TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

امان کی وجہ سے خون کی حرمت کا ثابت ہو جانا اور ایک آدمی کی امان کا معتبر ہونا، خواہ وہ مرد ہو یا عورت - امان کی وجہ سے خون کی حرمت کا ثابت ہو جانا اور ایک آدمی کی امان کا معتبر ہونا، خواہ وہ مرد ہو یا عورت - امان، صلح اور عارضی جنگ بندی کے ابواب - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 1 of امان، صلح اور عارضی جنگ بندی کے ابواب in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 1 of 7 · 7 Hadith
Whole book
Previous Chapter Next Chapter
۔ (۵۱۳۰)۔ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃ َرَضِیَ اللّٰہُ عَنْہٗ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ یَوْمَ فَتْحِ مَکَّۃَ: ((مَنْ أَغْلَقَ بَابَہُ فَہُوَ آمِنٌ، وَمَنْ دَخَلَ دَارَ أَبِی سُفْیَانَ فَہُوَ آمِنٌ۔)) (مسند أحمد: ۷۹۰۹)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فتح مکہ والے دن فرمایا: جس نے اپنا دروازہ بند کر لیا، وہ امن والا ہو گا اور جو ابو سفیان کے گھر داخل ہو گا، اسے بھی امان حاصل ہو گی۔
Takhreej
(۵۱۳۰) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۷۸۰(انظر: ۷۹۲۲)
Explanation
فوائد:… یہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی طرف سے سیدنا ابو سفیان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو عطا کیا گیا شرف تھا۔
5130
Sahih
۔ (۵۱۳۱)۔ عَنْ عَلِیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اَلْمُؤْمِنُوْنَ تَتَکَافَأُ دِمَاؤُھُمْ، وَیَسْعٰی بِذِمَّتِھِمْ اَدْنَاھُمْ، وَھُمْ یَدٌ عَلٰی مَنْ سِوَاھُمْ، اَلَا لَا یُقْتَلُ مُؤْمِنٌ بِکَافِرٍ وَلَا ذُوْ عَہْدٍ فِیْ عَہْدٍ۔)) (مسند أحمد: ۹۵۹)
۔ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: سب مومنوں کے خون برابر ہیں، ادنی مؤمن بھی امان دے سکے گا، وہ سب اپنے غیروں پر ایک ہاتھ کی مانند ہیں، خبردار! مومن کو کافر کے بدلے اور ذمی کو اس کے معاہدے کے زمانے میں قتل نہیں کیا جائے گا۔
Takhreej
(۵۱۳۱) تخریج: صحیح لغیرہ، أخرجہ ابوداود: ۲۰۳۵، ۴۵۳۰، والنسائی: ۸/ ۲۴ (انظر: ۹۵۹)
Explanation
فوائد:… معاشرے کے افراد اعلی ہوں یا ادنی، سب کے خون کی حیثیت برابر کی ہو گی، جاہلیت کے قوانین کے مطابق کوئی فرق نہیں کیا جائے گا۔ اگر کوئی مؤمن، خواہ وہ عورت یا مردیا اعلی یا ادنی، کسی کافر کو پناہ دے دے تو سب مسلمانوں پر لازم ہو گا کہ وہ اس کی پناہ کا احترام کریں۔
5131
Sahih
۔ (۵۱۳۲)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((ذِمَّۃُ الْمُسْلِمِیْنَ وَاحِدَۃٌ یَسْعٰی بِھَا اَدْنَاھُمْ، فَمَنْ اَخْفَرَ مُسْلِمًا فَعَلَیْہِ لَعْنَۃُ اللّٰہِ وَالْمَلَائِکَۃِ وَالنَّاسِ اَجْمَعِیْنَ، لَا یَقْبَلُ اللّٰہُ مِنْہٗ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ عَدْلًا وَلَا صَرْفًا)) (مسند أحمد: ۹۱۶۲)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مسلمانوں کی امان ایک ہے، ادنی مسلمان بھی وہ امان دے سکتا ہے، جس نے کسی مسلمان کی امان کو توڑ دیا، اس پر اللہ تعالی، فرشتوں اور تمام لوگوںکی لعنت ہو گی اور اللہ تعالیٰ روزِ قیامت اس کی فرضی عبادت قبول کرے گا نہ نفلی۔
