TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

اس کی دلیل کا بیان جو یہ کہتا ہے کہ وتر کے علاوہ نماز تراویح آٹھ رکعت ہے - اس کی دلیل کا بیان جو یہ کہتا ہے کہ وتر کے علاوہ نماز تراویح آٹھ رکعت ہے - نمازِ تراویح کے ابواب - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 3 of نمازِ تراویح کے ابواب in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 3 of 6 · 5 Hadith
۔ (۲۲۴۴) عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ عَنْ أُبَیِّ بْنِ کَعْبٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: جَائَ رَجُلٌ اِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! عَمِلْتُ اللَّیْلَۃَ عَمَلًا۔ قَالَ: ((مَا ھُوَ؟)) قَالَ: نِسْوَۃٌ مَعِیَ فِی الدَّارِ قُلْنَ لِی: اِنَّکَ تَقْرَأُ وَلَا نَقْرَأُ، فَصَلِّ بِنَا، فَصَلَّیْتُ ثَمَانِیًا وَالْوِتْرَ۔ قَالَ: فَسَکَتَ النَّبِیُُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: فَرَأَیْنَا أَنَّ سُکُوْتَہُ رِضاً بِمَا کَانَ ۔ (مسند احمد: ۲۱۴۱۵)
سیّدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، سیّدناابی بن کعب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیااور کہا: اے اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم میں نے رات کو ایک عمل کیا ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پوچھا: وہ کون سا عمل ہے۔ اس نے کہا: میرے ساتھ گھر میں کچھ خواتین تھیں، انہوں نے مجھے کہا: تم قرآن پڑھتے ہو اور ہم نہیں پڑھتیں،اس لیے ہمیں نماز پڑھاؤ، پس میں نے ان کو آٹھ رکعتیں اور وتر پڑھائے۔ جواباً نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خاموش ہوگئے، وہ کہتے ہیں: ہم نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خاموشی کو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے راضی ہونے کی علامت سمجھتے ہیں۔
Takhreej
(۲۲۴۴) تخریـج:… اسنادہ ضعیف لضعف عیسی بن جاریۃ الانصاری المدنی، ولابھام الراوی لہ عن یعقوب بن عبد اللہ، لکن قد رواہ غیر واحد عن یعقوب، أخرجہ ابن حبان: ۲۵۴۹، ۲۵۵۰، وابویعلی: ۱۸۰۱، والطبرانی فی ’’الاوسط‘‘: ۳۷۴۳ (انظر: ۲۱۰۹۸)۔
2244
Sahih
۔ (۲۲۴۵) عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ عَوْفٍ قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا عَنْ صَلَاۃِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی رَمَضَانَ فَقَالَتْ: مَا کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَزِیْدُ فِی رَمَضَانَ وَلَا فِی غَیْرِہِ علی اِحْدٰی عَشْرَۃَ رَکْعَۃً، یُصَلِّی أَرْبَعًا فَـلَا تَسْأَلْ عَنْ حُسْنِہِنَّ وَطُولِھِنَّ، ثُمَّ یُصَلِّی أَرْبَعًا فَـلَا تَسْأَلْ عَنْ حُسْنِہِنَّ وَطُولِھِنَّ ثُمَّ یُصَلِّی ثَـلَاثًا۔ قَالَتْ: قُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! تَنَامُ قَبْلَ أَنْ تُوْتِرَ؟ قَالَ: ((یَا عَائِشَۃُ! اِنَّہُ أَوْ اِنِّی تَنَامُ عَیْنَایَ وَلَا یَنَامُ قَلْبِی۔)) (مسند احمد: ۲۴۵۷۴)
