TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

جب فتنوں کا اندیشہ ہو تو عورتوں کو مسجد میں نہ جانے دینے کا بیان اورگھروں میں ان کی نماز کی فضیلت کا بیان - جب فتنوں کا اندیشہ ہو تو عورتوں کو مسجد میں نہ جانے دینے کا بیان اورگھروں میں ان کی نماز کی فضیلت کا بیان - عورتوں کے جماعت کے لیے مسجدوں کی طرف نکلنے کے بیانات - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 2 of عورتوں کے جماعت کے لیے مسجدوں کی طرف نکلنے کے بیانات in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 2 of 5 · 7 Hadith
۔ (۲۴۹۸) عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ سُوَیْدٍ الْأَنْصَارِیِّ عَنْ عَمَّتِہِ أُمِّ حُمِیْدٍ امْرَأَۃِ أَبِی حُمَیْدٍ الْسَّاعِدِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّہَا جَائَ تِ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَتْ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اِنِّی أُحِبُُُّ الصَّلَاۃَ مَعَکَ، قَالَ: ((قَدْ عَلِمْتُ أَنَّکَ تُحِبِیِّنَ الصَّلَاۃَ مَعِی، وَصَلَاتُکِ فِی بَیْتِکِ خَیْرٌ لَکِ مِنْ صَلَاتِکِ فِی حُجْرَتِکَ، وَصَلَاتُکِ فِی حُجْرَتِکِ خَیْرٌ لَکِ مِنْ صَلَاتِکِ فِی دَارِکِ، وَصَلَاتُکِ فِی دَارِکِ خَیْرٌ لَکِ مِنْ صَلَاتِکِ فِی مَسْجِدِ قَوْمِکِ، وَصَلَاتُکِ فِی مَسْجِدِ قَوْمِکِ خَیْرٌ لَکِ مِنْ صَلَاتِکِ فِی مَسْجِدِی۔)) قَالَ: فَأَمَرَتْ، فَبُنِیَ لَھَا مَسْجِدٌ فِی أَقْصٰی شَیْئٍ مِنْ بَیْتِہَا وَأَظْلَمِہِ فَکَانَتْ تُصَلِّی فِیْہِ حَتّٰی لَقِیَتِ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ۔ (مسند احمد: ۲۷۶۳۰)
سیّدنا ابو حمید ساعدی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی بیوی سیدہ ام حمید نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئی اور کہا: اے اللہ کے رسول!بے شک میں آپ کے ساتھ نمازپڑھنا پسند کرتی ہوں۔ آپ نے فرمایا: میں جانتا ہوں کہ تو میرے ساتھ نماز پڑھنا پسند کرتی ہے، لیکن تیرا (اپنی مخصوص) اقامت گاہ میں نماز پڑھنا (عام) کمرے میں نماز پڑھنے سے بہتر ہے اور (عام) کمرے میں نماز پڑھنا گھر کے صحن میں نماز پڑھنے سے افضل ہے اور گھر کے صحن میں نماز پڑھنا اپنی قوم کی مسجد میں نماز پڑھنے سے بہتر ہے اور اپنی قوم کی مسجد میں نماز پڑھنا میری اس مسجد ِ (نبوی) میں نماز پڑھنے سے بہتر ہے۔ پھر اس عورت نے حکم دیا اور گھر کے ایک دور والے کونے اور اندھیرے والی جگہ میں ایک مسجد بنائی گئی، وہ اسی میں نماز پڑھتی تھی، یہاں تک کہ وہ اللہ تعالیٰ سے جا ملی۔
Takhreej
(۲۴۹۸) تخریـج: …حدیث حسن۔ أخرجہ ابن حبان: ۲۲۱۷، وابن خزیمۃ: ۱۶۸۹، وابن ابی شیبۃ: ۲/ ۳۸۴ (انظر: ۲۷۶۳۰)
2498
Sahih
۔ (۲۴۹۹) عَنْ أُمِّ سَلَمَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّہُ قَالَ: ((خَیْرُ مَسَاجِدِ النِّسَائِ قَعْرُ بُیُوْتِہِنَّ۔)) (مسند احمد: ۲۷۰۷۷)
سیدہ ام سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: عورتوں کی بہترین مسجدیں ان کے گھروں کی مخفی ترین جگہ ہے ۔
Takhreej
(۲۴۹۹) تخریـج: …حدیث حسن بشواھدہ أخرجہ ابن خزیمۃ: ۱۶۸۳، والحاکم: ۱/ ۲۰۹، والبیھقی: ۳/ ۱۳۱، والطبرانی فی ’’الکبیر‘‘: ۲۳/ (۷۰۹) (انظر: ۲۶۵۴۲، ۲۷۱۰۵) تخریـج: …حدیث حسن، وھذا سند ضعیف لضعف عاصم بن عبید اللہ أخرجہ ابوداود: ۴۱۷۴، وابن ماجہ: ۴۰۰۲، والطیالسی: ۲۵۵۷(انظر: ۷۳۵۶، ۷۹۵۹، ۹۷۲۷)
2499
Sahih
۔ (۲۵۰۰) عَنْ عُبَیْدٍ مَوْلیً لِأَبِی رُھْمٍ عَنْ أَبِی ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّہُ لَقِیَ امْرَأَۃً فَوَجَدَ مِنْہَا رِیْحَ اِعْصَارٍ طَیِّبَۃً، فَقَالَ لَھَا أَبُو ھُرَیْرَۃَ: اَلْمَسْجِدَ تُرِیْدِیْنَ؟ قَالَتْ: نَعَمْ، قَالَ: وَلَہُ تَطَیَّبْتِ؟ قَالَتْ: نَعَمْ، قَالَ أَبُو ھُرَیْرَۃَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَا مِنَ امْرَأَۃٍ تَطَیَّبَتْ لِلْمَسْجِدِ فَیَقْبَلُ اللّٰہُ لَھَا صَلَاۃً حَتّٰی تَغْتَسِلَ مِنْہُ اِغْتِسَالَھَا مِنَ الْجَنَابَۃِ۔)) فَاذْھَبِی فَاغْتَسِلِی۔ (مسند احمد: ۷۹۴۶)
سیّدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ وہ ایک عورت کو ملے اوراس سے بڑی اچھی اور تیز اڑنے والی خوشبومحسوس کی، سیّدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اس سے پوچھا: کیا تو مسجد میں جانے کا ارادہ رکھتی ہے؟اس نے کہا: جی ہاں۔ انھوں نے کہا: تو نے اسی لیے خوشبو استعمال کی ہے؟ ا س نے کہا: جی ہاں۔ انھوں نے کہا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو عورت مسجد کے لیے خوشبو لگاتی ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی نماز قبول نہیں کرتا، یہاں تک کہ وہ غسلِ جنابت کی طرح کا غسل نہ کر لے۔ اس لیے تو چلی جا اور غسل کر۔
2500
Sahih
۔ (۲۵۰۱)(وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ یَرْفَعُہُ) ((أَیُّمَا امْرَأَۃٍ خَرَجَتْ مِنْ بَیْتِہَا مُتطَیِّبَۃً تُرِیْدُ الْمَسْجِدَ لَمْ یَقْبَلِ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ لَھَا صَلَاۃً حَتَّی تَرْجِعَ فَتَغْتَسِلَ مِنْہُ غُسْلَہَا مِنَ الْجَنَابَۃِ۔)) (مسند احمد: ۷۳۵۰)
۔ (دوسری سند) آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو عورت مسجد جانے کے لیے خوشبو لگاتی ہے، اللہ تعالیٰ اس کی نماز اس وقت تک قبول نہیں کرتا، جب تک وہ لوٹ کر غسل ِ جنابت کی طرح کا غسل نہیں کر لیتی ۔
Takhreej
(۲۵۰۱)تخریـج: …انظر الحدیث بالطریق الاول
2501
Sahih
۔ (۲۵۰۲) عَنْ أَبِی ھُرَیْرَۃَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أَیُّمَا امْرَأَۃٍ أَصَابَتْ بَخُورًا فَـلَا تَشْہَدَنَّ عِشَائَ الْآخِرَۃِ)) (مسند احمد: ۸۰۲۲)
سیّدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو عورت بخور استعمال کرے تو وہ عشاء کی نماز میں حاضر نہ ہو ۔
Takhreej
(۲۵۰۲) تخریـج: …أخرجہ مسلم: ۴۴۴ (انظر: ۸۰۳۵)
2502
Sahih
۔ (۲۵۰۳) عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَا تَمْنَعُوا اِمَائَ اللّٰہِ مَسَاجِدَ اللّٰہِ وَلْیَخْرُ جْنَ تَفِلَاتٍ۔)) قَالَتْ عَائِشَۃُ: وَلَوْ رَاٰی حَالَھُنَّ الْیَوْمَ مَنَعَہُنَّ۔ (مسند احمد: ۲۴۹۱۰)
سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ کی بندیوں کو اللہ کی مسجدوں سے نہ روکا کرو، اور انھیں بھی چاہیے کہ وہ خوشبو استعمال کئے بغیر جائیں۔ ،سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی ہیں: اگر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عورتوں کے آج کے حالات دیکھتے تو ان کو منع کر دیتے۔
Takhreej
(۲۵۰۳) تخریـج: …مرفوعہ صحیح لغیرہ، وقول عائشۃ صحیح أخرجہ اسحاق بن راھویہ: ۱۷۵۱، وقول عائشۃ أخرجہ البخاری: ۸۶۹، ومسلم: ۴۴۵ (انظر: ۲۴۴۰۶، ۲۴۶۰۲)
2503
Sahih
۔ (۲۵۰۴) عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَیْدٍ عَنْ یَحْیٰی عَنْ عَمْرَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: لَوْ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رَاٰی مِنَ النِّسَائِ مَا رَأَیْنَا لَمَنَعَہُنَّ مِنَ الْمَسَاجِدِ کَمَا مَنَعَتْ بَنُوا اِسْرَائِیْلَ نِسَائَ ھَا۔ قُلْتُ لِعَمْرَۃَ: وَمَنَعَتْ بَنُو اِسْرَائِیْلَ نِسَائَ ھَا؟ قَالَتْ: نَعَمْ۔ (مسند احمد: ۲۵۱۰۹)
سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی ہیں: اگر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عورتوں کے وہ حالات دیکھ لیتے جو آج ہم دیکھ رہے ہیں توان کو مسجدوں سے منع کر دیتے، جیسا کہ بنواسرائیل نے اپنی عورتوں کو روک دیا تھا۔ یحیی کہتے ہیں: میں عمرہ سے پوچھا کہ کیا واقعی بنو اسرائیل نے اپنی عورتوں کو منع کیا تھا۔ انھوں نے کہا: جی ہاں۔
Takhreej
(۲۵۰۴) تخریـج: …انظر الحدیث السابق (انظر: ۲۴۶۰۲)
2504
Sahih