TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 2563 - رسول اللہaکا باوجود نماز مکمل کرنے کے لوگوں کو ہلکی نماز پڑھانے کا بیان - امامت کا بیان،اماموں کی صفات اور ان سے متعلقہ مزید احکام - Musnad Ahmad in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 6 of 17 in this chapter
رسول اللہaکا باوجود نماز مکمل کرنے کے لوگوں کو ہلکی نماز پڑھانے کا بیان
۔ (۲۵۶۳) حدثنا عَبْدُاللّٰہِ حَدَّثَنِی أَبِی ثَنَا عَفَّانُ ثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَیْدٍ قَالَ أَنَا عَلِیُّ بْنُ زَیْدٍ وَحُمَیْدٌ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جَوَّزَ ذَاتَ یَوْمٍ فِی صَلَاۃِ الْفَجْرِ، فَقِیْلَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! لِمَ جَوَّزْتَ؟ قَالَ: ((سَمِعْتُ بُکَائَ صَبِیٍّ فَظَنَنْتُ أَنَّ أُمَّہُ مَعَنَا تُصَلِّی، فَأَرَدْتُّ أَنْ أُفْرِغَ لَہُ أُمَّہُ، وَقَدْ قَالَ حَمَّادٌ أَیْضًا فَظَنَنْتُ أَنَّ أُمَّہُ تُصَلِّی مَعَنَا فَأَرَدْتُ أَنْ أُفْرِغَ لَہُ أُمَّہُ)) (مسند احمد: ۱۳۷۳۶)
سیّدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک دن نمازِ فجر کو مختصر کر کے پڑھا، (جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فارغ ہو ئے تو) کسی نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ نے نماز میں اتنی تخفیف کیوں کی ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں نے بچے کے رونے کی آوازسنی، جبکہ مجھے یہ گمان بھی تھا کہ اس کی ماں ہمارے ساتھ نماز پڑھ رہی ہو گی، اس لیے میں نے چاہا کہ اس بچے کے لیے اس کو جلدی فارغ کر دوں۔
2563
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Conclusion
تخریج
(۲۵۶۳) تخریـج: …أخرجہ مسلم: ۴۷۰ (انظر: ۱۲۵۴۷، ۱۳۷۰۱)

Related Chapters

282
1
Chapter: The Command To The Imam To Make The Prayer Brief But Complete
اماموں کو ہلکی (لیکن) مکمل صورت میں نماز پڑھانے کا حکم
Sahih Muslim
2
Chapter: If The Imam Experiences An Excuse, From Illness, Or Travelling, Etc. He May Appoint Someone Else To Lead The People In Prayer; The One Who Offers Prayer Behind The Imam Sitting Because He Is Unable To Stand Must Stand If He Is Able To Do So; And The Abrogation Of Sitting Behind A Sitting Imam For Those Who Are Able To Stand
۔ جب امام کو مرض، سفر یا کسی اور وجہ سے عذر پیش آ جائے تو لوگوں میں سے کسی کو نماز پڑھانے کے لیے اپنا جانشیں (خلیفہ) مقرر کرنا ا
Sahih Muslim
3
Chapter: What Has Been Related About The One Who Prays The Obligatory Prayer, Then Leads The People In Prayer After That
باب: فرض نماز پڑھنے کے بعد لوگوں کی امامت کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
4
Chapter: What Has Been Related From The Messenger Of Allah (saws) About Reconciliation
باب: لوگوں کے درمیان صلح کرانے کے سلسلے میں رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کے ارشادات
Jam e Tirmazi
5
Chapter: What Has Been Related About The State of The Prophet (SAW): I Have Been Ordered To FIght The People Until They Say La Ilaha Illallah And Establish The Salah
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے لوگوں کے خلاف جنگ کا حکم دیا گیا ہے یہاں تک کہ وہ: لا الہ الا اللہ کہیں، اور نماز قائم کریں“۔
Jam e Tirmazi
6
پانی اور مٹی نہ ہونے کے باوجود نماز کے وجوب کے قائلین کی حجت کا بیانپانی اور مٹی نہ ہونے کے باوجود نماز کے وجوب کے قائلین کی حجت کا بیان
Musnad Ahmad
7
ان لوگوں کی دلیل کا بیان کہ جنھوں نے تارکِ نماز کو کافر نہیں قرار دیا اور اس کے لیے وہی امید رکھی جو کبیرہ گناہوں والوں کے لیے رکھی جاتی ہے
Musnad Ahmad
8
بچوں کو نماز کا حکم دینے کا بیان اور ان لوگوں کی تفصیل کہ جن سے قلم اٹھا لیا گیا ہے
Musnad Ahmad
9
ان لوگوں کی دلیل کا بیان جو صبح کی نماز میں مصائب کے علاوہ قنوت نہ کرنے کے قائل ہیں
Musnad Ahmad
10
مقتدیوں کو لمبی نماز پڑھانے کے بارے میں سیّدنا معاذ بن جبل Bکا قصہ اور عذر کی وجہ سے مقتدی کا اکیلے نماز پڑھنے کا جواز
Musnad Ahmad
11
عید کی نماز سے فارغ ہونے کے بعد امام کا لوگوں کے سامنے کھڑا ہونے ان کی طرف دیکھنے اور عید کی مبارک دینے کا بیان
Musnad Ahmad
12
وقت کے امام کا خیانت کرنے والے اور خودکشی کرنے والے جیسے لوگوںکی نماز جنازہ نہ پڑھنے کا بیان
Musnad Ahmad
13
ان لوگوں کا بیان جو اس بات کے قائل ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بیت اللہ کے اندر نماز ادا کی تھی
Musnad Ahmad
14
لوگوں سے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے آخری خطبہ کا تذکرہ
Musnad Ahmad
15
اللہ تعالیٰ کے نبی عیسیٰ علیہ السلام کا آسمان سے نازل ہونے، دجال کو قتل کرنے ، لوگوں کے درمیان عدل و انصاف کرنے ، زمین میں چالیس برس تک قیام کرنے، پھر ان کے وفات پانے اور مسلمانوں کا ان کی نماز جنازہ ادا کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
16
(40) CHAPTER. Preaching of the Imam to the people regarding the proper offering of As-Salat (the prayer) and the mention of the Qiblah (Kabah at Makkah).