ابوسلمۃ بن عبد الرحمن بن عوف کہتے ہیں: میں نے سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی رمضان میں نماز کے متعلق سوال کیا، انہوں نے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رمضان اور غیر رمضان میں گیارہ رکعتوں سے زیادہ نماز نہیں پڑھتے تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم چار رکعتیں پڑھتے،پس تو ان کی خوبصورتی اور لمبائی کے بارے میں سوال نہ کر، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم چار رکعتیں پڑھتے، پر تو ان کی خوبصورتی اور لمبائی کے بارے میں کچھ نہ پوچھ، پھر تین رکعتیں پڑھتے۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی ہیں: میں نے کہا:اے اللہ کے رسول! کیاآپ وتر پڑھنے سے پہلے سوتے ہیں؟آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: عائشہ!بے شک میری آنکھیں سوتی ہیں، لیکن میرا دل نہیں سوتا۔
Takhreej
(۲۲۴۵) تخر یـج:… أخرجہ البخاری: ۱۱۴۷، ۲۰۱۳، ومسلم: ۷۳۸، ومالک فی ’’المؤطا‘‘: ۱/ ۱۲۰، وابوداود: ۱۳۴۱، والترمذی: ۴۳۹ (انظر: ۲۴۰۷۳)
2245
Sahih
۔ (۲۲۴۶) وَعَنْہُ أَیْضًا قَالَ: قُلْتُ لِعَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا : أَیْ أُمَّہْ! أَخْبِرِیْنِی عَنْ صَلَاۃِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ قَالَتْ: کَانَتْ صَلَاتُہُ فِی رَمَضَانَ وَغَیْرِہِ سَوَائً، ثَـلَاثَ عَشْرَۃَ رَکْعَۃً فِیْہَا رَکْعَتَا الْفَجْرِ۔ قُلْتُ: فَأَخْبِرِیْنِی عَنْ صِیَامِہِ، قَالَتْ: کَانَ یَصُوْمُ حَتّٰی نَقُوْلَ قَدْ صَامَ وَیُفْطِرُ حَتّٰی نَقُوْلَ قَدْ أَفْطَرَ وَمَا رَأَیْتُہُ صَامَ شَہْرًا أَکْثَرَ مِنْ صِیَامِہِ فِی شَعْبَانَ کَانَ یَصُوْمُہُ اِلَّا قَلِیْلًا۔ (مسند احمد: ۲۴۶۱۷)
ابوسلمہ بن عبد الرحمن بن عوف ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ انھوں نے سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے پوچھا: اماں جی! مجھے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی نماز کے بارے میں بتلائیے۔ انہوں نے کہا کہ رمضان ہو یا غیر رمضان آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی نماز تیرہ رکعات ہوتی تھی ، ان میں دو رکعتیں فجر کی سنتیں ہوتی تھیں۔ میں نے کہا: مجھے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے روزوں کے بارے میں بتائیے۔ انھوں نے کہا: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم (مسلسل) روزے رکھتے تھے یہاں تک کہ ہم کہتے کہ اب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہمیشہ روزے رکھیں گے، لیکن پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم (تسلسل کے ساتھ) روزے ترک کرنے لگ جاتے، یہاں تک کہ ہم کہتے کہ اب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم روزے ترک کر دیں گے۔ اور میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو کسی مہینے میں اتنی کثرت سے روزے رکھتے نہیں دیکھا جتنا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم شعبان میں رکھتے تھے۔بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ سارے شعبان کے روزے رکھتے تھے، سوائے تھوڑے دنوں کے۔
Takhreej
(۲۲۴۶) تخریـج:… أخرجہ مسلم: ۷۳۸ بذکر صلاتہ فی رمضان، و۱۱۵۶ بذکر صیامہ، وانظر الحدیث السابق برقم: ۱۱۱۵ (انظر: ۲۴۱۱۶)
2246
Sahih
۔ (۲۲۷۸) عَنْ أَبِی ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یَا بِلَالُ! حَدَّثَنِیْ بِأَرْجٰی عَمَلٍ عَمِلْتَہُ فِی الْاِسْلَامِ عِنْدکَ مَنْفَعَۃً، فَاِنِّی سَمِعْتُ اللَّیْلَۃَ خَشْفَ نَعْلَیْکَ بَیْنَ یَدَیَّ فِی الْجَنَّۃِ؟)) فَقَالَ بِلَالٌ: مَا عَمِلْتُ عَمَلًا فِی الْاِسْلَامِ أَرْجٰی عِنْدِی مَنْفَعَۃً اِلَّا أَنِّی لَمْ أَتَطَہَّرْ طُہُوراً تَامًّا فِی سَاعَۃٍ مِنْ لَیْلٍ أَوْ نَہَارٍ اِلَّا صَلَّیْتُ بِذٰلِکَ الطُّہُوْرِ مَا کَتَبَ اللّٰہُ لِی أَنْ أُصَلِّیَ۔ (مسند احمد: ۹۶۷۰)
سیّدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے کہا: اے بلال! مجھے اپنے سب سے امید والے عمل کے بارے میں بتاؤ، جو تیرے خیال کے مطابق اسلام میں بڑا نفع مند ہے، کیونکہ میں نے رات کو اپنے آگے تیرے جوتوں کی آواز جنت میں سنی تھی؟ سیّدنا بلال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میں نے کوئی ایسا عمل نہیں کیا جو میرے نزدیک اسلام میں نفع کے لحاظ سے سب سے زیادہ امید والا ہو،البتہ (یہ عمل ہے کہ) میں رات اور دن کی جس گھڑی میں جب بھی وضو کرتا ہوں، تو اس وضو سے اتنی نماز پڑھتا ہوں جو اللہ تعالیٰ نے میرے مقدر میں لکھی ہوتی ہے۔
Takhreej
(۲۲۷۸) تخریـج:… أخرجہ البخاری: ۱۱۴۹، ومسلم: ۲۴۵۸ (انظر: ۸۴۰۳، ۹۶۷۲)
2278
Sahih
۔ (۲۲۷۹) عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ بُرَیْدَۃَ قَالَ: سَمِعْتُ أَبِی بُرَیْدَۃَ یَقُوْلُ: أَصْبَحَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَدَعَا بِلَالاً فَقَالَ: یَا بِلَالُ! بِمَ سَبَقْتَنِی اِلَی الْجَنَّۃَ؟ مَا دَخَلْتُ الْجَنَّۃَ قَطُّ اِلَّا سَمِعْتُ خَشْخَشَتَکَ أَمَامِی، اِنِّی دَخَلْتُ الْبَارِحَۃَ فَسَمِعْتُ خَشْخْشَتَکَ (فَذَکَرَ حَدِیثًا یَخْتَصُّ بِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ) وَقَالَ لِبِلَالٍ: ((بِمَ سَبَقْتَنِی اِلَی الْجَنَّۃِ؟)) قَالَ: مَا أَحْدَثْتُُ اِلَّا تَوَضَّأْتُ وَصَلَّیْتُ رَکْعَتَیْنِ۔ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((بِہٰذَا۔)) (مسند احمد: ۲۳۳۸۴)
سیّدنا بریدہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جب صبح کی توسیّدنا بلال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو بلایااور پوچھا: اے بلال! کس عمل کی وجہ سے تو جنت میں مجھ سے سبقت لے گیا، کیونکہ میں جب بھی جنت میں داخل ہوا تو میں نے اپنے آگے آگے تیرے قدموں کی آواز سنی ہے، گذشتہ رات بھی جب میں جنت میں داخل ہوا تو تیر ے قدموں کی آواز سنی تھی( پس راوی نے وہ حدیث ذکر کی جو سیّدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ساتھ خاص تھی)۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیّدنا بلال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے فرمایا: کون سے عمل کی وجہ سے تو مجھ سے جنت میں سبقت لے گیا ہے؟ سیّدنا بلال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا:میں جب بھی بے وضو ہوتاہوں تو وضو کرتا ہوںاورپھردو رکعتیں ادا کرتا ہوں۔ یہ سن کر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اسی عمل کی وجہ سے (تو جنت میں مجھ سے بھی سبقت لے گیا)۔
Takhreej
(۲۲۷۹) تخریـج:… صحیح لغیرہ، أخرجہ تاما ومختصرا الترمذی: ۳۶۸۹، وابن خزیمۃ: ۱۲۰۹، والحاکم: ۳/ ۲۸۵، ۳۱۳، والبغوی: ۱۰۱۲(انظر: ۲۲۹۹۶، ۲۳۰۴۰)
Explanation
فوائد:… ’’عمر بن خطاب کے ساتھ خاص تھی۔‘‘ یعنی اس حدیث میں نبی کریمa نے عمر بن خطاب کے حوالہ سے بھی ایک خاص بات ارشاد فرمائی اور وہ یہ کہ آپ نے فرمایا جنت میں مجھے ایک بلند اور سونے کا بنا ہوا محل دکھایا گیا تو میں نے پوچھا کہ یہ محل کس کا ہے تو مجھے بتایا گیا کہ یہ عمر بن خطاب کا ہے
2279
Sahih