثٍ، وَلَمْ یَکُنْیُوْتِرُ بِأَکْثَرَ مِنَ ثَلَاثَ عَشْرَۃَ، وَلَا أَنْقَصَ مِنْ سَبِعٍ وَکَانَ لَایَدَعُ رَکْعَتَیْنِ۔ (مسند احمد: ۲۵۶۷۴)
عبداللہ بن ابی قیس کہتے ہیں: میں نے سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے پوچھا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کتنے وتر پڑھتے تھے؟ انہوں نے کہا: چار اور تین، چھ اور تین، دس اورتین اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تیرہ سے زیادہ اور سات سے کم وتر نہیں پڑھتے تھے اور آپ (فجر سے پہلے) دو رکعتیں نہیں چھوڑتے تھے۔
Takhreej
(۲۲۱۵) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط مسلم۔ أخرجہ ابوداود: ۱۳۶۲ (انظر: ۲۵۱۵۹)
2215
Sahih
۔ (۲۲۱۶) عَنْ أُمِّ سَلَمَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یَرْکَعُ رَکْعَتَیْنِ بَعَدَ الْوِتْرِ وَھُوَ جَاِلسٌ۔ (مسند احمد: ۲۷۰۸۸)
سیدہ ام سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نمازِ وتر کے بعد دو رکعتیں بیٹھ کر پڑھا کرتے تھے۔
Takhreej
(۲۲۱۶) تخریج: صحیح من حدیث عائشۃ، وھذا اسناد ضعیف، میمون بن موسی مدلس وقد عنعن، ثم انہ اختلف علی الحسن۔ أخرجہ الترمذی: ۴۷۱، وابن ماجہ: ۱۱۹۵ (انظر: ۲۶۵۵۳)
Explanation
فوائد:… ایک سلام کے ساتھ زیادہ سے زیادہ نو وتر ثابت ہیں۔ جب کوئی نمازی ایک سلام کے ساتھ سات یا نو وتر ادا کرے گا تو وہ چھ اور آٹھ رکعات کے بعد درمیانہ تشہد بیٹھے گا، پھر ساتویںیا نویں رکعت ادا کرے گا۔ ہم نے ان ابواب کے شروع میں ان تمام امور کا دلائل کے ساتھ خلاصہ پیش کر دیا تھا۔
2216
Sahih
۔ (۲۲۱۷) عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کَانَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَفْصِلُ بَیْنَ الْوِتْرِ وَالشَّفْعِ بِتَسْلِیْمَۃٍ وَّیُسْمِعُنَاھَا۔ (مسند احمد: ۵۴۶۱)
سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم (تین) وتروں میں ایک اور دو رکعتوں کے درمیان ایک دفعہ سلام کے ساتھ فاصلہ کرتے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہمیں یہ سلام سناتے بھی تھے۔
Takhreej
(۲۲۱۷) اسنادہ قوی۔ أخرجہ ابن حبان: ۲۴۳۳، ۲۴۳۵، والطبرانی فی الاوسط : ۷۵۷ (انظر: ۵۴۶۱)
2217
Sahih
۔ (۲۲۱۸) عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُصَلِّیْ فِی الْحُجْرَۃِ وَأَنَا فِی الْبَیْتِ فَیَفْصِلُ بَیْنَ الشَّفْعِ وَالْوِتْرِ بِتَسْلِیْمٍیُسْمِعُنَاہُ۔ (مسند احمد: ۲۵۰۴۶)۔
سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حجرے میں نماز پڑھتے اور میں گھر میں ہوتی، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وتر کی دو اور ایک رکعت میں فاصلہ کرنے کے لیے سلام پھیرتے تو آپ ہمیں وہ سلام سناتے تھے۔
Takhreej
(۲۲۱۸) تخریج: حدیث صحیح، وھذا اسناد منقطع، عمر بن عبد العزیز لم یدرک عائشۃ (انظر: ۲۴۵۳۹)
Explanation
