TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 2541 - نابینا آدمی اور بچے کی اور عورت کی عورتوں کی امامت کا بیان - امامت کا بیان،اماموں کی صفات اور ان سے متعلقہ مزید احکام - Musnad Ahmad in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 1 of 5 in this chapter
نابینا آدمی اور بچے کی اور عورت کی عورتوں کی امامت کا بیان
۔ (۲۵۴۱) عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِسْتَخْلَفَ ابْنَ أُمِّ مَکْتُوْمٍ عَلَی الْمَدِیْنَۃِ مَرَّتَیْنِ یُصَلِّی بِہِمْ وَھُوَ أَعْمٰی۔ (مسند احمد: ۱۳۰۳۱)
سیّدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیّدنا ابن ام مکتوم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو مدینے پر دو دفعہ اپنا نائب مقرر کیا،وہ لوگوں کو نماز پڑھاتے تھے، جبکہ وہ نابینا تھے۔
2541
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Conclusion
تخریج
(۲۵۴۱) تخریـج: …اسنادہ حسن۔ أخرجہ ابوداود: ۵۹۵، ۲۹۳۱ (انظر: ۱۲۳۴۴، ۱۳۰۰۰)

Related Chapters

723
1
CHAPTER: On Women Action As Imam.
باب: عورتوں کی امامت کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
2
(47)Chapter: What Has Been Related About It Being Disliked To Use The Leftover Water Of A Woman
باب: عورت کے وضو سے بچے ہوئے پانی کی کراہت کا بیان
Jam e Tirmazi
3
(48)Chapter: [What has Been Related] About Permitting That
باب: عورت کے بچے ہوئے پانی سے غسل کے جائز ہونے کا بیان
Jam e Tirmazi
4
Chapter: What Has Been Related About A Man Who Prays And A Man And A Woman Are With Him
باب: آدمی نماز پڑھا رہا ہو اور اس کے ساتھ مرد اور عورتیں دونوں ہوں تو کیا حکم ہے؟
Jam e Tirmazi
5
Chapter: What Has Been Related About The 'The Tasbih Is For The Men And Clapping Is For The Women'
باب: نماز میں امام کے سہو پر مردوں کے ”سبحان اللہ“ کہنے اورعورتوں کے دستک دینے کا بیان​
Jam e Tirmazi
6
Chapter: About The Women Going Out For The Two Eid
باب: عیدین میں عورتوں کے عیدگاہ جانے کا بیان
Jam e Tirmazi
7
Chapter: (What Has Been Related) About Women Going Out To The Masjid
باب: عورتوں کے مسجد جانے کا بیان
Jam e Tirmazi
8
Chapter: About Prayer In A Woman's Cover Being Disliked
باب: عورتوں کی چادروں میں نماز پڑھنے کی کراہت
Jam e Tirmazi
9
Chapter: What Has Been Related About The Permission For The Pregnant And Breast-Feeding Women To Break The Fast
باب: حاملہ اور دودھ پلانے والی عورتوں کو روزہ نہ رکھنے کی رخصت
Jam e Tirmazi
10
Chapter: What Has Been Related About The Weak Departing Early From Jam During The Night
باب: مزدلفہ سے کمزوروں (عورتوں اور بچوں) کو رات ہی میں بھیج دینے کا بیان
Jam e Tirmazi
11
Chapter: What Has Been Related About It Being Disliked For Women To Shave
باب: عورتوں کے بال مونڈانے کی حرمت کا بیان
Jam e Tirmazi
12
Chapter: What has been related about it being disliked for women to visit the graves
باب: عورتوں کے لیے قبروں کی زیارت کی ممانعت کا بیان
