TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

امامت کا بیان،اماموں کی صفات اور ان سے متعلقہ مزید احکام - امامت کا بیان،اماموں کی صفات اور ان سے متعلقہ مزید احکام - Book 47 of Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Book 47 of Musnad Ahmad, with 13 chapters and 70 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

70 Hadith · 13 Chapters
اکیلے آدمی کا (دورانِ نماز) امامت کی طرف منتقل ہوجانے کے جواز کا بیان
۔ (۲۵۸۵) عَنْ أَنَسِ (بْنِ مَالِکٍ) ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُصَلِّیْ فِی رَمَضَانَ فَجِئْتُ فَقُمْتُ خَلْفَہُ، قَالَ: وَجَائَ رَجُلٌ فَقَامَ اِلٰی جَنْبِی، ثُمَّ جَائَ آخَرُ حَتّٰی کُنَّا رَھْطًا، فَلَمَّا أَحَسَّ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّا خَلْفَہُ تَجَوَّزَ فِیْ الصَّلَاۃِ، ثُمَّ قَامَ فَدَخَلَ مَنْزِلَہُ فَصَلّٰی صَلَاۃً لَمْ یُصَلِّہَا عِنْدَنَا، قَالَ: فَلَمَّا أَصْبَحْنَا قَالَ: قُلْنَا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! أَفَطِنْتَ بِنَا اللَّیْلَۃَ؟ قَالَ: ((نَعَمْ، فَذَاکَ الَّذِی حَمَلَنِی عَلَی الَّذِی صَنَعْتُ،…۔)) الحدیث۔ (مسند احمد: ۱۳۰۴۳)
سیّدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رمضان میں نماز پڑھ رہے تھے، میں آیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پیچھے کھڑا ہوگیا،پھر ایک اور آدمی آیا اور وہ میرے پہلو میں کھڑا ہوگیا، اتنے میں ایک اور آدمی آ گیا حتیٰ کہ ہم ایک جماعت بن گئے، جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے محسوس کیا کہ ہم آپ کے پیچھے کھڑے ہیں تو آپ نے نماز کو مختصر کر دیااور جب فارغ ہوئے تو گھر چلے گئے اور اس طرح کی اچھی نماز تو پڑھی، کہ وہ ہمارے پاس نہ پڑھی۔ جب صبح ہوئی تو ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا رات کو آپ کو ہمارے بارے میں پتہ چل گیا تھا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جی ہاں، اور اسی امر نے مجھے اس چیز پر آمادہ کیا ، جو میں نے کی، …۔
Takhreej
(۲۵۸۵) تخریـج: …أخرجہ مسلم: ۱۱۰۴ (انظر: ۱۳۰۱۲)
2585
Sahih
اس بات کا بیان کہ قبیلے کے امام کی عدم موجودگی میں کیا کیا جائے
۔ (۲۵۸۶) عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عُثْمَانَ عَنِ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِیْہِ أَنَّ الْوَلِیْدَ بْنَ عُقْبَۃَ أَخَّرَ الصَّلَاۃَ مَرَّۃً فَقَامَ عَبْدُاللّٰہِ بْنُ مَسْعُوْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ فَثَوَّبَ بِالصَّلَاۃِ فَصَلّٰی بِالنَّاسِ فَأَرْسَلَ اِلَیْہِ الْوَلِیْدُ: مَا حَمَلَکَ عَلٰی مَا صَنَعْتَ أَجَائَ کَ مِنْ أَمِیْرِ الْمُؤْمِنِیْنَ أَمْرٌ فِیْمَا فَعَلْتَ أَمِ ابْتَدَعْتَ؟ قَالَ: لَمْ یَاتِنِی أَمْرٌ مِنْ أَمِیْرِ الْمُؤْمِنِیْنَ وَلَمْ أَبْتَدِعْ، وَلٰکِنْ أَبَی اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُوْلُہُ أَنْ نَنْتَظِرَکَ بِصَلَاتِنَا وَأَنْتَ فِی حَاجَتِکَ۔ (مسند احمد: ۴۲۹۸)
