TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

اس شخص کا بیان جو صف کے بغیر رکوع کرے پھر چل کر صف میں مل جائے - اس شخص کا بیان جو صف کے بغیر رکوع کرے پھر چل کر صف میں مل جائے - امام اور مقتدی کے کھڑے ہونے کی جگہ کے ابواب اور صفیں بنانے کے احکام - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 11 of امام اور مقتدی کے کھڑے ہونے کی جگہ کے ابواب اور صفیں بنانے کے احکام in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 11 of 11 · 2 Hadith
۔ (۲۶۷۲) عَنِ الْحَسَنِ عَنْ أَبِی بَکْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّہُ جَائَ وَرَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رَاکِعٌ فَرَکَعَ دُوْنَ الصَّفِّ ثُمَّ مَشٰی اِلَی الصَّفِّ، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ ھٰذَا الَّذِی رَکَعَ ثُمَّ مَشٰی اِلَی الصَّفِّ؟)) فَقَالَ أَبُوْ بَکْرَۃَ: أَنَا، فَقَالَ النَّبِیّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((زَادَکَ اللّٰہُ حِرْصًا وَلَا تَعُدْ۔)) (مسند احمد: ۲۰۷۳۱)
جب سیّدنا ابوبکرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ پہنچے تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رکوع کی حالت میں تھے، انہوں نے صف کے پیچھے سے ہی (نماز شروع کر کے) رکوع کر لیا اور پھر چل کر صف میں شامل ہو گئے۔نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پوچھا: یہ کون آدمی تھا، جس نے پہلے رکوع شروع کیا اور پھرچل کر صف میں شامل ہوا؟ ابوبکرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: جی میں تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تیری حرص کو زیادہ کرے، دوبارہ ایسے نہ کرنا۔
Takhreej
(۲۶۷۲) تخریـج: …أخرجہ البخاری: ۷۸۳ (انظر: ۲۰۴۵۷، ۲۰۴۵۸)
2672
Sahih
۔ (۲۶۷۳)(وَمِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) عَنْ عَبْدِالْعَزِیْزِ بْنِ أَبِی بَکْرَۃَ أَنَّ أَبَا بَکْرَۃَ جَائَ وَالنَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رَاکِعٌ فَسَمِعَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صَوْتَ نَعْلِ أَبِی بَکْرَۃَ وَھُوَ یَحْضُرُ یُرِیْدُ أَنْ یُدْرِکَ الرَّکْعَۃَ، فَلَمَّا انْصَرَفَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنِ السَّاعِی؟)) قَالَ أَبُوْبَکْرَۃَ: أَنَا، قَالَ: ((زَادَکَ اللّٰہُ حِرْصًا وَلَا تَعُدْ)) (مسند احمد: ۲۰۷۰۷)
(دوسری سند) جب سیّدنا ابوبکرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ مسجد میںپہنچے تو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رکوع کی حالت میں تھے۔ وہ رکوع کو پانے کے لیے دوڑے یا تیز چلے، اس لیے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کے جوتے کی آواز سن لی، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فارغ ہوئے تو پوچھا: یہ دوڑنے والا کون تھا؟ سیّدنا ابو بکرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: جی میں تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تیری حرص کو زیادہ کرے، دوبارہ ایسے نہ کرنا۔
Takhreej
(۲۶۷۳)تخریـج: …انظر الحدیث بالطریق الاول
2673
Sahih