Jam e Tirmazi
13
Chapter: What Has Been Related About Women's Dowries
باب: عورتوں کی مہر کا بیان
Jam e Tirmazi
14
Chapter: What has been related about a man who sees a woman and becomes fascinated with her
باب: آدمی کسی عورت کو دیکھے اور وہ اسے پسند آ جائے تو کیا کرے؟
Jam e Tirmazi
15
Chapter: What has been mentioned about it being disliked to enter women in their behinds
باب: عورتوں کی دبر میں صحبت کرنے کی حرمت کا بیان
Jam e Tirmazi
16
Chapter: What has been related about it being disliked for women to go out while wearing their adornments
باب: بناؤ سنگار کر کے عورتوں کے باہر نکلنے کی کراہت کا بیان
Jam e Tirmazi
17
Chapter: The warning about that due to the Shaitan flowing (through the body) like the flow of blood
باب: غیر محرم عورتوں سے خلوت کی حرمت سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
18
Chapter: The Shaitan seeks to tempt the woman when she goes out
باب: عورتوں سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
19
Chapter: What has been related about the women who seek a Khul'
باب: خلع لینے والی عورتوں کا بیان
Jam e Tirmazi
20
Chapter: What has been related about treating women kindly
باب: عورتوں کی خاطر داری کا بیان
Jam e Tirmazi
21
Chapter: What Has Been Related About It Being Disliked To Have Intercourse With Pregnant Female Prisoners
باب: حاملہ قیدی عورتوں سے جماع کرنا مکروہ ہے
Jam e Tirmazi
22
Chapter: What Has Been Related About The Prohibition Of Killing Women And Children
باب: عورتوں اور بچوں کے قتل کی ممانعت کا بیان
Jam e Tirmazi
23
Chapter: What Has Been Related About Women Going Out For War
باب: جنگ میں عورتوں کے جانے کا بیان
Jam e Tirmazi
24
Chapter: What Has Been Related About The Women's Pledge
باب: عورتوں کی بیعت کا بیان
Jam e Tirmazi
25
Chapter: What Has Been Related About (Dragging) Women's Hems
باب: عورتوں کے دامن لٹکانے کا بیان
Jam e Tirmazi
26
باب: ولاء میں سے عورتوں کی میراث کا بیان
Jam e Tirmazi
27
باب: جنتیوں کی عورتوں کا بیان
Jam e Tirmazi
28
باب: جہنم میں اکثریت عورتوں کی ہو گی
Jam e Tirmazi
29
Chapter: What Has Been Related About Giving The Salam to Women
باب: عورتوں کو سلام کرنا
Jam e Tirmazi
30
باب: شوہر کی اجازت کے بغیر ان کی عورتوں کے پاس جانے کی ممانعت
Jam e Tirmazi
31
باب: عورتوں کے فتنے سے بچنے کا بیان
Jam e Tirmazi
32
باب: مردوں سے مشابہت اختیار کرنے والی عورتوں کا بیان
Jam e Tirmazi
33
نماز میں گونگی بکل، سدل، اسبال، نقش و نگار والے کپڑوں اور عورتوں کی چادروں کی کراہت کا بیان
Musnad Ahmad
34
عورتوں کے سفر کرنے،ان کے ساتھ نرمی کرنے، سفر کے لیے ان کے درمیان قرعہ اندازی کرنے اور محرم کے بغیر ان کا سفر نہ کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
35
عورتوں کو مسجد میں جانے کے لیے اجازت کا بیان
Musnad Ahmad
36
