امام اور مقتدی کے کھڑے ہونے کی جگہ کے ابواب اور صفیں بنانے کے احکام - امام اور مقتدی کے کھڑے ہونے کی جگہ کے ابواب اور صفیں بنانے کے احکام - Book 49 of Musnad Ahmad with Urdu and English Translation
Book 49 of Musnad Ahmad, with 11 chapters and 59 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.
سیّدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رات کو کھڑے ہوئے اور نماز پڑھنے لگ گئے، میں بھی اٹھا، وضو کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بائیں جانب کھڑا ہوگیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے کھینچا اور اپنی دائیں جانب کھڑا کردیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تیرہ رکعت نماز پڑھی، ان میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا قیام برابر برابر رہا۔
سیّدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے یہ بھی روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس رات کے آخری حصے میں آیا آپ کے پیچھے کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگا،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے کھینچ کر اپنی دائیں جانب کھڑا کر دیا۔ پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی نماز میں متوجہ ہوگئے تو میں تھوڑا سا پیچھے ہٹ گیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز پڑھی اور جب فارغ ہوئے تو مجھے فرمایا: کیا بات ہے،میں تجھے اپنی دائیں جانب کھڑا کر رہا تھا اور تو پیچھے ہٹ رہا تھا؟ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا کسی کو یہ زیب دیتا ہے کہ وہ آپ کے برابر کھڑے ہو کر نماز پڑھے، حالانکہ آپ تو اللہ کے وہ رسول ہیں،جن کو اللہ تعالیٰ نے (بہت کچھ) عطا کیا۔ میں نے یہ بات کر کے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تعجب میں ڈال دیا، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرے لیے دعا کی اللہ تعالیٰ مجھے علم وفہم میں زیادہ کر دے، پھر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ سو گئے ہیں، حتیٰ کہ میں نے آپ کے خراٹوں کی آواز سنی، پھرسیّدنا بلال رضی اللہ عنہ آئے اورکہا: اے اللہ کے رسول! نماز ، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہوئے اور دوبارہ وضو کیے بغیر نماز پڑھی۔
Takhreej
(۲۶۱۶) تخریـج: …اسنادہ صحیح علی شرط الشیخین أخرجہ الترمذی: ۲۳۳، وأخرجہ باختصار ابن ماجہ: ۴۲۳، وأخرجہ مسلم مطولا ولم یذکر بعضہ: ۷۶۳ (انظر: ۱۹۱۲، ۲۵۶۷، ۳۰۶۰)
Explanation
فوائد: …یہ آپaکا خاصہ تھا کہ سونے سے آپ کا وضو ٹوٹتا نہیں تھا، کیونکہ آپaکا دل جاگ رہا ہوتا تھا۔
اعمش کہتے ہیں: میں نے ابراہیم سے اس شخص کے بارے میں سوال کیا جو امام کے ساتھ کھڑا ہو کر نماز پڑھتا ہے، انھوں نے کہا: وہ امام کی بائیں جانب کھڑا ہوگا۔ میں نے کہا: مجھے تو سُمیع زیات نے سیّدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے بیان کیا تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو اپنی دائیں جانب کھڑا کیا تھا۔ پھر ابراہیم نے اس حدیث کو تسلیم کر لیا۔
سیّدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک کپڑے میں نماز پڑھی اور وہ اس طرح کہ اس کے دونوں کنارے مخالف سمت سے کیے ہوئے تھے۔ میں (نماز پڑھنے کے لیے) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے کھڑا ہوگیا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے کان سے پکڑا اور اپنی دائیں جانب کھڑا کردیا۔
