TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

امامت کا بیان،اماموں کی صفات اور ان سے متعلقہ مزید احکام - امامت کا بیان،اماموں کی صفات اور ان سے متعلقہ مزید احکام - Book 47 of Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Book 47 of Musnad Ahmad, with 13 chapters and 70 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

70 Hadith · 13 Chapters
امام کے ضامن ہونے اور فاسق کی امامت کا بیان
۔ (۲۵۲۵) عَنْ أَبِی ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اَلْاِمَامُ ضَامِنٌ وَالْمُؤَذِّنُ مُؤْتَمَنٌ (وَفِی لَفْظٍ أَمِیْنٌ)، اَللَّہُمَّ أَرْشِدِ الْأَئِمَّۃَ وَاغْفِرْ لِلْمُؤَذِّنِیْنَ)) (مسند احمد: ۷۱۶۹)
سیّدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: امام ضامن ہوتا ہے اور مؤذن امین ہوتا ہے، اے اللہ! تو اماموں کو ہدایت دے (یعنی ان کو اپنی ذمہ داری ادا کرنے کی توفیق دے) اور مؤذنوں (سے ہوجانے والی کمی بیشی) کو معاف فرمادے ۔
Takhreej
(۲۵۲۵) تخریـج: …حدیث صحیح، وھذا اسناد ضعیف لجھالۃ الرجل الذی روی عنہ الاعمش أخرجہ ابوداود: ۵۱۷، والترمذی: ۲۰۷ (انظر: ۷۱۶۹، ۷۸۱۸)
2525
Sahih
امام کے ضامن ہونے اور فاسق کی امامت کا بیان
۔ (۲۵۲۶) عَنْ أَبِی عَلِیٍّ الْھَمَدَانِیِّ قَالَ: خَرَجْتُ فِی سَفَرٍ وَمَعَنَا عُقْبَۃُ بْنُ عَامِرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: فَقُلْنَا لَہُ: اِنَّکَ یَرْحَمُکَ اللّٰہُ مِنْ أَصْحَابِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَأُمَّنَا، فَقَالَ: لَا، اِنِّی سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((مَنْ أَمَّ النَّاسَ فَأَصَابَ الْوَقْتَ وَأَتَمَّ الصَّلَاۃَ فَلَہُ وَلَھُمْ، وَمَنِ انْتَقَصَ مِنْ ذٰلِکْ شَیْئًا فَعَلَیْہِ وَلَا عَلَیْہِمْ۔)) (مسند احمد: ۱۷۴۳۸)
ابوعلی ہمدانی کہتے ہیں: میں ایک سفر میں نکلا، ہمارے ساتھ سیّدنا عقبہ بن عامر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بھی تھے، ہم نے ان سے کہا کہ آپ پر اللہ تعالیٰ رحم فرمائے، آپ اصحاب ِ رسول میں سے ہیں، اس لیے آپ ہمیں امامت کرائیں، لیکن انھوں نے کہا: نہیں، کیونکہ میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: جس نے لوگوں کی امامت کروائی اور صحیح وقت کا اہتمام کیا اور نماز کو مکمل طور پرادا کیا، تو اس کو بھی ثواب ملے گا ا ور مقتدیوں کو بھی، اور جس نے ان امور میں کسی چیز کی کمی کی، تو اس کا گناہ اس امام پر ہوگا، نہ کہ مقتدیوں پر ۔
Takhreej
(۲۵۲۶) تخریـج: …حدیث حسن۔ أخرجہ ابوداود: ۵۸۰ (انظر: ۱۷۳۰۵)
2526
Sahih
امام کے ضامن ہونے اور فاسق کی امامت کا بیان
۔ (۲۵۲۷) عَنْ أَبِی ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یُصَلُّوْنَ بِکُمْ، فَاِنْ أَصَابُوا فَلَکُمْ وَلَھُمْ وَاِنْ أَخْطَئُوْا فَلَکُمْ وَعَلَیْھِمْ۔)) (مسند احمد: ۸۶۴۸)
سیّدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ تم کو نماز پڑھائیں گے، اگر انھوں نے درست انداز میں نماز پڑھی تو تمہیں بھی ثواب ملے گا اور ان کو بھی، اور اگر انھوں نے غلطی کی تو تمہیں تو ثواب ملے گا اور ان پر گناہ ہو گا ۔