Takhreej
(۵۱۳۲) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۵۰۸(انظر: ۹۱۷۳)
5132
Sahih
۔ (۵۱۳۳)۔ عَنْ یَزِیْدَ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ الشِّخِّیْرِ اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَتَبَ لِبَنِیْ زُھَیْرِ بْنِ اُقَیْشٍ ((بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ، ھٰذَا کِتَابٌ مِنْ مُحَمَّدٍ رَسُوْلِ اللّٰہِ لِبَنِیْ زُھَیْرِ بْنِ اُقَیْشٍ اَنَّکُمْ اِنْ اَقَمْتُمُ الصَّلَاۃَ، وَاَدَّیْتُمُ الزَّکَاۃَ، وَاَعْطَیْتُمْ مِنَ الْمَغَانِمِ الْخُمْسَ وَسَھْمَ النَّبِیِّ، وَالصَّفِیَّ فَاَنْتُمْ آمِنُوْنَ بِأَمَانِ اللّٰہِ وَأَمَانِ رَسُوْلِہِ)) اَلْحَدِیْثَ۔ (مسند أحمد: ۲۱۰۲۰)
۔ سیدنا یزید بن عبد اللہ بن شخیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بنو زہیر بن اُقیش کی طرف یہ پیغام لکھا تھا: بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ، یہ خط محمد رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی طرف سے بنو زہیر بن اقیش کو لکھا گیا ہے، اگر تم لوگ نماز ادا کرتے رہے، زکوۃ دیتے رہے، غنیمتوں میں سے خمس، اپنے نبی کا حصہ اور منتخب حصہ دیتے رہے تو تم اللہ کی امان اور اس کے رسول کی امان کے ساتھ با امن رہو گے۔
Takhreej
(۵۱۳۳) تخریج: اسنادہ صحیح، أخرجہ ابوداود: ۲۹۹۹ (انظر: ۲۰۷۴۰)
Explanation
فوائد:… اَلصَّفِیِّ (منتخب و چیدہ حصہ): مالِ غنیمت کا وہ حصہ جو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قبل از تقسیم اپنے لیے مقرر کر لیتے تھے، پچھلے ابواب میں اس کی تفصیل گزر چکی ہے۔
5133
Sahih
۔ (۵۱۳۴)۔ عَنْ أَبِی أُمَامَۃَ، قَالَ: أَجَارَ رَجُلٌ مِنْ الْمُسْلِمِینَ رَجُلًا، وَعَلَی الْجَیْشِ أَبُو عُبَیْدَۃَ بْنُ الْجَرَّاحِ، فَقَالَ خَالِدُ بْنُ الْوَلِیدِ وَعَمْرُو بْنُ الْعَاصِ: لَا نُجِیرُہُ، وَقَالَ أَبُو عُبَیْدَۃَ: نُجِیرُہُ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((یُجِیرُ عَلَی الْمُسْلِمِیْنَ اَحَدُھُمْ۔)) (مسند أحمد: ۱۶۹۵)
۔ سیدنا ابو امامہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ایک مسلمان آدمی نے کسی شخص کو پناہ دے دی، اس لشکر کے امیر سیدنا ابو عبیدہ بن جراح ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ تھے، سیدنا خالد بن ولید اور سیدنا عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما نے کہا: ہم اس کو پناہ نہیں دیں گے، لیکن سیدنا ابو عبیدہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: ہم اس کو پناہ دیں گے، کیونکہ میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: کوئی ایک مسلمان تمام مسلمانوں پر پناہ دے سکتا ہے۔
