مردوں کے ساتھ عورتوں اور بچوں کے کھڑے ہونے کے مقام کا بیان - مردوں کے ساتھ عورتوں اور بچوں کے کھڑے ہونے کے مقام کا بیان - امام اور مقتدی کے کھڑے ہونے کی جگہ کے ابواب اور صفیں بنانے کے احکام - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation
Chapter 3 of امام اور مقتدی کے کھڑے ہونے کی جگہ کے ابواب اور صفیں بنانے کے احکام in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.
سیّدنا ابومالک اشعری رضی اللہ عنہ نے اپنی قوم سے کہا: کیا تم کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز کی طرح نماز نہ پڑھاؤں؟ پھر انھوں نے مردوں کی صف بنائی، اس کے بعد بچوں کی اور بچوں کے پیچھے عورتوںکی صف بنائی۔
سیّدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں اور یتیم، جو ہمارے گھر میں رہتا تھا، نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے اور سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے ہمارے پیچھے نماز پڑھی، اس موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے گھر آئے ہوئے تھے۔
سیّدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میری دادی سیدہ ملیکہ رضی اللہ عنہا نے کھانا تیار کیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس کے لیے گھر میں بلایا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کھانا کھانے کے بعد فرمایا: اٹھو، میں تم کو نماز پڑھا تا ہوں۔ میں ایک چٹائی لانے کے لیے اٹھا، جو لمبے عرصہ تک استعمال کیے جانے کی وجہ سے سیاہ ہو گئی تھی، اس لیے میں نے اس پر پانی کے چھینٹے مارے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس پر کھڑے ہوئے، میں اور یتیم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے اور بڑھیا ہمارے پیچھے کھڑی ہو گئی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں دو رکعت نماز پڑھائی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم واپس چلے گئے۔
سیّدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں نفلی نماز پڑھائی، سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا اور سیدہ ام حرام رضی اللہ عنہا ہمارے پیچھے کھڑی ہو گئیں اور مجھے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی دائیں جانب کھڑا کر لیا، ہم نے ایک چٹائی پر نماز پڑھی تھی۔
فوائد: …صف بندی کے معاملے میں یہ تو واضح ہے کہ امام کے ساتھ پہلی صفوں میں مرد حضرات کھڑے ہوں اور ان میں عقلمند اور سمجھدار لوگ امام کے قریب کھڑے ہوں اور عورتیں پچھلی صفوں میں کھڑی ہوں۔ بچوں کا محل کیا ہے؟ کسی صحیح حدیث میں اس کا تعین نہیں کیا گیا، ظاہر تو یہی ہے کہ جو بچے سن تمیز تک پہنچ چکے ہوں تو اس معاملے میں ان کو مردوں کا ہی حکم دیا جائے گا ، بلکہ ان میں سے قرآن کا زیادہ حصہ یاد کرنے والوں کو مردوں کا امام بھی بنایا جائے گا۔ جب آپaکے ساتھ ایک بچہ ہوتا تو اسے آپaعام مرد کی طرح اپنی دائیں جانب کھڑا کرتے تھے اور بچوں