Takhreej
(۲۵۲۷) تخریـج: …أخرجہ البخاری: ۶۹۴ (انظر: ۸۶۶۳)
2527
Sahih
امام کے ضامن ہونے اور فاسق کی امامت کا بیان
۔ (۲۵۲۸) عَنْ عَبْدِاللّٰہِ (بْنِ مَسْعُوْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌) قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَعَلَّکُمْ سَتُدْرِکُوْنَ أَقْوَامًا یُصَلُّوْنَ صَلَاۃً لِغَیْرِ وَقْتِہَا فَاِذَا أَدْرَکْتُمُوْھُمْ فَصَلُّوا فِی بُیُوْتِکُمْ فِی الْوَقْتِ الَّذِی تَعْرِفُوْنَ ثُمَّ صَلُّوا مَعَہُمْ وَاجْعَلُوْھَا سُبْحَۃً)) (مسند احمد: ۳۶۰۱)
سیّدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: شاید تم ایسے لوگوں کو پا لو جو نماز کو اس کے وقت سے ٹال کر پڑھیں گے، اگر واقعی ان کو پا لو تو گھروں میں ہی اپنی پہچان کے مطابق وقت پر نماز پڑھ لینا، پھر ان کے ساتھ بھی ادا کرلینا اور اِس کو نفل سمجھ لینا۔
Takhreej
(۲۵۲۸) تخریـج: …اسنادہ حسن۔ أخرجہ النسائی: ۲/ ۷۵، وابن ماجہ: ۱۲۵۵، وأخرج بنحوہ مسلم: ۵۳۴ (انظر: ۳۶۰۱)
2528
Sahih
امام کے ضامن ہونے اور فاسق کی امامت کا بیان
۔ (۲۵۲۹) وَعَنْہُ أَیْضًا قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّہُ سَیَلِی أَمْرَکُمْ مِنْ بَعْدِی رِجَالٌ یُطْفِئُوْنَ السُّنَّۃَ وَیُحْدِثُوْنَ بِدْعَۃً وَیُؤَخِّرُوْنَ الصَّلَاۃَ عَنْ مَوَاقِیْتِہَا۔)) قَالَ ابْنُ مَسْعُوْدٍ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! کَیْفَ بِی اِذَا أَدْرَکْتُہُمْ؟ قَالَ: ((لَیْسَ یَا ابْنَ أُمِّ عَبْدٍ! طَاعَۃٌ لِمَنْ عَصَی اللّٰہَ۔)) قَالَھَا ثَـلَاثَ مَرَّاتٍ، وَسَمِعْتُ أَنَا مِنْ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَاحِ مِثْلَہُ۔ (مسند احمد: ۳۷۹۰)
سیّدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بے شک قریب ہے کہ تمہارے امور کے والی ایسے لوگ بن جائیں ، جو سنت کو مٹائیں گے، بدعتوں کو زندہ کریں گے اور نماز کو اس کے وقت سے لیٹ کر دیں گے۔ عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! جب میں ان کو پالوں توکیا کروں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ام عبد کے بیٹے! اللہ کی نافرمانی کرنے والے شخص کی کوئی اطاعت نہیں ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ بات تین دفعہ ارشاد فرمائی۔
Takhreej
(۲۵۲۹) تخریـج:… اسنادہ حسن عند من یصحح سماع عبد الرحمن من ابیہ عبد اللہ، وضعیف عند من یقول: انہ لم یسمع من ابیہ الا الیسیر، فقد توفی ابوہ وعمرہ ست سنوات أخرجہ ابن ماجہ: ۲۸۶۵ (انظر: ۳۷۹۰)
2529
Sahih
اس کا بیان کہ امامت کا زیادہ حق دار کون ہے
۔ (۲۵۳۰) عَنْ أَبِی مَسْعُوْدٍ الْأَنْصَارِیِّ الْبَدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((یَؤُمُّ الْقَوْمَ أَقْرَؤُھُمْ لِکِتَابِ اللّٰہِ تَعَالٰی وَأَقْدَمُہُمْ قِرَائَ ۃً فَاِنْ کَانَتْ قِرَائَ تُہُمْ سَوَائً فَلْیَؤُمَّہُمْ أَقْدَمُہُمْ ھِجْرَۃً فَاِنْ کَانَتْ ھِجْرَتُھُمْ سَوَائً فَلْیَؤُمَّہُمْ أَکْبَرُھُمْ سِنًّا وَلَا یُؤَمَّ الرَّجُلُ فِی أَھْلِہِ وَلَا فِی سُلْطَانِہِ وَلَا یُجْلَسْ عَلٰی تَکْرِمَتِہِ فِی بَیْتِہِ اِلَّا بِاِذْنِہِ)) (مسند احمد: ۱۷۲۲۷)