امام لوگوں کو یہ نصیحت کرے کہ نماز پوری طرح پڑھیں اور قبلہ کابیان
Sahih Bukhari
17
(87) CHAPTER. To offer As-Salat (the prayers) in a mosque situated in a market.
بازار کی مسجد میں نماز پڑھنا اور عبداللہ بن عون نے ایک ایسے گھر کی مسجد میں نماز پڑھی جس کے دروازے عام لوگوں پر بند کئے گئے تھے
Sahih Bukhari
18
(36) CHAPTER. Whoever led the people in Salat (prayer) after its time was over.
اس کے بارے میں جس نے وقت نکل جانے کے بعد قضاء نماز لوگوں کے ساتھ جماعت سے پڑھی
Sahih Bukhari
19
(66) CHAPTER. If one offers Salat (prayer) and then leads the people in Salat.
ایک شخص نماز پڑھ کو دوسرے لوگوں کی امامت کرے
Sahih Bukhari
20
(158) CHAPTER. Whoever led the people in Salat (prayer) and remembered an urgent matter or necessity and had to pass over the people (to carry out that).
اگر امام لوگوں کو نماز پڑھا کر کسی کام کا خیال کرے اور ٹھہرے نہیں بلکہ لوگوں کی گردنیں پھلانگتا چلا جائے تو کیا ہے
Sahih Bukhari
21
(163) CHAPTER. The waiting of the people for the religious learned Imam to get up (after the prayer to depart).
لوگوں کا نماز کے بعد امام کے اٹھنے کا انتظار کرنا
Sahih Bukhari
22
(94) CHAPTER. The order of the Prophet that people should be calm and patient on proceeding (from Arafat) and the waving of his lash towards them.
عرفات سے لوٹتے وقت رسول اللہ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا لوگوں کو سکون و اطمینان کی ہدایت کرنا اور کوڑے سے اشارہ کرنا
Sahih Bukhari
23
(12) CHAPTER. If one visited a patient and when the time of the Salat (prayer) became due, he led the people present there, in a congregational Salat (prayer).
کوئی شخص کسی مریض کی عیادت کے لیے گیا اور وہیں نماز کاوقت ہو گیا تو وہیں لوگوں کے ساتھ با جماعت نماز ادا کرے
Sahih Bukhari
24
(46) CHAPTER. The Statement of Allah: “O Messenger (Muhammad (p.b.u.h.))! Proclaim (the Message) which has been sent down to you from your Lord. And if you do not, then you have not conveyed His Message...” (V.5:67)
اللہ تعالیٰ کا سورۃ المائدہ میں فرمانا اے رسول ! تیرے پروردگار کی طرف سے جو تجھ پر اترا اس کو لوگوں تک پہنچا دے ۔
Sahih Bukhari
25
اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ پر ایمان ، دینی احکام پر عمل ، اس کی طرف دعوت ، اس کے بارے میں سوال کرنے ، دین کے تحفظ اور جن لوگوں تک دین نہ پہنچا ہو ان تک پہنچانے کا حکم
Sahih Muslim
26
Chapter: The command to fight the people until they say La ilaha illallah Muhammad Rasul-Allah , and establish Salat, and pay the Zakat, and believe in everything that the prophet (saws) brought. Whoever does that, his life and his wealth are protected except by its right, and his secrets are entrusted to Allah, the most high. Fighting those who withhold Zakat or other than that is one of the duties of Islam and the Iman should be concerned with the Laws of Islam
لوگوں سے اس وقت تک لڑائی کرنے کا بیان جب تک وہ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کا اقرار نہ کر لیں
Sahih Muslim
27
Chapter: It is recommended for pilgrims and others to enter the Ka'bah and pray therein, and supplicate in all its corners
حاجی اور دوسرے لوگوں کے لیے کعیہ میں داخل ہونا ‘نیز اس میں نماز ادا کرنا اور اس کی تمام اطراف میں دعا کرنا مستحب ہے
Sahih Muslim
28
Chapter: The Prophet saws foretold that the people will abandon Al-Madinah when it is the best it ever was
مدینہ کو بہترین حالت میں ہونے کے باوجود لوگوں کے اسے چھوڑدینے کے بارے میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ کی پشین گوئی
Sahih Muslim
29
CHAPTER: Concerning The Woman Who Has Istihadah, And (Those Scholars) Who Stated That She Should Leave The Prayer For The Number Of Days Which She Used To Menstruate.
باب: عورت کے مستحاضہ ہونے کا بیان اور ان لوگوں کی دلیل جو کہتے ہیں کہ مستحاضہ اپنے حیض کے ایام کے بقدر نماز چھوڑ دے ۔
Sunnan Abu Dawood
30
CHAPTER: On Someone Having Prayed And Then Leading Others For That Prayer.
باب: امام کے بیٹھ کر نماز پڑھانے کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
31
CHAPTER: Those Who Claimed A Lesser Amount (Should Be Recited).
باب: ان لوگوں کا ذکر جن کے نزدیک مغرب میں ہلکی سورتیں پڑھنی چاہئے
Sunnan Abu Dawood
32
CHAPTER: The People Praying ’Eid Is The Mosque On A Rainy Day.