جب فتنوں کا اندیشہ ہو تو عورتوں کو مسجد میں نہ جانے دینے کا بیان اورگھروں میں ان کی نماز کی فضیلت کا بیان
Musnad Ahmad
37
عورتوں کے مسجد کے لیے نکلنے اور اس میں نماز پڑھنے کے آداب کا بیان
Musnad Ahmad
38
اکیلے آدمی کا (دورانِ نماز) امامت کی طرف منتقل ہوجانے کے جواز کا بیان
Musnad Ahmad
39
مردوں کے ساتھ عورتوں اور بچوں کے کھڑے ہونے کے مقام کا بیان
Musnad Ahmad
40
عورتوں کا عیدین کی طرف جانے کی مشروعیت
Musnad Ahmad
41
عیدین کے خطبہ اور اس کے احکامات کا بیان، اور عورتوں کو وعظ کرنے اور ان کو صدقہ کرنے پر ابھارنے کا بیان
Musnad Ahmad
42
نماز کسوف کی طوالت اور اس نماز کے لیے عورتوں کی مسجد میں جماعت کے لیے حاضری کا بیان
Musnad Ahmad
43
اس امر کا بیان کہ امام یا منفرد آدمی مرد اور عورت کی نماز جنازہ پڑھاتے وقت کہاں کھڑا ہو اور جب متعدد جنازے ہوں تو کیا کیا جائے؟
Musnad Ahmad
44
جنازے کے ساتھ آگ لے جانے، چیخ و پکار کرنے اور عورتوں کے جانے کا ممنوع ہونا
Musnad Ahmad
45
اس امر کا بیان کہ قبروں کی زیارت صرف مردوں کے لیے مستحب ہے، نہ کہ عورتوں کے لیے
Musnad Ahmad
46
قبروں کی زیارت کرنے والی عورتوں اور قبروں کو سجدہ گاہ بنانے والوں اور ان پر چراغ جلانے والوں پر لعنت کا بیان
Musnad Ahmad
47
استحاضہ والی خاتون سمیت عورتوں کے اعتکاف کے جواز کا بیان
Musnad Ahmad
48
عورتوں، بچوں، پادریوں اور انتہائی بوڑھے لوگوں کو بالارادہ قتل کرنے سے روکنے کا بیان
Musnad Ahmad
49
امان کی وجہ سے خون کی حرمت کا ثابت ہو جانا اور ایک آدمی کی امان کا معتبر ہونا، خواہ وہ مرد ہو یا عورت
Musnad Ahmad
50
اس نابینا آدمی کی دعا، جس نے اپنی بینائی حاصل کرنے کے لیے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا وسیلہ دیا تھا
Musnad Ahmad
No related chapter matched that.

Related Hadith

197
Musnad Ahmad
11859
۔ (۱۱۸۵۹)۔ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: اسْتَخْلَفَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِبْنَ أُمِّ مَکْتُوْمٍ مَرَّتَیْنِ عَلَی الْمَدِیْنَۃِ، وَلَقَدْ رَأَیْتُہُ یَوْمَ الْقَادِسِیَۃِ مَعَہُ رَاْیَۃٌ سَوْدَائُ۔ (مسند احمد: ۱۲۳۶۹)
سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا عبداللہ بن ام مکتوم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو دو مرتبہ مدینہ منورہ میں اپنا نائب مقرر فرمایاتھا، میں نے قادسیہ کے دن ان کو دیکھا کہ وہ ایک سیاہ علم تھامے ہوئے تھے۔
Musnad Ahmad
6511
۔ (۶۵۱۱)۔ عَنْ جَابِرٍ الْأَنْصَارِیِّ اَمَرَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِکِلَابِ الْمَدِیْنَۃِ اَنْ تُقْتَلَ فَجَائَ ابْنُ أُمِّ مَکْتُوْمٍ فَقَالَ: اِنَّ مَنْزِلِیْ شَاسِعٌ وَلِیَ کَلْبٌ فَرَخَّصَ لَہُ أَیَّامًا ثُمَّ أَمَرَ بِقَتْلِ کَلْبِہِ۔ (مسند احمد: ۱۴۵۴۸)
۔ سیدنا جابر انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مدینہ منورہ کے کتوں کو قتل کرنے کا حکم دیا، سیدنا ابن ام مکتوم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ آ پ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئے اور کہا: میرا گھر آبادی سے دور ہے اور میرا ایک کتا ہے جو اس کی رکھوالی کرتا ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے چند دن کے لئے ان کو رخصت دی، لیکنپھر اس کتے کو بھی مارنے کا حکم دے دیا۔