ایک دفعہ ولید بن عقبہ نے نماز کو مؤخر کیا، سیّدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کھڑے ہوئے، نماز کے لیے اقامت کہی اور لوگوں کو نماز پڑھا دی، ولید نے ان کی طرف پیغام بھیجا اور پوچھا: کس چیز نے تم کو ایسا کرنے پر آمادہ کیا، کیا امیر المؤمنین (سیّدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ) کی طرف سے کوئی حکم ملا ہے یا تم نے خود یہ نیا کام شروع کر دیا ہے؟ سیّدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: نہ مجھے امیر المؤمنین کا کوئی حکم موصول ہوا ہے اور نہ میں نے کوئی نیا کام شروع کیا ہے، بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول اس چیز کا انکار کرتے ہیں کہ ہم تیری نماز کا انتظار کرتے رہیں اور تو اپنے کام میں لگا رہے۔
Takhreej
(۲۵۸۶) تخریـج: …اسنادہ صحیح۔ أخرجہ البیھقی: ۳/ ۱۲۴، وعبد الرزاق: ۳۷۹۰، والطبرانی فی ’’الکبیر‘‘: ۹۵۰۰ (انظر: ۴۲۹۸)
2586
Sahih
امام کا پہلی رکعت کو لمبا کرنے اوراس شخص کا انتظار کرنے کا بیان جس کو وہ داخل ہوتا ہوا محسوس کرے، تاکہ وہ رکعت پا لے
۔ (۲۵۸۷) عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ أَبِی أَوْفٰی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یَقُوْمُ فِی الرَّکْعَۃِ الْأُوْلٰی مِنْ صَلَاۃِ الظُّھْرِ حَتّٰی لَا یَسْمَعَ وَقْعَ قَدَمٍ۔ (مسند احمد: ۱۹۳۵۹)
سیّدنا عبد اللہ بن ابی اوفی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: بے شک نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نمازِ ظہر میں پہلی رکعت (کا قیام لمبا کر کے اس) میں کھڑے رہتے حتیٰ کہ کسی کے قدموں کی آواز نہ سنتے۔
Takhreej
(۲۵۸۷) تخریـج: …اسنادہ ضعیف لابھام الراوی عن عبد اللہ بن ابی اوفی أخرجہ ابوداود: ۸۰۲ (انظر: ۱۹۱۴۶)
2587
Zaeef
امام کا پہلی رکعت کو لمبا کرنے اوراس شخص کا انتظار کرنے کا بیان جس کو وہ داخل ہوتا ہوا محسوس کرے، تاکہ وہ رکعت پا لے
۔ (۲۵۸۸) عَنْ أَبِی سَعِیْدِ نِ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کَانَتْ صَلَاۃُ الظُّہْرِ تُقَامُ فَیَنْطَلِقُ أَحدُنَا اِلَی الْبَقِیْعِ فَیَقْضِیْ حَاجَتَہُ ثُمَّ یَأْتِی فَیَتَوَضَّأُ ثُمَّ یَرْجِعُ اِلَی الْمَسْجِدِ وَرَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی الرَّکْعَۃِ الْأُوْلٰی۔ (مسند احمد: ۱۱۳۲۷)
سیّدنا ابوسعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: ظہر کی نماز کھڑی ہو جاتی اور ہم میں سے ایک آدمی بقیع کی طرف جاتا، قضائے حاجت کرتا، پھر (گھر آ کر) وضو کرتا، پھر جب وہ مسجد کی طرف آتا تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ابھی تک پہلی رکعت میں ہی ہوتے۔
Takhreej
(۲۵۸۸) تخریـج: …اسنادہ صحیح علی شرط مسلم (انظر: ۱۱۳۰۷)
2588
Sahih
امام کا پہلی رکعت کو لمبا کرنے اوراس شخص کا انتظار کرنے کا بیان جس کو وہ داخل ہوتا ہوا محسوس کرے، تاکہ وہ رکعت پا لے