باب: بارش کا دن ہو تو امام عید کی نماز لوگوں کو مسجد میں پڑھائے ۔
Sunnan Abu Dawood
33
جب امام لوگوں کو نماز پڑھائے تو اپنے جوتے کہاں رکھے ؟
Sunnan Nisai
34
:(نماز کے لیے) لوگوں کے کھڑے ہونے کا بیان۔
Sunnan Nisai
35
باب: جس کی سو لوگوں نے نماز جنازہ پڑھی ہو اس کی فضیلت کا بیان۔
Sunnan Nisai
36
باب: کمزور اور ضعیف لوگوں کو قربانی کے دن نماز فجر منیٰ میں پڑھنے کی رخصت کا بیان۔
Sunnan Nisai
37
باب: آیت کریمہ: ”جو اللہ اور اس کے رسول سے لڑتے ہیں اور زمین میں فساد برپا کرنے کی کوشش کرتے ہیں، ان کا بدلہ یہ ہے کہ انہیں قتل کر دیا جائے یا سولی پر چڑھا دیا جائے یا ان کے ہاتھ پاؤں کاٹ دیے جائیں یا انہیں ملک بدر کر دیا جائے“ کی تفسیر اور کن لوگوں کے
Sunnan Nisai
38
Chapter: [What Has Been Related] About It Being Disliked To Step Over (The Necks Of Others) On Friday
باب: جمعہ کے دن (دوران خطبہ) لوگوں کی گردنیں پھاندنے کی کراہت
Jam e Tirmazi
39
Chapter: (What Has Been Related About) The Indebted And Others For Whom Charity Is Lawful
باب: قرض داروں اور دیگر لوگوں میں سے کس کس کے لیے زکاۃ حلال ہے؟
Jam e Tirmazi
40
Chapter: What Has Been Related About The Mawaqit For Ihram For Each Region's People
باب: آفاقی لوگوں کے لیے احرام باندھنے کی میقاتوں کا بیان
Jam e Tirmazi
41
Chapter: What Has Been Related About It Being Disliked For The People To Crowd When Stoning The Jimar
باب: جمرات کی رمی کے وقت لوگوں کو دھکیلنے اور ہٹانے کی کراہت کا بیان
Jam e Tirmazi
42
Chapter: About Who Is Given Spoils Of War (Al-Fay')
باب: مال غنیمت کن لوگوں کے درمیان تقسیم ہو گا
Jam e Tirmazi
43
Chapter: What Has Been Related About The People Who Have An Excuse Not To Participate
باب: معذور لوگوں کے لیے جہاد نہ کرنے کی رخصت کا بیان
Jam e Tirmazi
44
Chapter: What Has Been Related About Being Merciful With People
باب: لوگوں پر مہربانی کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
45
Chapter: What Has Been Related About Having Amicable Relations With People
باب: حسن معاشرت (یعنی لوگوں کے ساتھ اچھے ڈھنگ سے رہنے) کا بیان
Jam e Tirmazi
46
باب: لوگوں کے دل رحمن کی دو انگلیوں کے درمیان ہیں
Jam e Tirmazi
47
Chapter: When The Evil Among My Ummah Will Be Set Over The Best Of Them
باب: برے لوگ اچھے لوگوں پر غلبہ پا لیں گے اس زمانے کا بیان
Jam e Tirmazi
48
باب: ان لوگوں کا بیان جن کی گواہی درست نہیں
Jam e Tirmazi
49
Chapter: What Has Been Related About 'The Parable Of Th World Is That Of Four People'
باب: دنیا کی مثال چار قسم کے لوگوں کی مانند ہے
Jam e Tirmazi
50
Chapter: What Has Been Related About The Group That Sits And They Do Not Remember Allah
باب: لوگوں کی مجلس اللہ کے ذکر سے غافل ہو اس کی برائی کا بیان
Jam e Tirmazi
No related chapter matched that.

Related Hadith

298
Musnad Ahmad
48
۔ (۴۸) (وَمِنْ طَرِیْقٍ آخَرَ)۔حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ حَدَّثَنِیْ أَبِیْ ثَنَا إِسْمَاعِیْلُ ثَنَا یُوْنُسُ عَنْ حُمَیْدِ بْنِ ہِلَالٍ عَنْ ہِصَّانَ بْنِ الْکَاہِلِ قَالَ: دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ الْجَامِعَ بِالْبَصْرَۃِ فَجَلَسْتُ إِلٰی شَیْخٍ أَبْیَضَ الرَّأْسِ وَاللِّحْیَۃِ، فَقَالَ: حَدَّثَنِیْ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، فَذَکَرَ الْحَدِیْثَ وَ فِیْہِ قَالَ: لَا تُعَنِّفُوْہُ وَلَا تُؤَنِّبُوْہُ دَعُوْہُ، نَعَمْ أَنَا سَمِعْتُ ذَاکَ مِنْ مُعَاذٍ یَذْکُرُہُ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، وَقَالَ إِسْمَاعِیْلُ مَرَّۃً: یَأْثُرُہُ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، قَالَ: قُلْتُ لِبَعْضِہِمْ: مَنْ ہٰذَا؟ قَالَ: ہٰذَا عَبْدُ الرَّحْمٰنِ بْنُ سَمُرَۃَ۔ (مسند أحمد: ۲۲۳۴۸)