ابومسعود انصاری بدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قوم کی امامت وہ آدمی کروائے جو اللہ تعالیٰ کی کتاب زیادہ پڑھا ہوا ہو، اگر وہ قراء ت میں برابر ہوں، تو وہ شخص امامت کروائے جو ہجرت میں مقدم ہو، اگر وہ ہجرت میں برابر ہو ں تو وہ امامت کرائے جو عمر میں بڑا ہو، اور آدمی کے گھر میں اور اس کے اقتدار میں اس کی امامت نہ کروائی جائے اور اس کے گھر میں اس کی عزت والی جگہ میں نہ بیٹھا جائے، مگر اس کی اجازت کے ساتھ۔
Takhreej
(۲۵۳۰) تخریـج: …أخرجہ مسلم: ۶۷۳ (انظر: ۱۷۰۹۲)
2530
Sahih
اس کا بیان کہ امامت کا زیادہ حق دار کون ہے
۔ (۲۵۳۱)(وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ بِنَحْوِہِ وَفِیْہِ) فَاِنْ کَانُوا فِی الْقِرَآئَ ۃِ سَوَائً فَأَعْلَمُھُمْ بِالسُّنَّۃِ۔ (مسند احمد: ۲۲۶۹۶)
(دوسری سند)اس میں یہ یہ زائد ہے: اگر وہ قراء ت میں برابر ہوں تو سنت کو زیادہ جاننے والا امام کروائے ۔
Takhreej
(۲۵۳۱)تخریـج: …انظر الحدیث بالطریق الاول
2531
Sahih
اس کا بیان کہ امامت کا زیادہ حق دار کون ہے
۔ (۲۵۳۲)(وَفِیْہِ أَیْضًا) وَلَا تَجْلِسْ عَلٰی تَکْرِمَتِہِ فِی بَیْتِہِ حَتّٰی یَأْذَنَ لَکَ ۔ (مسند احمد: ۱۷۲۲۷)
( اور اس کے الفاظ یہ ہیں:) اور تو اس کے گھر میں اس کی عزت والی جگہ میں نہ بیٹھ، الا یہ کہ وہ اجازت دے دے۔
Takhreej
(۲۵۳۲)تخریـج: …انظر الحدیث بالطریق الاول
2532
Sahih
اس کا بیان کہ امامت کا زیادہ حق دار کون ہے
۔ (۲۵۳۳) عَنْ أَبِی سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِذَا کَانُوْا ثَـلَاثَۃً فَلْیَؤُمَّھُمْ أَحَدُھُمْ، وَأَحقُّہُمْ بِالْاِمَامَۃِ أَقْرَؤُھُمْ۔)) (مسند احمد: ۱۱۴۷۴)
سیّدنا ابوسعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تین افراد ہوں تو ان میں سے ایک امامت
Takhreej
(۲۵۳۳) تخریـج: …أخرجہ مسلم: ۶۷۲ (انظر: ۱۱۱۹۰)
2533
Sahih
اس کا بیان کہ امامت کا زیادہ حق دار کون ہے
۔ (۲۵۳۴) عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((یَؤُمُّ الْقَوْمَ أَقْرَؤُھُمْ لِلْقُرْآنِ۔)) (مسند احمد: ۱۲۶۹۴)
سیّدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قوم کی امامت وہ شخص کرائے گا، جو ان میں قرآن کو زیادہ پڑھنے والا ہو گا۔
Takhreej
(۲۵۳۴) تخریـج: …صحیح لغیرہ، وھذا اسناد ضعیف لجھالۃ عبد الملک شیخ ابن جریج أخرجہ عبد الرزاق: ۳۸۱۰ (انظر: ۱۲۶۶۵)
2534
Sahih
اس کا بیان کہ امامت کا زیادہ حق دار کون ہے
۔ (۲۵۳۵) عَنْ عَمْرِو بْنِ سَلِمَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کَانَتْ تَأْتِیْنَا الرُّکْبَانُ مِنْ قِبْلِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَنَسْتَقْرِئُہُمْ فَیُحَدِّثُوْنَا أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لِیَؤُمَّکُمْ أَکْثَرُکُمْ قُرْآنًا۔)) (مسند احمد: ۲۰۹۶۳)
سیّدنا عمرو بن سلمۃ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی طرف سے ہمارے پاس قافلے آتے تھے، پس ہم ان سے پڑھتے تھے، انھوں نے ہمیں یہ بھی بیان کیا کہ رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تمہاری امامت وہ کرائے تو تم میں قرآن مجید کو زیادہ پڑھنے والا ہو۔