۔ (۲۵۸۹) عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ أَبِی قَتَادَۃَ عَنْ أَبِیْہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَؤُمُّنَا یَقْرأُ بِنَا فِی الرَّکْعَتَیْنِ الْأُوْلَیَیْنِ مِنْ صَلَاۃِ الظُّھْرِ وَیُسْمِعُنَا الْآیَۃَ أَحْیَانًا وَیُطَوِّلُ فِی الْأُوْلٰی وَیُقَصِّرَ فِی الثَّانِیَۃِ، وَکَانَ یَفْعَلُ ذَالِکَ فِی صَلَاۃِ الصُّبْحِ، یُطَوِّلُ الْأُوْلٰی وَیُقَصِّرُ الثَّانِیَۃَ، وَکَانَ یَقْرَأُ بِنَا فِی الرَّکْعَتَیْنِ الْأُوْلَیَیْنِ مِنْ صَلَاۃِ الْعَصْرِ۔ (مسند احمد: ۲۲۸۸۷)
سیّدنا ابو قتادہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہمیں امامت کرواتے، ظہر کی پہلی دو رکعتوں میں قراء ت کرتے اور کبھی کبھی ہمیں کوئی آیت بھی سنا دیتے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پہلی رکعت کو لمبا اور دوسری رکعت کو مختصر کرتے، نماز فجر میں بھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی یہی عادت تھی کہ پہلی رکعت کو طویل اور دوسری کو مختصر کرتے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عصر کی پہلی دو رکعتوں میں بھی قراء ت کرتے تھے۔
Takhreej
(۲۵۸۹) تخریـج: …أخرجہ مطولا ومختصرا البخاری: ۷۶۲، ۷۷۹، ومسلم: ۴۵۱ (انظر: ۱۹۴۱۸، ۲۲۵۲۰)
2589
Sahih
امام کا مقتدیوں کو سنانے کے لیے نماز میں اونچی آواز سے تکبیر کہنے کے جواز کا بیان اور امام کے علاوہ کسی دوسرے کا تکبیر سنانے کا حکم
۔ (۲۵۹۰) عَنْ سَعِیْدِ بْنِ الْحَارِثِ قَالَ: اِشْتَکٰی أَبُوْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَوْ غَابَ فَصَلّٰی بِنَا أَبُوْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیُّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ فَجَہَرَ بِالتَّکْبِیْرِ حِیْنَ افْتَتَحَ الصَّلَاۃَ وَحِیْنَ رَکَعَ وَحِیْنَ قَالَ سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہُ وَحِیْنَ رَفَعَ رَأْسَہُ مِنَ السُّجُوْدِ وَحِیْنَ سَجَدَ وَحِیْنَ قَامَ بَیْنَ الرَّکْعَتَیْنِ حَتّٰی قَضٰی صَلَاتَہُ عَلٰی ذٰلِکَ، فَلَمَّاصَلّٰی قِیْلَ لَہُ: قَدِ اخْتَلَفَ النَّاسُ عَلٰی صَلَاتِکَ، فَخَرَجَ فَقَامَ عِنْدَ الْمِنْبَرِ فَقَالَ: أَیُّھَا النَّاسُ! وَاللّٰہِ! مَا أُبَالِی اخْتَلَفَتْ صَلَاتُکُمْ أَوْلَمْ تَخْتَلِفْ، ھٰکَذَا رَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند احمد: ۱۱۱۵۷)
سعید بن الحارث کہتے ہیں: سیّدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیمار ہوگئے یا ویسے غائب تھے، اس لیے سیّدنا ابوسعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ہمیں نماز پڑھائی، انھوں نے نماز شروع کرتے وقت، رکوع کرتے وقت، سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہُ کہنے کے بعد، سجدوں سے سر اٹھاتے وقت، سجدے کرتے وقت اور دو رکعتوں کے بعد کھڑا ہوتے وقت اللہ اکبر کہا۔ جب انھوں نے اس طریقے پر نماز مکمل کی تو کسی نے کہا: لوگ تمہاری نماز سے اختلاف کر رہے ہیں، (یہ سن کر) وہ تشریف لائے اور منبر کے پاس کھڑے ہو کر کہا: لوگو! اللہ کی قسم! مجھے اس بات کی کوئی پرواہ نہیںہے کہ تمہاری نماز اس سے مختلف ہے یا نہیں ہے، میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اسی طرح نماز پڑھتے ہوئے دیکھا تھا۔