ہصان بن کاہل کہتے ہیں: میں بصرہ کی جامع مسجد میں داخل ہوا اور ایک ایسے بزرگ کے پاس بیٹھ گیا، جس کے سر اور داڑھی کے بال سفید تھے، اس نے کہا: سیدنا معاذ بن جبل ؓ نے مجھے بیان کیا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: …، پھر اوپر والی حدیث ذکر کی۔ اس میں ہے: انھوں نے کہا: اس کی سرزنش نہ کر اور اس کو مت ڈانٹو، اسے چھوڑ دو ہاں میں نے سیدنا معاذ ؓ سے یہ حدیث سنی تھی، وہ اس کو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے حوالے سے بیان کر رہے تھے۔ اور اسماعیل نے ایک مرتبہ کہا: وہ اسے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے نقل کر رہے تھے میں نے ایک آدمی سے پوچھا: یہ کون ہے؟ اس نے کہا: یہ سیدنا عبد الرحمن بن سمرہ ؓہیں۔
Musnad Ahmad
63
۔ (۶۳)۔حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ حَدَّثَنِیْ أَبِی ثَنَا إِسْمَاعِیْلُ أَنَا بَہْزُ بْنُ حَکِیْمٍ عَنْ أَبِیْہِ عَنْ جَدِّہِ مُعَاوِیَۃَ بْنِ حَیْدَۃَ ؓ قَالَ: أَتَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! وَاللّٰہِ مَا أَتَیْتُکَ حَتَّی حَلَفْتُ أَکْثَرَ مِنْ عَدَدِ أُوْلَائِ أَنْ لَا آتِیَکَ وَلَا آتِیَ دِیْنَکَ ،وَجَمَعَ بَہْزٌ بَیْنَ کَفَّیْہِ (وَفِی رِوَایَۃٍ: حَتَّی حَلَفْتُ عَدَدَ أَصَابِعِیْ ہَذِہِ أَنْ لَاآتِیَکَ وَلَا آتِیَ دِیْنَکَ) وَإِنِّی قَدْ جِئْتُ امْرَئً ا لَا أَعْقِلُ شَیْئًا إِلَّا مَا عَلَّمَنِیَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُوْلُہُ، وَإِنِّی أَسْئَلُکَ بِوَجْہِ اللّٰہِ بِمَ بَعَثَکَ رَبُّنَا إِلَیْنَا؟ قَالَ: ((بِالْاِسْلَامِ۔)) قَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! وَمَا آیَۃُ الْاِسْلَامِ؟ (وَفِی رِوَایَۃٍ: وَمَا الْاِسْلَامُ؟) قَالَ: ((أَنْ تَقُوْلَ أَسْلَمْتُ وَجْہِیَ وَتَخَلَّیْتُ وَتُقِیْمَ الصَّلَاۃَ وَ تُؤْتِیَ الزَّکَاۃَ وَکُلُّ مُسْلِمٍ عَلٰی مُسْلِمٍ مُحَرَّمٌ۔)) (مسند أحمد: ۲۰۲۹۹)
سیدنا معاویہ بن حیدہؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! اللہ کی قسم! میں آپ کے پاس آنے سے پہلے اِن سے زیادہ قسمیں اٹھائیں تھیں کہ نہ میں نے آپ کے پاس آنا ہے اور نہ آپ کا دین اختیار کرنا ہے۔ بہز راوی نے دونوں ہتھیلیوں کو جمع کر کے اشارہ کیا۔ ایک روایت میں ہے: یہاں تک کہ میں نے ان اپنی انگلیوں کی تعداد جتنی قسمیں اٹھائیں کہ نہ میں نے آپ کے پاس آنا ہے اور نہ آپ کا دین اختیار کرنا ہے، بہرحال اب میں آپ کے پاس آ گیا ہوں، جبکہ میں ایسا شخص ہوں کہ جسے کسی چیز کوئی سمجھ نہیں ہے، الا یہ کہ وہ امور جو اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول مجھے سمجھا دیں گے، اب میں آپ کو اللہ تعالیٰ کی ذات کا واسطہ دے کر کہتا ہوں کہ ہمارے ربّ نے آپ کو ہماری طرف کس چیز کے ساتھ مبعوث کیاہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اسلام کے ساتھ۔ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! اسلام کی نشانی کیا ہے، اسلام کیا چیز ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: تیرا یہ کہنا کہ میں نے اپنا چہرہ (اللہ کے لیے) مطیع کر دیا ہے اور میں (شرکیہ دین سے) باز آ گیا ہوں، پھر تو نماز قائم کرے، زکاۃ ادا کرے اور ہر مسلمان، دوسرے مسلمان پر حرام ہے۔
Musnad Ahmad
126
۔ (۱۲۶)۔حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ حَدَّثَنِیْ أَبِیْ ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ: ثَنَا شُعْبَۃُ عَنِ النُّعْمَانِ قَالَ: سَمِعْتُ أُوَیْسًا (یَعْنِی بْنَ أَبِی أُوَیْسٍ الثَّقَفِیِّؓ) یَقُوْلُ: أَتَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ فِی وَفْدِ ثَقِیْفٍ فَکُنَّا فِی قُبَّۃٍ فَقَامَ مَنْ کَانَ فِیْہَا غَیْرِیْ وَ غَیْرَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم، فَجَائَ رَجُلٌ فَسَارَّہُ فَقَالَ: اذْہَبْ فَاقْتُلْہُ، (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: فَلَمَّا وَلَّی الرَّجُلُ دَعَاہُ رَسُوْلُ اللّٰہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم) ثُمَّ قَالَ: ((أَلَیْسَ یَشْہَدُ أَنْ لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ۔)) قَالَ: بَلٰی! وَلٰکِنَّہُ یَقُوْلُہَا تَعَوُّذًا، فَقَالَ: ((رُدُّوْہُ۔)) (وَفِی رِوَایَۃٍ: اذْہَبُوْا فَخَلُّوْا سَبِیْلَہُ) ثُمَّ قَالَ: ((أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّی یَقُوْلُو ا لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّّٰہُ، فَاِذَا قَالُوْہَا حَرُمَتْ عَلَیَّ دِمَائُہُمْ وَ أَمْوَالُہُمْ إِلَّا بِحَقِّہَا، فَقُلْتُ لِشُعْبَۃَ: أَلَیْسَ فِی الْحَدِیْثِ ثُمَّ قَالَ: أَلَیْسَ یَشْہَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَ أَنِّی رَسُوْلُ اللّٰہِ؟ قَالَ شُعبَۃُ: أَظُنُّہَا مَعَہَا وَلَا أَدْرِیْ۔ (مسند أحمد: ۱۶۲۶۰)