سیّدنا جبار بن صخر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہوئے اور نماز پڑھنے لگے، میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بائیں جانب کھڑا ہوگیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے پھیر کر اپنی دائیں جانب کردیا، اور ہم نماز پڑھنے لگے، ابھی تھوڑی دیر بھی نہیں گزری تھی کہ لوگ بھی آگئے۔
Takhreej
(۲۶۱۹) تخریـج: …اسنادہ ضعیف لضعف شرحبیل بن سعد الخطمی، وابواویس صدوق سییء الحفظ أخرجہ ابن الاثیر فی ’’اسد الغابۃ‘‘: ۱/ ۳۱۶، وأخرج بنحوہ الطبرانی فی ’’الکبیر‘‘: ۲۱۳۷ (انظر: ۱۵۴۷۱)
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز پڑھ رہے ہوتے اور میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے ہوتی تھی۔
Takhreej
(۲۶۲۰) تخریـج: …حدیث صحیح (انظر: ۲۵۲۲۲)
Explanation
فوائد: … صحیح مسلم (۵۱۲، ۵۱۴) میں سیدہ عائشہcسے اس موضوع کی درج ذیل دو احادیث مروی ہیں:
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جائے نماز کے سامنے میرے لیے کوئی چیز بچھائی جاتی ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز پڑھ رہے ہوتے اور میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے ہوتی۔
فوائد: …آخری دو احادیث کا اِس باب سے کوئی تعلق نہیں ہے۔اِس موضوع کی احادیث کا خلاصہ یہ ہے کہ ایک مرد یا بچہ امام کی دائیں جانب اس کے برابر کھڑا ہو گا اور عورت کا اکیلے پیچھے کھڑے ہو جانے کا معاملہ توواضح ہے۔
سیّدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مغرب کی نماز پڑھ رہے تھے، میں آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بائیں جانب کھڑا ہوگیا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے روکا اور اپنی دائیں جانب کھڑا کردیا، پھر میرا ایک اور ساتھی آگیا، اس لیے ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے صف بنا لی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھائی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک کپڑے میں تھے، جس کے دونوں کنارے ایک دوسرے کی مخالف سمت میں تھے۔
Takhreej
(۲۶۲۲) تخریـج: …حدیث صحیح، وھذا اسناد ضعیف لضعف شرحبیل بن سعد أخرجہ ابن ماجہ: ۹۷۴، وأخرجہ ضمن حدیث طویل مسلم: ۳۰۱۰، وابوداود: ۶۳۴ (انظر: ۱۴۴۹۶)
اسود کہتے ہیں: میں اور علقمہ دوپہر کے وقت سیّدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس گئے، جب سورج ڈھلا تو انھوں نے نماز کھڑی کی اور ہم ان کے پیچھے کھڑے ہوگئے،لیکن انھوں نے میرا اور میرے ساتھی کا ہاتھ پکڑا اور ہمیں اپنی دونوں طرف کھڑا کرلیا اور خود ہمارے درمیان کھڑے ہوگئے، پھر کہا: جب تین لوگ ہوتے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس طرح کیا کرتے تھے، پھر انہوں نے ہمیں نماز پڑھائی اور فارغ ہونے کے بعد کہا: عنقریب ایسے ائمہ ہوں گے جو نمازوں کوان کے اوقات سے مؤخر کردیں گے، پس تم ان کا انتظار نہ کرنا، (اور وقت پر نماز پڑھ لینا) ا ور اس کے بعد ان کے ساتھ پڑھی ہوئی نماز کو نفلی بنا لینا۔
(دوسری سند) اسود اور علقمہ دونوں سیّدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے گھر میں تھے، انھوں نے پوچھا: کیا ان لوگوں نے نماز پڑھ لی ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں۔ پھر سیّدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ نے ان کو اذان و اقامت کے بغیر نماز پڑھائی اور وہ ان کے درمیان کھڑے ہوئے اور کہا: جب تم تین لوگ ہو تو اس طرح کیا کرو اور جب زیادہ ہو تو تم میں سے ایک امامت کروائے (اور آگے کھڑا ہو)، جب کوئی رکوع کرے تو اسے چاہئے کہ وہ اپنے ہاتھ اپنی رانوں کے درمیان رکھے اور رکوع کے لیے جھکے، میں اب بھی گویا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی انگلیوں کے مختلف ہونے کی طرف دیکھ رہا ہوں۔