Takhreej
(۲۵۳۵) تخریـج: …أخرجہ مطولا البخاری: ۴۳۰۲ (انظر: ۱۵۹۰۲)
2535
Sahih
اس کا بیان کہ امامت کا زیادہ حق دار کون ہے
۔ (۲۵۳۶) حدثنا عَبْدُاللّٰہِ حَدَّثَنِیْ أَبِی ثَنَا سُرَیْجٌ وَیُوْنُسُ قَالَا ثَنَا حَمَّادٌ یَعْنِی ابْنَ زَیْدٍ عَنْ أَبِی قِلَابَۃَ عَنْ مَالِکِ بْنِ الْحُوَیْرِثِ اللَّیْثِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَدِمْنَا عَلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَنَحْنُ شَبَبَۃٌ، قَالَ: فَأَقَمْنَا عِنْدَہُ نَحْوًا مِنْ عِشْرِیْنَ لَیْلَۃً، فَقَالَ لَنَا: ((لَوْ رَجَعْتُمْ اِلَی بِلَادِکُمْ)) وَکَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رَحِیْمًا ((فَعَلَّمْتُمُوْھُمْ۔)) قَالَ سُرَیْجٌ وَأَمَرْتُمُوْھُمْ أَنْ یُصَلُّوْا صَلَاۃَ کَذَا حِیْنَ کَذَا قَالَ یُوْنُسُ وَمُرُوْھُمْ فَلْیُصَلُّوْا صَلَاۃَ کَذَا فِی حِیْنِ کَذَا وَصَلَاۃَ کَذَا فِی حِیْنِ کَذَا، فَاِذَا حَضَرَتِ الصَّلَاۃُ فَلْیُؤَذِّنْ لَکُمْ أَحَدُکُمْ وَلْیَؤُمَّکُمْ أَکْبَرُکُمْ۔ (مسند احمد: ۲۰۸۰۳)
سیّدنا مالک بن حویرث سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نوجوان لوگ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئے اور تقریبا بیس راتیں قیام کیا، چونکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رحم دل تھے، اس لیے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں فرمایا: اگر تم اپنے شہروں کی طرف لوٹ جائو اور ان کو تعلیم دو اور انھیں حکم دو کہ وہ فلاں فلاں نماز فلاں فلاں وقت میں پڑھیں، جب نماز کا وقت ہو جائے تو تم میں سے ایک آدمی اذان کہے اور وہ آدمی تمہاری امامت کرائے، جو تم میں بڑا ہو۔
Takhreej
(۲۵۳۶) تخریـج: …أخرجہ البخاری: ۶۳۰، ۶۵۸، ۶۸۵، ۸۱۹، ومسلم: ۶۷۴ (انظر: ۱۵۶۰۱، ۲۰۵۲۹)
2536
Sahih
اس کا بیان کہ امامت کا زیادہ حق دار کون ہے
۔ (۲۵۳۷، ۲۵۳۸)(وَمِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّائِ عَنْ أَبِی قِلَابَۃً عَنْ مَالِکِ بْنِ الْحُوَیْرِثِ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ لَہُ وَلِصَاحِبٍ لَہُ: ((اِذَا حَضَرَتِ الصَّلَاۃُ فَأَذِّنَا وَأَقِیْمَا وَقَالَ مَرَّۃً فَأَقِیْمَا ثُمَّ لِیَؤُمَّکُمَا أَکْبَرُ کُمَا۔)) قَالَ خَالِدٌ: فَقُلْتَ لِأَبِی قِلَابَۃَ: فَأَیْنَ الْقِرَائَۃُ؟ قَالَ: اِنَّہُمَا کَانَا مُتَقَارِبَیْنِ۔ (زَادَ فِی رِوَایَۃٍ:) ((صَلُّوا کَمَا تَرَوْنِی أُصَلِّی)) (مسند احمد: ۱۵۶۸۶)
(دوسری سند )سیّدنا مالک بن حویرث ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کو اور اس کے ساتھی کو فرمایا: جب نماز کا وقت آجائے، تو تم اذان دینا، پھراقامت کہنا اور جو تم میں بڑا ہے، وہ جماعت کروائے گا۔ خالد کہتے ہیں: میں نے ابوقلابہ سے کہا: قراء ت (کی بنا پر امام بنانے کا)مسئلہ کہاں گیاَ انہوں نے کہا: بیشک وہ دونوں (قراء ت اور باقی علم میں) قریب قریب تھے۔ ایک روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں: نماز اس طرح پڑھنا، جس طرح تم نے مجھے پڑھتے ہوئے دیکھا ہے۔
Takhreej
(۲۵۳۷، ۲۵۳۸)تخریـج: …انظر الحدیث بالطریق الاول