سیدنا اویس بن ابو ایس ثقفی ؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں ثقیف کے وفد میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس آیا، ہم ایک قبّہ میں تھے، ہوا یوں کہ میرے اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے علاوہ سارے لوگ چلے گئے، اتنے میں ایک آدمی آیا اور اس نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے کوئی سرگوشی کی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: تو پھر جاؤ اور اس کو قتل کر دو۔ ایک روایت میں ہے: جب وہ بندہ جانے لگا تورسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے اسے بلایا اور پوچھا: کیا وہ لَا إِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کی گواہی دیتا ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں، لیکن وہ یہ کلمہ تو محض بچنے کے لیے کہتا ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اس کو چھوڑ دو۔ ایک روایت میں ہے: جاؤ اور اس کو جانے دو۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: مجھے اس وقت تک لوگوں سے قتال کرنے کا حکم دیا گیا ہے، جب تک وہ لَا إِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ نہیں کہہ دیتے، جب وہ یہ کلمہ کہہ دیتے ہیں تو ان کے خون اورمال مجھ پر حرام ہو جاتے ہیں، مگر ان کے حق کے ساتھ۔ میں (محمد بن جعفر) نے امام شعبہ سے کہا: کیا حدیث کے الفاظ اس طرح نہیں تھے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے پوچھا کہ کیا وہ لَّا إِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَ أَ نِّیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ کی گواہی دیتا ہے۔ انھوں نے کہا: میرا خیال ہے کہ یہ الفاظ بھی تھے، لیکن اب مجھے یاد نہیں ہے۔
Musnad Ahmad
618
۔ (۶۱۸)۔حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ حَدَّثَنِی أَبِیْ ثَنَا عَبْدُالرَّحْمَنِ (بْنُ مَہْدِیٍّ) ثَنَا زَائِدَۃُ بْنُ قُدَامَۃَ عَنْ خَالِدِ بْنِ عَلْقَمَۃَ ثَنَا عَبْدُ خَیْرٍ قَالَ: جَلَسَ عَلِیٌؓ بَعْدَ مَا صَلَّی الْفَجْرَ فِی الرَّحْبَۃِ ثُمَّ قَالَ لِغُلَامِہِ: ائْتِنِی بِطَہُورٍ، فَأَتَاہُ الْغُلَامُ بِاِنَائٍ فِیْہِ مَائٌ وَطَسْتٍ، قَالَ عَبْدُ خَیْرٍ: وَنَحْنُ جُلُوْسٌ نَنْظُرُ اِلَیْہِ، فَأَخَذَ بِیَمِیْنِہِ الْاِنَائَ فَأَکْفَأَہُ عَلٰی یَدِہِ الْیُسْرٰی ثُمَّ غَسَلَ کَفَّیْہِ، فَعَلَہُ ثَلَاثَ مِرَارٍ، قَالَ عَبْدُ خَیْرٍ: کُلُّ ذَالِکَ لَا یُدْخِلُ یَدَہُ فِی الْاِنَائِ حَتّٰی یَغْسِلَہَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ أَدْخَلَ یَدَہُ الْیُمْنٰی فِی الْاِنَائِ فَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ وَنَثَر بِیَدِہِ الْیُسْرٰی، فَعَلَ ذَالِکَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ (وَفِی رِوَایَۃٍ: فَتَمَضْمَضَ ثَلَاثًا وَاسْتَنْشَقَ ثَلَاثًا مِنْ کَفٍّ وَاحِدٍ) ثُمَّ أَدْخَلَ یَدَہُ الْیُمْنٰی فِی الْاِنَائِ فَغَسَلَ وَجْہَہُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ غَسَلَ یَدَہُ الْیُمْنٰی ثَلَاثَ مَرَّاتٍ اِلَی الْمِرْفَقِ ثُمَّ غَسَلَ یَدَہُ الْیُسْرٰی ثَـلَاثَ مَرَّاتٍ اِلَی الْمِرْفَقِ ثُمَّ أَدْخَلَ یَدَہُ الْیُمْنٰی فِی الْاِنَائِ حَتّٰی غَمَرَہَا الْمَائُ ثُمَّ رَفَعَہَا بِمَا حَمَلَتْ مِنَ الْمَائِ ثُمَّ مَسَحَہَا بِیَدِہِ الْیُسْرٰی ثُمَّ مَسَحَ رَأْسَہُ بِیَدَیْہِ کِلْتَیْہِمَا مَرَّۃً، (وَفِی رِوَایَۃٍ: فَبَدَأَ بِمُقَدَّمِ رَأْسِہِ اِلَی مُؤَخَّرِہِ، قَالَ الرَّاوِی: وَلَا أَدْرِی أَ رَدَّ یَدَہُ أَمْ لَا) ثُمَّ صَبَّ بِیَدِہِ الْیُمْنٰی ثَـلَاثَ مَرَّاتٍ عَلٰی قَدَمِہِ الْیُمْنٰی ثُمَّ غَسَلَہَا بِیَدِہِ الْیُسْرٰی ثُمَّ صَبَّ بِیَدِہِ الْیُمْنٰی عَلٰی قَدَمِہِ الْیُسْرٰی ثُمَّ غَسَلَہَا بِیَدِہِ الْیُسْرٰی ثَـلَاثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ أَدْخَلَ یَدَہُ الْیُمْنٰی فَغَرَفَ بِکَفِّہِ فَشَرِبَ، (وَفِی رِوَایَۃٍ: وَشَرِبَ فَضْلَ وَضُوئِہِ) ثُمَّ قَالَ: ھٰذَا طُہُورُ نَبِیِّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم، فَمَنْ أَحَبَّ أَنْ یَنْظُرَ اِلَی طُہُورِ نَبِیِّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَھٰذَا طُہُوْرُہُ۔(مسندأحمد:۱۱۳۳)