فوائد: …رکوع کے دوران دونوں ہاتھوں کی انگلیوں کو ایک دوسرے کے اندر ڈال کر ہاتھوں کو گھٹنوں کے درمیان رکھ لینا تطبیق کہلاتا ہے، یہ عمل شروع میں مسنون تھا، لیکن بعد میں منسوخ ہو گیا اور نئے حکم کے مطابق دورانِ رکوع ہاتھوں کو گھٹنوں پر رکھنا مسنون قرار پایا۔ اس دعوی کی دلیل درج ذیل حدیث ہے: سیّدنا عبد اللہ بن مسعودb کہتے ہیں: رسول اللہ aنے ہمیں نماز سکھائی، پس انھوں نے اللہ اکبر کہا اور رفع الیدین کیا، پھر رکوع کیااور ہاتھوں میں تطبیق دی اور ان کو گھٹنوں کے درمیان رکھا۔ جب سیّدنا سعد bکو اس بات کا پتہ چلا تو انھوں نے کہا: میرے بھائی عبد اللہ بن مسعود نے سچ کہا، ہم یہ عمل کرتے تھے، لیکن بعد میں ہمیں گھٹنے پکڑنے کا حکم دیا گیا تھا۔ (مسند احمد: ۳۹۷۴، ابوداود: ۷۴۷، نسائی: ۲/ ۱۸۴)
سیّدناعبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی،سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ہمارے پیچھے اور میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پہلو میں کھڑا تھا اور آپ کے ساتھ نماز پڑھ رہا تھا۔
سیّدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ سیدہ ام حرام رضی اللہ عنہا کے گھر میں نماز پڑھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے اپنی دائیں جانب کھڑا کیا اور سیدہ ام حرام رضی اللہ عنہا ہمارے پیچھے کھڑی تھیں۔
فوائد: …اِن روایات کا خلاصہ یہ ہے کہ دو مقتدی امام کے پیچھے کھڑے ہو ں گے، البتہ عورت اکیلی صف میں کھڑی ہو گی وہ مردوں کی صف میں ساتھ برابر نہیں کھڑی ہو سکتی خواہ صف میں چھوٹا بچہ ہی کیوں نہ ہو۔
سیّدنا ابومالک اشعری رضی اللہ عنہ نے اپنی قوم سے کہا: کیا تم کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز کی طرح نماز نہ پڑھاؤں؟ پھر انھوں نے مردوں کی صف بنائی، اس کے بعد بچوں کی اور بچوں کے پیچھے عورتوںکی صف بنائی۔
سیّدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں اور یتیم، جو ہمارے گھر میں رہتا تھا، نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے اور سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے ہمارے پیچھے نماز پڑھی، اس موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے گھر آئے ہوئے تھے۔
سیّدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میری دادی سیدہ ملیکہ رضی اللہ عنہا نے کھانا تیار کیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس کے لیے گھر میں بلایا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کھانا کھانے کے بعد فرمایا: اٹھو، میں تم کو نماز پڑھا تا ہوں۔ میں ایک چٹائی لانے کے لیے اٹھا، جو لمبے عرصہ تک استعمال کیے جانے کی وجہ سے سیاہ ہو گئی تھی، اس لیے میں نے اس پر پانی کے چھینٹے مارے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس پر کھڑے ہوئے، میں اور یتیم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے اور بڑھیا ہمارے پیچھے کھڑی ہو گئی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں دو رکعت نماز پڑھائی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم واپس چلے گئے۔
سیّدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں نفلی نماز پڑھائی، سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا اور سیدہ ام حرام رضی اللہ عنہا ہمارے پیچھے کھڑی ہو گئیں اور مجھے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی دائیں جانب کھڑا کر لیا، ہم نے ایک چٹائی پر نماز پڑھی تھی۔