Takhreej
(۲۵۹۰) تخریـج: …أخرجہ البخاری: ۸۲۵ (انظر: ۱۱۱۴۰)
2590
Sahih
امام کا مقتدیوں کو سنانے کے لیے نماز میں اونچی آواز سے تکبیر کہنے کے جواز کا بیان اور امام کے علاوہ کسی دوسرے کا تکبیر سنانے کا حکم
۔ (۲۵۹۱) عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: اِشْتَکٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَصَلَّیْنَا وَرَائَ ہُ وَھُوَ قَاعِدٌ وَأَبُوْبَکْرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ یُکَبِّرُ یُسْمِعُ النَّاسَ تَکْبِیْرَہُ، …۔ الحدیث۔ (مسند احمد: ۱۴۶۴۴)
سیّدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بیمار ہوگئے تو ہم نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پیچھے نماز پڑھی، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بیٹھے ہوئے تھے اور ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ تکبیر کہتے اور لوگوں کو اپنی تکبیر کی آواز سناتے تھے ۔
Takhreej
(۲۵۹۱) تخریـج: …أخرجہ مسلم: ۴۱۳ (انظر: ۱۴۵۹۰)
2591
Sahih
امام اور ایک مقتدی کے ساتھ جماعت کا منعقد ہو جانا، برابر ہے کہ وہ مقتدی مرد ہو یا عورت ہو یا بچہ
۔ (۲۵۹۲) عَنْ أَبِی أُمَامَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رَاٰی رَجُلًا یُصَلِّیْ فَقَالَ: ((أَلَا رَجُلٌ یَتَصَدَّقُ عَلٰی ھٰذَا فَیُصَلِّی مَعَہُ۔)) فَقَامَ رَجُلٌ فَصَلّٰی مَعَہُ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((ھٰذَانِ جَمَاعَۃٌ)) (مسند احمد: ۲۲۵۴۲)
سیّدنا ابوامامہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک آدمی کو اکیلا نماز پڑھتے ہوئے دیکھ کر فرمایا: کیاکوئی ایسا آدمی نہیں ہے جو اس پر صدقہ کرے اور اس کے ساتھ نماز پڑھے ۔پس ایک آدمی اٹھا اور اس کے ساتھ نماز پڑھی، پھر
Takhreej
(۲۵۹۲) تخریـج: …صحیح لغیرہ، وھذا اسناد ضعیف جدّا، عبید اللہ بن زحر الافریقی ضعیف، وعلی بن یزید الالھانی واھی الحدیث أخرجہ الطبرانی فی ’’الکبیر‘‘: ۷۹۷۴، وفی ’’الاوسط‘‘: ۶۶۲۰، وأخرجہ مرسلا ابوادود فی ’’المراسیل‘‘: ۲۶ (انظر: ۲۲۱۸۹)
2592
Sahih
امام اور ایک مقتدی کے ساتھ جماعت کا منعقد ہو جانا، برابر ہے کہ وہ مقتدی مرد ہو یا عورت ہو یا بچہ
۔ (۲۵۹۳) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: بِتُّ لَیْلَۃً عِنْدَ خَالَتِی مَیْمُوْنَۃَ بِنْتِ الْحَارِثِ وَرَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عِنْدَھَا فِیْ لَیْلَتِھَا، فَقَامَ یُصَلِّی مِنَ اللَّیْلِ، فَقُمْتُ عَنْ یَسَارِہِ لِأُصَلِّیَ بِصَلَاتِہِ، قَالَ: فَأَخَذَ بِذُؤَابَۃٍ کَانَتْ لِیْ أَوْ بِرَأْسِیْ حَتّٰی جَعَلَنِی عَنْ یَمِیْنِہِ۔ (مسند احمد: ۱۸۴۳)
سیّدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں نے اپنی خالہ میمونہ بنت حارث ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے پاس رات گزاری،رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بھی اس رات ان ہی کے پاس تھے، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رات کو کھڑے ہوئے اور نماز پڑھنے لگے تو میں بھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بائیں جانب کھڑا ہو گیا، تاکہ آپ کی نماز کے ساتھ نماز پڑھوں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے میرے سر کے بالوں کو یا میرے سرکو پکڑا اور مجھے اپنی دائیں جانب کھڑا کردیا۔