عبد ِ خیرکہتے ہیں: سیدنا علیؓ نماز فجر ادا کرنے کے بَعْد رحبہ میں بیٹھے ہوئے تھے، انھوں نے اپنے غلام سے کہا: وضو کا پانی میرے پاس لاؤ، پس وہ ایک برتن لایا ، جس میں پانی تھا اور ایک چلمچی لایا عبد ِ خیر کہتے ہیں: ہم بیٹھے دیکھ رہے تھے، انھوں نے دائیں ہاتھ سے برتن کو پکڑا اور بائیں ہاتھ پر بہا کر ہتھیلیوں کو دھویا اور ایسے تین بار کیا۔ عبد ِ خیر کہتے ہے: جب بھی وہ برتن میں ہاتھ داخل کرتے تھے تو پہلے ان کو تین بار دھوتے تھے، پھر اپنا دایاں ہاتھ برتن میں داخل کیا اور کلی کی اور ناک میں پانی چڑھایا اور بائیں ہاتھ سے جھاڑا، ایسے تین بار کیا، ایک روایت میں یہ وضاحت ہے کہ: انھوں نے ایک ہی چلو سے کلی کی اور ناک میں پانی چڑھایا اور یہ عمل تین دفعہ کیا، پھر اپنا دایاں ہاتھ برتن میں داخل کیا اور تین مرتبہ اپنا چہرہ دھویا، پھر کہنی سمیت دایاں بازو تین دفعہ دھویا اور پھر تین دفعہ بایاں بازو دھویا، پھر انھوں نے دایاں ہاتھ برتن میں داخل کیا، یہاں تک کہ اس کے ہر طرف پانی پھیل گیا، پھر اس کو پانی سمیت برتن سے نکالا اور بائیں ہاتھ پر لگایا اور پھر دونوں ہاتھوں سے سر کا ایک دفعہ مسح کیا، ایک روایت میں ہے: سر کے سامنے والے حصے سے پچھلے حصے تک مسح کیا، راوی کہتا ہے: مجھے یہ علم نہیں ہے کہ ہاتھوں کو واپس بھی لوٹایا تھا یا نہیں، پھر دائیں ہاتھ سے دائیں پاؤں پر تین مرتبہ پانی ڈالا اور بائیں ہاتھ سے اس کو دھویا اور دائیں ہاتھ سے ہی بائیں پاؤ پر پانی ڈالا اور بائیں ہاتھ سے اس کو تین بار دھویا، پھر اپنا دایاں ہاتھ برتن میں داخل کیا اور ایک چلّو بھر کر پی لیا، ایک روایت میں ہے: اپنے وضو کا بچا ہوا پانی پی لیا اور پھر فرمایا: یہ اللہ کے نبی کا وضو ہے، جو آدمی رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے وضو کو دیکھنا چاہتا ہے، تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کا وضو یہ ہے۔
Musnad Ahmad
627
۔ (۶۲۷)۔حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ حَدَّثَنِیْ أَبِیْ ثَنَا سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ قَالَ: حَدَّثَنِیْ عَبْدُاللّٰہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِیْلِ بْنِ أَبِی طَالِبٍ قَالَ: أَرْسَلَنِیْ عَلِیُّ بْنُ حُسَیْنٍ اِلَی الرُّبَیِّعِ بِنْتِ مُعَوَّذِ بْنِ عَفْرَائَؓفَسَأَلْتُہَا عَنْ وُضُوئِ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم، فَأَخْرَجْتْ لَہُ یَعْنِیْ اِنَائً یَکُونُ مُدًّا أَوْ نَحْوَ مُدٍّ و رُبْعٍ، قَالَ سُفْیَانُ: کَأَنَّہُ یَذْہَبُ اِلَی الْہَاشِمِیِّ، قَالَتْ: کُنْتُ أُخْرِجُ لَہُ الْمَائَ فِی ھٰذَا فَیَصُبُّ عَلٰی یَدَیْہِ ثَلَاثًا، وَقَالَ مَرَّۃً: یَغْسِلُ یَدَیْہِ قَبْلَ أَنْ یُدْخِلَہُمَا وَیَغْسِلُ وَجْہَہُ ثَلَاثًا وَیُمَضْمِضُ ثَلَاثًا وَیَسْتَنْشِقُ ثَلَاثًا وَیَغْسِلُ یَدَہُ الْیُمْنَی ثَلَاثًا وَالْیُسْرٰی ثَـلَاثًا وَیَمْسَحُ بِرَأْسِہِ، وَقَالَ مَرَّۃً أَوْ مَرَّتَیْنِ: مُقْبِلًا وَمُدْبِرًا، ثُمَّ یَغْسِلُ رَِجْلَیْہِ ثَلَاثًا، قَدْ جَائَ نِی ابْنُ عَمٍّ لَکَ فَسَأَلَنِیْ وَہُوَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَأَخْبَرْتُہُ فَقَالَ لِیْ: مَا أَجِدُ فِی کِتَابِ اللّٰہِ اِلَّا مَسْحَتَیْنِ وَغَسْلَتَیْنِ۔ (مسند أحمد: ۲۷۵۵۵)
عبد اللہ بن محمد کہتے ہیں: علی بن حسین نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے وضو کے بارے میں سوال کرنے کے لیے مجھے سیدہ ربیع بنت معوذؓ کے پاس بھیجا، انھوں ایک برتن نکالا، جو ایک مُدّ یا ایک مُدّ اور چوتھائی مُدّ کی مقدار کا تھا، سفیان نے کہا: یوں لگ رہا تھا کہ وہ ہاشمی مُدّ کی بات کر رہے ہیں، بہرحال سیدہ ربیعؓ نے کہا: میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے لیے اس برتن میں پانی ڈالتی تھی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ تین دفعہ اپنے ہاتھوں پر پانی بہاتے تھے، ایک دفعہ کہا: ہاتھوں کو برتن میں داخل کرنے سے پہلے تین دفعہ دھوتے تھے، پھر اپنا چہرہ دھوتے اور تین دفعہ کلی کرتے اور تین بار ناک میں پانی چڑھاتے، پھر تین دفعہ دایاں بازو دھوتے اور تین بار ہی بایاں بازو دھوتے اور پھر آگے پیچھے سے سر کا مسح کرتے، پھر اپنے دونوں پاؤں کو تین تین بار دھوتے۔ پھر جب میرے چچا زاد سیدنا ابن عباسؓ میرے پاس آئے اور انھوں نے مجھ سے سوال کیا تو میں نے ساری کیفیت بتلائی، لیکن انھوںنے کہا: میں تو کتاب اللہ میں صرف دو عدد مسح اور دو عدد دھونا پاتا ہوں۔