Musnad Ahmad
10037
۔ (۱۰۰۳۷)۔ عَنْ مِحْجَنِ بْنِ الْاَدْرَعِ اَنَّہُ کَانَ مَعَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِبَابِ الْمَسْجِدِ اِذَا رَجُلٌ یُصَلِّیْ، قَالَ: ((اَتَقُوْلُہُ صَادِقًاَ)) قَالَ: قُلْتُ: یَانَبِیَّ اللّٰہِ! ھٰذَا فُلَانُ، وَھٰذَا مِنْ اَحْسَنِ اَھْلِ الْمَدِیْنَۃِ، اَوْ قَالَ: اَکْثَرُ اَھْلِ الْمَدِیْنَۃِ صَلَاۃً، قَالَ: ((لَا تُسْمِعْہُ فَتُھْلِـکَہُ۔)) (مَرَّتَیْنِِ اَوْ ثَلَاثًا) اِنَّـکُمْ اُمَّۃٌ اُرِیْدَ بِکُمُ الْیُسْرُ۔)) (مسند احمد: ۲۰۶۱۴)
۔ سیدنا محجن بن ادرع ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ وہ مسجد کے دروازے پر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ تھے، جب انھوں نے اچانک ایک آدمی کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پوچھا: تیرا کیا خیال ہے کہ یہ آدمی سچا ہے؟ میں نے کہا: اے اللہ کے نبی! یہ فلاں آدمی ہے، مدینہ میں سب سے اچھا اور سب سے زیادہ نماز پڑھنے والا شخص ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم نے یہ بات اس کو سنا کر نہیں کرنی، وگرنہ اس کو ہلاک کر دو گے۔ دو تین بار یہ بات کی اور پھر فرمایا: بیشک تم ایسی امت ہو، جس کے ساتھ آسانی کا ارادہ کیا گیا ہے۔
Musnad Ahmad
11977
۔ (۱۱۹۷۷)۔ عَن أَبِی مُوسٰی قَالَ: لَقِیَ عُمَرُ أَسْمَائَ بِنْتَ عُمَیْسٍ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالَی عَنْہُمَا فَقَالَ: نِعْمَ الْقَوْمُ أَنْتُمْ لَوْلَا أَنَّکُمْ سُبِقْتُمْ بِالْہِجْرَۃِ وَنَحْنُ أَفْضَلُ مِنْکُمْ، قَالَتْ: کُنْتُمْ مَعَ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُعَلِّمُ جَاہِلَکُمْ وَیَحْمِلُ رَاجِلَکُمْ وَفَرَرْنَا بِدِینِنَا، فَقَالَتْ: لَا أَنْتَہِی حَتّٰی أَدْخُلَ عَلٰی رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَدَخَلَتْ: فَذَکَرَتْ مَا قَالَ لَہَا عُمَرُ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالَی عَنْہُ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((بَلْ لَکُمُ الْہِجْرَۃُ مَرَّتَیْنِ ہِجْرَتُکُمْ ھِجْرَتُکُمْ إِلَی الْحَبْشَۃِ وَھِجْرَتُکُمْ إِلَی الْمَدِیْنَۃِ۔)) (مسند احمد: ۱۹۹۳۰)
سیدنا ابو موسیٰ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی سیدہ اسماء بنت عمیس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے ملاقات ہو گئی تو انھوں نے کہا: تم بڑے اچھے لوگ ہو، بس یہ بات ہے کہ لوگ تم سے پہلے ہجرت کر آئے ہیں اور ہم تم سے افضل ہیں۔ سیدہ اسماء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: آپ لوگ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ ہوتے تھے، تمہیں جس چیز کا علم نہ ہوتا، اللہ کے رسول تمہیں تعلیم دیتے اور تم میں سے جس کے پاس سواری نہ ہوتی، اللہ کے رسول اسے سواری عنایت کر دیتے اور ہم اپنے دین کو بچاتے ہوئے فرار ہوگئے تھے۔ بہرحال میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس جا کر آپ سے ضرور اس بات کا ذکر کروں گی، چنانچہ انہوںنے جا کر سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی ساری بات رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے ذکر کی، تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تمہیں دو ہجرتوں کا ثواب ملے گا، ایک حبشہ کی طرف اور ایک مدینہ کی طرف۔