فوائد: …صف بندی کے معاملے میں یہ تو واضح ہے کہ امام کے ساتھ پہلی صفوں میں مرد حضرات کھڑے ہوں اور ان میں عقلمند اور سمجھدار لوگ امام کے قریب کھڑے ہوں اور عورتیں پچھلی صفوں میں کھڑی ہوں۔ بچوں کا محل کیا ہے؟ کسی صحیح حدیث میں اس کا تعین نہیں کیا گیا، ظاہر تو یہی ہے کہ جو بچے سن تمیز تک پہنچ چکے ہوں تو اس معاملے میں ان کو مردوں کا ہی حکم دیا جائے گا ، بلکہ ان میں سے قرآن کا زیادہ حصہ یاد کرنے والوں کو مردوں کا امام بھی بنایا جائے گا۔ جب آپaکے ساتھ ایک بچہ ہوتا تو اسے آپaعام مرد کی طرح اپنی دائیں جانب کھڑا کرتے تھے اور بچوں
سیّدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:جس دن منبر بنایا گیا تھا، اسی دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس پر تشریف لائے اور اللہ اکبر کہا، پھر رکوع کیا، پھر الٹے پاؤں نیچے اتر آئے اور سجدہ کیا اور لوگوں نے بھی سجدہ کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منبر پر تشریف لے گئے، پھر نیچے لوٹ آئے، یہاں تک کہ نماز سے فارغ ہو گئے اور فرمایا: اے لوگو! میں نے یہ کام اس لیے کیا ہے تا کہ تم میری اقتداء کرواور میری نماز کا طریقہ سیکھ لو۔ کسی نے سیّدنا سعد رضی اللہ عنہ سے کہا: وہ تنے کا کیا معاملہ ہے کہ لوگ اس کے بارے میں بعض باتیں کرتے ہیں؟ انھوں نے کہا: جی، اس کے بارے میں جو بیان کیا جاتا، وہ واقعی ہوا تھا۔
فوائد: …ہمام بیان کرتے ہیں کہ سیّدنا حذیفہ bنے مدائن میں لوگوں کو نماز پڑھائی، جبکہ وہ ایک دکان پر کھڑے تھے، سیّدنا ابو مسعودb نے ان کو ان کی قمیص سے پکڑ کر (نیچے) کھینچا۔ جب وہ نماز سے فارغ ہوئے تو انھوں نے کہا: کیا تو جانتا نہیں ہے کہ لوگوں کو ایسی صورت سے منع کیا جاتا تھا؟ انھوں نے کہا: جی کیوں نہیں، جب آپ نے مجھے کھینچا تھا تو مجھے یہ چیز یاد آ گئی تھی۔ (ابوداود: ۵۹۷ )
سیّدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے عقلمند اور سمجھدار لوگوں کو چاہیے کہ وہ ضرور ضرور میرے قریب کھڑے ہوں، پھر ان کے بعد وہ کھڑے ہوں جو (عقل و فہم میں) اُن کے قریب ہوں، پھر وہ کھڑے ہوں جو (دوسرے مرتبے کے) لوگوں کے قریب ہوں، اور( صفیں بنانے میں) ایک دوسرے سے اختلاف نہ کرو، وگرنہ تمہارے دل ایک دوسرے کے مخالف ہوجائیں گے، اوربازاروں کے اختلاط اور فتنوں سے بچا کرو۔
سیّدنا ابومسعودانصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز کے لیے (صف بناتے وقت) ہمارے کندھوں کوچھوتے اور فرماتے: برابر ہو جاؤ اور مختلف ہو کر کھڑے نہ ہو، وگرنہ تمہارے دل ایک دوسرے سے مختلف ہوجائیں گے، تم میں سے عقلمند اور سمجھدار لوگوں کو چاہیے کہ وہ ضرور ضرور میرے قریب کھڑے ہوں، پھر ان کے بعد وہ کھڑے ہوں جو (عقل و فہم میں) اُن کے قریب ہوں، پھر وہ کھڑے ہوں جو (دوسرے مرتبے کے) لوگوں کے قریب ہوں۔ سیّدنا ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ نے کہا: (لوگو!) آج تم اسی وجہ سے بہت زیادہ اختلاف کا شکار ہوگئے ہو۔
سیّدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ پسند کرتے تھے کہ مہاجر اور انصار نماز میں آپ کے قریب کھڑے ہوں تاکہ وہ آپ سے (علم و عمل) حاصل کر سکیں۔
Takhreej
(۲۶۳۴) تخریـج: …اسنادہ صحیح علی شرط الشیخین أخرجہ ابن ماجہ: ۹۷۷، (انظر: ۱۱۹۶۳، ۱۳۰۶۴)
Explanation
فوائد: …مہاجرین و انصار بقیہ صحابہ کی بہ نسبت قدیم الاسلام اور قوی الایمان تھے اور ان صفات کی بنا پر وہ آپaکے مختلف احوال کو زیادہ یاد کرنے والے تھے۔