Musnad Ahmad
631
۔ (۶۳۱)۔حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ حَدَّثَنِیْ أَبِیْ ثَنَا اِسْمَعِیْلُ (یَعْنِی ابْنَ اِبْرَاہِیْمَ) حَدَّثَنَا سَعِیْدٌ الْجُرَیْرِیُّ عَنْ أَبِیْ عَائِذٍ سَیْفٍ السَّعْدِیِّ وَأَثْنٰی عَلَیْہِ خَیْرًا عَنْ یَزِیْدَ بْنِ الْبَرَائِ بْنِ عَازِبٍ وَکَانَ أَمِیْرًا بِعُمَّانَ وَکَانَ کَخَیْرِ الْأُمَرَائِ، قَالَ أَبِیْ: اِجْتَمِعُوا فَلِاُرِیَکُمْ کَیْفَ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَتَوَضَّأُ وَکَیْفَ کَانَ یُصَلِّی، فَاِنِّیْ لَا أَدْرِیْ مَا قَدْرُ صُحْبَتِیْ اِیَّاکُمْ، قَالَ: فَجَمَعَ بَنِیْہِ وَأَہْلَہُ وَدَعَا بِوَضُوئٍ فَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ وَغَسَلَ وَجْہَہُ ثَلَاثًا وَغَسَلَ الْیَدَ الْیُمْنَی ثَلَاثًا وَغَسَلَ یَدَہُ ہَذِہِ ثَلَاثًا یَعْنِی الْیُسْرٰی ثُمَ مَسَحَ رَأْسَہُ وَأُذُنَیْہِ ظَاہِرَہُمَا وَبَاطِنَہُمَا وَغَسَلَ ہٰذِہِ الرِّجْلَ یَعْنِی الْیُمْنٰی ثَـلَاثًا وَغَسَلَ ہٰذِہِ الرِّجْلَ ثَلَاثًا یَعْنِی الْیُسْرٰی، قَالَ: ہٰکَذَا مَا أَلَوْتُ أَنْ أُرِیَکُمْ کَیْفَ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَتَوَضَّأُ ثُمَّ دَخَلَ بَیْتَہُ فَصَلّٰی صَلَاۃً مَا نَدْرِیْ مَا ہِیَ ثُمَّ خَرَجَ فَأَمَرَ بِالصَّلٰوۃِ فَأُقِیْمَتْ فَصَلّٰی بِنَا الظُّہْرَ، فَأَحْسِبُ أَ نِّیْ سَمِعْتُ مِنْہُ آیَاتٍ مِنْ یٰسٓ ثُمَّ صَلَّی الْعَصْرَ ثُمَّ صَلّٰی بِنَا الْمَغْرِبَ ثُمَّ صَلّٰی بِنَا الْعِشَائَ وَقَالَ: مَا أَلَوْتُ أَنْ أُرِیَکُم کَیْفَ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَتَوَضَّأُ وَکَیْفَ کَانَ یُصَلِّیْ۔ (مسند أحمد: ۱۸۷۳۶)
یزید بن براء ، جو عمان کے امیر تھے اور عام امراء میں سے بہترین امیر تھے، سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میرے باپ سیدنا براء بن عازبؓ نے کہا: جمع ہو جاؤ، تاکہ میں تمہیں دکھا سکوں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کیسے وضو کرتے تھے اور کیسے نماز پڑھتے تھے، کیونکہ میں نہیں جانتا کہ میں نے تمہارے ساتھ کتنا عرصہ رہنا ہے، بہرحال انھوں نے اپنے بیٹوں اور اہل وعیال کو جمع کیا اور وضو کا پانی منگوایا، پس کلی کی، ناک میں پانی چڑھایا اور تین دفعہ چہرہ دھویا، پھر دایاں ہاتھ تین دفعہ دھویا، اس کے بعد بایاں ہاتھ تین بار دھویا، پھر سر کا اور کانوں کے ظاہری اور باطنی حصوں کا مسح کیا، پھر اس دائیں پاؤں اور اس کے بعد بائیں پاؤں کو تین تین مرتبہ دھویا اور کہا: اسی طرح وضو تھا، میں نے تمہیں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے وضو کی کیفیت دکھانے میں کوئی کمی نہیں کی، پھر وہ اپنے گھر میں داخل ہوئے اور ایک نماز پڑھی، ہم اس کے بارے میں نہیں جانتے کہ وہ کون سی نماز تھی، پھر باہر تشریف لائے اور نماز کا حکم دیا، پس اقامت کہی گئی اور انھوں نے ہمیں نمازِ ظہر پڑھائی، میرا خیال ہے کہ میں نے اِس نماز میں سورۂ یس کی کچھ آیتیںسنی تھیں، پھر عصر کی نماز پڑھائی، اس کے بعد مغرب کی اور پھر عشا کی نماز پڑھائی اور پھر کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کیسے وضو کرتے تھے اور کیسے نماز پڑھتے تھے، میں نے تم کو یہ چیزیں دکھانے میں کوئی کمی نہیں کی۔
Musnad Ahmad
639
۔ (۶۳۹)۔حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ حَدَّثَنِیْ أَبِیْ ثَنَا مُعَاوِیَۃُ ثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِیْ صَالِحٍ عَنْ أَبِیْ ہُرَیْرَۃَؓ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((اِذَا اسْتَیْقَظَ أَحَدُکُمْ مِنَ اللَّیْلِ فَلَا یُدْخِلْ یَدَہُ فِی الْاِنَائِ حَتّٰی یَغْسِلَہَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ فَاِنَّہُ لَا یَدْرِیْ أَیْنَ بَاتَتْ یَدُہُ۔)) قَالَ: وَقَالَ وَکِیْعٌ عَنْ أَبِیْ صَالِحٍ وَأَبِیْ رَزِیْنٍ عَنْ أَبِیْ ہُرَیْرَۃَ یَرْفَعُہُ ثَـلَاثًا، (حَدَّثَنَا) عَبْدُاللّٰہِ حَدَّثَنِیْ أَبِیْ ثَنَا مُعَاوِیَۃُ بْنُ عَمْرٍو ثَنَا زَائِدَۃُ عَنْ أَبِیْ صَالِحٍ عَنْ أَبِیْ ہُرَیْرَۃَ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((حَتّٰی یَغْسِلَہَا مَرَّۃً أَوْ مَرَّتَیْنِ۔)) حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ حَدَّثَنِیْ أَبِیْ ثَنَا سُفْیَانُ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ أَبِیْ سَلَمَۃَ عَنْ أَبِیْ ہُرَیْرَۃَ رِوَایَۃً: ((اِذَا اسْتَیْقَظَ أَحَدُکُمْ مِنْ نَوْمِہِ فَلَا یَغْمِسْ یَدَہُ فِیْ اِنَائِہِ حَتَّی یَغْسِلَہَا ثَـلَاثًا فَاِنَّہُ لَا یَدْرِیْ أَیْنَ بَاتَتْ یَدُہُ۔)) (مسند أحمد: ۱۰۰۹۳)
