۔ (۲۲۴۴) عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ عَنْ أُبَیِّ بْنِ کَعْبٍ رضی اللہ عنہ قَالَ: جَائَ رَجُلٌ اِلَی النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! عَمِلْتُ اللَّیْلَۃَ عَمَلًا۔ قَالَ: ((مَا ھُوَ؟)) قَالَ: نِسْوَۃٌ مَعِیَ فِی الدَّارِ قُلْنَ لِی: اِنَّکَ تَقْرَأُ وَلَا نَقْرَأُ، فَصَلِّ بِنَا، فَصَلَّیْتُ ثَمَانِیًا وَالْوِتْرَ۔ قَالَ: فَسَکَتَ النَّبِیُُّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قَالَ: فَرَأَیْنَا أَنَّ سُکُوْتَہُ رِضاً بِمَا کَانَ ۔ (مسند احمد: ۲۱۴۱۵)
سیّدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ ، سیّدناابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیااور کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں نے رات کو ایک عمل کیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: وہ کون سا عمل ہے۔ اس نے کہا: میرے ساتھ گھر میں کچھ خواتین تھیں، انہوں نے مجھے کہا: تم قرآن پڑھتے ہو اور ہم نہیں پڑھتیں،اس لیے ہمیں نماز پڑھاؤ، پس میں نے ان کو آٹھ رکعتیں اور وتر پڑھائے۔ جواباً نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خاموش ہوگئے، وہ کہتے ہیں: ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خاموشی کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے راضی ہونے کی علامت سمجھتے ہیں۔
Takhreej
(۲۲۴۴) تخریـج:… اسنادہ ضعیف لضعف عیسی بن جاریۃ الانصاری المدنی، ولابھام الراوی لہ عن یعقوب بن عبد اللہ، لکن قد رواہ غیر واحد عن یعقوب، أخرجہ ابن حبان: ۲۵۴۹، ۲۵۵۰، وابویعلی: ۱۸۰۱، والطبرانی فی ’’الاوسط‘‘: ۳۷۴۳ (انظر: ۲۱۰۹۸)۔
2244
Sahih