Musnad Ahmad
43
۔ (۴۳)۔عَنْ أَبِیْ نُعَیْمٍ قَالَ: جَائَ رَجُلٌ أَوْ شَیْخٌ مِنْ أَہْلِ الْمَدِیْنَۃِ فَنَزَلَ عَلَی مَسْرُوْقٍ فَقَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ عَمْرِو(بْنِ الْعَاصِ ؓ) یَقُوْلُ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ لَقِیَ اللّٰہَ لَا یُشْرِکُ بِہِ شَیْئًا، لَمْ تَضُرَّہُ مَعَہُ خَطِیْئَۃٌ، وَ مَنْ مَاتَ وَ ہُوَ یُشْرِکُ بِہِ لَمْ تَنْفَعْہُ مَعَہُ حَسَنَۃٌ۔)) (مسند أحمد: ۶۵۸۶)
ابو نعیم کہتے ہیں: ایک آدمی یا ایک بوڑھا، جس کا تعلق اہل مدینہ سے تھا، آیا اور مسروق کے پاس ٹھہرا، اس نے کہا: میں نے سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ؓ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جو آدمی اس حال میں اللہ تعالیٰ کو ملے کہ وہ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو تو اس عمل کی وجہ سے کوئی خطا اس کو نقصان نہیں دے گی، لیکن جو بندہ اس حال میں مرا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کوئی شریک ٹھہراتا ہو تو اس عمل کی وجہ سے کوئی نیکی اس کو فائدہ نہیں دے گی۔
Musnad Ahmad
54
۔ (۵۴)۔عَنِ الْحَسَنِ حَدَّثَنَا أَبُوہُرَیْرَۃَؓ إِذْ ذَاکَ وَ نَحْنُ بِالْمَدِیْنَۃِ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((تَجِیئُ الْأَعْمَالُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ فَتَجِیئُ الصَّلَاۃُ فَتَقُوْلُ: یَا رَبِّ! أَنَاالصَّلَاۃُ، فَیَقُوْلُ: إِنَّکِ عَلٰی خَیْرٍ، فَتَجِیئُ الصَّدَقَۃُ فَتَقُوْلُ: یَا رَبِّ! أَنَا الصَّدَقَۃُ،فَیَقُوْلُ: إِنَّکِ عَلٰی خَیْرٍ،ثُمَّ یَجِیئُ الصِّیَامُ فَیَقُوْلُ: أَیْ رَبِّ! أَنَا الصِّیَامُ، فَیَقُوْلُ: إِنَّکَ عَلٰی خَیْرٍ، ثُمَّ یَجِیئُ الْأَعْمَالُ عَلٰی ذٰلِکَ فَیَقُوْلُ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ: إِنَّکَ عَلٰی خَیْرٍ، ثُمَّ یَجِیئُ الْإِسْلَامُ فَیَقُوْلُ: یَا رَبِّ! أَنْتَ السَّلَامُ وَ أَنَا الْإِسْلَامُ، فَیَقُوْلُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ: إِنَّکَ عَلٰی خَیْرٍ، بِکَ الْیَوُمَ آخُذُ وَ بِکَ أُعْطِیْ، فَقَالَ اللّٰہُ فِی کِتَابِہِ: {وَمَنْ یَبْتَغِ غَیْرَ الْإِسْلَامِ دِیْنًا فَلَنْ یُقْبَلَ مِنْہُ وَہُوَ فِی الْآخِرَۃِ مِنَ الْخَاسِرِیْنَ}۔)) (مسند أحمد: ۸۷۲۷)