2537
Sahih
اس کا بیان کہ امامت کا زیادہ حق دار کون ہے
۔ (۲۵۳۷، ۲۵۳۸)(وَمِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّائِ عَنْ أَبِی قِلَابَۃً عَنْ مَالِکِ بْنِ الْحُوَیْرِثِ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ لَہُ وَلِصَاحِبٍ لَہُ: ((اِذَا حَضَرَتِ الصَّلَاۃُ فَأَذِّنَا وَأَقِیْمَا وَقَالَ مَرَّۃً فَأَقِیْمَا ثُمَّ لِیَؤُمَّکُمَا أَکْبَرُ کُمَا۔)) قَالَ خَالِدٌ: فَقُلْتَ لِأَبِی قِلَابَۃَ: فَأَیْنَ الْقِرَائَۃُ؟ قَالَ: اِنَّہُمَا کَانَا مُتَقَارِبَیْنِ۔ (زَادَ فِی رِوَایَۃٍ:) ((صَلُّوا کَمَا تَرَوْنِی أُصَلِّی)) (مسند احمد: ۱۵۶۸۶)
(دوسری سند )سیّدنا مالک بن حویرث ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کو اور اس کے ساتھی کو فرمایا: جب نماز کا وقت آجائے، تو تم اذان دینا، پھراقامت کہنا اور جو تم میں بڑا ہے، وہ جماعت کروائے گا۔ خالد کہتے ہیں: میں نے ابوقلابہ سے کہا: قراء ت (کی بنا پر امام بنانے کا)مسئلہ کہاں گیاَ انہوں نے کہا: بیشک وہ دونوں (قراء ت اور باقی علم میں) قریب قریب تھے۔ ایک روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں: نماز اس طرح پڑھنا، جس طرح تم نے مجھے پڑھتے ہوئے دیکھا ہے۔
Takhreej
(۲۵۳۷، ۲۵۳۸)تخریـج: …انظر الحدیث بالطریق الاول
2538
Sahih
اس کا بیان کہ امامت کا زیادہ حق دار کون ہے
۔ (۲۵۳۹) عَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّہُ أَتٰی أَبَا مُوْسَی الْأَشْعَرِیَّ فِی مَنْزِلِہِ فَحَضَرَتِ الصَّلَاۃُ، فَقَالَ أَبُوْ مُوْسَی: تَقَدَّمْ یَا أَبَا عَبْدِالرَّحْمٰنِ! فَاِنَّکَ أَقْدَمُ سِنًّا وَأَعْلَمُ، قَالَ: لَا، بَلْ تَقَدَّمْ أَنْتَ فَاِنَّمَا أَتَیْنَاکَ فِی مَنْزِلِکَ وَمَسْجِدِکَ فَأَنْتَ أَحَقُّ، قَالَ: فَتَقَدَّمَ أَبُوْ مُوْسٰی فَخَلَعَ نَعْلَیْہِ، فَلَمَّا سَلَّمَ قَالَ: مَا أَرَدْتَّ اِلَی خَلْعِہِمَا؟ أَبِالْوَادِ الْمُقَدَّسِ أَنْتَ؟ لَقَدْ رَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُصَلِّی فِی الْخُفَّیْنِ وَالنَّعْلَیْنِ۔ (مسند احمد: ۴۳۹۷)
سیّدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں سیّدنا ابوموسیٰ اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس ان کے گھر گیا، اتنے میں نماز کا وقت ہوگیا، انھوں نے مجھے کہا: ابوعبد الرحمن! آگے بڑھو(اور نماز پڑھاؤ)کیونکہ تم زیادہ عمر والے اور زیادہ علم والے ہو، لیکن میں نے کہا: نہیں، بلکہ آپ خود آگے بڑھیں، کیونکہ ہم آپ کے پاس، آپ کے گھر اور آپ کی مسجد میں آئے ہیں، اس لیے آپ زیادہ حقدار ہیں، پس سیّدنا ابو موسی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ آگے بڑھے اور انھوں نے اپنے جوتے اتار دیئے، جب انھوں نے سلام پھیرا تو میں نے کہا: آپ نے جوتے کیوں اتارے ہیں؟ کیا آپ وادیٔ مقدس میں ہیں،میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دیکھا کہ آپ موزے اور جوتے پہن کر نماز پڑھتے تھے۔
Takhreej
(۲۵۳۹) تخریـج: …صحیح، لم یسمع ابو اسحاق السبیعی من علقمۃ، لکن تابعہ ابو الاحوص، وسماع زھیر من ابی اسحاق السبیعی بعد الاختلاط، لکنہ متابع ایضا أخرجہ مطولا ومختصرا ابن ماجہ: ۱۰۳۹، وابن ابی شیبۃ: ۲/ ۴۱۷، والطبرانی فی ’’الکبیر‘‘: ۹۲۶۲، وأخرجہ مختصرا الطیالسی: ۳۹۵ (انظر: ۴۳۹۷)