فوائد:… یہ بھی تین رکعت نماز وتر کا ایک طریقہ ہے کہ دو رکعات کے بعد سلام پھیر کر تیسری رکعت علیحدہ پڑھی جائے۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ وتر کی دو اور ایک رکعت کے مابین سلام پھیرتے تھے اور اپنی کسی ضرورت کا حکم بھی دے دیا کرتے تھے۔ (بخاری: ۹۹۱) سیدنا ابو موسی اشعری، سیدنا ابو ہریرہ اور سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ دو رکعتوں اور ایک رکعت کے درمیان سلام پھیرا کرتے تھے۔ (مصنف عبد الرزاق: ۴۶۷۲)
2218
Sahih
۔ (۲۲۱۹) عَنْ عَلِیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کَانَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُوْتِرُ بِتِسْعِ سُوَرٍ مِنَ الْمُفَصَّلِ، یَقْرَأُ فِی الرَّکْعَۃِ الْأُوْلَی {أَلْھَاکُمُ التَّکَاثُرُ} وَ {إِنَّا أَنْزَلْنَاہُ فِیْ لَیْلَۃِ الْقَدْرِ} وَ {إِذَا زُلْزِلَتِ الْأَرْضُ} وَفِی الرَّکْعَۃِ الثَّانِیَۃِ {وَالْعَصْرِ} وَ {إِذَا جَائَ نَصْرُ اللّٰہِ وَالْفَتْحُ} وَ {إِنَّا أَعْطَیْنَاکَ الْکَوْثَرَ} وَفِی الثَّالِثَۃِ {قُلْ یَاأَیُّہَا الْکَافِرُوْنَ} وَ {تَبَّتْ یَدَا أَبِیْ لَھَبٍ} وَ {قُلْ ھُوَ اللّٰہُ أَحَدٌ}۔ (مسند احمد: ۶۷۸)
سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم (۹)مفصل سورتوں کے ساتھ وتر پڑھتے تھے، آپ پہلی رکعت میں {أَلْھَاکُمُ التَّکَاثُرُ…}، {إِنَّا أَنْزَلْنَاہُ فِیْ لَیْلَۃِ الْقَدْرِ…} اور {إِذَا زُلْزِلَتِ الْأَرْضُ…} اور دوسری رکعت میں { وَالْعَصْرِ…}، {إِذَا جَائَ نَصْرُ اللّٰہِ وَالْفَتْحُ…} اور {إِنَّا أَعْطَیْنَاکَ الْکَوْثَرَ…} اور تیسری رکعت میں {قُلْ یَاأَیُّہَا الْکَافِرُوْنَ…}، {تَبَّتْ یَدَا أَبِیْ لَھَبٍ…} اور {قُلْ ھُوَ اللّٰہُ أَحَدٌ…} پڑھتے تھے۔
Takhreej
(۲۲۱۹) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف الحارث الاعور۔ أخرجہ عبد بن حمید: ۶۸، والبزار: ۸۵۱، وابو یعلی: ۴۶۰، والطحاوی: ۱/ ۲۹۰ (انظر: ۶۷۸)
2219
Zaeef
۔ (۲۲۲۰) عَنْ سَعِیْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ أَبْزٰی عَنْ أَبِیْہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کَانَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُوْتِرُ بِـ{سَبِّحِ اسْمَ رَبِّکَ الْأَعْلٰی} وَ {قُلْ یَا أَیُّہَا الْکَافِرُونَ} وَ {قُلْ ھُوَ اللّٰہُ أَحَدٌ} وَإِذَا أَرَادَ أَنْ یَّنْصَرِفَ مِنْ الْوِتْرِ قَالَ: ((سُبْحَانَ الْمَلِکِ الْقُدُّوسِ۔)) ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ یَرْفَعُ صَوْتَہُ فِی الثَّالِثَۃِ۔ (مسند احمد: ۱۵۴۲۹)
سیدنا عبد الرحمن بن ابزی سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نمازِ وتر میں سورۂ اعلی، سورۂ کافرون اور سورۂ اخلاص کی تلاوت کرتے تھے اور جب وتر سے فارغ ہوتے تو تین مرتبہ سُبْحَانَ الْمَلِکِ الْقُدُّوْسِ کہتے اور تیسری مرتبہ آواز بلند کرتے۔
Takhreej
(۲۲۲۰) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط مسلم۔ أخرجہ النسائی: ۳/۲۴۴، ۲۵۱ (انظر: ۱۵۳۵۴، ۱۵۳۵۵)
2220
Sahih