Takhreej
(۵۱۳۴) تخریج: حسن لغیرہ، أخرجہ البزار: ۱۷۲۷، وابویعلی: ۸۷۶، ۸۷۷ (انظر: ۱۶۹۵)
5134
Sahih
۔ (۵۱۳۵)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((یُجِیْرُ عَلٰی اُمَّتِیْ اَدْنَاھُمْ۔)) (مسند أحمد: ۸۷۶۶)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ادنی مسلمان بھی میری امت پر پناہ دے سکتا ہے۔
Takhreej
(۵۱۳۵) تخریج: صحیح لغیرہ، أخرجہ الترمذی: ۱۵۷۹ (انظر: ۸۷۸۰)
5135
Sahih
۔ (۵۱۳۶)۔ عَنْ أَبِی مُرَّۃَ، مَوْلٰی فَاخِتَۃَ أُمِّ ہَانِئٍ، عَنْ فَاخِتَۃَ أُمِّ ہَانِئٍ بِنْتِ أَبِی طَالِبٍ، قَالَتْ: لَمَّا کَانَ یَوْمُ فَتْحِ مَکَّۃَ، أَجَرْتُ رَجُلَیْنِ مِنْ أَحْمَائِی، فَأَدْخَلْتُہُمَا بَیْتًا وَأَغْلَقْتُ عَلَیْہِمَا بَابًا، فَجَائَ ابْنُ أُمِّی عَلِیُّ بْنُ أَبِی طَالِبٍ، فَتَفَلَّتَ عَلَیْہِمَا بِالسَّیْفِ، قَالَتْ: فَأَتَیْتُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَلَمْ أَجِدْہُ، وَوَجَدْتُ فَاطِمَۃَ فَکَانَتْ أَشَدَّ عَلَیَّ مِنْ زَوْجِہَا، قَالَتْ: فَجَائَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَعَلَیْہِ أَثَرُ الْغُبَارِ فَأَخْبَرْتُہُ، فَقَالَ: ((یَا أُمَّ ہَانِئٍ قَدْ أَجَرْنَا مَنْ أَجَرْتِ، وَأَمَّنَّا مَنْ أَمَّنْتِ۔)) (مسند أحمد: ۲۷۴۴۵)
۔ سیدہ ام ہانی فاختہ بنت ابی طالب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: فتح مکہ والے دن میں نے اپنے دو سسرالی رشتہ داروں کو پناہ دی اور ان کو گھر میں داخل کر کے دروازہ بند کر دیا، میری اپنی ماں کا بیٹا سیدنا علی بن ابو طالب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ آئے اور ان پر تلوار سونت لی، میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس گئی، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مجھے نہ مل سکے، البتہ سیدہ فاطمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا موجود تھیں، لیکن وہ میرے معاملے میں مجھ پر اپنے خاوند سے بھی زیادہ سختی کرنے والی تھیں، اتنے میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تشریف لے آئے، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر گردو غبار کا اثر تھا، جب میں نے اپنی بات آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو بتائی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے ام ہانی! جن کو تو نے پناہ دی، ہم نے بھی ان کو پناہ دی اور جن کو تو نے امن دیا، ہم نے بھی ان کو امن دے دیا۔
Takhreej
(۵۱۳۶) تخریج: أخرجہ البخاری: ۲۸۰، ۳۵۷، ۳۱۷۱، ۶۱۵۸، ومسلم: ۳۳۶(انظر: ۲۶۹۰۶)
Explanation
فوائد:… اس باب میں جہاں معاہدے کی پاسداری کو ضروری قرار دیا، وہاں مسلمان کی بحیثیت ِ مسلمان عظمت کا اندازہ لگائیں کہ اگر کوئی ادنی مسلمان کسی کافر کو پناہ دے دیتا ہے تو پوری امت پر فرض ہو گا کہ وہ اس امان کا پاس و لحاظ رکھے۔
5136
Sahih