2539
Sahih
اس کا بیان کہ امامت کا زیادہ حق دار کون ہے
۔ (۲۵۴۰) عَنْ بُدَیْلِ بْنِ مَیْسَرَۃَ الْعُقَیْلِیِّ عَنْ رَجُلٍ مِنْہُمْ یُکْنَی أَبَا عَطِیَّۃَ قَالَ: کَانَ مَالِکُ بْنُ الْحُوَیْرِثِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ یَأْتِیْنَا فِی مُصَلَّانَا یَتَحَدَّثُ، قَالَ: فَحَضَرَتِ الصَّلَاۃُ یَوْمًا فَقُلْنَا: تَقَدَّمْ، فَقَالَ: لَا، لِیَتَقَدَّمْ بَعْضُکُمْ حَتّٰی أُحَدِّثَکُمْ لِمَ لَا أَتَقَدَّمُ، سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((اِنَّ مَنْ زَارَ قَوْمًا فَـلَا یَؤُمَّہُمْ، وَلْیَؤُمَّہُمْ رَجُلٌ مِنْہُمْ۔)) (مسند احمد: ۲۰۸۰۶)
ابوعطیہ کہتے ہیں: سیّدنا مالک بن حویرث ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ہمارے پاس ہماری جائے نمازمیں آتے تھے اور باتیں کرتے تھے، ایک دن نماز کا وقت ہوگیا، ہم نے ان سے کہا: آگے بڑھو اور ( نماز پڑھاؤ)، لیکن انھوں نے کہا: نہیں، تمہارا اپنا کوئی آدمی آگے بڑھے، میں تم کو بیان کرتا ہوں کہ میں آگے کیوں نہیں بڑھ رہا۔ میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سنا: جو آدمی دوسروں کی ملاقات اور زیارت کرنے کے لیے ان کے پاس آئے، وہ ان کو امامت نہ کرائے، بلکہ ان کا اپنا کوئی آدمی جماعت کرائے۔
Takhreej
(۲۵۴۰) تخریـج: …المرفوع منہ حسن لغیرہ، وھذا اسناد ضعیف لجھالۃ ابی عطیۃ أخرجہ الترمذی: ۳۵۶ (انظر: ۲۰۵۳۲)
2540
Sahih
نابینا آدمی اور بچے کی اور عورت کی عورتوں کی امامت کا بیان
۔ (۲۵۴۱) عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِسْتَخْلَفَ ابْنَ أُمِّ مَکْتُوْمٍ عَلَی الْمَدِیْنَۃِ مَرَّتَیْنِ یُصَلِّی بِہِمْ وَھُوَ أَعْمٰی۔ (مسند احمد: ۱۳۰۳۱)
سیّدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیّدنا ابن ام مکتوم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو مدینے پر دو دفعہ اپنا نائب مقرر کیا،وہ لوگوں کو نماز پڑھاتے تھے، جبکہ وہ نابینا تھے۔
Takhreej
(۲۵۴۱) تخریـج: …اسنادہ حسن۔ أخرجہ ابوداود: ۵۹۵، ۲۹۳۱ (انظر: ۱۲۳۴۴، ۱۳۰۰۰)
2541
Sahih
نابینا آدمی اور بچے کی اور عورت کی عورتوں کی امامت کا بیان
۔ (۲۵۴۲) وَعَنْہُ أَیْضًا أَنَّ عِتْبَانَ بْنَ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ذَھَبَ بَصَرُہُ فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! لَوْ جِئْتَ صَلَّیْتَ فِی دَارِیْ أَوْ قَالَ: فِی بَیْتِیْ لَاتَّخَذْتُ مُصَلَّاکَ مَسْجِدًا، فَجَائَ النَّبِیُُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَصَلّٰی فِی دَارِہِ أَوْ قَالَ فِی بَیْتِہِ ’’الحدیث‘‘ ۔ (مسند احمد: ۱۲۸۱۹)
سیّدنا انس سے یہ بھی روایت ہے، وہ کہتے ہیں:سیّدنا عتبان بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی نظر ختم ہو گئی تھی، اس لیے انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اگر آپ تشریف لائیں اور میرے گھر میں نماز پڑھیں، تو میں اس جگہ کو مسجد بنالوں۔ پس نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تشریف لائے اور اس کے گھر میں نماز پڑھی۔