سیدنا ابو ہریرہؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی آدمی بیدار ہو تو وہ اپنے ہاتھوں کو تین دفعہ دھو لینے سے پہلے برتن میں داخل نہ کرے، کیونکہ وہ یہ نہیں جانتا کہ اس کے ہاتھوں نے رات کہاں گزاری ہے۔ ایک روایت میں ہے: ایک یا دو دفعہ دھونے سے پہلے۔ ایک روایت میں ہے: جب تم میں کوئی آدمی اپنی نیند سے بیدار ہو تو وہ اپنے ہاتھوں کو برتن میں اس وقت تک نہ ڈالے، جب تک ان کو تین دفعہ نہ دھو لے، کیونکہ وہ نہیں جانتا کہ اس کے ہاتھ نے رات کہاں گزاری ہے۔
Musnad Ahmad
663
۔ (۶۶۳)۔حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ حَدَّثَنِیْ أَبِیْ ثَنَا سُرَیْجُ بْنُ نُعْمَانَ قَالَ: ثَنَا عَبْدُاللّٰہِ بْنُ وَہْبٍ الْمِصْرِیُّ عَنْ عَمْرٍوبْنِ الْحَارِثِ بْنِ یَعْقُوبَ الْأَنْصَارِیِّ أَنَّ حِبَّانَ بْنَ وَاسِعٍ الْأَنْصَارِیَّ حَدَّثَہُ أَنَّہُ سَمِعَ عَبْدَاللّٰہِ بْنَ زَیْدِ بْنِ عَاصِمٍ الْمَازِنِیَّ یَذْکُرُ أَ نَّہُ رَاٰی رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تَوَضَّأَ فَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ ثُمَّ غَسَلَ وَجْہَہُ ثَـلَاثًا وَیَدَہُ الْیُمْنٰی ثَـلَاثًا وَالْأُخْرٰی ثَـلَاثًا وَمَسَحَ رَأْسَہُ بِمَائٍ غَیْرِ فَضْلِ یَدِہِ وَغَسَلَ رِجْلَیْہِ حَتّٰی أَنْقَاہُمَا۔ (مسند أحمد: ۱۶۵۸۱)
سیدنا عبد اللہ بن زید بن عاصمؓ بیان کرتے ہیں کہ انھوں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو اس طرح وضو کرتے ہوئے دیکھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے کلی کی، ناک میں پانی چڑھایا، پھر تین بار چہرہ دھویا، اس کے بعد دایاں بازو تین بار اور پھر بایاں باز تین مرتبہ دھویا، پھر سر کا مسح اس پانی سے کیا جو ہاتھوں سے بچا ہوا نہیں تھا، پھر دونوں پاؤں کو دھویا، یہاں تک کہ ان کو صاف کر دیا۔
Musnad Ahmad
669
۔ (۶۶۹)۔حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ حَدَّثَنِیْ أَبِیْ ثَنَا سُفْیَانُ قَالَ: ثَنَا عَمْرُو بْنُ یَحْیٰی ابْنِ عُمَارَۃَ بْنِ أَبِی حَسَنٍ الْمَازِنِیُّ الْأَنْصَارِیُّ عَنْ أَبِیْہِ عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بِْن زَیْدٍ ؓ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تَوَضَّأَ، قَالَ سُفْیَانُ: ثَنَا یَحْیَ بْنُ سَعِیْدٍ عَنْ عَمْرٍو بْنِ یَحْیٰ مُنْذُ أَرْبَع وَ سَبْعِیْنَ سَنَۃً وَسَأَلْتُہُ بَعْدَ ذَالِکَ بِقَلِیْلٍ وَکَانَ یَحْیٰی أَکْبَرَ مِنْہُ، قَالَ سُفْیَانُ: سَمِعْتُ مِنْہُ ثَلَاثَۃَ أَحَادِیْثَ، فَغَسَلَ یَدَیْہِ مَرَّتَیْنِ وَوَجْہَہُ ثَلَاثًا وَمَسَحَ بِرَأْسِہِ مَرَّتَیْنِ، قَالَ أَبِیْ: سَمِعْتُہُ مِنْ سُفْیَانَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ یَقُولُ: غَسَلَ رِجْلَیْہِ مَرَّتَیْنِ، وَقَالَ مَرَّۃً: مَسَحَ بِرَأْسِہِ مَرَّۃً، وَقَالَ مَرَّتَیْنِ: مَسَحَ بِرَأْسِہِ مَرَّتَیْنِ۔ (مسند أحمد: ۱۶۵۶۶)
سیدنا عبد اللہ بن زیدؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے وضو کیا، امام سفیان نے کہا: چوہتر برس ہو گئے ہیں کہ یحییٰ بن سعید نے مجھے یہ حدیث بیان کی تھی، اس کے کچھ عرصہ بعد بھی میں نے ان سے سوال کیا تھا اور یحییٰ ان سے بڑے تھے۔ سفیان کہتے ہیں: میں نے ان سے تین احادیث سنی تھیں، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے اپنے ہاتھوں کو دو مرتبہ اور چہرے کو تین مرتبہ دھویا اور دو بار سر کا مسح کیا۔ امام احمد کہتے ہیں: میں نے سفیان سے یہ حدیث تین مرتبہ سنی، وہ کہتے تھے: پاؤں کو دو مرتبہ دھویا، لیکن ایک دفعہ یوں بیان کیا کہ سر کا ایک دفعہ مسح کیا اور دو مرتبہ یوں بیان کیا کہ سر کا دو دفعہ مسح کیا۔