Takhreej
(۲۵۹۳) تخریـج: …أخرجہ البخاری: ۷۲۸، ۵۹۱۹، ومسلم: ۱۹۲، ۱۹۳(انظر: ۱۸۴۳)
2593
Sahih
امام اور ایک مقتدی کے ساتھ جماعت کا منعقد ہو جانا، برابر ہے کہ وہ مقتدی مرد ہو یا عورت ہو یا بچہ
۔ (۲۵۹۴) عَنْ أَبِی ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((رَحِمَ اللّٰہُ رَجُلًا قَامَ مِنَ اللَّیْلِ فَصَلّٰی وَأَیْقَظَ امْرَأَتَہُ فَصَلَّتْ، فَاِنْ أَبَتْ نَضَحَ فِی وَجْہِہَا الْمَائَ، وَرَحِمَ اللّٰہَ امْرَأَۃً قَامَتْ مِنَ اللَّیْلِ فَصَلَّتْ وَأَیْقَظَتْ زَوْجَہَا فَصَلّٰی، فَاِنْ أَبٰی نَضَحَتْ فِی وَجْہِہِ الْمَائِ۔)) (مسند احمد: ۷۴۰۴)
سیّدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ اس آدمی پر رحم کرے جو رات کو کھڑا ہوتا ہے اور نماز پڑھتا ہے اور اپنی بیوی کو بھی بیدار کرتاہے اور وہ بھی نماز پڑھتی ہے۔ اگر وہ اٹھنے سے انکار کرتی ہے تو اس کے چہرے پر پانی کے چھینٹے مارتا ہے۔ اور اسی طرح اللہ تعالیٰ اس عورت پر بھی رحم کرے جو رات کو اٹھتی ہے اور نماز پڑھتی ہے اور اپنے خاوند کو بھی جگاتی ہے اور وہ بھی نماز پڑھتا ہے، اگر وہ اٹھنے سے انکار کرتا ہے تو وہ اس کے منہ پر چھینٹے مارتی ہے ۔
Takhreej
(۲۵۹۴) تخریـج: …اسنادہ قوی أخرجہ ابوداود: ۱۳۰۸، ۱۴۵۰، وابن ماجہ: ۱۳۳۶، والنسائی: ۳/۲۰۵ (انظر: ۷۴۱۰)
2594
Sahih

Chapters

13
01
امام کے ضامن ہونے اور فاسق کی امامت کا بیان
5 Hadith
02
اس کا بیان کہ امامت کا زیادہ حق دار کون ہے
11 Hadith
03
نابینا آدمی اور بچے کی اور عورت کی عورتوں کی امامت کا بیان
5 Hadith
04
اس تخفیف کا بیان جس کا امام کو حکم دیا گیا ہے
7 Hadith
05
مقتدیوں کو لمبی نماز پڑھانے کے بارے میں سیّدنا معاذ بن جبل Bکا قصہ اور عذر کی وجہ سے مقتدی کا اکیلے نماز پڑھنے کا جواز
5 Hadith
06
رسول اللہaکا باوجود نماز مکمل کرنے کے لوگوں کو ہلکی نماز پڑھانے کا بیان
17 Hadith
07
اس امام کے حکم کا بیان، جس کو (دورانِ نماز) یہ یاد آجائے کہ وہ بے وضو ہے
5 Hadith
08
نماز میں امام کا اپنا نائب بنانے کا اور نائب بنانے والے امام کے آنے کے بعد نائب کا مقتدی بن جانے کا جواز
5 Hadith
09
اکیلے آدمی کا (دورانِ نماز) امامت کی طرف منتقل ہوجانے کے جواز کا بیان
1 Hadith
10
اس بات کا بیان کہ قبیلے کے امام کی عدم موجودگی میں کیا کیا جائے
1 Hadith
11
امام کا پہلی رکعت کو لمبا کرنے اوراس شخص کا انتظار کرنے کا بیان جس کو وہ داخل ہوتا ہوا محسوس کرے، تاکہ وہ رکعت پا لے
3 Hadith
12
امام کا مقتدیوں کو سنانے کے لیے نماز میں اونچی آواز سے تکبیر کہنے کے جواز کا بیان اور امام کے علاوہ کسی دوسرے کا تکبیر سنانے کا حکم
2 Hadith
13
امام اور ایک مقتدی کے ساتھ جماعت کا منعقد ہو جانا، برابر ہے کہ وہ مقتدی مرد ہو یا عورت ہو یا بچہ
3 Hadith
No chapter matched that.