Takhreej
(۲۵۴۲) تخریـج: …حدیث صحیح (انظر: ۱۲۳۸۴، ۱۲۷۸۸)
2542
Sahih
نابینا آدمی اور بچے کی اور عورت کی عورتوں کی امامت کا بیان
۔ (۲۵۴۳) عَنْ عَمْرِو بْنِ سَلِمَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کُنَّا عَلٰی حَاضِرٍ فَکَانَ الرُّکْبَانُ (وَفِی رِوَایَۃٍ فَکَانَ النَّاسُ) یَمُرُّوْنَ بِنَا رَاجِعِیْنَ مِنْ عِنْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَأَدْنُوْ مِنْہُمْ فَأَسْمَعُ حَتّٰی حَفِظْتُ قُرْآنًا، وَکَانَ النَّاسُ یَنْتَظِرُوْنَ بِاِسْلَامِہِمْ فَتْحَ مَکَّۃَ، فَلَمَّا فُتِحَتْ جَعَلَ الرَّجُلُ یَأْتِیْہِ فَیَقُوْلُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! أَنَا وَافِدُ بَنِیْ فُلَانٍ، وَجِئْتُکَ بِاِسْلَامِھِمْ، فَانْطَلَقَ أَبِی بِاِسْلَامِ قَوْمِہِ، فَرَجَعَ اِلَیْہِمْ، فَقَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((قَدِّمُوْا أَکْثَرَکُمْ قُرْآنًا۔)) قَالَ: فَنَظَرُوْا، وَاِنَّا لَعَلٰی حِوَائٍ عَظِیْمٍ، فَمَا وَجَدُوا فِیْھِمْ أَحَدًا أَکْثَرَ قُرْآنًا مِنِّی، فَقَدَّمُوْنِی وَأَنَا غُلَامُ فَصَلَّیْتُ بِہِمْ وَعَلَیَّ بُرْدَۃٌ وَکُنْتُ اِذَا رَکَعْتُ أَوْ سَجَدْتُ قَلَصَتْ فَتَبْدُوا عَوْرَتِی، فَلَمَّا صَلَّیْنَا، تَقُوْلُ عَجُوْزٌ لَنَا دُھْرِیَّۃٌ: غَطُّوا عَنَّا اِسْتَ قَارِئِکُمْ، قَالَ: فَقَطَعُوْا لِی قَمِیصًا، فَذَکَرَ أَنَّہُ فَرِحَ بِہِ فَرَحًا شَدِیْدًا۔ (مسند احمد: ۲۰۵۹۹)
سیّدنا عمرو بن سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: ہم ایسی جگہ پر سکونت پذیر تھے،جہاں سے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس سے لوٹنے والے لوگ گزرتے تھے، میں ان کے قریب ہوتا اوران سے سنتا تھا، حتیٰ کہ قرآن کا کافی حصہ مجھے یاد ہو گیا، اُدھر لوگ اسلام لانے کے لیے فتح مکہ کا انتظار کر رہے ۔ جب مکہ فتح ہوگیا تو لوگ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آنے شروع ہو گئے، ایک آدمی آتا اور کہتا: میں بنو فلاں کا نمائندہ ہوں اور ان کے اسلام کی اطلاع دینے کے لیے آیا ہوں۔ میرے باپ بھی اپنی قوم کے اسلام کی خبر لے کر گئے، جب وہ اُن کی طرف لوٹے تو کہا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو تم میں قرآن زیادہ پڑھا ہوا ہو اس کو امامت کے لیے آگے کرنا۔ پس انھوں نے دیکھا (کہ کس کو امام بنانا چاہیے) جبکہ وہاں لوگوں کی تعداد بہت زیادہ تھی، لیکن وہ ایسا آدمی نہ پا سکے، جو مجھ سے زیادہ قرآن پڑھا ہوا ہوتا، اس لیے انہوں نے مجھے امامت کے لیے آگے کردیا اور میں ابھی لڑکا تھا۔ میں نے ان کو نماز پڑھائی اور مجھ پر ایک چادر تھی، جب میں رکوع یا سجدہ کرتا تو کپڑا اوپر اٹھ جاتا تو میری شرمگاہ ننگی ہونے لگتی، جب ہم نے نماز پڑھ لی تو بہت زیادہ عمر والی ایک بوڑھی عورت کہتی ہے: اپنے قاری کا سرین تو ہم سے ڈھانپ لو۔ پھر انہوں نے ایک کپڑاکاٹ کر میرے لیے قمیص بنائی، جس کی وجہ سے مجھے بہت خوشی ہوئی۔
Takhreej
(۲۵۴۳) تخریـج: …أخرجہ البخاری: ۴۳۰۲ (انظر: ۲۰۳۳۳)
2543
Sahih
نابینا آدمی اور بچے کی اور عورت کی عورتوں کی امامت کا بیان