حسن بصری کہتے ہیں: ہم مدینہ منورہ میں تھے کہ سیدنا ابوہریرہؓ نے ہمیں بیان کیا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: قیامت والے دن اعمال آئیں گے، (اس کی تفصیل یہ ہے کہ) نماز آئے گی اور کہے گی: اے میرے ربّ! میں نماز ہوں، اللہ تعالیٰ کہے گا: بیشک تو خیر پر ہے۔ اسی طرح صدقہ آ کر کہے گا: اے میرے ربّ! میں صدقہ ہوں، اللہ تعالیٰ کہے گا: بیشک تو خیر پر ہے۔ پھر روزہ آ کر کہے گا: اے میرے ربّ! میں روزہ ہوں، اللہ تعالیٰ کہے گا: بیشک تو خیر پر ہے۔ پھر دوسرے اعمال آئیں گے اور اللہ تعالیٰ یہی کہتا رہے گا کہ تم خیر پر ہو، پھر اسلام آئے گااور کہے گا: اے میرے ربّ! تو سلام ہے اور میں اسلام ہوں، اللہ تعالیٰ کہے گا: بیشک تو خیر پر ہے اورتیرے ذریعے آج میں مؤاخذہ کروں گا اور تیرے ذریعے عطا کروں گا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں ارشاد فرمایا: {وَمَنْ یَبْتَغِ غَیْرَ الْإِسْلَامِ دِیْنًا فَلَنْ یُقْبَلَ مِنْہُ وَہُوَ فِی الْآخِرَۃِ مِنَ الْخَاسِرِیْنَ}… جو شخص اسلام کے سوا اور دین تلاش کرے، اس کا دین قبول نہ کیا جائے گا اور وہ آخرت میں نقصان پانے والوں میں سے ہو گا۔ (سورۂ آل عمران: ۸۵)
Musnad Ahmad
73
۔ (۷۳)۔ عَنْ جَرِیْرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ ؓ قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، فَلَمَّا بَرَزْنَا مِنَ الْمَدِیْنَۃِ إذَا رَاکِبٌ یُوْضِعُ نَحْوَنَا، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((کَأَنَّ ہَذَا الرَّاکِبَ إِیَّاکُمْ یُرِیْدُ۔)) قَالَ: فَانْتَہَی الرَّجُلُ إِلَیْنَا فَسَلَّمَ فَرَدَدْنَا عَلَیْہِ، فَقَالَ لَہُ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((مِنْ أَیْنَ أَقْبَلْتَ؟)) قَالَ: مِنْ أَہْلِیْ وَوَلَدِی وَ عَشِیْرَتِیْ، قَالَ: ((فَأَیْنَ تُرِیْدُ؟)) قَالَ: أُرِیْدُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، قَالَ: ((فَقَدْ أَصَبْتَہُ۔)) قَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! عَلِّمْنِیْ مَا الْاِیْمَانُ؟ قَالَ: ((تَشْہَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ وَ تُقِیْمُ الصَّلَاۃَ وَ تُؤْتِیْْ الزَّکَاۃَ وَ تَصُوْمُ رَمَضَانَ وَتَحُجُّ الْبَیْتَ۔)) قَالَ: قَدْ أَقْرَرْتُ، قَالَ: ثُمَّ إِنَّ بَعِیْرَہُ دَخَلَتْ یَدُہُ فِی شَبْکَۃِ جُرْذَانٍ فَہَوٰی بَعِیْرُُہُ وَہَوَی الرَّجُلُ فَوََقَعَ عَلٰی ہَامَتِہِ فَمَاتَ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((عَلَیَّ بِالرَّجُلِ۔)) قَالَ: فَوَثَبَ إِلَیْہِ عَمَّارُبْنُ یَاسِرٍ وَحُذَیْفَۃُ فَأَقْعَدَاہُ فَقَالَا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! قُبِضَ الرَّجُلُ، قَالَ: فَأَعْرَضَ عَنْہُ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم، ثُمَّ قَالَ لَہُمَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أَمَا رَأَیْتُمَا إِعْرَاضِیْ عَنِ الرَّجُلِ فَإِنِّی رَأَیْتُ مَلَکَیْنِِ یَدُسَّانِ فِیْ فِیْہِ مِنْ ثِمَارِ الْجَنَّۃِ فَعَلِمْتُ أَنَّہُ مَاتَ جَائِعًا۔)) ثُمَّ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((ہَذَا وَاللّٰہِ مِنَ الَّذِیْنَ قَالَ لَہُمُ اللّٰہُ فِیْہِمْ: {اَلَّذِیْنَ آمَنُوْا وَلَمْ یَلْبِسُوْا إِیْمَانَہُمْ بِظُلْمٍ أُوْلٰئِکَ لَہُمُ الْأَمْنُ وَہُمْ مُہْتَدُوْنَ}۔)) ثُمَّ قَالَ: ((دُوْنَکُمْ أَخَاکُمْ۔)) قَالَ: فَاحْتَمَلْنَاہُ إِلَی الْمَائِ فَغَسَّلْنَاہُ وَ حَنَّطْنَاہُ وَکَفَّنَّاہُ وَحَمَلْنَاہُ إِلَی الْقَبْرِ، قَالَ: فَجَائَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَتَّی جَلَسَ عَلٰی شَفِیْرِ الْقَبْرِ، قَالَ: فَقَالَ: ((اِلْحَدُوْا وَلَا تَشُقُّوْا، فَإِنَّ اللَّحْدَ لَنَا وَالشَّقَّ لِغَیْرِنَا۔)) (مسند أحمد: ۱۹۳۹۰)
