امامت کا بیان،اماموں کی صفات اور ان سے متعلقہ مزید احکام - امامت کا بیان،اماموں کی صفات اور ان سے متعلقہ مزید احکام - Book 47 of Musnad Ahmad with Urdu and English Translation
Book 47 of Musnad Ahmad, with 13 chapters and 70 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.
سیّدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے تمہارے اس امام کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز کے سب سے زیادہ مشابہ پایا ہے، انھوں نے یہ بات عمر بن عبد العزیز کے حق میں کہی تھی، وہ اس وقت مدینہ منورہ میں تھے اور وہ لمبی قراء ت نہیں کیا کرتے تھے۔
Takhreej
(۲۵۶۵) تخریـج: …حسن، وھذا اسناد ضعیف لجھالۃ محمد بن مساحق، وفلیح بن سلیمان حسن الحدیث فی المتابعات والشواھد أخرجہ البخاری فی ’’التاریخ الکبیر‘‘: ۱/ ۲۳۵ ، وأخرج قول انس منہ الطبرانی فی ’’الاوسط‘‘: ۳۲۲، ۸۹۰۷ (انظر: ۱۲۴۶۵)
سیّدنا جابر بن سمرۃ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیں فرض نماز پڑھاتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نہ تو اس کو لمبا کرتے تھے اور نہ بالکل تخفیف کرتے تھے۔ بلکہ اس کے درمیان درمیان (پڑھاتے تھے)۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نمازِ عشاء کو تاخیر سے ادا کرتے تھے۔
Takhreej
(۲۵۶۶) تخریـج: …حدیث حسن، وایوب بن جابر بن سیار متابَع أخرجہ مسلم: ۶۴۳ (انظر: ۲۰۸۲۶، ۲۱۰۰۲)
سیّدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے یہ بھی روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب نمازِ فجر پڑھاتے تو طلوع آفتاب تک اپنی جائے نماز میں بیٹھے رہتے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فجر کی نماز میں سورۂ ق کی تلاوت کرتے تھے، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز مختصر ہوتی تھی۔
نافع بن سرجس کہتے ہیں: ہم نے سیّدنا ابو واقد بکری یا بدری یا کندی رضی اللہ عنہ کی مرض الموت میں ان کی عیادت کی، انھوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز میں لوگوں پر سب سے زیادہ تخفیف کرنے والے تھے، لیکن اپنی اکیلی نماز کو سب سے لمبا کرتے تھے۔
سیّدنا مالک بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ غزوے میں شریک ہوا، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بہ نسبت کسی ایسے امام کے پیچھے نماز نہیں پڑھی جو نماز میں زیادہ تخفیف کرنے والا ہو، جبکہ اس کے رکوع و سجود بھی پورے ہوں۔
سیّدناعبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیں نماز میں تخفیف کرنے کا حکم دیتے تھے اور آپ خود سورۂ صافات کی قراء ت کر کے ہماری امامت کراتے تھے۔
ابو خالد کہتے ہیں: میں نے سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ انہوں نے نماز پڑھائی اور اس میں کافی تخفیف کی، میں نے ان کو کہا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز بھی اسی طرح ہوتی تھی؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، بلکہ اس سے بھی زیادہ مختصر ہوتی۔
(دوسری سند) ان کا باپ کہتا ہے: میں نے سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہا:کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تم لوگوں کو اس طرح نماز پڑھاتے تھے۔ انھوں نے پوچھا: تو میری نماز میں سے کس چیز کا انکار کیا ہے؟ میں نے کہا:میں آپ سے اِس (تخفیف) کے بارے میں پوچھنا چاہ رہا ہوں، انھوں نے کہا: جی ہاں اور اس سے بھی زیادہ مختصر ہوتی تھی، (یوں سمجھیں کہ) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قیام کی مقدار اتنی ہوتی تھی کہ جتنا مؤذن کو مینار سے اتر کر صف میں ملنے کا وقت لگتا ہے۔
(تیسری سند )اس کا باپ ابو خالد کہتا ہے: بے شک سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ مدینہ میں ان کو اس طرح نماز پڑھاتے، جیسے قیس پڑھاتا تھا، جبکہ یہ قیس نماز کو لمبا نہیں کرتا تھا، تو میں پوچھا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس طرح نماز پڑھتے تھے؟ سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: جی ہاں، بلکہ آپ کی نماز اس سے بھی زیادہ مختصر ہوتی تھی۔
سیّدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے کسی نے کہا: ہمارا امام تو لمبی نماز پڑھاتا ہے۔ انھوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز کی دو رکعتیں اس امام کی ایک رکعت کے برابر یا اِس سے بھی ہلکی ہوتی تھیں۔
سیّدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھ رہے تھے، اچانک آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چلے گئے، جبکہ ہم قیام کی حالت میں تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم واپس آئے تو آپ کے سر سے پانی کے قطرے ٹپک رہے تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھائی اور (فراغت کے بعد) فرمایا: جب میں نماز کے لیے کھڑا ہوا تو مجھے یاد آیا کہ میں جنبی ہوںاور غسل نہیں کیا ،(آئندہ تم یاد رکھو کہ) تم میںجو شخص اپنے پیٹ میں آواز وغیرہ محسوس کرے یا اس کے ساتھ میرا والا یہ معاملہ ہو جائے تو وہ چلا جائے اور اپنی حاجت سے یا غسل سے فارغ ہوکر اپنی نماز کی طرف لوٹے۔
Takhreej
(۲۵۷۵) تخریـج: …اسنادہ ضعیف لضعف ابن لھیعۃ، لیکن اگلی حدیث سے اس کی تائید ہوتی ہے۔ أخرجہ البزار: ۸۹۰ (انظر: ۶۶۸)
سیّدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز شروع کی، اللہ اکبر کہا، لیکن اچانک نمازیوں کی طرف اشارہ کیا کہ وہ اپنی اپنی جگہ پر ٹھہرے رہیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گھر میں داخل ہو گئے، پھر جب آپ باہر آئے تو آپ کے سر سے پانی کے قطر ٹپک رہے تھے، پس آپ نے ان کی نماز پڑھائی اور نماز سے فارغ ہونے کے بعد فرمایا: بیشک میں بشر ہی ہوں، در اصل میں جنبی تھا۔
Takhreej
(۲۵۷۶) تخریـج: …رجالہ ثقات رجال الصحیح، لکن الحسن البصری مدلس وقد عنعن، امام البانیk نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے۔ أخرجہ ابوداود: ۲۳۴ (انظر: ۲۰۴۲۰)
سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز کے لیے آئے اور جب اللہ اکبر کہا تو (گھر کی طرف) چل دیئے اور لوگوں کی طرف اشارہ کیا کہ وہ اپنی حالت پرقائم رہیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گھر چلے گئے اور غسل کر کے تشریف لائے، آپ کے سر سے پانی ٹپک رہا تھا، پھر آپ نے لوگوں کو نماز پڑھائی اور جب نماز پڑھ لی تو فرمایا: میں جنبی تھا اور غسل کرنا یاد نہیں رہا تھا۔
Takhreej
(۲۵۷۸) تخریـج: …حدیث صحیح، لکن قولہ: ’’فلما کبر انصرف‘‘ من اوھام اسامۃ بن زید اللیثی، وھو صدوق لہ اوھام، أما الطریق الثانی الصحیح الآتی بعدہ عن ابی ھریرۃ، ففیہ ان انصراف الرسولV من مقامہ کان قبل ان یکبر ویدخل فی الصلاۃ أخرجہ ابن ماجہ: ۱۲۲۰ (انظر: ۹۷۸۶)
(دوسری سند)راوی کہتا ہے: نماز کے لیے اقامت کہی گئی اور لوگوں نے صفیں بنالیں، لیکن جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے اور اپنے مقام پر کھڑے ہوئے تو اپنے ہاتھ سے اُن کی طرف اشارہ کیا کہ وہ اپنی اپنی جگہ پرٹھہرے رہیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چلے گئے،غسل کیا اور جب دوبارہ آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سر سے پانی کے قطرے ٹپک رہے تھے، پھر لوگوں کو نماز پڑھائی۔
سیّدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: بنی عمرو بن عوف قبیلے کے ما بین کوئی لڑائی ہوگئی، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ بات موصول ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ظہر کے بعد ان کے درمیان صلح کرانے کے لیے ان کے پاس گئے اور فرمایا: بلال، اگر نماز کا وقت ہوجائے اور میں نہ پہنچ سکوں تو ابوبکر کو حکم دینا کہ لوگوں کو نماز پڑھا دیں۔ جب عصر کا وقت ہوا تو سیّدنا بلال رضی اللہ عنہ نے اذان دی ،پھر اقامت کہی اور سیّدنا ابوبکر کو حکم دیا کہ وہ نماز پڑھائیں۔ پس وہ آگے بڑھے (اور نماز شروع کی)، اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی تشریف لے آئے، جب لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا تو تالیاں بجانا شروع کردیں، اُدھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لوگوں کو چیرتے ہوئے آئے اور سیّدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پیچھے کھڑے ہوگئے۔ سیّدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ جب نماز میں داخل ہوتے تو کسی چیز کی طرف متوجہ نہیں ہوتے تھے، اس دفعہ جب انھوں نے سوچا کہ تالیاں رک نہیں رہیں تو وہ پیچھے متوجہ ہوئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنے پیچھے دیکھا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو اشارہ کیا کہ وہ نماز جاری رکھیں، سیّدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ تھوڑی دیر تو ٹھہرے رہے، لیکن پھر اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کرتے ہوئے الٹے پاؤں پیچھے ا ٓ گئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آگے بڑھے اورلوگوں کو نماز پڑھائی، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز مکمل کی تو فرمایا: اے ابوبکر! جب میں نے تم کو اشارہ کر دیا تھا توتم کو نماز جاری رکھنے سے کس چیز نے روک دیا تھا؟ سیّدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: ابن ابی قحافہ کو یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امامت کروائے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں سے فرمایا: جب تم کو نماز میں کوئی امر لاحق ہو جائے تو مرودں کو سبحان اللہ کہنا چاہئے اورعورتوں کو تالی بجانا چاہئے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اچھا تم نے تالیاں کیوں بجائی تھیں؟ انہوں نے کہا: ہم ابوبکر رضی اللہ عنہ کو (آپ کی آمد کا) بتانا چاہتے تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تالی بجانا عورتوں کے لیے ہے اور سبحان اللہ کہنا مردوں کے لیے ہے۔
سیّدنا عباس بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی بیماری میں فرمایا: ابوبکر کو حکم دو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائے۔ پس سیّدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نکلے اور اللہ اکبر کہہ کر نماز شروع کی، اتنے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کچھ راحت محسوس ہوئی، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی نکلے اور دو آدمیوں کے سہارے تشریف لے آئے، جب سیّدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا تو وہ پیچھے ہٹنے لگے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی طرف اشارہ کیا کہ وہ اپنی جگہ پر ٹھہرے رہیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آ کر ابوبکر رضی اللہ عنہ کے (بائیں)پہلو میں بیٹھ گئے اور سورت کے اس مقام سے قراء ت شروع کر دی، جہاں ابو بکر رضی اللہ عنہ پہنچے تھے۔
Takhreej
(۲۵۸۱) تخریـج: …صحیح لغیرہ، قیس بن ربیع مختلف فیہ راوی ہے، اس کی حدیث شواہد میں حسن ہے اور یہ ان میں سے ایک ہے، لیکن حقیقت حال یہ ہے کہ اس حدیث کے سند کے دو راوی قیس بن ربیع اور ارقم بن شرحبیل جمہور اہل علم کے نزدیک ضعیف ہیں، اس لیے اس حدیث کا آخری جملہ منکر ہی رہے گا، جو کہ یہ ہے: آپa نے سورت کے اس مقام سے قراء ت شروع کر دی، جہاں ابو بکر bپہنچے تھے۔ أخرجہ مختصرا البزار: ۱۵۶۶(انظر: ۱۷۸۴)
سیّدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیمار ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیّدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھایا کریں، پھر ایک دن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے راحت محسوس کی، اس لیے (مسجد میں) تشریف لے آئے، جب سیّدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آمد کو محسوس کیا تو انھوں نے پیچھے ہٹنے کا ارادہ کیا، لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی طرف اشارہ کیا (کہ وہ اپنے مقام پر ہی رہیں)۔ پھر آپ آئے اور سیّدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کی بائیں جانب بیٹھ گئے اور اس آیت سے تلاوت شروع کر دی، جہاں سیّدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ پہنچے تھے۔
Takhreej
(۲۵۸۲) تخریـج: …صحیح۔ أخرجہ ابن ماجہ ضمن قصۃ مرض النبیV الذی توفی فیہ: ۱۲۳۵ (انظر: ۲۰۵۵، ۳۳۳۰)
(دوسری سند)پھرنبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے اور بیٹھ گئے اور سیّدنا ابوبکر رضی اللہ عنہا ٓپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دائیں جانب کھڑے رہے، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اور لوگ اُن کی اقتدا کر نے لگے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہاں سے قراء ت شروع کی، جہاں سیّدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ پہنچے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اسی بیماری میں فوت ہو گئے تھے۔