۔ (۲۵۴۴) (وَمِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) عَنْ أَبِیْہِ أَنَّہُمْ وَفَدُوا اِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، فَلَمَّا أَرادُوا أَنْ یَنْصَرِفُوْا، قَالُوْا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! مَنْ یَؤُمُّنَا؟ قَالَ: ((أَکْثَرُکُمْ جَمْعًا لِلْقُرْآنِ أَوْ أَخْذًا لِلْقُرْآنِ۔)) قَالَ: فَلَمْ یَکُنْ أَحَدٌ مِنَ الْقَوْمِ جَمَعَ مِنَ الْقُرْآنِ مَا جَمَعْتُ، قَالَ: فَقَدَّمُوْنِی وَأَنَا غُلَامٌ، فَکُنْتُ أَؤُمُّہُمْ وَعَلَیَّ شَمْلَۃٌ لِی، قَالَ: فَمَا شَہِدْتُّ مَجْمَعًا مِنْ جِرْمٍ اِلَّا کُنْتُ اِمَامَہُمْ وَأُصَلِّی عَلٰی جَنَائِزِھِمْ اِلٰی یَوْمِی ھٰذَا۔ (مسند احمد: ۲۰۵۹۸)
(دوسری سند)ان کے باپ کہتے ہیں: ہم لوگ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس گئے، جب ہم نے واپس لوٹنے کا ارادہ کیا تو کہا: اے اللہ کے رسول! ہماری امامت کون کرائے گا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو تم میں زیادہ قرآن یاد کرنے والا ہے۔ سیّدنا عمرو بن سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: ہماری قوم میں سے کوئی بھی ایسا نہیں تھا جس کو اتنا قرآن یاد ہوتا، جتنا مجھے تھا۔ اس لیے انھوں نے مجھے آگے کر دیا ، جبکہ میں ابھی لڑکا تھا، میں ان کی امامت کرواتا اور مجھ پر ایک چھوٹی سی چادر ہوتی تھی۔ میں جرم (ایک علاقہ کا نام) میں جس مجمع میں حاضر ہوتا تھا، تو ان کا امام ہوتا اور آج تک میں ہی ان کے جنازے پڑھاتا رہا ہوں۔
Takhreej
(۲۵۴۴) تخریـج: …اسنادہ صحیح۔ أخرجہ ابوداود: ۵۸۷، وانظر الحدیث بالطریق الاول (انظر: ۲۰۳۳۲)
2544
Sahih

Chapters

13
01
امام کے ضامن ہونے اور فاسق کی امامت کا بیان
5 Hadith
02
اس کا بیان کہ امامت کا زیادہ حق دار کون ہے
11 Hadith
03
نابینا آدمی اور بچے کی اور عورت کی عورتوں کی امامت کا بیان
5 Hadith
04
اس تخفیف کا بیان جس کا امام کو حکم دیا گیا ہے
7 Hadith
05
مقتدیوں کو لمبی نماز پڑھانے کے بارے میں سیّدنا معاذ بن جبل Bکا قصہ اور عذر کی وجہ سے مقتدی کا اکیلے نماز پڑھنے کا جواز
5 Hadith
06
رسول اللہaکا باوجود نماز مکمل کرنے کے لوگوں کو ہلکی نماز پڑھانے کا بیان
17 Hadith
07
اس امام کے حکم کا بیان، جس کو (دورانِ نماز) یہ یاد آجائے کہ وہ بے وضو ہے
5 Hadith
08
نماز میں امام کا اپنا نائب بنانے کا اور نائب بنانے والے امام کے آنے کے بعد نائب کا مقتدی بن جانے کا جواز
5 Hadith
09
اکیلے آدمی کا (دورانِ نماز) امامت کی طرف منتقل ہوجانے کے جواز کا بیان
1 Hadith
10
اس بات کا بیان کہ قبیلے کے امام کی عدم موجودگی میں کیا کیا جائے
1 Hadith
11
امام کا پہلی رکعت کو لمبا کرنے اوراس شخص کا انتظار کرنے کا بیان جس کو وہ داخل ہوتا ہوا محسوس کرے، تاکہ وہ رکعت پا لے
3 Hadith
12
امام کا مقتدیوں کو سنانے کے لیے نماز میں اونچی آواز سے تکبیر کہنے کے جواز کا بیان اور امام کے علاوہ کسی دوسرے کا تکبیر سنانے کا حکم
2 Hadith
13
امام اور ایک مقتدی کے ساتھ جماعت کا منعقد ہو جانا، برابر ہے کہ وہ مقتدی مرد ہو یا عورت ہو یا بچہ
3 Hadith
No chapter matched that.