سیدناجریر بن عبد اللہ ؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے ساتھ نکلے، جب ہم مدینہ منورہ سے باہر نکل گئے تو ہم نے دیکھا کہ ایک سوار ہماری طرف آنے کے لیے اپنی سواری کو جلدی چلا رہا تھا، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: یوں محسوس ہوتا ہے کہ اس سوار کا ارادہ تم لوگ ہو۔ جب وہ ہمارے پاس پہنچا تو اس نے سلام کہا اور ہم نے اس کا جواب دیا، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے اس سے پوچھا: تم کہاں سے آ رہے ہو؟ اس نے کہا: جی اپنے اہل و اولاد اور رشتہ داروں کے پاس سے آ رہا ہوں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے پوچھا: کہاں جانے کا ارادہ رکھتے ہو؟ اس نے کہا: جی اللہ کے رسول کو ملنا چاہتا ہوں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: تو نے اپنے مقصد کو پا لیا ہے۔ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ مجھے ایمان کی تعلیم دیں کہ وہ کیا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: تو یہ گواہی دے کہ اللہ تعالیٰ ہی معبودِ برحق ہے اور محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ اللہ کے رسول ہیں، نماز قائم کر، زکوۃ ادا کر، رمضان کے روزے رکھ اور بیت اللہ کا حج کر۔ اس نے کہا: جی میں اقرار کرتا ہوں۔ اتنے میں اس کے اونٹ کی اگلی ٹانگ چوہوں کے بلوں میں گھس گئی، جس کی وجہ سے اونٹ گر گیا اور وہ آدمی بھی اپنے سر کے بل گرا اور فوت ہو گیا، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌نے فرمایا: اس بندے کو میرے پاس لاؤ۔ سیدنا عمار اور سیدنا حذیفہؓجلدی سے گئے، اس آدمی کو بٹھایا اور کہا: اے اللہ کے رسول! بندہ تو فوت ہو گیا ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے اس سے اعراض کیا اور پھر فرمایا: کیا تم نے دیکھا نہیں کہ میں اس بندے سے اعراض کر رہا تھا، پس بیشک میں نے دیکھا کہ دو فرشتے اس کے منہ میں جنت کے پھل ڈال رہے تھے، اس سے مجھے پتہ چلا کہ بھوکا مرا ہے۔ پھر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اللہ کی قسم! یہ ان لوگوں میں سے ہے، جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {اَلَّذِیْنَ آمَنُوْا وَلَمْ یَلْبِسُوْا إِیْمَانَہُمْ بِظُلْمٍ أُوْلٰئِکَ لَہُمُ الْأَمْنُ وَہُمْ مُہْتَدُوْنَ} (جو لوگ ایمان رکھتے ہیں اور اپنے ایمان کو شرک کے ساتھ مخلوط نہیں کرتے، ایسوں ہی کے لیے امن ہے اور وہی راہِ راست پر چل رہے ہیں۔) (سورۂ انعام: ۸۲) پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اپنے اس بھائی کو سنبھال لو۔ پس ہم اسے اٹھا کر پانی کی طرف لے گئے، اس کو غسل دیا، خوشبو لگائی، کفن دیا اور قبر کی طرف اٹھا کر لے گئے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ تشریف لائے اور قبرکے کنارے پر بیٹھ گئے اور فرمایا: لحد بناؤ، شَق نہ بناؤ، کیونکہ لحد ہمارے لیے ہے اور شق دوسرے مذاہب والوں کے لیے ہے۔