۔ (۲۲۲۱) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیقٍ ثَانٍ) عَنْ أَبِیْہِ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یَقْرَأُ فِی الْوِتْرِ بِـ{سَبِّحِ اسْمَ رَبِّکَ الْأَعْلٰی} وَ {قُلْ یَا أَیُّہَا الْکَافِرُونَ} وَ {قُلْ ھُوَ اللّٰہُ أَحَدٌ} وَکَانَ إِذَا سَلَّمَ قَالَ: ((سُبْحَانَ الْمَلِکِ الْقُدُّوْسِ۔)) یُطَوِّلُھَا ثَلَاثًا۔ (مسند احمد: ۱۵۴۳۰)
۔ (دوسری سند) نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نماز وتر میںسورۂ اعلی، سورۂ کافرون اور سورۂ اخلاص کی تلاوت کرتے تھے، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سلام پھیرتے تو تین دفعہ لمبا کر کے سُبْحَانَ الْمَلِکِ الْقُدُّوْسِ کہتے۔
Takhreej
(۲۲۲۱) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
Explanation
فوائد:… سنن دار قطنی میں رَبُّنَا وَرَبُّ الْمَلَائِکَۃِ وَالرُّوْحِ کے الفاظ بھی ثابت ہیں، اس طرح وتروں کے بعد والی پوری دعا یہ بنتی ہے: سُبْحَانَ الْمَلِکِ الْقُدُّوْسِ، سُبْحَانَ الْمَلِکِ الْقُدُّوْسِ، سُبْحَانَ الْمَلِکِ الْقُدُّوْسِ،رَبُّنَا وَرَبُّ الْمَلَائِکَۃِ وَالرُّوْحِ۔
2221
Sahih
۔ (۲۲۲۲) عَنْ عَبْدِالْعَزِیْزِ بْنِ جُرَیْجٍ قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَۃَ أُمَّ الْمُؤْمِنِیْنَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا : بِأَیِّ شَیْئٍ کَانَ یُوْتِرُ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ؟ قَالَتْ: کَانَ یَقْرَأُ فِی الرَّکْعَۃِ الْأُوْلٰی بِـ{سَبِّحِ اسْمَ رَبِکَ الْأَعْلٰی} وَفِی الثَّانِیَۃِ بِـ{قُلْ یَا أَیُّہَا الَْکَافِرُونَ} وَفِی الثَّالِثَۃِ بِـ{قُلْ ھُوَ اللّٰہُ أَحَدٌ} وَالْمُعَوِّذَتَیْنِ۔ (مسند احمد: ۲۶۴۳۱)
عبد العزیز بن جریج کہتے ہیں: میں نے سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے پوچھا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کس چیز کے ساتھ وتر پڑھتے تھے؟ انہوں نے کہا: آپ پہلی رکعت میںسورۂ اعلی، دوسری رکعت میں سورۂ کافرون اور تیسری رکعت میں سورۂ اخلاص، سورۂ فلق اور سورۂ ناس پڑھتے تھے۔
Takhreej
(۲۲۲۳) تخریج: اسنادہ صحیح۔ أخرجہ ابوداود: ۱۴۲۳، وابن ماجہ: ۱۱۷۱، والنسائی: ۳/ ۲۴۴ (انظر: ۲۱۱۴۱)
2222
Sahih
۔ (۲۲۲۳) عَنْ أُبَیِّ بْنِ کَعْبٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یُوْتِرُ بِـ{سَبِّحِ اسْمَ رَبِّکَ الْأَعْلٰی} وَ {قُلْ یَاأَیُّھَا الْکَافِرُونَ} وَ {قُلْ ھُوَ اللّٰہُ أَحَدٌ}۔ (مسند احمد: ۲۱۴۵۹)
سیدنا ابی بن کعب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نماز وتر میں سورۂ اعلی، سورۂ کافرون اور سورۂ اخلاص کی تلاوت کرتے تھے۔
2223
Sahih
۔ (۲۲۲۴) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِثْلُہُ۔
سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بھی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اس کی قسم حدیث بیان کی ہے۔
2224
Sahih