Musnad Ahmad
166
۔ (۱۶۶)۔عَنْ عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ سَنَّۃَؓ أَنَّہُ سَمِعَ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((بَدَاَ الْاِسْلَامُ غَرِیْبًا ثُمَّ یَعُوْدُ غَرِیْبًا کَمَا بَدَا، فَطُوْبٰی لِلْغُرَبَائِ۔)) قِیْلَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! وَمَنِ الْغُرَبَائُ؟ قَالَ: ((اَلَّذِیْنَ یُصْلِحُوْنَ اِذَا فَسَدَ النَّاسُ وَالَّذِی نَفْسِیْ بِیَدِہِ لَیَنْحَازَنَّ الاِیْمَانُ اِلَی الْمَدِیْنَۃِ کَمَا یَحُوْزُ السَّیْلُ، وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہِ لَیَأْرِزَنَّ الْاِسْلَامُ اِلَی مَا بَیْنَ الْمَسْجِدَیْنِ کَمَا تَأْرِزُ الْحَیَّۃُ اِلَی جُحْرِہَا۔)) (مسند أحمد: ۱۶۸۱۰)
سیدنا عبد الرحمن بن سَنَّہ سے مروی ہے کہ نبی ٔکریم نے فرمایا: بیشک اجنبیت کی حالت میں اسلام کی ابتدا ہوئی تھی اور عنقریب یہ ایسے ہی اجنبیت والا ہو جائے گا، جیسے ابتداء کے وقت تھا، بہرحال (اسلام والے) نامانوس لوگوں کے لیے خوشخبری ہے۔ کسی نے کہا: اے اللہ کے رسول! نامانوس سے کون لوگ مراد ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اس سے مراد وہ لوگ ہیں کہ جب لوگوں میں فساد آ جائے تو وہ اصلاح کرتے ہیں، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! ایمان، مدینہ منورہ کی طرف سیلاب (کے نچلی جگہ کی طرف آگے بڑھنے) کی طرح پناہ لے گا، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اسلام ان دو مسجدوں کی طر ف اس طرح پناہ لے گا، جیسے سانپ اپنے بل کی طرف پناہ لیتا ہے۔
Musnad Ahmad
169
۔ (۱۶۹)۔عَنْ عَلْقَمَۃَ الْمُزَنِیِّ قَالَ: حَدَّثَنِیْ رَجُلٌ قَالَ: کُنْتُ فِی مَجْلِسِ عُمَرَبْنِ الْخَطَّابِ بِالْمَدِیْنَۃِ فَقَالَ لِرَجُلٍ مِنَ الْقَوْمِ: یَا فُلَانُ! کَیْفَ سَمِعْتَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَنْعَتُ الْاِسْلَامَ؟ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((اِنَّ الْاِسْلَامَ بَدَأَ جَذْعًا، ثُمَّ ثَنِیًّا، ثُمَّ رَبَاعِیًّا، ثُمَّ سُدَاسِیًّا، ثُمَّ بَازِلًا۔)) فَقَالَ عُمَرُ: فَمَا بَعْدَ الْبُزُوْلِ اِلَّا النُّقْصَانُ۔ (مسند أحمد: ۱۵۸۹۵)
علقمہ مزنی کہتے ہیں: مجھے ایک بندے نے بیان کرتے ہوئے کہا: میں مدینہ منورہ میں سیدنا عمر بن خطابؓکی مجلس میں تھا، انھوں نے ایک شخص سے کہا: اے فلاں! تو نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو کیا فرماتے ہوئے سنا، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ اسلام کی کیفیت بیان کر رہے تھے؟ اس نے کہا: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: بیشک اسلام کی ابتدا(پانچویں سال میں داخل ہونے والے) نوجوان اونٹ کی طرح ہوئی، پھر وہ چھٹے سال میں داخل ہونے والے اونٹ کی طرح قوی ہو گا، پھر وہ ساتویں سال میں داخل ہونے والے اونٹ کی طرح طاقت ور بنے گا، پھر آٹھویں سال میں داخل ہونے والے اور پھر نویں سال میں داخل ہونے والے اونٹ کی طرح طاقت حاصل کرے گا۔ یہ سن کر سیدنا عمرؓ نے کہا: اونٹ کی عمر کے نویں کے بعد تو کمزوری شروع ہو جاتی ہے۔